برتھ چارٹ میں سیاروں کے اثرات کی جانچ پڑتال کے اصول
ہر زائچے میں سعد و نحس سیارے مخصوص کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں
باب اول
مخصوص مقامات پر سیاروں کی موجودگی کے اثرات کو کیسے جانچا جائے۔
کلیدی معاملات
عمومی فطرت بمقابلہ مخصوص فطرت
موثر ترین مقام کے قریب موجودگی کے اثرات
فعلی نحس سیارے کب اچھے نتائج دیتے ہیں
طالع کی اہمیت
اس الہامی سائنس کے طالب علموں کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے: تمام بارہ طالع برج کے لیے کسی مخصوص گھر یا برج میں کسی خاص سیارے کی موجودگی کے نتائج کیسے اخذ کیے جائیں۔
بہت سارے مکاتب فکر موجود ہیں اور سب کا اپنا اپنا طریقہ کار ہے لیکن جدید دور میں اس حوالے سے بھی خاصا کام ہوا ہے اور بہت سے قدیم نظریات سے اختلاف کیا گیا ہے، دنیا کا کوئی بھی علم جو سائنسی بنیادوں پر استوار ہو اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترمیم و اضافے ہوتے رہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ ہر قدیم یعنی کلاسیکل نظریے کو بغیر کسی دلیل و حجت کے آنکھیں بند کرکے قبول کرلیا جائے اور خاص طور سے ویدک سسٹم کے قدیم نظریات میں جس طرح ہندو مائیتھا لوجی کو اپلائی کیا گیا ہے وہ ظاہر ہے اس جدید دور میں کم از کم غیر ہندو دنیا کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
جدیدطریقہ کار میں کوئی ابہام نہیں ہے، کوئی بھی تواتر کے ساتھ ان اصولوں کو ہر جگہ آزماسکتا ہے، یہاں میں آپ کو تمام مراحل کا ایک مختصر تعارف دوں گا جس کی پیروی آپ اپنے صارف کو مشورے دیتے وقت مخصوص گھروں میں سیاروں کی موجودگی کے نتائج اخذ کرنے کے لیے کریں گے۔
درست طالع برج کی شناخت سب سے پہلے ضروری ہے، جب بھی کسی ماہر نجوم کے سامنے زائچہ پیش کیا جائے وہ سب سے پہلے اس بات کا یقین کرے کہ یہ درست بنایا گیا ہے اور اگر طالع چند منٹ کے فرق سے تبدیل ہورہا ہو تو وہ اسے قریبی قران کیے ہوئے سیاروں اور ہر طالع کے لحاظ سے ممکنہ نحس بیٹھکوں کے لحاظ سے سوالات پوچھ کر درست کرے، خاص طور سے پاکستان میں تو زائچے کا پہلا گھر یعنی لگن اکثر اس لیے مشکوک ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا درست ترین وقت پیدائش ہی معلوم نہیں ہوتا، اسپتال کے سر ٹیفکیٹ بھی اکثر غیر معیاری نکلتے ہیں، ہم بار ہا ایسے تجربات سے گزرتے رہے ہیں۔
ایک بار جب ہم طالع کی درست طریقے سے شناخت کرلیں تو ہمیں زائچہ میں تمام سیاروں کی خاصیت کا پتا چل جائے گا کہ وہ پیدائش کے وقت کے لیے سعد ہیں یا نحس، یہ مرحلہ ہمیں مزید تجزیے کے لیے بنیاد فراہم کرے گا، راہو اور کیتو کے ساتھ وہ تمام سیارے جن کا مول ترکون برج چھٹے، آٹھویں یا بارھویں گھر میں پڑ رہا ہو وہ فعلی نحس سیارے مانے جائیں گے۔
ایک زائچے میں ہر سیارہ دو بنیادی کردار ادا کرتا ہے، زندگی میں جو رجحانات وہ ظاہر کرے گا اس کی نشان دہی کے لیے ان کرداروں کے درمیان واضح فرق جاننا ضروری ہے۔
عمومی فطرت
