شادی خانہ آبادی یا بربادی مگر ضروری

شادی خانہ آبادی یا بربادی مگر ضروری

شادی میں تاخیر بے شمار معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کا باعث

اس موضوع پر گزشتہ 15,20 سال میں شاید سب سے زیادہ ہم لکھتے رہے ہیں،اس کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور معاشرتی مسائل کے علاوہ علم نجوم کی روشنی میں بھی بہت کچھ لکھا ہے،اکثر خطوط اور ای میلز میں شادی اور ازدواجی زندگی کے مسائل اور مصائب زیر بحث آتے رہتے ہیں، 1989ءمیں ہم نے ماہنامہ پاکیزہ کراچی میں خواتین کے مسائل پر لکھنا شروع کیا تو سب سے زیادہیہی مسئلہ ہمارے کالم میں زیر بحث آیا اور یہ صورت حال تادمِ تحریر جاری ہے”شادی کب ہوگی؟ہوگییا نہیں ہوگی؟کامیاب رہے گییا ناکام؟شوہر یا بیوی کیسے ہوںگے؟ “ایسے سوالات کا ہمیں مستقل سامنا رہتا ہے،یہ مسئلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ نت نئے روپ میں ہمارے سامنے آتا رہتا ہے،اس حوالے سے ایک تازہ ترین ای میل ہمارے پیش نظر ہے،آئیے پہلے اس کا مطالعہ کرلیا جائے۔

کاشف شیخ لکھتے ہیں” آج جس مسئلے کو لے کر حاضر ہوا ہوں، وہ ہمارے ملک کا ہی نہیں، پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے اور ایک نہایت گمبھیر صورت اختیار کرچکا ہے،ہمارے ہاں رشتوں کے لیے بیٹھے بچے اور بچیاں تیزی سے ڈھلتی عمر کی وجہ سے پریشان ہورہے ہیں، میرے ایک چھوٹے سے ذاتی سروے کے مطابق 90 فیصد لڑکیاں اچھے رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں اور ان میں سے 40 فیصد بے راہ روی کی جانب راغب ہیں،ایک صورت یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ ان کے والدین اپنی بیٹی کی اچھی جاب، اچھی سیلری کی وجہ سے ان کی شادی ہی نہیں کرتے یا شادی ہونے نہیں دیتے کیوں کہ ان کی سیلری کی وجہ سے گھر چل رہا ہوتا ہے۔ لڑکے عموماً یا تو نالائق اور کم تعلیمیافتہ ہیںیا انھیں معقول جاب ہی نہیں ملتی،اکثر کسی فیکٹری میں ڈیلی ویجز پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔

اس کے برعکس لڑکیوں کو سیلز آفس، مارکیٹنگیا ٹیلی فون آپریٹر کی جاب میں معقول سیلری مل جاتی ہے،ایک صورت یہ بھی ہے کہ شادی میں تاخیر کی وجہ سے یا اپنے ذاتی شوق کی وجہ سے لڑکیاں زیادہ پڑھ لکھ جاتی ہیں تو اپنے جیسا ہی لڑکا تلاش کرتی ہیں،ان کا ایک مخصوص مائنڈ سیٹیا آئیڈیل بن جاتا ہے اور پھر اس مائنڈ سیٹ کے مطابق رشتہ نہیں ملتا۔

میرا سوال یہ ہے کہ جب جوڑیاں آسمان پر طے ہوتی ہیں تو پھر گردوپیش میں اس طرح کے معاملات کیوں سامنے آرہے ہیں؟ کبھی تو لوگ قسمت کو الزام دیتے نظر آتے ہیں، کبھی معاشی بدحالی کا رونا رویا جاتا ہے تو کبھی کہتے ہیں فلاں بندے نے ہمارے لیے اچھا رشتہ طے نہیںکیا اس لیے ہم منگنی توڑتے ہیں،اس طرح جو کثر رہ جاتی ہے وہ بھی پوری ہوجاتی ہے۔ آپ زائچہءنکاح ، زائچہءپیدائش، باہمی میچنگ اور ستاروں کے جوڑ توڑ پر روشنی ڈال رہے ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ تو ساری زندگی بندشوں سے باہر ہی نہیں نکل پاتے حالاں کہ ہر ممکن کوشش بھی کرتے ہیں۔

