ہمارے مسائل کی نوعیت اور ہماری سمجھ بوجھ کے رنگ ڈھنگ

ہمارے مسائل کی نوعیت اور ہماری سمجھ بوجھ کے رنگ ڈھنگ

کتنے لوگ اپنی پریشانیوں اور مشکلات پر درست سوچ اختیار کرتے ہیں؟

دنیا مسائلستان ہے، رنگ برنگے بھانت بھانت کے مسائل لوگوں کو مستقل پریشان کرتے رہتے ہیں اور وہ اپنی سمجھ بوجھ اور صلاحیت کے مطابق انھیں حل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں لیکن ان کی سمجھ بوجھ اکثر غلط بھی ہوتی ہے جس کی وجہ دین کی درست واقفیت نہ ہونا یا علم کی کمی بھی ہوتی ہے۔

کوئی روزگار کے معاملات میں الجھا ہوا ہے تو کسی کو صحت سے متعلق پیچیدہ نوعیت کے مسائل درپیش ہیں یا کسی کو شادی کا مسئلہ یا شادی کے بعد ازدواجی زندگی کے مسائل، اولاد کے مسائل وغیرہ سے سامنا ہوتا ہے تو ہمارے معاشرے میں اسے عجیب عجیب رنگ دیے جاتے ہیں، مسئلہ زیادہ طول پکڑ جائے اور کسی طور حل ہونے میں نہ آئے تو اکثریت کا ذہن ماورائیت کی طرف گامزن ہوجاتا ہے، کسی نے کچھ کرادیا ہے ، سحر و جادو کے اثرات ہیں ، کوئی جن بھوت، چڑیل پیچھے پڑ گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔

الا ماشاءاللہ ہمارے ہاں روحانی علاج کے دعوے دار بھی ان باتوں پر اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات بھی ان کے نزدیک اہم نہیں رہتے اور وہ بھی لوگوں کو نت نئے طور طریقوں میں الجھاتے رہتے ہیں ۔

ہماری زندگی کا ایک طویل عرصہ ایسے ہی مشاہدات میں گزرا ہے کہ لوگ عام سی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نہایت پیچیدہ سمجھنے لگتے ہیں، دوسری طرف میڈیکل یا نفسیات کے حوالے سے بھی عام لوگوں کی معلومات محض سنی سنائی باتوں پر قائم ہوتی ہے ، پرانے زمانے کے ٹونے ٹوٹکے ایک دوسرے کو بتانے کا فیشن بھی عام ہے۔

اگر کسی شخص کو کسی تکلیف یا بیماری میں کسی ٹوٹکے سے فائدہ ہوگیا تو اب اس کا یہ یقین کامل ہوجاتا ہے کہ ایسے ہر مسئلے کا حل یہی ٹوٹکا ہے ، حالاں کہ چھوٹے موٹے مسئلے گھریلو ٹوٹکوں سے بھی حل ہوجاتے ہیں لیکن بعض تکالیف اور بیماریاں جنھیں ہم برسوں سے اپنے اندر پال رہے ہوتے ہیں اور وہ پوری طاقت سے جب نمودار ہوتی ہیں تو اس کے لیے ٹوٹنے ٹوٹکوں کی نہیں بلکہ کسی تجربہ کار ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے، وہ تمام ٹیسٹ بھی ضروری ہوتے ہیں جو ایسی صورت حال میں کرائے جاتے ہیں ۔

اسی طرح صحت کے علاوہ دوسرے مسائل مثلاً غربت، بے روزگاری، ترقی کا نہ ہونا، شادی نہ ہونا، اولاد نہ ہونا، شادی کے بعد ازدواجی زندگی کی تلخیاں اور بعد ازاں طلاق جیسے معاملات بھی عموماً ہماری عاقبت نا اندیشی اور کم علمی کے سبب سامنے آتے ہیں، شادی کے معاملے میں اکثر بعض لوگ نہایت جذباتی نوعیت کے فیصلے کرتے ہیں جو عموماً بعد میں پریشانیاں لاتے ہیں۔