کسی بھی فرد کے طالع سے قطع نظر ستاروں کی فطرت وہی رہتی ہے یعنی کہ کسی بھی طالع کے لیے سیارے کی جو بھی فطرت ہو وہ پیدائشی زائچے میں اپنی طاقت کے مطابق اسی فطرت کا اظہار کرے گا، مثال کے طور پر جب مشتری طالع سرطان میں حالت شرف میں ہو تو اس سے اچھی ذہانت، علم ، اعلیٰ تعلیم اور زندگی میں مشاورتی کرداروں میں کامیابی ملتی ہے، اگرچہ اس کا مول ترکون برج چھٹے گھر میں پڑتا ہے جو اسے ایک فعلی نحس سیارہ بنادیتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشتری کی سعادت افروز خصوصیات ختم ہوگئی ہیں یا کم ہوگئی ہیں ۔
مخصوص فطرت
مندرجہ بالا مثال کے مطابق مندرجہ بالا تناظر میں مشتری چھٹے گھر کے مالک کی حیثیت سے اپنی مخصوص فطرت کا اظہار کرے گا، چناں چہ جب وہ طالع میں حالت شرف میں ہو اور ڈگریوں کے لحاظ سے بھی طاقتور ہو تو وہ اچھی مالی حیثیت، قانونی چارہ جوئی کے معاملات میں جیت سے نوازتا ہے اور صحت کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے، طالع میں مشتری کی بیٹھک کا اثر حامل زائچہ کو دلیل پسند بناتا ہے اور وہ شاذونادر ہی تنازعات میں الجھتا ہے۔
قریبی نظرات/ قرانات
مندرجہ بالا مثال کے مطابق ایسا مشتری جب طالع کی مرکزی ڈگری (سب سے موثر مقام) کے قریب ہو تو چھٹے گھر کی منفی منسوبات سے طالع، پانچویں، ساتویں اور نویں گھر کو جوڑدیتا ہے، یہ ان تمام سیاروں کو بھی متاثر کرتا ہے جو پانچ ڈگری کے اندر اس کی نظر کے تحت ہوں یا قران میں ہوں، یہ بچوں اور باپ سے تعلقات میں مسائل لاتا ہے اور صحت کی خرابی میں مبتلا کرتا ہے، مذکورہ بالا طریقے سے ہم اپنے صارف کی بہت آسانی اور اعتماد کے ساتھ رہنمائی کرسکتے ہیں کہ وہ سیارہ جس کا دور اصغر چل رہا ہو ان کی زندگی میں کیا نتائج ظاہر کرے گا، دور اصغر کے حاکم سے متعلقہ واقعات کا وقت نکالنے کے لیے سیاروں کی گردشی طاقت اور چال کا جاننا بھی بہت ضروری ہے۔
فعلی نحس سیارے کب اور کیوں اچھے نتائج دیتے ہیں؟
سیکھنے والوں کے ذہنوں میں یہ سوال عام طور پر ہوتا ہے، اس کا جواب بہت سادہ ہے، جب ہم سیاروں کی عمومی اور خاص فطرت میں واضح طور پر فرق کرلیتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ فعلی نحس سیارے صرف اس صورت میں منفی نتائج دیتے ہیں جب وہ زائچے میں قران، نظرات کے ذریعے یا کمزور، بری بیٹھک کی وجہ سے متاثر ہوں ورنہ وہ اپنی عمومی اور منفرد فطرت کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ پہلے کی مثال میں بیان کیا گیا ہے، چناں چہ فعلی نحس سیارے کے لیے سب سے اچھی بیٹھک اس کا مول ترکون برج اور زائچے کے سب سے مو ¿ثر مقام سے دور ہونا ہے، اس طرح اس کی عمومی اور خاص فطرت دونوں فائدہ بخش ثابت ہوں گی۔
کیا فعلی نحس سیاروں کو کمزور ہونا چاہیے، اس طرح وہ کم برے نتائج دیں گے؟
یہ ایک عام افسانوی بات ہے کہ جب نحس سیارہ کمزور ہو تو وہ زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہ سچ نہیں ہے کیوں کہ ہر سیارے کا طاقتور ہونا بہت ضروری ہے ورنہ سیاروں کی عمومی، منفرد فطرت ظاہر نہیں ہوتی اور تکلیف پیدا کردیتی ہے، مندرہ بالا مثال کے مطابق اگر مشتری کی بیٹھک آخری ڈگری میں ہو، 29 ڈگری کہہ لیں تو یہ ایک کمزور مالی حیثیت، قانونی چارہ جوئی میں نقصان، خراب صحت، جگر کی خرابی اور ذیابطیس کا شکار ہونے کا رجحان پیدا کردیتا ہے، مذکورہ بالا معاملے میں اس کی نحوست کم نہیں ہوتی،اگر اس کا مو ¿ثر مقام 28 ڈگری پر ہو تو اس طرح کا مشتری ازدواجی معاملات میں سنگین تنازعات اور شریک حیات کی صحت کے لیے شدید مسائل کا باعث بنے گا۔
