کیا تعویذ گنڈوں کے ذریعے پسندیدہ جگہ شادی کی جاسکتی ہے؟
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے،نےرنگیء سیاستِ دوراں
نقشِ ردّ سحر
گزشتہ ہفتے چاند اور سورج گہن کے حوالے سے حروف نورانی کا اہم ترین نقش پیش کیا گیا تھا جو ایک سے زیادہ مقاصد کے لیے موثر ترین ثابت ہوتا ہے لیکن خصوصی طور پر ہم نے اس موقع پر گندے اور سفلی عمل سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی طریقہ کار کی وضاحت کی ہے۔
اس کی ضرورت اس لیے بھی آج کے زمانے میں زیادہ ہے کہ لوگ اس حوالے سے زیادہ پریشان نظر آتے ہیں، انہیں ہر وقت اپنے پیچیدہ مسائل میں یہ خوف یا وہم لاحق رہتا ہے کہ وہ کسی گندے عمل کے اثرات کا شکار تو نہیں ہوگئے ہیں،جو لوگ یہ نقش تیار کرکے پاس رکھیں گے، انہیں ایسے خطرات سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، انشاءاللہ۔
واضح رہے کہ اکثریت اس حوالے سے محض وہم و گمان میں مبتلا ہوتی ہے اور اس وہم کو مزید تقویت جعلی عامل کامل یا نام نہاد قسم کے پیر فقیر دیتے ہیں، جہاں کسی نے اپنا کوئی مسئلہ بیان کیا، وہ فوراً بد اثرات ، سفلی عمل، وغیرہ کا فتویٰ دے دیتے ہیں، بہت کم ہی ایساہوتا ہے کہ حقیقی معنوں میں سفلی یا بد اثرات موجود ہوں، اس کی شناخت کے لیے ہم پہلے ایک عمل بھی دے چکے ہیں۔
یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بحیثیت مسلمان اگر ہم شرعی طور پر غسل کے طریقے سے واقف ہوں اور ہمیشہ پاک صاف رہیں، اپنے گھر کو پاک صاف رکھیں تو بھی اس نوعیت کے بداثرات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے،آئیے ایک دلچسپ کیس کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں سب کچھ تعویذ گنڈوں کی مدد سے ہورہا تھا۔
تعویذ گنڈوں نے اجاڑ دیا؟
ہمارے مشاہدے میں ایسے ہزاروں کیس آتے رہتے ہیں جن میں اکثریت کا خیال یہی ہوتا ہے کہ ان کے دشمنوں نے تعویذ گنڈے کرکے انہیں برباد کردیا ہے لیکن جب ان کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بربادی میں ان کے دشمنوں یا تعویذ گنڈوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا بلکہ ان کی اپنی غلطیاں ، کوتاہیاں، گمراہیاں ان کی تباہی کا سبب بنی ہیں، یہاں ہم ایک ایسا ہی کیس پیش کر رہے ہیں جو ملک کے ایک مشہور اخبار میں بھی شائع ہوچکا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ افراد کا ہم سے بھی رابطہ رہ چکاہے۔
یہ شیخو پورہ پنجاب کا واقعہ ہے، ایک خوش حال ،دولت مند خاندان میں شوہر نے دوسری شادی ایک ایسی عورت سے کرلی جو طلاق شدہ اور تباہ حال تھی، وہ صاحب حیثیت تھا اور دوسری شادی کرنا اس کے نزدیک کوئی جرم نہیں تھا، وہ اسے اپنا شرعی حق سمجھتا تھا لیکن اس کی بیوی جس کی ساری زندگی عیش و عشرت اور غرور و تکبر میں گزری تھی۔
