ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
مسائل کے جنگل میں بھٹکتے مسافروں کی بے خبری
اکثر و بیشتر واٹس ایپ پر بعض بڑے دلچسپ اور عجیب میسج ملتے ہیں جو خاصے گمراہ کن ہوتے ہیں اور جب ایسے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر بحث مباحثہ شروع کردیتے ہیں، مثلاً ایک صاحب نے پوچھا کہ عدد 8کی نحوست کو ختم کرنے کے لیے کوئی نقش ہے آپ کے پاس؟
ہم نے سوال کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ عدد 8کی نحوست کا شکار ہیں تو جواب یہ ملا کہ میں خود علم الاعداد سے واقف ہوںاور جانتا ہوں کہ 8کا عدد نہایت منحوس ہوتا ہے، ہم نے جواب دیا کہ بھائییقینا آپ کی علمی استعداد کم ہے ، دنیا میں بے شمار لوگ عدد 8کے زیراثر پیدا ہوئے ہیں اور انھوں نے نہایت کامیاب زندگی گزاری ہے۔
بے شمار افراد کے ناموں کا عدد بھی 8رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔مگر وہ صاحب یہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے ، اسی طرح بعض لوگ مختلف پتھروں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کیایہ پتھر میری زندگی بدل سکتا ہے یا میرے لیے فائدہ بخش ہوسکتا ہے تو انھیں بھی جب یہ بتایا جائے کہ جناب قیمتی پتھر صرف نام یا تاریخ پیدائش کے مطابق تجویز کرنا غلط ہے، ضروری ہے کہ اس کے لیے آپ کا مکمل اور درست زائچہ بنایا جائے اور اس کے مطابق پتھر تجویز کیا جائے کیوں کہ ویسٹرن سسٹم ہو یا ویدک سسٹم ہر صورت میں موافق یا مددگار اسٹون تجویز کرنے کا صحیح طریقہیہی ہے۔
ایسی صورت میں لوگ مثالیں دینا شروع کردیتے ہیں کہ ہم نے فلاں کتاب میں پڑھاتھا اور فلاں رسالے میں دیکھا تھا یا فلاں صاحب نے ہمارا نام سن کر کہا تھا کہ فلاں پتھر پہن لو وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے خیال میں جو لوگ اس طرح کوئی پتھر یا کوئی نقش وغیرہ پہنتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں ، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کسی کا مکمل برتھ چارٹ ہییہ نشان دہی کرسکتا ہے کہ اس کا اصل مسئلہ کیا ہے، اس کے ساتھ جو پریشانیاں ہیںیا ناکامیاں ہیں ان کی وجوہات کیا ہیں اور یہبات صرف نام یا صرف آپ کی پیدائش کی تاریخ سے معلوم نہیں ہوسکتی ، اس کے لیے برتھ چارٹ ضروری ہے، بہر حال ہم اپنے طور پر درست راستے کی طرف رہنمائی کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
زندگی میں جذباتی فیصلے
ث بنت ز، کراچی سے لکھتی ہیں “میں بہت زیادہ پریشان ہوں بلکہ اس حد تک کہ اب جینے کی آس ختم ہوچکی ہے۔ میری شادی ہوئی مگر شادی سے جو خوشی ملنی چاہیے تھی وہ نہ مل سکی۔ ساری زندگی شوہر کے بغیر گزر گئی۔ ایک بیٹا ہے جس نے حد سے زیادہ مجھے پریشان کر دیا ہے۔ جس کیخاطر میں نے اپنی پوری زندگی برباد کی، وہی میرے لیے پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔میں اب بیمار رہنے لگی ہوں۔”
جواب: عزیزم! آپ کا پورا خط شائع کرنا ہم ضروری نہیں سمجھتے اور آپ نے اپنے مسائل کی اور ساتھ ہی خاندانی مسائل کی جو تفصیل لکھی ہے، وہ بھی ہمارا خصوصی موضوع نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کے خاندانی مسائل درحقیقت آپ کے مسائل نہیں ہیں۔ بلکہ آپ کے والدین کے مسائل ہیں۔ بھائیوں کا رویہ اور کردار یا بھابھی کا مسئلہ، والد کی پریشانیاں،یہ سب آپ کے کھاتے میں نہیں آتے۔ البتہ بیٹے کا مسئلہ ضرور آپ کا مسئلہ ہے لیکنیاد رکھیں کہ اس وقت تک ہمارا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا جب تک ہم مسئلے کے اصل اسباب کو نہ جان لیں اور ساتھ ہی ہمارے لیےیہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہم نے ماضی میں کون سی غلطیاں ایسی کی ہیں جن کی وجہ سے ہم موجودہ مسائل کا شکار ہیں۔
