اگست کی سیاروی گردش، نئے فیصلوں اور اقدام کا آغاز

اگست کی سیاروی گردش، نئے فیصلوں اور اقدام کا آغاز

نظام میں تبدیلی کے لیے نئے منصوبوں کی رونمائی

 اگست کے مہینے کا آغاز ہورہا ہے جو ہمارا آزادی کا مہینہ ہے، 14اگست کو ہم یوم آزادی مناتے ہیں مگر افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ آزاد کشمیر سے بلوچستان تک ایک عدم اطمینان کی صورت حال نظر آتی ہے، بلوچستان اور کے پی کے میں تو کافی عرصے سے حالات خراب ہیں، دہشت گردی کی متعدد وارداتیں ہوچکی ہیں اور مزید ہورہی ہیں۔

سیکورٹی سے متعلق ادارے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت مصروف نظر آتے ہیں لیکن کشمیر کی صورت حال بہت عجیب ہوگئی ہے اور مزید عجیب بات یہ ہے کہ وہاں الیکشن بھی ہورہے ہیں، بہتر یہی ہوتا ہے کہ جب تک امن و امان قائم نہ ہوجائے الیکشن ملتوی کردیے جاتے۔ بہر حال ملک بھر میں ایک بے اطمینانی اور تشویش کی فضا قائم ہے ، کیا ہورہا ہے اور کیا ہوگا اس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ جناب محسن نقوی نے اپنی ایک تقریر میں یہ اعتراف کرلیا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے اور اب نیا نظام لانے کی ضرورت ہے جس میں ملک کو مزید صوبوں میں تقسیم کیا جائے ، گویا جیسا کہ ہم پہلے سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ سیارہ مشتری کی برج سرطان میں آمد کسی نئی آئینی ترمیم کا باعث ہوسکتی ہے تو اس بات کا امکان پیدا ہوچکا ہے ۔

 اس صورت حال میں پاکستان کے زائچے پر اگر نظر ڈال لی جائے تو یہاں بھی سب کچھ اچھا نظر نہیں آتا اور عدم اطمینان کی جو کیفیت ہے اس میں اضافہ ہی ہوتا نظر آتا ہے۔

سیارہ مریخ زائچے کے پہلے گھر میں حرکت کر رہا تھا اور اس کی نظر چوتھے گھر پر تھی لہٰذا ملک میں انتشار اور انارکی پیدا ہوئی، 2اگست سے سیارہ مریخ زائچے کے دوسرے گھر میں داخل ہوگااور 18ستمبر تک دوسرے گھر میں رہے گا، یہ صورت حال بد امنی ، لاقانونیت اور جرائم میں اضافہ لائے گی، مریخ کی نظر پانچویں، آٹھویں اور نویں گھر پر بھی ہوگی گویاآئینی ترمیم کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیارہ عطارد دوسرے گھر میں ہے ، یہ بھی 5اگست کو تیسرے گھر میں داخل ہوگا تو صورت حال میں نئی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی، نئے احکامات اور فیصلے کیے جائیں گے۔

سیارہ زہرہ زائچے کے چوتھے گھر میں تھا اور سیارہ مریخ کی نظر میں تھا اور یکم اگست سے پانچویں گھر میں داخل ہوگیا ہے، اب بھی مریخ کی نظر میں ہے، یہ صورت حال سول و ملٹری بیوروکریسی کو مزید ایکٹیو کرتی ہے، اس کے علاوہ ایسے اقدام دیکھنے میں آتے ہیں جن میں مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔

زہرہ پانچویں گھر میں ہبوط میں ہے،گویا اپنی طاقت کھوچکا ہے لہٰذا سول و ملٹری ، بیوروکریسی کے ساتھ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے بھی متنازع ہوں گے جن پر سوال اٹھائے جائیں گے۔ زہرہ 3اکتوبر کو برج میزان میں زائچے کے چھٹے گھر میں داخل ہوگا تو اس کی پوزیشن مضبوط ہوگی اوراس بار زہرہ اس گھر میں زیادہ لمبے عرصے تک قیام کرے گا۔ زہرہ کا یہ طویل قیام اہم اثرات ظاہر کرتا ہے۔

آنے والے وقت میں موجودہ حکومت اپنی حیثیت اور وقعت مکمل طور پر کھودے گی جس کا اعتراف ابھی سے وزیر داخلہ نے کرلیا ہے۔ اگرچہ وقعت تو باقی نہیں رہی ہے ، عوام شدید نفرت کا اظہار کر رہے ہیں خصوصاً روز بہ روز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومت کی عیاشیاں اس کا سبب ہیں۔