اس شادی کو برداشت نہ کرسکی،اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خود مالی طور پر نہایت مضبوط پوزیشن رکھتی تھی، اس کا خیال تھا کہ چالیس سالہ مطلقہ جو دو بیٹیوں کی ماں تھی اس کے شوہر کو دولت کے لالچ میں پھانسنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور اس سے شادی کرلی ہے، اس حوالے سے اس پر یہ بھی الزام تھا کہ شادی کے لیے اس نے کسی عامل سے تعویذ لیے تھے اور ان تعویذوں نے اثر دکھایا، اس طرح اس نے زبردستی میرے شوہر سے شادی کرلی۔
ہمارے خیال میں یہ ایک فرضی ، قیاسی ، مزید یہ کہ احمقانہ الزام ہے، اگر اس طرح تعویذ گنڈوں کے ذریعے کسی دولت مند شخص سے یا کسی حسین و جمیل عورت سے شادی کرنا ممکن ہوتا تو لوگ لاکھوں روپے لے کر عاملوں کے دروازے پر بیٹھے ہوتے،اداکارہ میرا سے شادی کا دعوے دارعدالتوں کے چکر نہ کاٹ رہا ہوتا، حقیقت یہ ہے کہ خاتون فرضی نام فریدہ کا شوہر شاید اپنی بیوی سے بے زار تھا اور جب اُسے ایک خوب صورت کم عمر طلاق شدہ، شادی کی خواہش مند گویا ضرورت مند نظر آئی تو دونوں جانب سے پیش قدمی ہوئی اور اس طرح شادی ہوگئی،اس میں کسی تعویذ یا گنڈے کا کوئی کمال نہیں تھا۔
اس شادی کے نتیجے میں پہلی بیوی فریدہ سے خوب لڑائی جھگڑا ہوا، اس کا ذاتی گھر بہت اچھی جگہ تھا اور بیوی کے نام پر تھا، اس وقت مکان کی مالیت پچاس لاکھ سے زائد تھی، اس کے علاوہ بیوی کے قبضے میں زیورات اور مزید رقم بینک اکاونٹ میں تھی۔
چناں چہ اس نے اپنے شوہر سے ناراض ہوکر علیحدگی کا فیصلہ کرلیا اور بچوں سمیت لاہور شفٹ ہوگئی،اس موقع پر شوہر نے اور دیگر رشتے داروں نے اس کو اس فیصلے سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہی، اس نے شیخوپورہ والا گھر بیچ کر لاہور کے ایک پوش علاقے میں کرائے پر گھر لے لیا اور بچوں کے ہمراہ وہاں رہنے لگی، یہاں قریب ہی اس کی بڑی بہن بھی رہتی تھی۔
بڑی بہن کے بیٹے کی شادی میں اُس کے ایک سسرالی رشتے دار نے جو صورت شکل کا اچھا تھا لیکن انتہائی نالائق صرف میٹرک پاس تھا، اس کٹی پتنگ کو تاڑ لیا، اس کی نظر فریدہ کی بڑی بیٹی پر تھی، وہ اس پر لٹّو ہوگیا اور اس نے ان کے گھر آنا جانا شروع کردیا، بڑی بہن نے جو اس کی آوارگیوں سے واقف تھی، سمجھایا کہ اس لڑکے سے دور رہیں، اس کا چال چلن اچھا نہیں ہے لہٰذا جب اُس نے رشتہ مانگا تو فریدہ نے معذرت کرلی لیکن اُس کی بیٹی اس خوبصورت آوارہ کے دامِ فریب میں آچکی تھی، چناں چہ اُس نے ماں کو بتائے بغیر اُس سے کورٹ میرج کرلی، ماں کو صدمہ تو بہت ہوا لیکن بیٹی کو کیا کہتی؟ چند دن کی ناراضی کے بعد اُس نے بیٹی داماد سے صلح کرلی، اس طرح رفیق نامی اس شخص کے لیے گھر کے دروازے کھل گئے۔
اس حوالے سے کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب فریدہ نے رشتے سے انکار کیا تو رفیق کسی بابا کے پاس گیا اور 10 ہزار روپے کے عیوض دو تعویذ لے آیا، ان تعویذوں کا یہ اثر ہوا کہ خاتون کی بیٹی نے اس سے کورٹ میرج کرلی، اس کے بعد رفیق کا اگلا ہدف اپنی ساس تھی، اس نے بابا سے دوبارہ رابطہ کیا اور اس نے بھاری فیس لے کر مزید تعویذ دیے جو کسی طرح ساس کو کھلانے تھے۔
