سیارہ مشتری کی وکھری چال اور دنیا کے بدلتے رنگ
کیا دنیا کسی تیسری عالم جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
علم نجوم میں سارا کھیل سیارگان کے چال چلن پر منحصر ہے، گویا ہمارا نظام شمسی زمانوں کے رنگ بدلتے ادوار کا آئینہ ہے مگر ہزاروں سال کا مشاہدہ اور علم بھی اس علم کے رموز و نکات پر مکمل دسترس کے لیے ناکافی ثابت ہوا ہے، سیارہ مشتری ہمارے نظام شمسی کا ایک اہم ترین سیارہ ہے جسے سعادت، وسعت و ترقی کے علاوہ علم و دانش کا نمائندہ بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی اپنی الٹی سیدھی چال کے ساتھ کبھی کبھی ایسی تیز رفتاری کا مظاہرہ بھی کرتا ہے جو عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتی، مثلاً یہ کسی بھی برج میں تقریباً 13مہینے گزارتا ہے لیکنیہ 13مہینے بعض اوقات مختلف اقساط میں تقسیم ہوجاتے ہیں، جیسا کہ اس سال بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تین جون کو برج سرطان میں داخل ہوا اور یکم نومبر کو برج اسد میں داخل ہوجائے گا، پھر 25جنوری کو بحالت رجعت برج سرطان میں آئے گا اور اسی طرح آئندہ سالوں میں بھی اس کا سفر جاری رہے گا۔
ہمارا مشاہدہ ہے اور دیگر ماہر نجوم بھی مشتری کی اس نوعیت کی چال کو بہت اہمیت دیتے ہیں، ماضی میںیوں تو بہت سی مثالیں موجود ہیں لیکن خصوصاً 1931سے 1939تک ایسی ہی صورت حال کے بعد دنیا میں تیسری عالمی جنگ شروع ہوئی، اگر ہم پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہاں بھی مختلف اوقات میں ایسی صورت حال نظر آجائے گی جو ملک میں اہم تبدیلیوں کا باعث بنی۔
مشتری کی اس نوعیت کی چال کا آغاز ماضی قریب میں مارچ 2020سے ہوا اور اپریل 2022میں اس کا خاتمہ ہوا، اس کے بعد گزشتہ سال مئی 2025سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے اور اس بار یہ نہایت طویل عرصے تک جاری رہتا نظر آرہا ہے، تقریباًمارچ 2033تک اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا شدید بے چینی اور عدم اطمینان کا شکار ہے، بعض اہم ماہرین نجوم اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ شاید آنے والے سالوں میں کوئی عالمی جنگ ہوسکتی ہے ۔
سال 2026 کے امکانات پر ہم نے جو مضمون لکھا تھا، اس میں بھی مشتری کی چال ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے عرض کیا تھا کہ پاکستان میں اس وقت جو بھی صورت حال ہے، اس میں عوام کو ریلیف دینے پر توجہ دی جائے، بہ صورت دیگر اس سال نومبر میں مشتری اور مریخ برج اسد میں قران کریں گے جو کسی بیرونی مداخلت اور عوامی احتجاج کا باعث ہوسکتا ہے۔
تازہ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے سیاست داں یا دیگر ارباب حل و عقد عوامی ریلیف کی طرف سے نہ صرف غافل ہیں بلکہ عوام کے لیے مزید مشکلات اور مصائب پیداکرنے کا سبب بن رہے ہیں، تو پھر ٹھیک ہے سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، جب لاد ھ چلے گا بنجارا۔
مستقبل کا خوف
آئیے اپنے سوالات کی طرف اور اس حوالے سے ایک ایسا خط جو مندرجہ بالا موضوع سے جُڑا ہوا ہے‘ لڑکی کی عمر 30سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ رشتہ طے ہو چکا ہے، شادی قریب ہے لیکن وہ عدم اطمینان اور مستقبل کے خوف کا شکار ہے۔
