ستمبر کی فلکیاتی گردش، حکومت کے لیے سخت مہینہ

ستمبر کی فلکیاتی گردش، حکومت کے لیے سخت مہینہ

مستقبل کے نئے خدو خال، ایک نیا منظر نامہ سامنے آسکتا ہے

برسوں سے ہم یہ سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سال صورت حال واقعی بہت نازک ہے، سیارہ مشتری ماضی میں بھی جب کبھی پاکستان کے زائچے میں تیسرے اور چوتھے گھر سے گزر رہا ہے تو صورت حال خاصی تشویشناک ہو گئی ہے خصوصاً حکومت کے لیے ۔2014-15 میں بھی مشتری اسی پوزیشن سے گزرا تھا تو قارئین کو یاد ہوگا کہ حکومت ن لیگ کی تھی اور عمران خان ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا اور ایک طویل یادگار دھرنے کا آغاز ہوا۔

اس سال بھی مشتری فی الحال برج سرطان میں ہے لیکن 31اکتوبر سے برج اسد میں داخل ہوگا اور اس کے فوری بعد سیارہ مریخ بھی برج اسد میں داخل ہوجائے گا، یہ نہایت ہی خطرناک پوزیشن ہوگی۔ خیال رہے کہ زائچے کا چوتھا گھر عوام اور اپوزیشن سے متعلق ہے اور مشتری زائچے میں پانچویں ( خانہ ءحادثات)اور گیارھویں (پارلیمنٹ) سے متعلق ہے جب کہ مریخ زائچے کے ساتویں (تعلقات) اور بارھویں (نقصانات، خوف اور بیرونی مداخلت) سے متعلق ہے۔گویا آنے والے مہینوں میں کوئی عوامی طوفان انگڑائی لے سکتا ہے ۔

سیارہ زہرہ زائچے کے پہلے گھر اور چھٹے گھر کا حاکم ہے، چھٹا گھر سول و ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ کی فعالیت کی نشان دہی کرتا ہے ، زہرہ 3ستمبر کو برج میزان میں داخل ہوگا تو معمول کے خلاف اسی گھر میں طویل قیام کرے گا یعنی تقریباً دسمبر تک زائچے کے چھٹے گھر میں بحالت رجعت و استقامت مقیم رہے گا، گویا چھٹا گھر زیادہ ایکٹیو ہوجائے گا۔

سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں خاصی سرگرمی اور تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آسکتی ہیں، پاکستانی فوج کے لیے یقینا یہ ایک چیلنجنگ وقت ہوسکتا ہے۔ گویا ستمبر سے شروع ہونے والا وقت دسمبر تک پرسکون نظر نہیں آتا، پے در پے نت نئے واقعات و حادثات ہمارے منتظر ہیں۔

عزیزان من!اگست کے آخر میں اسلام آباد کے ایک اسپتال میں 14نوزائیدہ بچوں کی دردناک موت ایک سانحہ ہے ، ظاہر ہے کہ اسپتال کی انتظامیہ نے نہایت غفلت کا مظاہرہ کیا لیکن ہماری نظر میں یہ واقعہ بھی موجودہ خراب وقت کی سنگینی اور سفاکی کا مظہر ہے ۔

جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا کہ 3ستمبر سے سیارہ زہرہ زائچے کے چھٹے گھر میں دسمبر تک رہے گا تو یہ وقت حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے نئے چیلنج لائے گا، گویا ملک کی داخلی صورت حال انتشار اور بدنظمی کا شکار ہوسکتی ہے ۔مشتری کی موجودہ پوزیشن اور سیارہ مریخ کی اپنے ہبوط کے برج سرطان میں آمد بہت سے نئے پنڈورابکس کھول سکتی ہے۔