رفیق اس کوشش میں کامیاب رہا اور اس طرح وہ عورت جو اپنی بیٹی کا رشتہ دینے پر آمادہ نہ تھی، اب اٹھتے بیٹھتے اس کا دم بھرنے لگی،ہر معاملے میں اس سے مشورہ کرتی،اسے تو بیٹھے بٹھائے ایک جوان بیٹا داماد کی صورت میں مل گیا تھا،اس طرح رفیق کو اپنی ساس کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کا خوب موقع ملا۔
رفیق نے پہلے اپنی ساس کا ایک پلاٹ جو اس نے کسی برے وقت کے لیے خرید کر رکھ چھوڑا تھا،ہڑپ کرلیا، اس کے بعداس نے ایک روز گھر میں بتایا کہ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اس کے دل میں سوراخ ہے اور اس بیماری کا علاج صرف اٹلی میں ہوسکتا ہے،18 لاکھ روپے آنے جانے میں اور 15 لاکھ روپے علاج پر خرچ ہوں گے۔
رفیق نے کسی ٹریول ایجنٹ سے اٹلی جانے کے لیے جعلی کاغذات بھی بنوالیے تھے، اس طرح چند روز بعد ساس اور بیوی نے اُسے دعاوں کے سائے تلے علاج کے لیے اٹلی روانہ کردیا لیکن وہ اٹلی جانے کے بجائے کراچی پہنچ گیا اور ایک ڈیڑھ ماہ وہاں گزار کر واپس لوٹ آیا، خدا معلوم کیسے ساس کی عقل نے کچھ کام کیا، شاید بڑی بہن نے سمجھایا ہو تو اُس نے گھر میں خاصا ہنگامہ کیا اور رفیق سے پیسوں کا حساب مانگا تو وہ ساس کو سبق سکھانے کے لیے دوبارہ اپنے بابا جی کے پاس پہنچ گیا، بابا نے اُسے ایک ایسا تعویذ دیا جس کے اثر سے گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑا رہنے لگا، بعد میں معلوم ہوا کہ رفیق نے ان تعویذوں کے عیوض بابا کو 60, 70 ہزار روپے کھلائے تھے۔
فریدہ تازہ صورت حال سے خاصی پریشان تھی، اس دوران میں رفیق کے دیگر کرتوت بھی کھل کر سامنے آنے لگے تھے، اپنی ذمے داریوں سے تو وہ پہلے ہی کافی حد تک آزاد تھا، اب اُس نے اپنی بیوی کو مارنا پیٹنا بھی شروع کردیا تھا، کچھ دوسری عورتوں کے چکر میں بھی رہنے لگا تھا اور اس کا اظہار بھی کھل کر بیوی کے سامنے کرتا تھا، فریدہ اس صورت حال میں ایک دوسرے عامل کے پاس جا پہنچی۔
عامل نے اُسے یقین دلایا کہ وہ ایک ایسا عمل کرے گا کہ داماد اس کی بیٹی کا غلام بن کر رہ جائے گا لیکن اس عمل کی فیس پچاس ہزار روپے ہوگی، عامل کو پچاس ہزار روپے دے دیے گئے لیکن اس عمل کا رتی بھر کوئی فائدہ نہ ہوا، بالآخر داماد کی حرکتوں سے تنگ آکر خاتون نے عدالت کا رُخ کیا اور بیٹی کو خلع دلواکر اس کے چنگل سے آزاد کرایا لیکن اس سارے عرصے میں وہ خود عرش سے فرش پر آچکی تھی۔
عزیزان من! اختصار کے ساتھ یہ تمام واقعہ آپ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں نام نہاد جعلی عاملوں اور باباو ¿ں کی کوئی کمی ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کی جو ان کے ذریعے اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کی خاطر ہزاروں روپے لٹاتے ہیں اور تباہ و برباد ہوتے ہیں،رفیق بھی بعد ازاں خوار ہی ہوا، یہ خیال غلط ہے کہ بابا کے تعویذوں کی وجہ سے وہ شادی کرنے میں یا اپنی ساس کو رام کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔
شادی میں کامیابی اُسے لڑکی کی جذباتی غلطی کے باعث ملی اور فریدہ بیٹی کے ہاتھوں مجبور ہوکر داماد پر بھروسا کرنے لگی،حقیقت یہ ہے کہ خاتون نے اپنے شوہر سے علیحدہ ہوکر بہت بڑی غلطی کی تھی اور شوہر کا قصور صرف اتنا ہی تھا کہ وہ دوسری شادی کر بیٹھا تھا، دولت کے بل بوتے پر شوہر کو چھوڑ کر تن تنہا لڑکیوں کے ساتھ علیحدہ قیام کرنا رفیق جیسے آوارہ اور بد قماش افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا،اس فیملی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، اس میں کسی بابا کے تعویذوں کا کوئی دخل نہیں تھا، بابا تو رفیق جیسے بدقماش کو بھی لوٹتا رہا۔
فریدہ کی بڑی بہن ہمارے پرانے قارئین میں سے تھی، اس ساری صورت حال میں اس نے ہم سے رابطہ کیا تھا اور ہم نے اس کو یہی سمجھایا تھا کہ آپ کی بہن نے شوہر سے علیحدہ ہوکر بہت بڑی غلطی کی ہے،اب اس صورت حال کو سنبھالنے کے لیے جعلی عاملوں سے رابطہ کرنے کے بجائے عدالت سے رجوع کریں اور خلع لے کر اس فراڈیے سے نجات حاصل کریں۔
ایک دلچسپ قصہ
ایک بار ایک صاحب ہمارے پاس آئے،اپنی وضع قطع سے مولوی معلوم ہوتے تھے، حالاں کہ نوجوان تھے، انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک دوست ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن لڑکی کا بھائی اس شادی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے،لڑکی بھی لڑکے کو پسند کرتی ہے،لڑکی کی ماں بھی راضی ہے لیکن لڑکے کے بھائی کی وجہ سے باپ بھی اس رشتے کے خلاف ہوگیا ہے،آپ کوئی ایسا عمل یا تعویذ کریں جس سے لڑکا اور اُس کا باپ راضی ہوجائی۔
ہم نے معمول کے مطابق انہیں سمجھایا کہ اللہ نے لڑکے کے باپ اور اس کے بھائی کو جو حق دیا ہے اس کے خلاف کوئی عمل یا تعویذ کرنا ناجائز ہوگا، پھر ہم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کوئی عالم دین ہیں یا مولوی وغیرہ ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں نے درس نظامی کا کورس مکمل کیا ہے لیکن میں نہ مولوی ہوں اور نہ عالم دین۔
البتہ مجھے عملیات و وظائف کا شوق ضرور رہا ہے اور اپنے دوست کی مدد کے لیے میں نے کئی عمل کیے ہیں لیکن مجھے ناکامی ہوئی ہے پھر میں ایک مشہور عامل صاحب کے پاس اپنے دوست کو لے کر گیا تو انہوں نے بہت زیادہ پیسے مانگ لیے، میرا دوست وہ رقم دینے کے لیے تیار ہے لیکن میں نے اسے فی الحال روک دیا ہے اور آپ سے مشورہ لینے آگیا ہوں، آپ اس سلسلے میں اگر کوئی مدد کرسکیں تو جو ہدیہ نظرانہ ہوگا وہ پیش کردیا جائے گا۔
پہلے ہم نے معلوم کیا کہ مشہور عامل صاحب نے کتنی رقم کا مطالبہ کیا ہے تو انہوں نے بتایا ، پانچ لاکھ روپے، یہ سن کر ہم بہت حیران ہوئے، مزید حیرت اس بات پر تھی کہ وہ پانچ لاکھ روپے دینے کے لیے تیار تھے لیکن انہیں بھروسا نہیں تھا کہ پانچ لاکھ دے کر بھی ان کا کام ہوجائے گا۔