سیارہ مشتری برج سرطان میں ہے اور نہایت تیز رفتاری سے دوسرے برج اسد کی جانب بڑھ رہا ہے ۔سرطان زائچے کا تیسرا گھر ہے، یہاں شمس بھی موجود ہے جس کی وجہ سے مشتری غروب ہے اور اس کی نظر زائچے کے نویں گھر پر آئینی و قانونی امور پر ہے، سیارہ زحل کو رجعت ہوچکی ہے ، یہ صورت حال بھی موجودہ حکومت کے لیے بہتر نہیں ہیں، ایسی افواہیں موجود ہیں کہ اس حکومت کو گھر بھیجنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔

12اگست کو زائچے کے تیسرے گھر میںسورج گہن لگے گا جس کے بعد حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے حکمت عملی مکمل طور پر تبدیل کی جائے گی اور متبادل راستوں پر غوروفکر کیا جائے گا، 17اگست کے بعد سیارہ شمس چوتھے گھر میں آجائے گا جو اس کا اپنا گھر ہے۔

امکان ہے کہ عوام اور اپوزیشن کی اہمیت نمایاں ہوگی اور ارباب حل و عقد عوامی مسائل پر بھی توجہ دیں گے، اس حوالے سے بعض آئینی تبدیلیوں کے بارے میں بھی سوچا جائے گا لیکن اس سلسلے میں جو بھی فیصلے ہوں گے کیا وہ صرف عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہوں گے؟یا اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہوں گے ، یہ سوال بہت اہم ہوگاجس کا جواب زائچے کی روشنی میں یہی ہے کہ مقاصد کچھ اور ہی ہوں گے۔

سیارہ مشتری برج سرطان میں داخل ہوا تھا تو ہم نے کہا تھا کہ اکتوبر تک کسی نئی آئینی ترمیم کا امکان موجود ہے ، ہم اپنی اس بات پر ابھی تک قائم ہیں ۔اس مہینے کے دوسرے ہفتے سے مشتری کی نظر رجعت زدہ زحل پر قائم ہوجائے گی ، یہ صورت حال حکومت کے اتحادیوں میں شدید اختلافات کا سبب بن سکتی ہے۔

اگرچہ کشمیر الیکشن کے دوران میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ایک لفظی گولا باری تو شروع ہوچکی ہے لیکن فی الحال دونوں اپنے اپنے مقام و مرتبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں، مشتری پر زحل کی نظر ایسی صورت حال پیدا کرسکتی ہے اور ظاہر ہے اس کے نتیجے میں حکومت گرنے کے اسباب پیدا ہوسکتے ہیں، اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی آسکتی ہے مگر ان سب کے علاوہ دوسرا بڑا خطرا اب مارشل لا کا پیدا ہوچکا ہے کیوں کہ مقتدر حلقے موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے خاصے دل برداشتہ ہیں، ایسی صورت میں وہ حالات کو بہتر بنانے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی بھی بڑا قدم اٹھاسکتے ہیں۔

بہر حال ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ اس سال کے یہ آخری چار مہینے خاصے سنگین نوعیت کے ہیں جس میں کچھ بھی ایسا ہوسکتا ہے جس کی پہلے سے توقع نہ ہو ۔(واللہ اعلم بالصواب)

اگست کی سیاروی گردش

سیارہ شمس برج سرطان میں حرکت کر رہا ہے، 17 اگست کو اپنے ذاتی برج اسد میں داخل ہوگا، یہ شمس کا برج عروج ہے، یہاں اس کی پوزیشن طاقت ور ہوتی ہے۔

سیارہ عطارد برج جوزا میں حرکت کر رہا ہے، 6اگست کو برج سرطان میں داخل ہوگا اور پھر 22اگست کو برج سنبلہ میں اپنے شرف کے برج میں داخل ہوجائے گا۔

سیارہ زہرہ اپنے ہبوط کے برج سنبلہ میں داخل ہوچکا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا۔

سیارہ مریخ اس ماہ کی دو تاریخ سے برج جوزا میں داخل ہوگااور پورا ماہ اسی برج میں حرکت کرے گا۔

سیارہ مشتری برج سرطان میں نہایت تیز رفتاری سے محو سفر ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا۔