جب تک ہم ان بنیادی نکات پر غور و فکر نہیں کریں گے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی غلطیوں کا ادراک نہیں کریں گے، مسائل حل نہیں ہو سکتے بلکہ غلط تشخیص اور غلط اندازوں کی بنیاد پر جو بھی علاج کیا جائے گا وہ بیماری کو مزید خطرناک بنا دے گا۔
آپ کے بقول آپ کی شادی ابتداءہی میں ناکام ہو گئی اور آپ اپنے والد کے گھر واپس آ گئیں۔ اس وقت سے آج تک والد کے گھر میں مقیم ہیں۔ کبھی شوہر سے خلع یا طلاق کے بارے میں نہیں سوچا؟ اور دوسری شادی کے بارے میں شاید اس لیےنہیں سوچا ہو گا کہ بچے پر سوتیلا باپ ظلم کرے گا۔ بچے کی خاطر اپنی شادی کی قربانی دے دی۔ کیایہ سب جذباتی فیصلے نہیں تھے؟ اب آپ کو احساس ہو رہا ہے کہ میں نے اپنی زندگی تباہ کر لی۔ ممکن ہے اس وقت کچھ لوگوں نے طلاق اور پھر دوسری شادی کا مشورہ دیا ہو گا مگر آپ کی آنکھوں پر مامتا کی پٹی بندھی ہو گی۔
اس جذباتی فیصلے نے آپ کو بھی برباد کیا اور اسے بھی برباد کیا جس کی خاطر آپ نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ اگر آپ شادی کی ناکامی کے بعد دو چار سال میںیہ حقیقت پسندانہ فیصلہ کر لیتیں کہ شوہر سے طلاق لے کر دوسری شادی کر لی جائے تو کم از کم آج اس حال میں نہ ہوتیں۔
یاد رکھیں! زندگی ایک بہتی ندی کے مانند ہے اس کے دھارے کو روکنے کی کوشش صرف تباہی لاتی ہے۔ زندگی کو اس کے فطری اصولوں کے مطابق گزارنا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔
یہ سوچنا کہ پہلی شادی ناکام ہوئی اور پہلا شوہر خراب نکلا تو دوسرا تجربہ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے، یہ ایک منفی سوچ ہے انسان کو ہمیشہ خوش امید رہنا چاہیے اور زندگی کے تقاضوں کے مطابق سفر جاری رکھنا چاہیے جو لوگ ناامید اور مایوس ہو کر راہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی کے فطری راستے پر قدم آگے بڑھانے سے ہچکچاتے ہیں۔ وہ عمر بھر وہیں بیٹھے رہتے ہیں جہاں بیٹھ گئے ہوتے ہیں۔ منزل انہیں کو ملتی ہے جو راستے کی مشکلات، خطرات اور اندیشوں کی پروا کیے بغیر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
اب بھی آپ کے مسائل کا حل اسی میں ہے کہ آپ دوسری شادی کے بارے میں سوچیں۔ اب تو وہ شخص بھی اس دنیا میں نہیں رہا جس نے برسوں سے آپ کو ایک بے مقصد نکاح کے پھندے میں پھنسا رکھا تھا۔ اب بھی آپ کی عمر اتنی زیادہ نہیں ہے کہ دوسری شادی نہ ہو سکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اتنی تاخیر کے بعد اب جو شادی ہو گی وہ سمجھوتوں کی شادی ہو گی اور یہ سمجھوتا بہرحال کرنا پڑے گا۔
آپ کا شمسی برج جوزا ہے اور قمری برج سرطان ہے، جبکہ پیدائشی برج سنبلہ ہے۔ لہذا فوری طور پر یعنی کم از کم اس سال شادی کا امکان نظر نہیں آتا اگر کوشش کی جائے تو سال کے آخر تک شادی ہو سکتی ہے۔ یہی آپ کے مسائل کا واحد حل ہو گا۔ آپ کے بیٹے کا شمسی برج عقرب اور قمری برج سنبلہ ہے جبکہ پیدائشی برج دلو ہے۔ وہ بہت زیادہ شدت پسند اور خواہشات کا غلام لڑکا ہے۔