ملک میں پہلے ہی نئے صوبوں یا چھوٹے یونٹس سے متعلق بے چینی اور اضطراب کی فضا گرم ہے خصوصاً صوبہ سندھ میں احتجاجی صورت حال پیدا ہوچکی ہے اور یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم شاید بہت جلد سامنے آجائے ، قارئین کو یاد ہوگا کہ جون میں مشتری کے برج سرطان میں داخل ہوتے ہی ہم نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں کوئی نئی آئینی ترمیم اسمبلی میں آسکتی ہے۔

ستمبر میں نت نئی خبروں اور افواہوں کا بازار بھی گرم رہے گا، فلاں جارہا ہے اور فلاں آرہا ہے ، حکومت کے دن پورے ہوچکے ہیں ، دل کا جانا ٹھہر گیا ہے ، صبح گیا یا شام گیا وغیرہ۔ستمبر کا مہینہ ایسی ہی خبروں اور افواہوں کی زد میں رہے گا لیکن سیارہ مریخ کے برج سرطان میں داخل ہوتے ہی یہ صورت حال اور بھی شدید ہوجائے گی، خصوصاً ستمبر کے آخری دس دن نہایت اہم ہوسکتے ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہوگی کہ اس صورت حال میں نہایت سخت رویے سامنے آئیں گے جو بہر حال کسی تصادم کی طرف لے جاتے ہیں، حکومت کے خلاف ایک نیا متحدہ محاذ بھی تشکیل پاچکا ہے جس میں ملک کے نامور اور نہایت ہی دانا و بینا سیاست داں مولانا فضل الرحمن خاصے سرگرم نظر آرہے ہیں۔

مولانا بڑے تحمل مزاج انسان ہیں لیکن آج کل خاصے جارحانہ موڈ میں ہیں، اگر دوسری طرف سے بھی ایسا ہی موڈ سامنے آیا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔تحریک انصاف کی طرف سے 27 ستمبر سے احتجاج کی کال دی جاچکی ہے جسے افہام و تفہیم کے ذریعے روکا جاسکتا ہے ورنہ موجودہ سیاروی پوزیشن میں یہ احتجاج زیادہ جارحانہ رخ اختیار کرسکتا ہے ۔

یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ راہو کیتو زائچے کے حساس مقامات پر اسٹیشنری پوزیشن میں ہیں، وہ زائچے کے چوتھے، چھٹے، آٹھویں، دسویں اور بارھویں گھروں کو ایکٹیو کر رہے ہیں، چناں چہ ستمبر کے مہینے کو اگر ستم گر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔ اس مہینے میں مختلف سمتوں سے کئی محاذ نئے کھل سکتے ہیں اور حکومت کے لیے عوام اور اپوزیشن کا دبائو یا احتجاج برداشت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

تحریک انصاف اور عمران خان

تحریک انصاف کے درمیان جو بدنظمی اور بے سمتی موجو د ہے، اس نے اسے بہت نقصان پہنچایا ہے لیکن موجودہ اپوزیشن اتحاد کی وجہ سے صورت حال میں بہتری آسکتی ہے، اگست کے مہینے میں ایک عدالتی فیصلہ گویا تازہ ہوا کا جھونکا تھا لیکن حکومت نے ایک نئی چال چل کر عدالتی فیصلے پر من و عن عمل درآمد نہ ہونے دیا، بہر حال اس مہینے بھی عدالت سے ایسے فیصلے آسکتے ہیں جو حکومت کے لیے ناپسندیدہ ہوں اور تحریک انصاف کے لیے امید کی کرن ثابت ہوں ۔

عمران خان کے زائچے کے مطابق وہ جس طویل ترین منحوس دور سے گزر رہے تھے، اس کا خاتمہ نومبر میں ہوجائے گا جس کے بعد تقریباً 15دسمبر سے ان کے زائچے کی پوزیشن زیادہ بہتر اور مضبوط ہوتی نظر آتی ہے ، گویا اس سال کے آخر اور اگلے سال ان کے جیل سے باہر آنے کاامکان پیدا ہوسکتا ہے۔