مختلف قسم کے تعویذ پہنے اور گھروں میں لٹکائے جاتے ہیں،بازاروں میں بکنے والی کتابیں خرید کر خود ہی اسٹون وغیرہ اپنے لیے تجویز کرلیتے ہیں،بڑے بڑے وظائف بھی پڑھتے ہیں مگر معاملہ جوں کا توں رہتا ہے، آپ کے پرانے کچھ کالم میرے پاس موجود ہیں جس سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ بال کی کھال نکالنے کے ماہر ہیں،ہر مسئلے کی جڑ تک جاکر اس کو دیکھتے ہیں جس میں ٹائم بھی لگ جاتا ہے لیکن حل اطمینان بخش اور پائیدار ہوتا ہے کہ آنے والی نسل تک فائدہ اٹھاسکے، ازراہِ کرم اس مسئلے پر بھی روشنی ڈالیے”

جواب: جیسا کہ ہم نے ابتدا میں عرض کیا کہ ہم گزشتہ 15,20 سال سے اس مسئلے پر ہر پہلو سے روشنی ڈال رہے ہیں مگر یہ مسئلہ روز بہ روز پیچیدہ سے پیچیدہ ہوتا جارہا ہے،اس کی وجوہات میں بہ ظاہر دنیاوی عوامل کارفرما نظر آتے ہیںیعنی گھریلو ماحول ، معاشرتی اونچ نیچ،طبقاتی تقسیم تو کہیں برادرییا ذات پات اور رنگ و نسل کے مسائل اور سب سے بڑھ کر معاشی مسائل وغیرہ وغیرہ۔

آپ نے جن خیالات کا اور حالات و واقعات کا اظہار کیا ہے، ہم اس سے متفق ہیں بے شک ہمارے معاشرے میںیہی سب کچھ ہورہا ہے، ہم روزانہ اسی نوعیت کے مسائل اور مصائب کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں، بے شمار لوگ جن کا تعلق مختلف طبقات سے ہے ، ہم سے رابطہ کرتے ہیں اور رہنمائی چاہتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ بنیادی مسئلہ سب کا ایک ہی ہے، اچھی جگہ شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیاں۔

عزیزان من! اس حوالے سے صورت حال ہر گز خوش کن نہیں ہے یایوں سمجھ لیں کہ ہمارے پاس غالباً وہی لوگ آتے ہیں جو اس مسئلے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں، اگر ہم ایسے لوگوں کی کہانیاں لکھنا شروع کردیں تو یقین جانیں کہ کبھی ختم نہیں ہوں گی،مزیدیہ کہ ہر کہانی ایک نیارنگ اور نیا پہلو رکھتی ہے۔

برسوں پہلے غالباً 1991-92 ءکی بات ہے کہ ایسے ہی مسائل کے پیش نظر ہم نے ماہنامہ سرگزشت کا ”دوسری شادی نمبر“ اور ”کنوارا کنواری نمبر“ شائع کیا تھا جس نے مقبولیت کے زبردست ریکارڈ قائم کیے،دوسری شادی نمبر کا موضوع جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ عورت یا مرد کی دوسرییا ایک سے زیادہ شادیاں تھیں اور کنوارا کنواری نمبر کا موضوع ان لوگوں کی کہانیاں تھیں جن کی شادی نہیں ہوئییا کسی خاص وجہ سے انہوں نے شادی نہیں کی، اس حوالے سے دنیا کے مشہور و معروف افراد کی کہانیاں بھی شائع کی گئی تھیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ بڑا ہی زرخیز موضوع ہے اسے جتنا بھی کھنگالا جائے اتنا ہی رنگین اور سنگین ہوکر سامنے آتا ہے اس کے مختلف پہلووں کا ذاتی اور سماجی اعتبار سے مکمل احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ اس میں سماجی پہلووں سے زیادہ انسان کی ذاتی صفات بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انسانی نفسیاتکے عجیب عجیب پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں‘ ایک سفید فام کسی سیاہ فام کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے یا سیاہ فام کسی سفید فام کے لیے بے چین، شادی کے حوالے سے سب ہی اپنی اپنی نفسیات کے مطابق خواب دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے خوابوں کو تعبیر ملے لیکنیہ ہمیشہ بلکہ اکثر ممکن نہیں ہوتا۔