وہ لکھتی ہیں ”میں آپ کا کالم مسیحا بہت عرصے سے اور بہت شوق سے پڑھتی ہوں، آپ بلا شبہ لوگوں کے لیے ایک مسیحا کا کردار ادا کر رہے ہیں، لوگوں کو مفید مشورے دیتے ہیں جو ان کے مسائل کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں‘ آج مجھے بھی آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
“میری شادی عنقریب ہونے والی ہے‘ کچھ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں اور وہ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتی‘ ہمارے ہاں منگنی ٹوٹنے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے‘ میری بھی پہلے کہیں اور بات طے ہوئی تھی لیکن پھر کچھ وجوہات کی بنا پر ختم ہو گئی‘ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا‘ اب جہاں والدین نے بات طے کی ہے، میںبھی چاہتی ہوں کہ شادی وہیں ہو، میں اُن سے فون پر رابطے میں بھی ہوں لیکن پھر بھی کچھ ایسی باتیں ہیں جن کے بار ے میں شکوک وشبہات کا شکار ہوں‘ بظاہر تو وہ بہت اچھے انسان لگتے ہیں لیکن وہ غصے کے اتنے تیز ہیں کہ اگر ان کو غصہ آئے تو اس حالات میں کچھ بھی کر سکتے ہیں حالانکہ وہ ایک پڑھے لکھے اور سمجھ دار انسان ہیں، پھر بھی غصے میں ان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ کیا کر رہے ہیںیا کیا کہہ رہے ہیں‘ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہر جائز و ناجائز بات مانی جائے، وہ اپنی منوانے والے انسان ہیں، میں بہت پریشان ہوں کہ میں ان کے ساتھ کیسے گزارا کروںگی‘اس کے علاوہ ان کی کسی لڑکی کے ساتھ بھی دوستی ہے جس سے وہ فون پر اورفیس بک پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں‘یہ بات کنفرم ہے‘ اس کے باوجود بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیںاور ان کی زندگی میں صرف میں ہوں اور میرے علاوہ کوئی نہیں ہے ‘ میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے اس لیے بھی ڈرتی ہوں کہ اگر دوبارہ میری منگنی ٹوٹی تو لوگ باتیں بنائیں گے کہ یقیناً خرابی مجھ میں ہی ہے‘ آپ پلیز مجھے بتائیے کہ میری شادی کے بعد کی زندگی کیسی ہوگی۔ کیا میری ان کے ساتھ میچنگ ٹھیک ہے یا نہیں؟
جواب: عزیزم! ہم بار بار یہ لکھتے رہتے ہیں کہ تاریخ پیدائش کے ساتھ پیدائش کے وقت کی بڑی اہمیت ہے،معمولی سے فرق سے برتھ چارٹ میں بہت فرق آجاتا ہے اور بہت سی اہم باتیں واضح نہیں ہو پاتیں،آپ نے جو وقت پیدائش لکھا ہے اسے مزید درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ نتائج میں فرق آسکتا ہے،بہر حال آپ کا سن سائن میزان اور مون سائن بھی میزان ہے، اگر وقت پیدائش صبح ساڑھے پانچ بجے سے آگے ہوا تو پیدائشی برج بھی میزان ہوگا،بہ صورت دیگر سنبلہ ہوگا،آپ کے منگیتر کے ساتھ آپ کی میچنگ معیاری نہیں ہے گویا شادی کے بعد اختلافات اور تنازعات ہوں گے جو مسائل کو جنم دیں گے،ان مسائل کا انجام کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
اپنے منگیتر کے بارے میں جن خدشات کا آپ نے اظہار کیا ہے وہ سب درست ہیں،وہ ایسے ہی ہیں جیسا اب تک آپ نے انہیں سمجھا ہے، بے ہودگی ، بدتمیزی ، رومان پسندی، شدت و انتہا پسندی ان کے مزاج کا حصہ ہے،مسئلہیہ ہے کہ ایسے اہم معاملات میں اکثر لوگ اُس وقت مشورہ کرتے ہیں جب سب کچھ طے ہوچکا ہوتا ہے گویا تیر کمان سے نکل چکا ہوتا ہے اگر ہم سے پہلے مشورہ کیا جاتا تو ہم یقیناً اس رشتے کی مخالفت کرتے،اب ظاہر ہے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے،کوئی مشورہ یا حل اُس صورت میں دیا جاسکتا ہے جب آپ کا وقت پیدائش دُرست کیا جائے اور فریقِ ثانی کا بھی دُرست وقتِ پیدائش معلوم ہو تاکہ بنیادی خرابیوں کے لیے کوئی معقول علاج تجویز کیا جاسکے۔
