دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ

دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ

خود انتسابی کے بغیر کسی مسئلے کا حل ممکن نہیں

زندگی کے اونچے نیچے راستے ہمیں اس دنیا میں نت نئے تجربات سے روشناس کرتے اور زندگی کے نئے نئے رنگ دکھاتے ہیں، ایک طویل عرصے سے ہم زندگی کے یہ نت نئے رنگ ڈھنگ، خطوط، ای میلز اور موجودہ دور میں واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے پڑھتے اور دیکھتے آرہے ہیں اور ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی بعض کمزوریوں اور محرومیوں کے سبب ان اونچے نیچے راستوں پر چلتے ہوئے لڑکھڑاتے نظر آتے ہیں اور پھر وہ کسی نئی غلطی یا حماقت کا شکار ہوکر اپنی زندگی کو تباہی کے راستے پر گامزن کردیتے ہیں۔

ایسے اکثر کیسوں میں وہ اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے ، اپنی کمزوریوں اور خامیوں پر ان کی نظر نہیں ہوتی، عموماً وہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرارہے ہوتے ہیں، فلاں نے یہ کردیا اور فلاں نے وہ کردیا ، فلاں اس کا ذمے دار ہے ، ہمارے دشمن بہت ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ حالاں کہ اگر قریب سے مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جو حال ہمارا ہے وہی ہمارے دشمنوں کا بھی ہوتا ہے، وہ بھی کسی نہ کسی وجہ سے پریشان ہی ہوتے ہیں۔

بہترین بات یہی ہے کہ ہمیں بہت زیادہ دیانت داری کے ساتھ سب سے پہلے اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لینا چاہیے اور یہی سب سے مشکل ترین کام ہے اس کے بعد ہی ہم اپنے کسی مسئلے کو حل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں ورنہ بہ صورت دیگر ہمارے ملک میںا یسے لوگوںکی کمی نہیں ہے جن سے رابطہ کرکے ہم مزید گمراہی کا شکار ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک میں نام نہاد عاملوں، کاملوں، نجومیوں اور ماہرین جفر کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان کی اکثریت خود جہالت کا شکار ہے، یہ ایسے رٹّو طوطے ہیں جنھوں نے پرانی کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے نقش و تعویذ اور عمل و وظائف رٹ لیے ہیں اور کسی بھی مسئلے کا حل انہی کتابوں میں ڈھوندتے ہیں ۔

اصولی طور پر ضروری یہ ہے کہ مسئلہ جو بھی ہو اس پر فوری طور سے سحرو جادو اور جن بھوت وغیرہ کا فتویٰ نہ لگایا جائے بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے پہلے اپنی کمزوریوں اور محرومیوں پر دھیان دیا جائے ۔ اگر بات سمجھ میں نہیں آرہی یا ہماری عقل اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں معذور ثابت ہورہی ہے تو کم سے کم کسی سے مشورہ یا رابطہ کرنے سے پہلے یہ تو غور کرلیں کہ اس شخص کی اپنی علمیت اور حیثیت کیا ہے، ہوتا یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مشوروں پر ایسے نام نہاد لوگوں سے رابطہ کرکے اپنا مزید بیڑا غرق کرلیتے ہیں ۔

عزیزان من! ہم برسوں سے اسی لیے ایسے موضوعات پر لکھ رہے ہیں اور سیاہ و سفید کا فرق واضح کررہے ہیں  شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات۔

سحری عمل کے اثرات

ب، ط، ملتان: شادی میں کیا رکاوٹ ہے؟ ہیپاٹائٹس کا جو علاج ہو رہا ہے کیا وہ درست ہے؟ میرا تیسرا مسئلہ کافی سیریس ہے۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ میں عرصہ آٹھ سال سے بیمار ہوں لیکن تین سال سے بہت زیادہ بیمار ہوں۔ کافی لوگوں نے بتایا کہ جادو کیا گیا ہے اور جو لوگ بھی جادو کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ یہ مر جائے کیونکہ جو تعویذ بھی نکلتے ہیں ان پر میری موت اور کانوں کا بہرہ پن اور شادی کا نہ ہونا لکھا ہوتا ہے۔ صبح مجھ سے اٹھا نہیں جاتا۔ سارا جسم سوجا ہوتا ہے اور بے حد سستی ہوتی ہے۔ منہ بھاری اور کرخت ہو جاتا ہے۔ سارے جسم اور منہ پر سے کالک اترتی ہے۔

جب کپڑے دھوتی ہوں تو پانی کالا ہو جاتا ہے۔ جب بستر پر سونے کو لیٹتی ہوں تو ایسا لگتا ہے کوئی ساتھ لیٹ جاتا ہے اور گالوں پر ہاتھ پھیرتا ہے اور پھر خواب میں وہ آدمی مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے، پریشان کرتا ہے۔ باتھ روم میں نہانے جاﺅں تو ایسا لگتا ہے کوئی دیکھ رہا ہے۔

سوتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ہوا جسم میں داخل ہو رہی ہے پھر دم پھولنا شروع ہو جاتا ہے، بے حد موٹی ہو جاتی ہوں اور پیٹ کا حصہ پھول کر باہر نکل آتا ہے۔ صبح سو کر اٹھنے پر کندھوں اور گردن میں بے حد درد ہوتا ہے۔ حتٰی کہ میں کوئی کام نہیں کر سکتی، ہر وقت سر چکراتا رہتا ہے۔ یادداشت پر برا اثر پڑا ہے۔ ہر کوئی برا سمجھتا ہے۔ پریشانی پر پریشانی چلی آتی ہے۔ چیزیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اکیلی نہیں رہ سکتی، بے حد خوف آتا ہے۔ خصوصاً عصر و مغرب کے وقت عجب طرح کی سوچ ذہن میں آتی ہے۔

ج۔ عزیز بہن، فی الحال شادی کے بارے میں تو سوچنا بھی بے کار ہے کیونکہ پہلی چیز صحت مندی ہے آپ جو ہومیوپیتھک علاج کر رہی ہیں، وہ درست ہے مگر آپ نے غلطی یہ کی ہے کہ اپنے معالج کو اپنی مکمل کیفیات سے آگاہ نہیں کیا لہٰذا وہ آپ کو صرف ہیپاٹائٹس کے لیے دوا دے رہے ہیں۔

بہتر ہو گا کہ آپ انہیں پوری طرح اعتماد میں لیں اور باقی کیفیات کے لیے بھی ان سے دوا لیں۔ باقی اصل بات یہی ہے کہ آپ کسی سحری عمل کے زیر اثر ہیں اور آپ پر جو گندی چیز مسلط کی گئی ہے وہ آپ کو پریشان کر رہی ہے۔ اس کا روحانی علاج یہ ہے کہ آپ بستر پر لیٹنے سے پہلے ایک بار بسم اللہ (پوری) پھر سور الفلق اور پھر سورالناس پڑھیں اور اسی ترتیب سے گیارہ مرتبہ مع بسم اللہ دونوں سورتیں پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں اور سینے پر دم کریں۔ دونوں ہاتھوں کو چہرے پر، کاندھوں پر اور بازوﺅں پر پھیر کر اس طرح جھٹک دیں جیسے ہاتھ دھو کر پانی جھٹک دیتے ہیں۔

پڑھنے سے پہلے آدھا گلاس پانی بھی سامنے رکھ لیا کریں۔ اس پر بھی دم کر دیا کریں اور ہاتھ جھٹکنے کے بعد وہ پانی پی لیں۔ یہی عمل صبح سو کر اٹھنے کے بعد کریں۔

ایک دوسرا عمل بھی لکھا جارہا ہے اس پر بھی عمل کریں، چاند کی چودہ تاریخ تک جو بھی بدھ آئے، اس دن سے شروع کریں۔

زعفران اور عرق گلاب کی روشنائی بنا لیں اور اسے کسی انک پین میں(جسے خوب دھو کر صاف کر لیا ہو یا پھر نیا قلم بازار سے لے لیں) بھر لیں پھر اس سے لکھیں۔ صبح سورج نکلنے کے بعد فوراً یعنی پہلی ساعت عطارد میں چینی کی ایک سفید پلیٹ پر گول دائرے کی شکل میں لکھتی چلی جائیں تاکہ دائرہ پلیٹ کے کناروں تک پھیل جائے…. بار بار لکھ کر پوری پلیٹ کو بھر دیں۔ بعد میں پلیٹ پر تھوڑا سا عرق گلاب ڈال کر اسے دھو لیںاور شہد ملاکر پی لیں، یہ عمل چالیس دن تک کریں۔ لکھنا یہ ہے۔

یا حی حین لا حی فی یموتة ملکہ و بقائہ یا حی

پھر بسم اللہ پوری لکھیں اور پھر پوری سورہ فاتحہ یعنی الحمد شریف لکھیں۔ ایک بار لکھنے کے بعد بھی جگہ بچ رہے تو دوسری بار اسی ترتیب سے لکھنا شروع کر دیں۔

اس روحانی علاج کے ساتھ ہومیوپیتھک علاج نہ چھوڑیں، اسے بھی جاری رکھیں اور ڈاکٹر سے اپنی تمام علامات کھل کر بیان کریں۔ منگل کے روز کلیجی یا گائے کا گوشت لے کر اس کے نو ٹکڑے کریں۔ (یہ کام ہر منگل کی دوپہر ایک اور دو بجے کے درمیان کیا کریں) پھر ان کو اپنے اوپر سے نو مرتبہ اینٹی کلاک راﺅنڈ میں گھما کر اتار لیں پھر ہاتھوں اور پاﺅں کے ناخنوں سے چھوا کر چیل کوﺅں کو دے دیں یا کسی بلی کو ڈال دیں۔