سعد سیارے بھی کب برے یا منفی نتائج دیتے ہیں؟
پیدائشی زائچے میں سعد سیاروں کے نتائج کی وضاحت کرنے میں بہت محتاط رہنا چاہیے کیوں کہ وہ زندگی میں ناکامیوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں، وہ مندرجہ ذیل صورتوں میں منفی نتائج دے سکتے ہیں۔
بری بیٹھک میں چھٹے، آٹھویں اور بارہویں گھر میں
نوزائیدگی، بڑھاپے میں نتائج بالکل ظاہر ہی نہیں ہوتے
فعلی نحس سیاروں کے قریبی برے اثرات کے سبب
مختلف طرح کی کمزوری( ایک سے زیادہ کمزوری جیسے بری بیٹھک، ہبوط میں یا غروب ہونا)
جب فعلی سعد سیارہ طویل گردشی نحس اثرات کا شکار ہو یا چھٹے، تیسرے یا بارویں گھر سے طویل مدت کے لیے گزر رہا ہو۔
اس کتاب میں ہر طالع کے لیے مختلف گھروں میں موجود سیاروں کے تفصیلی نتائج دیے گئے ہیں، مزید یہ کہ مذکورہ بالا امور کو بھی اس سلسلہ ءمضامین میں مثالوں کے ساتھ بڑی تفصیل سے پیش کیا جارہا ہے، تحقیقی معاملات پر سیاروں کی گردش کے مطابق پیش آنے والے واقعات (ٹرانزٹ سگنیفکینٹ ایونٹ) پر پیدائشی زائچوں کے حوالے سے واقعات کی تاریخوں کی گردشی زائچوں کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔
باب دوئم
اثرات کا مدار
پیدائشی، گردشی نظرات اور قرانات کے اثرات کو جانچنے کے لیے موثر مدار کی درست نشان دہی بہت اہم ہے،ایسے زائچے جن میں فعلی نحس سیاروں کا اثر مول ترکون برج والے گھروں کے موثر مقامات پر ہو، سیارے (حاکم) جو بیک وقت پیدائشی زائچے (راشی) اور گردش میں طاقت ور ہوں، پر اثرات کا مدار عام نحوست کے لیے دونوں اطراف ایک ڈگری تک ہوتا ہے اور مخصوص، متعدد نحوست کے لیے دونوں اطراف دو ڈگری تک ہوتا ہے، ایسے زائچے جن میں مول ترکون برج والے گھر اور سیارے (حاکم) پیدائشی زائچے یا گردش میں کمزور ہوں تو اثرات کا مدار دونوں اطراف پانچ ڈگری تک ہوتا ہے۔
ایسے زائچے جن میں طاقت ور فعلی سعد سیاروں کا اثر مول ترکون برج والے گھر، سیارے (حاکم) کے موثر مقامات پر ہو جو بیک وقت پیدائشی زائچے (راشی) اور گردش میں طاقت ور ہوں پر اثرات کا مدار دونوں اطراف پانچ ڈگری تک ہوتا ہے، ایسے زائچے جن میں مول ترکون برج والے گھر اور سیارے (حاکم) پیدائشی زائچے یا گردش میں کمزور ہوں تو اثرات کا مدار دونوں اطراف ایک ڈگری تک ہوتا ہے، پیدایشی یا گردشی فعلی نحس سیاروں کے قریبی اثرات سے تمام کمزور سیارے نحوست کا شکار ہوجاتے ہیں۔
پیدائشی یا گردشی قران کا انتہائی اثر، جب وہ دونوں اطراف میں ایک ڈگری کے اندر ہو، جیسے ہی گردشی کیفیت الگ ہونے لگے، ویسے ہی اس کے اثرات کم ہونے لگتے ہیں ، جس سیارے پر گردشی اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہو اس کی طاقت کو دیکھنا بہت اہم ہے، مثال کے طور پر اگر شمس چوتھے گھر کا مالک ہو، چوتھے گھر میں ہو اور اس کا طول البلد 11 ڈگری ہو اور طاقتور ہو تو فعلی نحس سیارے مشتری جو کہ طالع ثور کے لیے نحس ترین سیارہ ہے کا اثر جب ہوگا جب وہ برج اسد ، قوس، دلو یا حمل میں 9 سے 13 ڈگری کے درمیان موجود ہو، واحد فعلی نحس سیارہ مریخ جب اثر انداز ہوگا وہ برج اسد، جدی، دلو یا ثور میں 10 سے 12 ڈگری کے درمیان ہو کیوں کہ پیدائشی زائچے میں شمس مضبوط ہے، براہ کرم سورج کی گردشی قوت پر بھی غور کرنا نہ بھولیں، اگر شمس ثور کے پیدائشی زائچے میں برج میزان میں 5 ڈگری پر موجود ہو تو اس پر مشتری کا گردشی اثر جب اثر انداز ہوگا جب مشتری میزان، دلو، حمل یا جوزا کی 0 سے 10 ڈگری پر سے گزرے، پیدائشی شمس پر مریخ کی گردش کا اثر تب ہوگا جب مریخ میزان، حوت، حمل یا سرطان کی 0 سے 10 ڈگری پر سے گزرے۔