شادی کی تاریخ اور وقت
شادییعنی نکاح کی تاریخ اور وقت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن اس اہم ترین بات کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے،عام طور سے لوگ تاریخ مقرر کرکے ہم سے رابطہ کرتے ہیں کہ آپ بتائیںیہ تاریخ نکاح کے لیے کیسی ہے؟ اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی اگر وہ تاریخ نامناسب ہے تو سخت واویلا کرتے ہیں کہ ہم نے تو ہال بک کرالیا ہے، دعوت نامے تقسیم ہوگئے ہیں،تاریخ تو نہیں بدل سکتی وغیرہ وغیرہ۔
قصہ مختصر یہ کہ اس اہم ترین معاملے میں جو دو افراد کی نئی زندگی کے آغاز سے متعلق ہے، ہمارے ہاں کوئی خاص احتیاط نہیں کی جاتی،خیال رہے کہ انسان کی زندگی میں دو تاریخیں اور وقت سب سے زیادہ اہم ہیں،ایک اس کی پیدائش کی تاریخ اور وقت کیوں کہ یہ اُس کی قسمت ہے جس پر اُس کا کوئی اختیار نہیں ہے،یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے،دوسری اس کی شادییا نکاح کی تاریخ، اس پر کوشش کی جائے تو ہمیں اختیار حاصل ہوسکتا ہے،ہم اپنی پسند کی تاریخ اور وقت پر نکاح کرسکتے ہیں لیکن معاشرتی رسم و رواج اس معاملے میں بھی حارج ہےں ، اگر مناسب اور مبارک وقت پر نکاح ہوجائے تو پیدائشی زائچے کی خرابیاں بھی دور ہوجاتی ہیں،دونوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آتی ہے،یہ ہمارا برسوں کا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔
لو میرج کے بعد طلاق
ایف۔ اے خان:۔ حیدر آباد سے لکھتی ہیں ” گزارش یہ ہے کہ مجھے میرے شوہر نے بذریعہ رجسٹری اسٹامپ پیپر پر طلاق بائین بجھوا دی ہے۔ جو کہ بالکل اچانک اور میرے لئے نا قابل یقین ہے۔ کیوں کہ ہماری لو میرج تھی اور اس نے قسموں اور وعدوں سے ہمیشہیقین دلایا تھا کہ وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔
اب میری خواہش ہے کہ وہ میرے پاس واپس آ جائے اور میرا اس سے دوبارہ نکاح ہو جائے۔ اس سلسلے میں، میں حلالہ کی شرط پوری کرنے کے لئے بھی تیار ہوں لیکن وہ مجھ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کر رہا ہے اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے؟ میںیہ بھی معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ اس نے مجھے اس طرح اچانک طلاق کیوں دی۔ کیونکہیہ بات میری سمجھ سے باہر ہے“۔
جواب! عزیزم:۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ کو طلاق ہو چکی ہے اور آپ جس قسم کا حلالہ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ اس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ”مذہبی نظریہ ضرورت“ بھی بہت عام ہے۔ خدا معلوم حلالے کا یہمصنوعی طریقہ کب اور کیسے رائج ہوا جو سراسر اسلامی شریعت کے خلاف اور گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا ہم اس قسم کے حلالے کا آپ کو ہر گزمشورہ نہیں دےں گے۔ بہتر یہی ہو گا کہ آپ جو کچھ ہو چکا اس پر صبر کریں اور کہیں اور شادی کر لیں۔ یقیناً اللہ رب العزت آپ کو بہتر اجر دے گا۔