صدقہ دینے کے بعد اپنے بائیں طرف منہ کر کے تھوک دیا کریں۔ اسی طرح اتوار کو ایک کلو گندم کا صدقہ دیں۔ وہ کسی غریب کو دیں یا پرندوں، مچھلیوں وغےرہ کو ڈال دیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دے اور زندگی کو کامیاب بنائے۔ سحری و آسیبی اثرات کے علاج کے لیے یہ طریقہ کار سب کے لیے ہے کوئی بھی اس عمل سے مستفید ہو سکتا ہے۔

جذباتی دباﺅ سے نجات کے لیے آزاد نگاری

ع، پ، حیدرآباد: آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ بہت زیادہ حساس ہیں۔ زندگی کے ہر معاملے کا تاریک پہلو سب سے پہلے آپ کے سامنے آتا ہے۔ یہ آپ کے سن سائن برج عقرب کی کرشمہ سازی ہے۔ مون سائن دلو کی وجہ سے آپ فطرتاً بہت زیادہ توقعات رکھنے والی ہیں اور دوسروں سے بھی بہت کچھ توقعات وابستہ کر لیتی ہیں، جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو آپ کو شدید جذباتی شاک لگتا ہے جو آپ کے اعصاب پر بہت برا اثر ڈالتا ہے۔

آپ نے جن حالات کا ذکر کیا ہے، ان کے تحت بھی اعصاب زدگی لازمی ہے۔ آپ کے لیے بے حد ضروری ہے کہ آپ ”فری رائٹنگ“ کی عادت ڈالیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب ذہن پر خےالات کی یلغار ہو رہی ہو تو علیحدہ کمرے میں بیٹھ کر کاغذ قلم سنبھال لیں اور جو بھی سوچیں ذہن میں جنم لی رہی ہوں، انہیں کاغذ پر لکھنا شروع کر دیں۔

یاد رکھیں ”فری رائٹنگ“ کا مطلب ہے ”آزاد نگاری“ لہٰذا لکھنے میں مکمل آزادی ضروری ہے۔ کوئی ایسی بات جو لکھتے ہوئے آپ کو جھجک محسوس ہو، شرمندگی ہو، خوف محسوس ہو ضرور لکھیں۔ خواہ وہ کتنے ہی راز کی بات کیوں نہ ہو۔ لکھتے لکھتے ذہن کو خالی کر دیں۔ بعد میں ان کاغذات کو فوراً جلا دیں۔

بہترین طریقہ یہ ہو گا کہ رات کو سونے سے پہلے یہ کام کیا کریں اور دن بھر کی روداد کے ساتھ اپنے تبصرے وغیرہ بھی لکھ لیا کریں پھر اسے جلانے میں تاخیر نہ کریں۔ سانس کی مشق بھی روزانہ کریں۔

تین ماہ پابندی سے اگر آپ نے ہماری ہدایات پر عمل کر لیا تو خود کو بہت بدلا ہوا پائیں گی انشااللہ! ورنہ آپ جس سمت میں جا رہی ہیں، وہ شیزوفرینیا اور ہسٹریا جیسی خطرناک بیماریوں کا راستہ ہے۔

منفی انداز فکر کی جھلک

جے، ایس لاہور: جو لوگ دماغ کے بجائے دل سے سوچتے ہوں اور دل کے فیصلوں پر عمل بھی کرتے ہوں، ان کے حالات زندگی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے آپ نے اپنی فیملی کے بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد یہ شکوہ کیا جائے کہ ہماری تو قسمت ہی خراب ہے یا یہ کہ کسی نے جادو ٹونہ، تعویز وغیرہ کرا دیے ہیں۔

یہ کچھ نہیں معلوم کہ وہ ”کسی“ کون ذات شریف ہیں۔ یہ تصدیق کرنے والے عالموں، عاملوں، مولاناﺅں، باباﺅں اور باجی اللہ والیوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو فوراً یہ فتویٰ داغ دیتے ہیں کہ ”بندش“ ہے۔ کسی نے زبردست تعویز کرائے ہوئے ہیں۔ بہت بھاری اثر ہے۔ اپنی نالائقیوں اور کوتاہیوں پر کوئی نظر نہیں کرتا، نا معلوم خیالی مخالفین کا اثر فوراً نظر آنے لگتا ہے۔ آپ کا اور آپ کے خاندان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آپ نہایت جذباتی اور انا گزیدہ ہیں اور جھوٹی انانیت بڑے منفی انداز میں آپ کے ذہن پر سوار ہے۔