موجودہ حالات اس کے لیے ناقابل قبول ہیں اور جب ان حالات میں اسے اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا تو ظاہر ہے وہ اپنے جارحانہ ردعمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ آپ اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتیںیا کم از کم وہ جو کچھ چاہتا ہے وہ اسے نہیں دے سکتیں۔ اب وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے بارے میں سوچتا ہے۔ ویسے بھی وہ زحل کی ساڑھ ستی سے گزر رہا ہے اور زحل کی ساڑھ ستی بچوںکو ان کے بنیادی مقاصد سے ہٹا کر غلط راستوں پر لے جاتی ہے۔ منفی سوچیں ذہن میں ابھرتی ہیں۔ اس دوران میں انسان غلط صحبت میں بھی پڑ جاتا ہے۔ ہر ہفتے اپنا اور بیٹے کا صدقہ دیا کریں۔
آپ نے اپنے خط میںیہ وضاحت نہیں کی کہ شوہر سے علیحدگی کے بعد سے اب تک تقریباً سولہ سترہ سالوں میں آپ کیا کرتی رہیں؟ کیا صرف باپ کے گھر میں بیٹھ کر یہ انتظار کرتی رہیں کہ کبھی نہ کبھی شوہر سے مصالحت ہو جائے گی؟ اس عرصے میں تعلیمیا ہنر کی طرف کبھی توجہ نہیں دی؟ کوئی جاب کرنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا وغیرہ وغیرہ۔
بہت دیر کر دی
گل چاندنی، میرپور خاص: عزیزم! آپ کا بہت سا وقت ضائع ہو گیا ہے لیکن بہت اچھی بات یہ ہے کہ آپ کی قوت ارادی بہت مضبوط ہے اور آپ کی سوچ مثبت ہے۔ بے شک اس سوچ کے ساتھ آپ حالات کو بھی شکست دے سکتی ہیں اور بیماری کو بھی۔ مسکولر ڈسٹرافی کا علاج ہمارے خیال اور معلومات کے مطابق ایلوپیتھک طریقہ علاج میں نہیں ہے۔ صرف عارضی آرام کے لیے زود اثر دوائیں موجود ہیں۔ چونکہ ہمارے ایلوپیتھک ڈاکٹر صاحبان بھی اس حقیقت سے واقف ہیں لیکن وہ اس کا اظہار کر کے مریض کو مایوس نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جو دوائیں وہ استعمال کرا رہے ہیں، وہی کافی ہیں اور اس کے علاوہ مزید دوائیں ایجاد بھی نہیں ہوئیں۔
بہرحال ہم بہتر یہی سمجھتے ہیں کہ آپ ساتھ میں ہومیوپیتھی یا الیکٹرو ہومیوپیتھی کے کسی ماہر سے بھی مشورہ کریں۔ اس کے علاوہ آپ کو مراقبہ بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یاد رکھیں! یہ مراقبہ ہی ہے جس نے آپ کی سوچ کو مثبت اور قوت ارادی کو مضبوط کیا ہے اور مشکلات اور مسائل سے لڑنے کا حوصلہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پیراسائکو لوجی کے ایسی طریقے موجود ہیں جو آپ کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ نے اپنے زائچے پر رائے طلب کی ہے۔
اس وقت مشتری آپ کے زائچے میں گیارہویں گھر میں ہے اور یہ گھر امید و خواہشات کی تکمیل کا گھر ہے۔ زحل چھٹے گھر میں ہے اور قمر سے بارہویں گھر میں۔ یہ صورت اچھی نہیں ہے یعنی رکاوٹ ڈالنے والی ہے۔ اس پر کوشش اور درست علاج معالجے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
بہرحال مجموعی طور پر صورت حال مایوس کن نہیں ہے۔ علاج معالجے میں مشورے کے لیے آپ براہ راست فون پر رابطہ رکھ سکتی ہیں۔ کیونکہ آپ کے تمام مسائل پر اس کالم میں کھل کر گفتگو کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ مرجان، گلابی ترملین اور ایکومرائن،یہ تین پتھر آپ کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اپنا صدقہ جمعرات، ہفتہ اور منگل کو دیا کریں۔
یہ عشق نہیں آساں
الف ۔ ک کراچی سے لکھتی ہیں “میں آپ کا کا لم شوق سے پڑھتی ہوں، کئی مرتبہ کوشش کی آپ سے بات کرنے کی اپنے مسئلے پر، میں بہت بیمار رہتی ہوں اور پڑھائی میں بھی ناکام ہوئی ہوں، کیا میری غلطی سائنس لینا تھی؟ میں نے ایک امام صاحب سے استخارہ کرایا تھا، انھوں نے کہا کہ آپ پر جادو اور آسیبی اثرات ہیں اس کا علاج کروائیں، کیایہ بات صحیح ہے؟