عزیزان من! انسان ایک نہایت ہی عجیب اور پیچیدہ ترین مخلوق ہے، اللہ نے اسے اشرف المخلوق بنایا ہے ، اس کی صلاحیتوں کا بھی کوئی ٹھکانا نہیں ہے اور اس کی حماقتوں کا بھی کوئی جواب نہیں ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ اگر انسان کی بنیادی خصوصیات یعنی عادات و اطوار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے مسائل کا حل بھی آسانی سے تلاش کیا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے علم نجوم کے علاوہ کوئی بھی علم معقول رہنمائی فراہم نہیں کرسکتا۔

مشہور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے ایک قابل شاگرد کارل یونگ کا قول ہے کہ میں نے انسانی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ایسٹرولوجی سے مدد لی ، حالاں کہ بعد میں ایسٹرولوجی کے مخالف اس کے شاگردوں نے اس بات سے انکار کیا کہ یونگ نے ایسی کوئی بات کی تھی مگر کارل یونگ کی کتابیں اس کی گواہ ہیں ۔ بہر حال ہماری نظر میں ایسٹرولوجی وہ واحد علم ہے جو سائنٹیفک بنیاد پر کسی بھی شخصیت کے کردار اور فطری پس منظر کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرتا ہے ۔

ابھی کچھ دیر پہلے ایک خاتون کا فون آیا اور انھوں نے اپنے بچے کا نام بتاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ نام اس بچے کے لیے مناسب ہے ؟

ہم نے ان سے سوال کیا کہ بچے کی عمر تقریباً 15 سال ہے تو آپ کو اب یہ خیال کیوں آیاکہ نام مناسب نہیں ہے تو انھوں نے وہی روایتی جملہ دہرایا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ نام مناسب نہیں ہے ، بھاری نام ہے اور بات یہ ہے کہ شروع ہی سے پڑھائی سے بھاگتا ہے اور اب بھی پڑھائی کے معاملات درست سمت میں نہیں ہیں۔

ہم نے انھیں سمجھایا کہ بی بی نام کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش کی ہے ، نام ہم رکھتے ہیں اچھے یا برے لیکن تاریخ پیدائش تو اللہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے، ہم اپنی مرضی کی تاریخ ، دن ، وقت اور جگہ پر پیدا نہیں ہوسکتے لہٰذا اگر کسی چیز کو قسمت کہا جاسکتا ہے تو وہ انسان کی تاریخ پیدائش ہے ۔

ایک اور دلچسپ کیس یاد آرہا ہے ، خاتون نے فون پر رابطہ کیا اور اپنے بیٹے کا مکمل زائچہ بنوایا ، لڑکے کی تین شادیاں ناکام ہوچکی تھیں، پہلی شادی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، دوسری سے ایک لڑکا ہوا اور تیسری سے دو لڑکیاں، اب وہ اس کی چوتھی شادی کے لیے کوششوں میں مصروف تھیں، ہم نے ان سے کہا کہ چوتھی بھی ناکام ہوگی کیوں کہ اب تک ناکام ہونے والی شادیوں میں قصور وار آپ کا بیٹا ہے۔

اس کی پیدائش ایک ایسے نچھتر میں ہوئی ہے جس میں اگر درست میچنگ چیک نہ کی جائے تو شادی ناکام ہوگی پھر انھیں ان کے بیٹے کی فطری خصوصیات اور کردار کے حوالے سے بھی سمجھایا گیا کہ وہ ہماری بات کی قائل ہوگئیں اور آخر کو جو بھی رشتہ دیکھتیں اس لڑکی کی تاریخ پیدائش وغیرہ ہمیں بھیج دیتیں، اس طرح تقریباً دس لڑکیوں کے ساتھ ہم اس کی میچنگ چیک کرتے رہے ، ان میں سے صرف ایک لڑکی ایسی تھی جو اس بندے کو سیدھا رکھ سکتی تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس لڑکی سے رشتہ طے نہیں ہوسکااور آج بھی اس کی شادی نہیں ہوسکی ہے۔

ایسے ہزاروں واقعات ہمارے مشاہدے میں ہیں جہاں حقیقی مسئلہ کچھ اور ہوتا ہے اور اس کا حل ہم کہیں اور ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ایسٹرولوجی ایک ایسی سائنس ہے جسے ہمارے ملک میں زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن پوری دنیا میں اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، حد یہ کہ دنیا کہ اکثر ملکوں میں اب تو بڑے ادارے کسی اہم پوسٹ پر کسی شخص کی تعیناتی سے پہلے ایسٹرولوجر سے رابطہ کرتے ہیں جو انھیں بتاتا ہے کہ یہ بندہ اس پوسٹ کے لیے مناسب ہے یا نہیں ۔