سیارہ زحل بحالت رجعت برج حوت میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اپنی الٹی چال پر رہے گا۔

سیارہ یورینس برج ثور میں حرکت کر رہا ہے جب کہ نیپچون برج حوت میں بحالت رجعت ہے۔ سیارہ پلوٹو بھی بحالت رجعت برج جدی میں رہے گا، راہو اور کیتو بالترتیب برج دلو اور اسد میں پورا مہینہ حرکت کریں گے ۔

سورج اور چاند گہن

اس سال کا آخری مکمل سورج گہن برج سرطان کے 26درجے پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 12اگست رات 08:34پر شروع ہوگا ، مکمل گہن رات 10:48پر ہوگا جب کہ اس کا خاتمہ 13اگست کی رات 12:57پر ہوگا۔ یہ گہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔

اس سال کا آخری جزوی چاند گہن پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق28 اگست صبح 06:23پر شروع ہوگا اور صبح 09:12پر مکمل ہوگا، اس کا خاتمہ دوپہر 12:01پر ہوگا، یہ گہن بھی پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔

شرف قمر

چاند اپنے شرف کے برج ثور میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق بہ روز جمعہ 7اگست شب 01:23پر داخل ہوگا اور بہ روز اتوار 9اگست شب 03:18 تک برج ثور میں رہے گا۔

اس دوران میں اپنے درجہ شرف پر 7اگست کوصبح 04:44سے 06:25تک ہوگا۔

شرف قمر کا وقت سعد اثرات کا حامل ہوتا ہے، اس دوران میں اپنے جائز اور نیک مقاصد کے لیے دعا کرنا افضل سمجھا جاتا ہے، اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر دعا کرنی چاہیے ۔

قمر در عقرب

قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 20اگست بہ روز جمعرات شب 02:00پر داخل ہوگا اور بہ روز ہفتہ 22 اگست دوپہر 02:16تک برج عقرب میں ہی رہے گا۔ اس دوران میں اپنے درجہ ہبوط پر 20اگست کوصبح 05:56سے 07:56تک ہوگا۔

قمر در عقرب کا وقت نحس تصور کیا جاتا ہے، اس دوران میں کوئی نیا کام شروع نہیں کرنا چاہیے۔خصوصاً کوئی نیا ایگریمنٹ، جاب جوائننگ ، نیا کاروبار شروع کرنا، منگنی یا نکاح وغیرہ سے گریز کرنا چاہیے۔

اس وقت میں علاج معالجہ کرانا ، بیماریوں اور بری عادت و اطوار سے چھٹکارا پانے کے لیے کوشش کرنا چاہیے ۔ اس حوالے سے حروف صوامت سے متعلق اعمال و وظائف ہماری ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

ہبوط زہرہ

سیارہ زہرہ کو برج سنبلہ میں ہبوط ہوتا ہے، اس ماہ یکم اگست سے 2ستمبر تک زہرہ اپنے ہبوط کے برج سنبلہ میں گردش کرے گا ۔ سیارہ زہرہ کا تعلق زندگی میں خوشیوں، عشق و محبت، شادی و ازدواجی زندگی سے ہے، ہبوط زدہ زہرہ ان کاموں میں رکاوٹ اور نحوست کا باعث بنتا ہے لہٰذا اس دوران میں منگنی یا نکاح وغیرہ سے گریز کرنا بہتر ہوگا، مزید زہرہ سے متعلق دیگر کاموں سے بھی گریز کرنا بہتر ہے ورنہ ان کے نتائج توقع کے مطابق نہیں ہوں گے ۔

ہبوط زہرہ میں خواتین کو غلط کاموں سے روکنے خصوصاً ناجائز تعلقات اور زنا وغیرہ کی عادات بد سے روکنے کے لیے اعمال کیے جاتے ہیں۔

ہم ایسے اعمال عموماً شائع نہیں کرتے کیوں کہ لوگ جائز اور ناجائز میں تمیز نہیں کرتے، بلاوجہ بھی دوسروں پر الزام لگاتے ہیں، اپنی خواہشات کی غلامی کرتے ہوئے خواتین کو پریشان کرسکتے ہیں، اگر کسی کا جائز مسئلہ ہے تو وہ پہلے براہ راست رابطہ کرکے صحیح صورت حال سے آگاہ کرے تو اس کی رہنمائی کردی جائے گی۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