ہم نے پوچھا کہ اس کا بھائی کیا کرتا ہے اور باپ کی مالی حیثیت کیا ہے تو جواب ملا کہ معمولی حیثیت ہے اور بھائی تو کوئی کام دھندا نہیں کرتا بلکہ آوارہ گرد ہے، باپ بھی اس کی آوارگی سے پریشان ہے،یہ سن کر ہم نے کہا ”پانچ لاکھ عامل صاحب کو دینے کے بجائے اگر آپ ایک لاکھ روپیہ اس کے بھائی کے ہاتھ پر رکھیں تو وہ اپنے باپ کو بھی سمجھا لے گا اور خود لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آپ کا نکاح کرادے گا، وہ صاحب ہماری شکل دیکھنے لگے۔
شاید انہیں اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دیگر عاملوں کے پاس بھی جاتے رہے ہیں اور کئی ہزار روپے خرچ کرچکے ہیں،خدا کا شکر ہے کہ نہ صرف یہ کہ ہماری بات ان کی سمجھ میں آگئی بلکہ انہوں نے خود بھی ایسے وظیفوں اور چلّوں سے توبہ کرلی جو وہ اب تک کرتے رہے تھے۔
ایسے ہزاروں واقعات اور قصے ہمارے مشاہدے میں موجود ہیں، اپنے قارئین سے یہ واقعات شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آنکھیں کھولیں اور روحانیات یا عملیات کے معاملے میں جائز و ناجائز کے فرق کو سمجھیں، یہ نہ سمجھیں کہ دنیا کا ہر کام اچھے یا برے عملیات کے ذریعے ممکن ہے۔
آئیے اپنے سوالات اور جوابات کی طرف
ب، ب، حیدرآباد سے لکھتے ہیں ”میری شادی پسند سے ہوئی تھی اور ہم دونوں میاں بیوی آپس میں رشتے دار بھی ہیں، شروع میں تو حالات ٹھیک چلتے رہے اور ہم خوش بھی تھے لیکن پھر میری بیوی اور والدہ کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے جو آئے روز لڑائی کا باعث بنتے رہے، میں اکثر اپنی بیوی کو ہی سمجھاتا، شادی کے تقریباً 8,9 مہینے بعد میری بیوی حمل سے ہوگئی جو کہ تین ماہ بعد ہی ضائع ہوگیا۔
اس کے چار ماہ بعد پھر ایسا ہی ہوا، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ میری بیوی بہت زیادہ ذہنی دباو کا شکار تھی، بہر حال بعد ازاں میرے ہاں پہلے بیٹا اور پھر کچھ عرصے بعد ایک بیٹی ہوئی، بیٹی کی پیدائش کے بعد سے بیوی کی صحت ٹھیک نہیں رہتی ہے،ہمارے ازدواجی تعلقات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔
صحت کی خرابی کی وجہ کوئی بیماری وغیرہ نہیں ہے،بس کمزوری ، چکر، گھبراہٹ وغیرہ ہے،اب وہ مجھے نہ کوئی اہمیت دیتی ہے اور نہ میرا خیال رکھتی ہے، حتیٰ کہ میرا شرعی حق بھی ادا نہیں کرتی، میری ازدواجی زندگی تباہ ہوگئی ہے،محبت نام کی ہمارے اندر کوئی بات نہیں ہے، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑا رہتا ہے کیوں کہ شادی میں نے پسند سے کی ہے لہٰذا والدہ سے کچھ کہا تو بات اور بگڑ جائے گی۔