ماضی کی رومانی داستانیں بھی ہمارے سامنے ہیں وہ کتنی سچییا جھوٹی ہیں ، اس سے غرض نہیں مگر ہر رومانی داستان کا انجام عام طور پر الم ناک نظر آتا ہے، بہر حال شایدیہ دنیا کا سب سے زیادہ اہم ترین ، دلچسپ ترین اور پیچیدہ ترین مسئلہ ہے جس کا ہر انسان کو سامنا رہتا ہے،حضرت رئیس امروھوی (مرحوم) کا شعر اس موضوع پر بڑا ہی عجیب اور حقیقت سے قریب ترین ہے، رئیس صاحب خود انسانی نفسیات کے اسکالر تھے ، ایسا شعر شاید صرف وہی کہہ سکتے تھے

یا رب! غمِ عشق کیا بلا ہے

ہر شخص کا تجربہ نیا ہے

شاید ہم اصل موضوع سے بھٹک رہے ہیں، آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کے حقیقی جوابات ہماری نظر میں معاشی، طبقاتی، نسلی، مذہبی سطح پر تلاش کرنا شاید ممکن نہیں ہے، حالاں کہ مندرجہ بالا شعبوں کے ماہرین نے اپنے اپنے طور پر ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی ہے لیکنیہ جوابات بہر حال اطمینان بخش نہیں ہیں۔

ہمارے خیال میں اس صورت حال کے لیے حقیقی رہنمائی صرف دینِ الٰہی کے ذریعے ہی حاصل ہوسکتی ہے مگر ہمارے یہاں دین کی روشنی میں حقیقی تشریح کرنے والے افراد کا قحط ہے اس معاملے میں جس دانش و بصیرت کی ضرورت ہے اس کا اکثر ہمارے علمائے کرام میں فقدان ہے، مزید خرابییہ پیدا ہوگئی ہے کہ مذہبی سوچ سیاست میں ملوث ہوگئی ہے اور سیاست تو نام ہی فریب کا ہے۔

مرد کی دوسری شادی

بھارت کے مشہور مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کو اکثر ہندو اور عیسائی کمیونٹی کے تند و تیز اور چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک جلسے میں کسی نے مرد کی ایک سے زیادہ شادیوں کے بارے میں سوال کیا تھا اور اس حوالے سے دین اسلام کو ہدف تنقید بنانے کی کوشش کی تھی، اس قرآنی اجازت پر اعتراض کیا تھا کہ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرسکتاہے۔

اس سوال کا جس قدر عمدہ، منطقی اور سائنٹیفک جواب محترم ڈاکٹر ذاکر نے دیا، وہ شاید ہمارے اکثر علماءبھی نہیں دے سکتے تھے،اس سوال کے جواب میں شادی سے متعلق بے شمار مسائل خاص طور پر لڑکیوں کی شادی سے متعلق مسائل کا حل موجود ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے سب سے پہلے اس مسئلے کی جنیٹک بنیاد پر روشنی ڈالی کہ دنیا بھر میں، انسانوں اور جانوروں میں سب سے زیادہ افزائش نسل مونث جانداروں کی ریکارڈ پر آئی ہے اور انسانوں میں مردوں کی بہ نسبت خواتین کی شرح پیدائش کہیں زیادہہے، یہ فطری اور قدرتی قانون کے مطابق ہے، اس کے علاوہ دوسری دنیاوی حقیقتیہ ہے کہ خواتین اکثر گھروں تک محدود رہتی ہیں جب کہ مرد کو بہت سے ایڈونچرز کا سامنا رہتا ہے۔

زمانہءقدیم سے جنگ و جدل کا بازار گرم ہے ، ماضی میں بڑی بڑی خوف ناک جنگیں لڑی گئی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے لہٰذا مردوں کی اموات کی شرح بھی ہمیشہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے ، اب اگر فرقان حکیمیعنی اللہ کی آخری کتاب مرد کی صرف ایک شادی کا حکم دیتی تو باقی خواتین کیا کرتیں؟ کیوں کہ آج بھی دنیا بھر میں ان کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے اور شرح پیدائش بھی زیادہ ہے۔