آئیے ایک ایسے ہی کیس کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں غلط سوچ ، غلط ماحول اور کم علمی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔

شکوہ اﷲ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

                میرپور خاص سے “ش” کا شکوہ “آپ کا کالم بہت شوق سے پڑھتی ہوں، آپ کو خط بھی لکھ چکی ہوں، آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کچھ لوگ اتنے خوش قسمت کیوں ہوتے ہیں کہ اﷲ پاک انھیں بن مانگے سب کچھ دے دیتا ہے، اور کچھ لوگ میرے جیسے کیوں ہوتے ہیں جو کئی سالوں سے دعا مانگتے آ رہے ہیں مگر اﷲ پاک سنتا ہی نہیں ہے، اگر اﷲ پاک ہم جیسے لوگوں سے ناراض ہے تو پھر ہماری دعا کون سنے گا، ہم کس سے دعا کریں کہ جو ہماری مشکل آسان کر دے یا جو بہت شدید خواہش ہے وہ پوری ہو، جس کے لیے ہم دن رات دعا کرتے ہیں مگر پھر بھی نہیں سنی جاتی، اﷲ تو سب کا ایک ہی ہے پھر کیوں کچھ لوگوں کو جلدی وہ سب کچھ مل جاتا ہے جو وہ چاہتے ہیں؟ یا کچھ لوگ جو کچھ نہیں بھی چاہتے تب بھی ان کو بہت اچھا مل جاتا ہے، بہت سی باتیں ہیں جناب جن کی وجہ سے دل مایوس اور نا امید ہو چکا ہے، اب نہ نماز پڑھنے کو دل چاہتا ہے اور نہ قران پاک پڑھنے کو۔

میرا بھی ہزاروں لڑکیوں کی طرح شادی کا مسئلہ ہے جہاں کوئی بات نہیں بنتی اور نہ ہی کوئی رشتہ آتا ہے، جس سے رشتے کے لیے کہتے ہیں وہ انسان یا تو اچانک کہیں چلا جاتا ہے یا پھر بغیر کسی وجہ سے ناراض ہو جاتا ہے، میں اکثر سوچتی رہتی ہوں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کہیں کسی نے کوئی جادو یا بندش وغیرہ تو نہیں کروا دی، سوچتی ہوں کاش میں پیدا ہی نہیں ہوئی ہوتی تو آج والدین پریشان نہیں ہوتے۔”

                جواب: آپ کا شمسی برج جدی اور قمری برج دلو ہے، پیدائش کا وقت آپ نے نہیں لکھا لہذا پیدائشی برج خدا معلوم کیا ہے۔

                آپ کی سوچ بہت انتہا پسندانہ ہے، آپ کو اﷲ سے جو شکوہ ہے وہ بھی درست نہیں ہے، وہ سب کی سنتا ہے مگر کرتا وہی ہے جو وہ خود بہتر سمجھتا ہے، اس کے اپنے اصول و قواعد ہیں اور وہ ہمارے حال کو بھی جانتا ہے اور مستقبل سے بھی با خبر ہے، وہ ہرگز کسی کو نظر انداز نہیں کرتا اور سب کو ان کی صلاحیت اور کوشش کے مطابق صلہ دیتا ہے لیکن انسان فطری طور پر بڑا بے صبر اور جلد باز واقع ہوا ہے، وہ اپنی خواہشوں کی شدت کا غلام ہے، حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ نہایت شدت کے ساتھ جس چیز کی خواہش کر رہا ہے وہ اس کے لیے اچھی ہے یا بری، مثال کے طور پر آپ کا مسئلہ شادی ہے اور آج آپ کی شادی ہو جائے تو ممکن ہے کل آپ کا مسئلہ ازدواجی زندگی کی ایسی پریشانیاں ہوں جنھیں دیکھتے ہوئے آپ یہ سوچیں کہ اگر آپ کی شادی نہ ہوتی تو اچھا تھا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا اور ہر حال میں اﷲ سے شکوہ کرتا رہتا ہے، ساتھ ہی دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ بھی کرتا رہتا ہے کہ ان کے پاس فلاں فلاں چیزیں ہیں اور میرے پاس نہیں ہیں اگر وہ قریب سے ان لوگوں کو دیکھے تو اسے معلوم ہو گا کہ وہ لوگ بھی خوش نہیں ہیں جن کے پاس اس کے خیال میں سب کچھ ہے، ان کے کچھ اور مسائل ہیں جو شاید اس کے مسائل سے بھی زیادہ پیچیدہ ہیں۔