گھر کا نامناسب ماحول، نامناسب تربیت اس پر سونے پر سہاگہ کے مترادف ہوئی۔ صرف اندازے کی بنیاد پر آپ سیریس ہو گئیں اور خود کو روگ لگا بیٹھیں پھر آپ کا وہ عشق کس معیار کا تھا جو اب ٹھنڈا بھی ہو چکا۔ عشق تو واقعی آپ کے بھائی نے کیا کہ خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں۔ دس سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر اپنی محبت کو پا کر ہی دم لیا۔ پیاری بیٹی! عقل کے ناخن لو، اپنی بڑھی ہوئی منفی حساسیت پر قابو پانے کی کوشش کرو۔

عارضی طور پر چمکنے والی ہر چیز کو سونا نہ سمجھو، حقیقت پسندی اختیار کرو، وقت کی نزاکتوں کو محسوس کرو۔ اب بھی تمہارے دماغ میں خناس موجود ہے کہ ”میری شادی کسی بہت اچھی جگہ ہو تاکہ دوسرے دیکھ کر جل جائیں۔“ یہ منفی انداز فکر نہیں ہے تو کیا ہے؟ کبھی اپنی خامیوں پر بھی غور کیا ہے؟ تعلیم مکمل نہیں ہو سکی۔

صحت کے مسائل مستقل پریشان کرتے رہتے ہیں، گھریلو پوزیشن کمزور۔ کیا صرف عملیات کے بل بوتے پر دنیا فتح کرو گی اور فرمائش یہ ہے کہ وظیفہ بھی کوئی آسان سا ہو۔ محنت سے جان چرانے والے زندگی کے کسی شعبے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے اپنی اصلاح پر توجہ دو اور حقیقت کو مدنظر رکھ کر شادی کے بارے میں سوچو تو جلد شادی ہو جائے گی۔

سب سے پہلے تو کسی اچھے یعنی پرانے ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے اپنی جسمانی بیماریوں کا مستقل مزاجی سے علاج کراو، اس کے علاوہ ایک سانس کی مشق ہم یہاں لکھ رہے ہیں اسے پابندی سے روزانہ کرنا ہوگا۔

صبح جس وقت بھی سوکر اٹھو تو واش روم سے فارغ ہونے کے بعد کسی کھلی جگہ یا ایسے کمرے میں جس میں تازہ ہوا کی آمدورفت ہو، کھڑی ہوجاو ، اپنا منہ شمال کی سمت میں رکھو اور اس طرح کھڑی ہو جیسے بچے پی ٹی وغیرہ کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں یعنی دونوں ٹانگیں تھوڑا سا کھول کر۔

اپنے دونوں ہاتھ اپنی پسلیوں پر اس طرح رکھو کہ کچھ حصہ پسلی پر اور کچھ پسلی سے نیچے تک رہے ، گردن بالکل سیدھی رکھو اور آنکھیں بند کرلو اس کے بعد ناک سے آہستہ آہستہ سانس اندر کھینچو اور تازہ ہوا کو پوری طرح پھیپھڑوں میں بھرلو، اس کے بعد منہ سے بہت تیزی کے ساتھ ہوا کو خارج کردو، دوسری مرتبہ ناک سے تیزی سے سانس اندر کھینچو اور پھر منہ سے آہستہ آہستہ خارج کرو، سانس کی یہ مشق صبح سورج نکلنے سے پہلے یا سورج نکلنے کے وقت کی جائے تو بہت زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے ۔

یہ مشق آپ کو زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ تک کرنا کافی ہوگا یعنی ایک مرتبہ ناک سے سانس آہستہ آہستہ پھیپھڑوں میں بھرنی ہے اور منہ سے تیزی کے ساتھ خارج کرنی ہے پھر دوسری مرتبہ ناک سے تیزی کے ساتھ سانس کھینچنی ہے اور منہ سے آہستہ آہستہ خارج کرنا ہے، صرف اتنا سا کام ہے۔

 جتنی دیر کرسکتی ہو کرو اور پھر اس کے بعد اپنے دیگر کاموں میں مصروف ہوجاو، یقین رکھو کہ ایک مہینے کے اندر اندر تمھیں اس معمولی سی سانس کی مشق کے ایسے فوائد محسوس ہونے لگیں گے جن کے بارے میں تم نے سوچا بھی نہیں ہوگا، یوں سمجھ لو کہ تمہاری منفی سوچ بھی تبدیل ہوگی اور صحت کے معاملات بھی بہتر ہوتے جائیں گے۔

خوابوں کی جس دنیا میں تم رہ رہی ہو اس سے بھی نجات مل جائے گی ۔ سب سے اہم بات یہ کہ تمہاری سوچ پریکٹیکل ہونا شروع ہوجائے گی، اس کام میں نہ تمہارا کچھ خرچ ہوگا اور نہ ہی تمھیں کوئی بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