اس صورت حال میں بے شمار خواتین کے غیر شادی شدہ رہنے کا زبردست امکان موجود ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے بے راہ روی اختیار کرنے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یا پھر وہ غیر شادی شدہ حیثیت سے اگر ایک پاک باز زندگی گزاریں تو ایک فطری تقاضے کی عدم ادائیگی کے نتیجے میں ایسے مہلک امراض کا شکار ہوسکتی ہیں جن کا علاج بھی نا ممکن ہوگا،ہم ایسے کیسوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں ،عورتوں اور مردوں میں غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں پیچیدہ ترین بیماریوں کے مسائل سامنے آتے ہیں، ان کا علاج پھر صرف شادی ہی ہوتا ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں عجیب عجیب نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد

متحدہ ہندوستان میںیا دیگر مسلم ممالک میں مرد کی دوسرییا تیسری شادی کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کو قابل اعتراض یا فتنہ و فساد کا باعث کہا جائے اور اس فعل پر اسے لعنت ملامت کی جائے،  لوگ عام طور سے ایک سے زیادہ شادیاں کرتے تھے اور ایک ہی چھت کے نیچے دو یا تین بیویاں باہم مل جل کر رہتی تھیں، انگریز راج میں کرسچیئن قوانین رائج ہوئے اورچونکہ عیسائی مذہب میں مرد کی دوسری شادی ناجائز سمجھی جاتی ہے،یہی صورت ہندو مذہب کی بھی ہے لہٰذا برطانوی دور اقتدار میں دوسری شادی پر اعتراضات ہونے لگے لیکن مسلمان بہرحال برطانویقوانینیا ہندو نظریات کی پابندی نہیں کرتے تھے لہٰذا ایک سے زیادہ شادیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

ہمارے سرحدی علاقوں یا سندھ، پنجاب و بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اب بھییہ روایت موجود ہے اور اس پر اعتراض کوئی نہیں کرتا۔

قیام پاکستان کے بعد جنرل ایوب خان نے آئین میں باقاعدہ طور پر دوسری شادی پر بیوی کی اجازت لازمی قرار دیتے ہوئے اس مسئلے کو متنازع بنادیا‘صدر ایوب کے دس سالہ دور اقتدار میں دوسری شادیاں بیوی کی اجازت کے بغیر متنازع اور قانونی جرم قرارپائیں لہٰذایہ سلسلہ چھپ چھپا کے جاری رہا اور آج تک یہی صورت حا ل برقرار ہے۔

خواتین جو بہرحال سوکن کادکھ برداشت نہیں کر سکتیں اس صورت حال سے بہت خوش اور مطمئن ہوئیں‘ مغربی اثرات کے زیر اثر رہنے والی اور سوشل ورک کرنے والی خواتینیا ترقی پسند سوشلسٹ مردو خواتین نے بھی اس ”کار خیر“ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘ کیوں کہ یہ طبقہ بہرحال ہمیشہ سے اسلامی نظریات پر نکتہ چینی کرنے میں پیش پیش رہا ہے‘ نتیجتاً پاکستان کے شہری علاقوں میں مرد کی دوسری شادی کو ایک ”بدترین ظلم و زیادتی“ سمجھا جانے لگا اور اس پر شدید احتجاج کی روایت عام ہو گئی۔

ہماری موجودہ نسل نے دوسری شادی کے خلاف اسی احتجاجی روایت کے تسلسل میں ہوش سنبھالا ہے لہٰذا ہماری لڑکیاںاور خواتینیا ان کے والدین اس معا ملے میں نہایت سخت رویہ رکھتے ہیں، لڑکیاں بوڑھی بھی ہو رہی ہوں تو کسی شادی شدہ سے شادی کے لیے آمادہ نہیں ہوتیں اور شادی شدہ افراد بھی اپنے ”فیملی پریشر“ اور معاشرتی دباﺅ کی وجہ سے کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہوئے خوف زدہ رہتے ہیں حالانکہ چھپ چھپا کے یہ سارے کام جاری رہتے ہیں اور مزید مسائل کا سبب بنتے ہیں جن کا نتیجہ گھروں کی بربادی کی شکل میں نکلتا ہے۔