اب تک تحریک انصاف اور اس کے رہنما جس نوعیت کی سولو فلائٹ اور باہمی چپقلش میں متحرک رہے ہیں آئندہ امکان ہے کہ مولانا فضل الرحمن جیسے جہاں دیدہ سیاست داں کی شمولیت سے اس کمزوری پر قابو پایا جاسکے گا، اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ نئے صوبوں اور نظام کی تبدیلی کاجو خاکہ سامنے آرہا ہے اس میں بھی تحریک انصاف کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے جس کے بعد مقتدر حلقے اپنی سوچ اور نظریے کو تبدیل کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

اس سارے منظر نامے میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے ۔ اس سال کی ابتدا ہی میں ہم نے کہا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے یہ سال اچھا نہیں ہے۔ اگرچہ پارٹی کو سیاست میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے جناب آصف علی زرداری کے رہنمائی حاصل ہے مگر اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ بہر حال آئندہ جو کچھ بھی ہونے جارہا ہے اس کی اہم جھلکیاں ستمبر کے مہینے میں سامنے آجائیں گی اور ایک واضح روڈ میپ آپ کے سامنے ہوگا (واللہ اعلم بالصواب)

خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، اس کو دکھانا مشکل ہے

آئینے میں پھول کھلا ہے، ہاتھ لگانا مشکل ہے

ستمبر کی سیاروی گردش

سیارہ شمس اپنے برج عروج میں حرکت کر رہا ہے،17ستمبر کو برج سنبلہ میں برج سنبلہ میں داخل ہوجائے گا۔

سیارہ عطارد بھی برج اسد میں حرکت کر رہا ہے اور سیارہ شمس کے قریب ہونے کی وجہ سے غروب ہے، 7ستمبر کو اپنے شرف کے برج سنبلہ میں داخل ہوگا اور پھر 26ستمبر کو برج میزان میں داخل ہوجائے گا۔

سیارہ زہرہ اپنے ہبوط کے برج سنبلہ میں ہے، 2 ستمبر کو اپنے ذاتی برج میزان میں داخل ہوگا اور اس بار برج میزان میں اس کا قیام اپنے معمول کے خلاف طویل عرصہ رہے گا، یہ ایک نہایت غیر معمولی صورت حال ہے جو اکثر لوگوں کی زندگی میں نئی تبدیلیوں کا باعث ہوگی۔

سیارہ مریخ برج جوزا میں حرکت کر رہا ہے، 18ستمبر سے اپنے ہبوط کے برج سرطان میں داخل ہوگا اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا۔

سیارہ مشتری برج سرطان میں ہے اور اسی برج میں حرکت کرے گا، سیارہ زحل بحالت رجعت برج حوت میں حرکت کر رہا ہے ۔

سیارہ یورینس برج ثور میں حرکت کر رہا ہے، 11 ستمبر کو اسے رجعت ہوجائے گی، سیارہ نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں جب کہ پلوٹو بحالت رجعت برج جدی میں حرکت کر رہے ہیں، راہو اور کیتو بالترتیب برج دلو اور اسد میں حرکت کریں گے اور اسٹیشنری پوزیشن میں ہوں گے ۔

شرف قمر

سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں جمعرات 3ستمبر صبح 6:55 پر داخل ہوگااور بہ روز ہفتہ 5 ستمبر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق صبح 09:48 تک برج ثور میں رہے گا، اس دوران میں اپنے درجہ شرف پر 3ستمبر کو دوپہر 12:05 سے  01:48تک درجہ ءشرف پر رہے گا۔

اس ماہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں دوسری بار پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق بہ روز بدھ 30ستمبر دوپہر 02:43 پر داخل ہوگا اور 02اکتوبر بہ روز جمعہ سہ پہر 03:10 تک برج ثور میں رہے گا۔ اس عرصے میں اپنے درجہ ءشرف پر شام 5:47 سے 07:29تک رہے گا۔