میں نے سورج گہن کے موقع پر میاں بیوی کے درمیان محبت والا عمل بھی کیا تھا لیکن کوئی فرق نہیں پڑا، میری بیوی مجھے مسلسل نظر انداز کرتی ہے جب کہ میں اس کے تمام حقوق ادا کرتا ہوں اور اسے خوش رکھنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑتا، کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اسے چھوڑ دوں لیکن پھر بچوں کا خیال کرتا ہوں کہ ان کا کیا ہوگا ؟ میں بہت حساس ہوں، طبیعت رومانوی ہے، کوئی بھی کام میری مرضی کے بغیر ہوجائے تو میرے دماغ میں بھونچال آجاتا ہے، بہت جلد غصے میں آپے سے باہر ہوجاتا ہوں لیکن پھر اتنی ہی تیزی سے غصہ ختم ہوجاتا ہے اور اپنی غلطی کا احساس بھی ہوجاتا ہے، آپ سب کو مشورہ دیتے ہو اور مسئلے کا حل بھی بتاتے ہو، میرے خط کو نظر انداز نہ کرنا۔
جواب آپ نے اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں شک و شبے کا اظہار کیا ہے لہٰذا نکاح کی تاریخ سے زائچہ بنایا گیا ہے جو اگرچہ کئی اعتبار سے بہت اچھا ہے لیکن بعض خرابیاں بھی موجود ہیں، سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سیارہ مشتری اور زہرہ اس زائچے میں غروب ہےں، مشتری کا تعلق اس زائچے میں فیملی کی خوشیوں ، کامیابیوں سے ہے اور زہرہ کا بیوی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے ہے لہٰذا آپ کو ان دونوں اہم سیارگان کی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے پیلا پکھراج اور سفید پکھراج دونوں استعمال کرنا چاہیےں تاکہ اس خرابی سے نجات ملے لیکن خیال رہے کہ دونوں اسٹون اصلی اور اچھی حالت میں ہونا چاہئیں اور انہیں پہننے کا وقت بھی مناسب ہونا چاہیے، اس سلسلے میں براہ راست رابطہ کرکے مشورہ کرسکتے ہیں۔
آپ نے اپنی بیوی کی جو کیفیت لکھی ہے، یہ اُس کے بیمار ہونے کی علامت ہے، عام طور سے کسی بچے کی پیدائش کے بعد ایسی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں،اس کا معقول علاج کرنا چاہیے، کسی وہم کا شکار ہونے کے بجائے دانش مندانہ طور پر صورت حال کو کنٹرول کریں، بے شک آپ بہت جذباتی اور حساس ہیں لیکن گھر کے سربراہ آپ ہی ہیں اور آپ ہی کو گھر سنبھالنا ہے،بیوی اور والدہ کو سنبھالنا ہے۔
ہمارا خیال ہے کہ آپ کی وائف ہارمون ڈسٹربنس کا شکار ہوئی ہیں جس کی وجہ سے انہیں جنسی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں رہی لیکن یہ ایسی بیماری نہیں ہے جس کا علاج نہ ہوسکے،معقول خوراک اور دوائیں استعمال کرائی جائیں تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے،آپ خود اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ پہلے ایسی نہیں تھی، معقول خوراک میں انڈہ مچھلی ، گوشت، بند گوبھی، سرخ لوبیا وغیرہ کا استعمال زیادہ کریں۔
اس کے علاوہ ان کا ایک ہارمون ٹیسٹ بھی کرائیں، ہارمون ڈسٹربنس ظاہرہوجائے تو ڈاکٹر اس کے لیے ضروری دوائیں تجویز کردے گا،اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو ہومیو پیتھک علاج کرایا جائے، اس سلسلے میں ہومیو پیتھک دوا سیپیا 200 کی ایک خوراک ہر چار روز کے بعد استعمال کرائیں اور دو ماہ بعد پھر مشورہ کریں، امید ہے کہ وہ موجودہ بیماری سے نجات پالیں گی اور آپ کی شکایات ختم ہوجائیں گی۔