                عزیزم! یہی کاروبارِ جہاں ہے، آپ کو اتنا مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیا آپ نماز اور قرآن صرف اس لیے پڑھتی تھیں کہ اﷲ آپ کی دنیاوی خواہشات پوری کرے، نماز تو آپ پر فرض ہے اور قرآن کا مطالعہ آپ کے علم میں اضافہ کرے گا۔ نماز اور قرآن کے مطالعہ کو آپ اپنی ضروریاتِ زندگی اور خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ کیوں سمجھتیں ہیں؟ اگر آپ نماز نہیں پڑھیں گی تو اﷲ کا کوئی نقصان نہیں کریں گی۔

                آپ کا برج جدی ایک مزاحمتی برج ہے۔ یہ لوگ اپنے کاموں میں بھی رکاوٹ ڈالتے رہتے ہیں اور شدید حاکمانہ مزاج رکھتے ہیں لہذا جب ان کا کوئی کام نہیں ہوتا یا کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو سخت مایوسی کا شکار ہو کر دنیا اور دین دونوں سے بیزاری کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔

آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ صرف ایک شادی میں تاخیر کو مسئلہ بنانے کے بجائے زندگی کے دیگر پہلووں پر بھی توجہ دینا چاہیے کہ جب تک شادی نہیں ہو رہی مزید تعلیم حاصل کریں، اپنا کرئیر بنائیں، دنیا میں ہزاروں لاکھوں لڑکیاں ایسی ہوں گی جن کی شادی میں تاخیر ہوتی ہے لیکن وہ زندگی کے کسی دوسرے شعبے میں ترقی کا سفر جاری رکھتی ہیں۔ آپ جس ماحول اور حالات میں زندگی گزار رہی ہیں، اس سے نکلنے کی کوشش کریں اور یہ کوشش اسی طرح ممکن ہے کہ آپ بے کار بیٹھنے کے بجائے اپنی زندگی کو بامقصد بنائیں۔

کبھی آپ نے اپنے حالات پر غور بھی کیا ہے ، آپ کی تعلیم کتنی ہے ؟ گھریلو کاموں کے علاوہ مزید آپ نے کیا سیکھا اور سمجھا ہے ؟ آپ کی غربت کے اسباب در حقیقت کیا ہیں؟ آپ کے والد یا بہن بھائی وغیرہ کیا کر رہے ہیں؟ دنیا میں مزید ترقی کے لیے ان کی کوششیں کتنی اور کس حد تک ہیں؟ اگر آپ کے گھر والے روایتی طور پر لکیر کے فقیر بن کر زندگی گزارتے رہے ہیں تو آپ اپنی غربت کا موازنہ ان لوگوں سے کیسے کرسکتی ہیں جنھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی یا کسی خاص ہنر میں مہارت حاصل کرکے ترقی کی؟ آپ کو ان سب اسباب پر بھی غور کرنا چاہیے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے ۔

آپ کے زائچے میں شادی کا ستارہ زہرہ نہایت کمزور ہے، آپ کو اوپل یا سفید پکھراج کا نگینہ دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں پہننا چاہیے اور اپنا صدقہ جمعہ کے دن کسی سفید چیز کا ساٹھ جمعہ تک دینا چاہیے، آپ کی شادی میں رکاوٹ دور ہو جائے گی۔ آپ کے لیے اسم اعظم یہ ہے یا اﷲ المعطی اللطیف۔ نوچندے بدھ سے شروع کریں اور روزانہ اول آخر درود شریف کے ساتھ 300 مرتبہ پڑھ کر دعا کریں۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