شرف قمر کا وقت سعد اور مبارک سمجھا جاتا ہے، اس دوران میں نئے کاموں کی ابتدا کرنا بہتر ہوتا ہے، اپنے جائز اور نیک مقاصد کے لیے اس وقت میں دعا کرنا چاہیے ۔

قمر در عقرب

قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 16ستمبر بہ روز بدھ 10:18پر داخل ہوگا اور 18 ستمبر بہ روز اتوارشب 10:14تک برج عقرب میں رہے گا، اپنے درجہ ء ہبوط پر 02:12سے 04:11تک ہوگا۔

یہ وقت نحس تصور کیا جاتا ہے اس دوران میں کوئی نیا کام شروع نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً منگنی یا نکاح وغیرہ یا کسی نئی جگہ جاب کی ابتدا بھی اس وقت میں مناسب نہیں ہوتی، البتہ یہ وقت علاج معالجے کے لیے موافق خیال کیا جاتا ہے یا اس وقت میں بری اور غلط عادتوں سے نجات کے لیے اعمال و وظائف کیے جاتے ہیں۔

سوالات و جوابات

پڑھائی کا خوف

ایم،اے کراچی سے لکھتے ہیں” ہماری ماسی کاایک بیٹا ہے وہ اسکول نہیں جاتا، پیار محبت سے سمجھایا لیکن اسکول کانام سن کر ہی اس کو بخار آجاتا ہے، دو تین دن تک بخار نہیں اترتا ، ماسی اس کو اسکول لے کر گئی لیکن وہاں نہیں بیٹھتا اور روتا رہتا ہے، پڑھنے سے بہت گھبراتا ہے ، گھر میں ماں سے باپ سے اور بہنوں سے لڑتا ہے ، ایک ہی بیٹا ہے ، ماں اور باپ کے پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے ، ماں باپ غریب ہیں لیکن اس کی ضد کے آگے جھک جاتے ہیں ، کوئی وظیفہ بتائیں جس کی برکت سے اسے پڑھنے کا شوق ہوجائے ، بچے کا شمسی ، قمری اور پیدائشی برج بھی بتائیں اور اس کی روشنی میں صدقہ وغیرہ بھی بتائیں تو بڑی مہربانی ہوگی ۔“

 جواب: عزیزم ! بچے کا شمسی برج حوت اور پیدائشی برج بھی حوت ہے اور یہ بچہ واقعی ایک پرابلم چائلڈ ہے ، اس کے ماں باپ سے کہیں کہ اس کی ناجائز ضدیں پوری نہ کریں ، معمولی سی سختی ضروری ہے ، دوسری بات یہ کہ اس بچے کو نفسیاتی بیماری ہے یعنی پڑھائی کا اور اسکول کا خوف ۔

 ہم اس کے لیے ہومیو پیتھک دوا لکھ رہے ہیں ، یہ اس بچے کو کم از کم دو تین مہینے استعمال کرائیں تو انشا اللہ یہ ٹھیک ہوجائے گا ۔ میڈھو رینم 200 کی ایک خوراک 15 دن میں ایک مرتبہ دیں اس کے علاوہ ایتھوزا 30 کی تین خوراکیں روزانہ صبح ، دوپہر اورشام کو دیں ۔ ایک مہینہ دوا استعمال کرانے کے بعد پھر مشورہ کریں اور حال سے آگاہ کریں ۔ یہ دوائیں کسی بھی ہومیو پیتھک اسٹور سے سیل بند خرید سکتے ہیں ۔ جہاں تک روحانی علاج کا تعلق ہے تو اس کی ماں سے کہیں کہ شروع چاند میں پہلے جو بدھ آئے اس روز صبح فجر کی نماز کے بعد سورہ علق 41 مرتبہ پڑھ کر پانی کی بوتل میں دم کرلیں اور یہ پانی اسے دم میں 3 مرتبہ پلائیں ، بوتل میں پانی ختم ہونے لگے تو بوتل کودوبارہ بھر لیا کریں ۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