ایک کھلے ہوئے اور واضح قرآنی حکم کی موجودگی میں مرد کی دوسری شادی کو ہدف تنقید بنانا اور اس عمل سے شدید نفرت کا اظہار کرنا، اس حوالے سے مختلف ایسی تاویلات گھڑنا جو بہت کمزور اور غیرمنقطی ہوتی ہیں ‘ ایک طرح سے قرآنی حکم کا مذاق اڑانا ہے، اس حکم کی گہرائیمیں در حقیقت خواتین ہی کے لیے عالمی سطح پر بھلائی کا پہلو موجود ہے جیسا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کی تشریح سے واضح ہے۔

کچھ عرصہ پہلے پنجاب اسمبلی کی ایک خاتون نے اس حوالے سے بات کی تو گویا پورے پاکستان میں ایک بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہو گئی‘ خواتین کے حقوق کے چمپئن ترقی پسند خواتین و حضرات آستینیں چڑھا کر ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں گرجنے برسنے لگے‘ اس صورت حال میں ہمارے سیاست زدہ مولوی حضرات کا معذرت خواہانہ رویہ بھی قابل دید تھا‘ ان کی گفتگو اور دلائل عقل و دانش سے بے بہرہ نظر آئے۔

عزیزان من! ہم یہاں انسانی نفسیاتیا ایسٹرولوجی کے حوالے سے اس مسئلے پر فی الحال کوئی بات نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ یہ کام ہم اکثر لوگوں کے زائچوں پر تجزیاتی گفتگو کے دوران میں کرتے رہتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے‘ انسانی نفسیات کا یہ پہلو خاصا عجیب اور پُراسرار سا ہے‘ ایسٹرولوجی کی روشنی میں بلا شبہ انسانی نفسیات کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے‘ اس حوالے سے ہماری کتابوں میں اور علم نجوم پر شائع ہونے والی کتاب ” پیش گوئی کا فن“ میں تفصیل کے ساتھ مثالی زائچے اور ان کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

فی الحال مندرجہ بالا سوالات کا جواب ہماری نظر میںیہی ہے کہ ہمیں دین الٰہی اور قرآنی احکامات کی پابندی کرنی چاہیے‘ ان احکامات کو مختلف حیلے بہانے بنا کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ ہمارے مغرب زدہ یا ترقی پسند خواتین و حضرات کرتے ہیں اور خاص طور پر قرآنی حکم کے اس حصے کو زیر بحث لاتے ہیں کہ ”انصاف کرو“حالاں کہ دوسری شادی کی اجازت دیتے ہوئے خود خالق کائنات نے یہ بھی بتادیا ہے کہ انصاف کرنا بہت ہی مشکل کام ہے اور شاید اسی لیے وراثتی امور میں واضح طور پر حصے مقرر کردیے گئے ہیں،اس معاملے میں کم از کم محبت و پسندیدگی کے اعتبار سے انصاف ممکن ہی نہیں،بیویوں کے درمیان تو دور کی بات ہے۔ انسان اپنی اولاد کے معاملے میں بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا پھر بھی دوسری شادی سے منع نہیں کیا گیا کیوں کہ اس کے دیگر معاشرتی اور نفسیاتی پہلو بھی موجود ہیں۔

جہاں تک انفرادی طور پر لوگوں کی ذاتی پسند و نا پسند کے معاملات ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا ‘ وہ لوگ جو بعض قرآن و حدیث کے احکامات پر تنقید کرتے یا اس میں حیلے بہانے ڈھونڈتے نظر آتے ہیں‘ اپنی ذاتی پسند و ناپسند کے حوالے سے سب کچھ بھول کر وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں جو ان کا دل کہتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر اگر سنجیدگی سے اور تحمل کے ساتھ غور و فکر کیا جائے اور مردکی دوسری شادی کو ”جرم“ بنانے کی رسم ختم کردی جائے تو بے شمار خواتین کا بھلا ہو سکتا ہے‘ اس طرح چھپ چھپا کے جو شادیاں ہو رہی ہیں اور ان کے بدترین نتائج سامنے آ رہے ہیں ان کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے اور شادی کے انتظار میں بیٹھی ، ڈھلتی عمر کا شکار لڑکیاںیا طلاق اور بیوگی کے عذاب میں مبتلا خواتین کے لیے بھی جائز راستے پیدا ہوسکتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر ہم عرب دنیا میں اس مسئلے کا جائزہ لیں تو ہمیں کہیں کوئی گڑ بڑ نظر نہیں آئے گی، کیا وہاں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ نہیں ہیں؟یقینا ہے لیکن وہاں مرد کی دوسری شادی کو جرم قرار نہیں دیا گیا اور عرب خواتین کے نزدیک مرد کی دوسری شادی کوئی گناہ نہیں ہے۔