آپ کا دوسرا سوال اس اچانک طلاق کے بارے میں ہے۔ آپ کو یقین نہیں آ رہا کہ آپ کے شوہر نے اس طرح اچانک اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا لیا۔ اس کی وضاحت ہم ضرور کریں گے مگر ہماری کوئی بات اگر ناگوار گزرے تو ہم پہلے ہی معذرت طلب ہیں۔
آپ کا شمسی، قمری اور پیدائشی، تینوں برج سنبلہ ہیں۔ گویا آپ ایک مکمل سنبلہ خاتون ہیں۔ آپ کی ایک شادی پہلے بھی ناکام ہو چکی ہے۔ دوسری شادی لو میرج تھی اور ہمیںیقین ہے کہ یہ محبت پہلے اس کے دل میں پیدا ہوئی ہو گی اور اس نے نہایت ضد اور اصرار کر کے آپ سے شادی کی ہو گی۔ آپ پہلی شادی کی ناکامی کے بعد آسانی سے دوسری شادی کے لئے تیار نہیں ہوئی ہوں گی۔ اس کے باوجود دو سال کی رفاقت ایک لمحہ میں ختم ہو گئی۔
آپ کے شوہر کا شمسی برج سرطان اور قمری برج میزان ہے۔ پیدائش کا وقت آپ نے نہیں لکھا بہرحال شمسی اور قمری برج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک بہت نرم طبیعت، صلح جو اور محبت کرنے والا انسان تھا۔ سرطان اور سنبلہ کے درمیان اچھی رفاقت اور کشش پائی جاتی ہے لیکن اس کا قمری برج میزان تھا۔ گویا اپنی فطرت میں آپ دونوں خاصے مختلف تھے۔ وہ انتہائی نرم دل، توازن پسند فطرت کا مالک اور رومان پسند انسان تھا۔ جب کہ آپ اس کے بر عکس ایک محبوبہ یا بیوی سے زیادہ ایک ”ٹیچر“ ہیں۔
ایسی ٹیچر جو اپنے اسٹوڈنٹس کی کوئی غلطی، کوئی کوتاہی برداشت نہیں کر سکتی۔ آپ ذرہ سی بھی رومان پسند نہیں ہیں۔ آپ کے دل و دماغ پر ہر وقت کام، کام اور کام سوار رہتا ہے۔ بے حد مادّی سوچ، ہر وقت نفع و نقصان کی فکر آپ کو رہتی ہے۔ آپ کی سوشل لائف بھییقیناً نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ ہمیںیقین ہے کہ آپ نے اپنے شوہر کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اسے کچھ نہ کچھ سمجھانے کی کوشش کرتی رہی ہوں گی اور وہ یہی سوچتا رہتا ہو گا کہ میری بیوی اور میری سخت گیر والدہ میں کیا فرق ہے؟
سنبلہ افراد معیار اور اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتے۔ کسی غلطی کو نظر انداز کرنا ان کے لئے بہت مشکل کام ہے اور یہ سب کچھ وہ کسی غلط جذبے یا سوچ کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ خدمت خلق اور اصلاح معاشرہ ان کا مقصد ہوتا ہے۔ غالباً آپ نے ”اصلاح شوہر“ کا کام کچھ زیادہ ہی کر ڈالا ہے۔ جس سے گبھرا کر موصوف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح بھاگنے کی بنیادی وجہ تو یہی نظر آتی ہے۔
دوسری بات یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس شخص نے اپنے گھر والوں کی مخالفت مول لے کر آپ سے شادی کی تھی۔ گویا آپ کی خاطر اپنے خاندان کو چھوڑ بیٹھا تھا۔ حالانکہ آپ کییہ دوسری شادی تھی اور اس کی پہلی۔ وہ آپ سے عمر میں تقریباً بارہ تیرہ سال چھوٹا تھا۔ اگر آپ اسے اپنا ”اسٹوڈنٹ“ سمجھنے کے بجائے شوہر سمجھتیں تو شائد یہ نوبت نہ آتی۔ ہمیںیقین ہے کہ اس نے یہ قدم انتہائی مجبور ہو کر با دل ناخواستہ اٹھایا ہو گا۔
سرطان افراد کبھی علیحدگی کے بارے میں نہیں سوچتے، سوائے اس کے کہ وہ سمجھ لیں، اب گزارہ نا ممکن ہے اور مزید تاخیر کی تو مزید نقصانات ہوں گے۔ آپ کو ہمارا آخری مشورہ یہی ہے کہ اب اس کا خیال چھوڑ دیں۔ ممکن ہے اب تک اس کے والدین اس کی دوسری شادی کا بندوبست کر چکے ہوں۔