میں بچپن میں کسی کو پسند کرتی تھی، کئی سال بعد اسے پتا چلا لیکن میں نے کبھی اظہار نہیں کیا کیونکہ وہ کسی اور کو چاہتا تھا پھر میری زندگی میں ایک اور لڑکا آیا جو مجھے پسند کرنے لگا، اب بات بہت بڑھ گئی اور ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔ پلیز میری رہنمائی کیجیئے۔ وہ لڑکا غیر برادری کا ہے جبکہ ہمارے یہاں شادی برادری میں کرتے ہیں۔
میں اپنے گھر والوں کو کیسے راضی کروں؟ گھر میں سب کو پتا ہے لیکن کوئی خوش نہیں ہے، ان کے گھر والے راضی ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ میں ان سے چھپ کر نکاح کر لوں اور جب گھر والے کہیں رشتہ طے کریں تو پھر بتا دیا جائے کہ نکاح ہو چکا ہے۔ پلیز مجھے بتائیں کہ کیا مجھے یہ نکاح کرنا چاہیے، وہ جلد سے جلد نکاح کرنا چاہتے ہیں، ایک دو مہینے میں، ان کا کہنا ہے کہ ان پر کوئی جادو کروا رہا ہے تاکہ ہم الگ ہو جائے اور ایک دوسرے کو بھول جائیں۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے مجھے پانے کے لیے اعمال کا سہارا بھی لیا ہے، کچھ میری اجازت سے اور کچھ شاید بغیر بتائے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے رشتہ بھیجنے پر تم پر پابندیاں لگ جائیں گے، اس لیے ہم پہلے ہی خود کو مضبوط کر لیں، نکاح کر کے۔ پھر رشتہ بھیجوں گا، مہربانی کر کے مجھے اس الجھن سے نکالیں۔
جواب: عزیزم! یہ درست ہے کہ شمسی برج حمل اور شمسی برج جوزا کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ہم سے پہلے کبھی ای میل پر آپ دونوں کی ہم آہنگی کے بارے میں سوال کیا گیا تھا اور ہم نے مثبت جواب دیا تھا تو یقیناً اسی بنیاد پر دیا ہو گا لیکن شادی اور ازدواجی زندگی میں کامیابی صرف ذہنی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی کا نام نہیں ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک غلط تصور یا نظریہیہ پیدا ہو گیا ہے کہ دو افراد یعنی لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کو پسند کرنے لگیں تو اسے محبت کا نام دے دیا جاتا ہے اور ساتھ ہییہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی شادی کامیاب رہے گی کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں حالانکہ ایسی ہزاروں بلکہ لاکھوں مثالیں دنیا میں موجود ہیں کہ دو محبت کرنے والوں یا ایک دوسرے کو پسند کرنے والوں نے شادی کے بعد ایک دوسرے سے علیحدگی بھی اختیار کی اور لڑائی جھگڑے بھی کیے، چناچہ ثابت ہوا کہ پسندیدگی اور محبت شادی کے بعد کامیابی کی ضمانت نہیں ہیں۔
آپ کے معاملات میں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے، یقیناً آپ دونوں کے درمیان پسندیدگی اور ایک دوسرے کے لیے کشش موجود ہے لیکنیہ صرف شادی سے پہلے تک ہے، شادی کے بعد آپ دونوں ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہو جائیں گے اور آپ دونوں کی لڑائی کا تماشا دنیا دیکھے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ جتنی ذمہ دار ہیں اور ٹھوس بنیاد پر محبت یا ازدواجی زندگی چاہتی ہیں، وہ آپ کا مطلوبہ لڑکا نہیں دے سکتا، وہ آپ کے مقابلے میں خاصا غیر ذمہ دار اور سطحی سوچ رکھنے والا ہے، اس کا ثبوت اس کی اس پیش کش میں موجود ہے جو وہ نکاح کے سلسلے میں کر رہا ہے۔ کیایہ ایک نہایت غیر ذمہ دارانہ اور پریشان کن طریقہ کار نہیں ہے کہ آپ دونوں اپنے گھر والوں سے چھپ کر شادی کر لیں اور بعد میں ایک نیاجھگڑا کھڑا ہو جائے، آپ کے گھر والوں کی عزت داوپر لگ جائے اور وہ اپنی مرضی کے خلاف اس کا مطالبہ ماننے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ سارا طریقہ کار ہمارے نزدیک تو فراڈ اور چیٹینگ کہ زمرے میں آتا ہے اور یہ چیٹینگ نہ صرف یہ کہ وہ کر رہا ہے بلکہ آپ کو بھی اس میں شامل کر رہا ہے گویا آپ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے ایک غیر شخص کی خاطر اتنا بڑا دھوکا کریں گی، ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں گی تو پھر اس کے بعد ماں باپ کے دل پر کیا گزرے گی اور کیا وہ زندگی بھر اپنے دل کے اس زخم کو بھر سکیں گے؟
ظاہر ہے کہ وہ آپ سے زندگی بھر شدید نفرت کریں گے اور آپ بھی عمر بھر ان سچی خوشیوں سے محروم رہیں گی جو صرف اور صرف اپنے خونی رشتوں کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ اس سارے جوکھم اور مہم جوئی میں اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل وہ شخص جو آج محبت کے دعوے کر رہا ہے، آپ سے بے وفائی نہیں کرے گا اور زندگی کے کسی مرحلے میں بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا؟
ہم آپ کو بتا دیں ایسی کوئی ضمانت وہ فراہم نہیں کر سکتا، علم نجوم کی روشنی میں برج جوزا سے زیادہ ناقابل اعتبار کوئی برج نہیں ہے اور مزیدیہ کہ اس کا قمری برج بھی جوزا ہے، شمسی برج کے ساتھ اگر قمری برج یا پیدائشی برج ذمہ دارانہ مزاج کا حامل ہو تو برج جوزا کی منفی خصوصیات دب جاتیں ہیں لہذا ہماری نظر میں آپ کے منتخب لڑکے پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا اور آپ بھول کر بھی وہ غلطی نہ کریں جس کا مشورہ آپ کو دیا جا رہا ہے۔
آپ کے لیے بہترین بات یہی ہو گی کہ صبر و سکون سے بیٹھیں اور اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی طرف توجہ دیں،تعلیمی میدان میں آپ کی ناکامی کی پہلی وجہ تو یہی ہے کہ آپ نے پری میڈیکل جیسا سخت اور محنت طلب سبجیکٹ لے لیا ہے، دوسری وجہ یہ موصوف ہیںجو آپ کو پسند آ گئے ہیں، وہ نہ خود چین سے بیٹھیں گے نہ آپ کو بیٹھنے دیں گے۔ رہا سوال تعلیم میں دلچسپی کے لیے وظیفے وغیرہ کایا گھر والوں کو راضی کرنے کے لیے وظیفے کا، تو جناب وظیفے بھی وہاں کام کرتے ہیں جہاں جائز استحقاق بنتا ہو، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کا دھیان تو عشق و عاشقی میں ہے اور اﷲ سے دعا بذریعہ وظیفہ امتحان میں کامیابی کی، کی جا رہی ہے، یہ تو وظیفے کے ساتھ بھی کھلا مذاق ہے۔ اسی طرح اپنے گھر والوں کی رائے کو تبدیل کرنے کے لیے عملیات کا سہارا لینا بھی اس صورت میں غلط ہے جو آپ کے ساتھ ہے۔
خدا نخواستہ آپ کے والدین آپ پر کوئی ظلم نہیں کر رہے، آپ کی شادی کسی غلط جگہ، نامناسب طریقے سے نہیں کر رہے، وہ تو فی الحال آپ کو تعلیم دے رہے ہیں اور آپ ایک غیر شخص کے ساتھ مل کر انھیں ایک ایسی شادی پر رضامند کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جسے وہ اپنے نظریات کے مطابق مناسب نہیں سمجھتے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ابھی ان کے سامنے رشتہ بھی نہیں لایا گیا۔ قصہ مختصر یہ کہ یہ تمام صورت حال غلط ہے اور آپ کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے، ہمارا کام نیک و بد بتانا ہے، ماننا نہ ماننا آپ کی مرضی ہے۔