تقریباً تمام ہی صاحب حیثیت مرد حضرات ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں اور اپنی بیویوں کے ہمراہ ایک مطمئن زندگی گزارتے ہیں، اس کے برعکس جہاں صرف مرد کی ایک شادی پر زور ہے یعنییورپ اور امریکا وغیرہ وہاں یقینا خواتین کو قانونی طور پر بہت سے سہولتیں دی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود اگر آپ سروے کریں تو یورپ، امریکا، کینیڈا، نیوزی لینڈ وغیرہ میں ایسی خواتین خال خال ہی مل سکیں گی جنھوں نے صرف ایک ہی شادی کی ہوگییعنی ان کی کئی شادیاں ناکام رہی ہوئی ہوں گی اور اس صورت حال میں ان کے بچے ماں یا باپ کے سائے سے محروم رہے ہوں گے ۔

مستقبل کا خوف

آئیے اپنے سوالات کی طرف اور اس حوالے سے ایک ایسا خط جو مندرجہ بالا موضوع سے جُڑا ہوا ہے‘ لڑکی کی عمر 30سال سے زیادہ ہو چکی ہے‘رشتہ طے ہو چکا ہے ‘ شادی قریب ہے لیکن وہ عدم اطمینان اور مستقبل کے خوف کا شکار ہے۔

وہ لکھتی ہیں ”میں آپ کا کالم مسیحا بہت عرصے سے اور بہت شوق سے پڑھتی ہوں‘ آپ بلا شبہ لوگوں کے لیے ایک مسیحا کا کردار ادا کر رہے ہیں‘ لوگوں کو مفید مشورے دیتے ہیں جو ان کے مسائل کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں‘ آج مجھے بھی آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔

“میری شادی عنقریب ہونے والی ہے۔ کچھ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں اور وہ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتی‘ ہمارے ہاں منگنی ٹوٹنے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ میری بھی پہلے کہیں اور بات طے ہوئی تھی لیکن پھر کچھ وجوہات کی بنا پر ختم ہو گئی‘ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا‘ اب جہاں والدین نے بات طے کی ہے ‘ میںبھی چاہتی ہوں کہ شادی وہیں ہو‘ میں اُن سے فون پر رابطے میں بھی ہوں لیکن پھر بھی کچھ ایسی باتیں ہیں جن کے بار ے میں شکوک وشبہات کا شکار ہوں‘ بظاہر تو وہ بہت اچھے انسان لگتے ہیں لیکن وہ غصے کے اتنے تیز ہیں کہ اگر ان کو غصہ آئے تو اس حالات میں کچھ بھی کر سکتے ہیں حالانکہ وہ ایک پڑھے لکھے اور سمجھ دار انسان ہیں‘ پھر بھی غصے میں ان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ کیا کر رہے ہیںیا کیا کہہ رہے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہر جائز و ناجائز بات مانی جائے، وہ اپنی منوانے والے انسان ہیں، میں بہت پریشان ہوں کہ میں ان کے ساتھ کیسے گزارا کروںگی‘اس کے علاوہ ان کی کسی لڑکی کے ساتھ بھی دوستی ہے جس سے وہ فون پر اورفیس بک پر مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔

یہ بات کنفرم ہے، اس کے باوجود بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیںاور ان کی زندگی میں صرف میں ہوں اور میرے علاوہ کوئی نہیں ہے ‘ میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے اس لیے بھی ڈرتی ہوں کہ اگر دوبارہ میری منگنی ٹوٹی تو لوگ باتیں بنائےں گے کہ یقیناً خرابی مجھ میں ہی ہے‘ آپ پلیز مجھے بتائیے کہ میری شادی کے بعد کی زندگی کیسی ہوگی ‘ کیا میری ان کے ساتھ میچنگ ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب: عزیزم! ہم بار بار یہ لکھتے رہتے ہیں کہ تاریخ پیدائش کے ساتھ پیدائش کے وقت کی بڑی اہمیت ہے،معمولی سے فرق سے برتھ چارٹ میں بہت فرق آجاتا ہے اور بہت سی اہم باتیں واضح نہیں ہو پاتیں،آپ نے جو وقت پیدائش لکھا ہے اسے مزید درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ نتائج میں فرق آسکتا ہے،بہر حال آپ کا سن سائن میزان اور مون سائن بھی میزان ہے ، اگر وقت پیدائش صبح ساڑھے پانچ بجے سے آگے ہوا تو پیدائشی برج بھی میزان ہوگا،بہ صورت دیگر سنبلہ ہوگا،آپ کے منگیتر کے ساتھ آپ کی میچنگ معیاری نہیں ہے گویا شادی کے بعد اختلافات اور تنازعات ہوں گے جو مسائل کو جنم دیں گے،ان مسائل کا انجام کچھ بھی ہوسکتا ہے،اپنے منگیتر کے بارے میں جن خدشات کا آپ نے اظہار کیا ہے وہ سب درست ہیں،وہ ایسے ہی ہیں جیسا اب تک آپ نے انہیں سمجھا ہے  بے ہودگی، بدتمیزی، رومان پسندی، شدت و انتہا پسندی ان کے مزاج کا حصہ ہے۔

مسئلہیہ ہے کہ ایسے اہم معاملات میں اکثر لوگ اُس وقت مشورہ کرتے ہیں جب سب کچھ طے ہوچکا ہوتا ہے گویا تیر کمان سے نکل چکا ہوتا ہے اگر ہم سے پہلے مشورہ کیا جاتا تو ہم یقیناً اس رشتے کی مخالفت کرتے،اب ظاہر ہے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے،کوئی مشورہ یا حل اُس صورت میں دیا جاسکتا ہے جب آپ کا وقت پیدائش دُرست کیا جائے اور فریقِ ثانی کا بھی دُرست وقتِ پیدائش معلوم ہو تاکہ بنیادی خرابیوں کے لیے کوئی معقول علاج تجویز کیا جاسکے۔

شادی کی تاریخ اور وقت

شادییعنی نکاح کی تاریخ اور وقت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن اس اہم ترین بات کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے،عام طور سے لوگ تاریخ مقرر کرکے ہم سے رابطہ کرتے ہیں کہ آپ بتائیںیہ تاریخ نکاح کے لیے کیسی ہے؟ اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی اگر وہ تاریخ نامناسب ہے تو سخت واویلا کرتے ہیں کہ ہم نے تو ہال بک کرالیا ہے، دعوت نامے تقسیم ہوگئے ہیں،تاریخ تو نہیں بدل سکتی وغیرہ وغیرہ۔

قصہ مختصر یہ کہ اس اہم ترین معاملے میں جو دو افراد کی نئی زندگی کے آغاز سے متعلق ہے، ہمارے ہاں کوئی خاص احتیاط نہیں کی جاتی،خیال رہے کہ انسان کی زندگی میں دو تاریخیں اور وقت سب سے زیادہ اہم ہیں،ایک اس کی پیدائش کی تاریخ اور وقت کیوں کہ یہ اُس کی قسمت ہے جس پر اُس کا کوئی اختیار نہیں ہے،یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے،دوسری اس کی شادییا نکاح کی تاریخ ، اس پر کوشش کی جائے تو ہمیں اختیار حاصل ہوسکتا ہے،ہم اپنی پسند کی تاریخ اور وقت پر نکاح کرسکتے ہیں لیکن معاشرتی رسم و رواج اس معاملے میں بھی حارج ہیں ، اگر مناسب اور مبارک وقت پر نکاح ہوجائے تو پیدائشی زائچے کی خرابیاں بھی دور ہوجاتی ہیں،دونوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آتی ہے،یہ ہمارا برسوں کا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