البتہ اگر ایک مرتبہ گردشی مشتری یا مریخ کا طول البلد 5 ڈگری ہوجائے تو اس کا گردشی اثر الگ ہونے لگتا ہے اور کم ہونا شروع ہوجاتا ہے، پیدائشی شمس پر گردشی مشتری اور مریخ کی نحوست جب ختم ہوجاتی ہے جب وہ 10 ڈگری پر آجائیں ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ سیدھے چل رہے ہیں، اگر گھر کا برج مول ترکون نہ ہو تو اثرات کا مدار مو ¿ثر مقام سے دونوں اطراف 5 ڈگری ہوگا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ ان مثالوں کے ذریعے قارئین اس تصور کو واضح طور پر سمجھنے کے قابل ہوجائیں گے اور بہتر گرفت اور یاد دہانی کے لیے نحس اثرات کی کیفیت میں تینوں حوالوں سے فوری نشان دہی کے لیے مندرجہ بالا کیفیت کا خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے۔
نحوست کا مدار
اس سے ہمیں یہ طے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ سیارہ کب نحوست کا شکار ہوتا ہے۔
1۔ کمزور سیاروں کے لیے نحوست کا عمومی مدار پانچ ڈگری ہوتا ہے، اس معاملے میں نحوست کسی بھی فعلی نحس سیارے سے ہوتی ہے جو کسی بھی نحس یا سعد گھر میں موجود ہو۔
2۔ طاقت ور سیاروں کے لیے نحوست کا مدار 2 ڈگری سے شروع ہوتا ہے۔
جب سیارے کسی طرح طاقت ور ہوں یعنی نحوست نہ ہونے پر وہ 100 فیصد طاقت ور ہوں تو اسی لحاظ سے وہ متاثر ہوتے ہیں۔
کیفیت 2 کے لیے مندرجہ ذیل نحوست لانے والے ہوتے ہیں۔
۔1 انتہائی نحس سیارہ
۔2 کسی نحس گھر سے کوئی فعلی نحس سیارہ
۔3 کسی بھی گھر سے فعلی نحس سیارہ جب کہ خود بھی نحوست کے زیر اثر ہو۔
۔ 4 متاثر ہونے والا سیارہ راہو یا کیتو سے 2 ڈگری کے اندر قران میں ہو۔
۔ 5 متاثر ہونے والا سیارہ بیک وقت دو فعلی نحس سیاروں سے متاثر ہو۔
۔6 طاقت ور سیاروں کے لیے نحوست کا مدار 2 ڈگری سے شروع ہوتا ہے۔
جب سیارے کسی طرح طاقت ور ہوں یعنی وہ سو فیصد طاقت ور ہو اور ایک ڈگری کی نحوست بھی نہ ہو تو اسی لحاظ سے وہ متاثر ہوتے ہیں، ایسی صورت میں متاثر کرنے والے سیارے فعلی نحس ہوسکتے ہیں جو اوپر بیان کی گئی کیفیت 2 میں نہ آتے ہوں۔
نحوستوں کی پیمائش
کسی فعلی نحس سیارے کی کسی دوسرے نحس سیارے یا کسی گھر کے مو ¿ثر مقام پر نحوست کی قوت اس کے قران یا نظر کی قربت سے جانچی جاتی ہے، پیدائشی زائچے میں سیاروں اور گھروں پر نحوست کا سبب فعلی نحس سیاروں کا قران یا نظرات ہوتی ہیں، دوسری صورت میں طاقت ور سیارے یا مول ترکون برج والے گھروں پر نحوست ایک ڈگری کے اندر اثر کرتی ہے، کوئی خاص یا ایک سے زیادہ نحوست دو ڈگری کے اندر اثر کرتی ہے ، اسی طرح طاقت ور سیارے یا مول ترکون برج والے گھروں کو کمزور کردیتی ہیں۔ کمزور سیارے یا مول ترکون گھروں پر نحوست ایک ڈگری کے اندر بھرپور اثر کرتی ہے جب کہ نحوست 80 فیصد، 60 فیصد، 40 فیصد، 20 فیصد، 0 فیصد ہوتی ہے جب متاثر کرنے والا سیارہ متاثر ہونے والے سیارے یاکمزور مول ترکون گھر کے مو ¿ثر مقام سے بالترتیب 1 ڈگری، 2 ڈگری، 3 ڈگری، 4 ڈگری اور 5 ڈگری دور ہو، کمزور سیارے یا مول ترکون گھروں پر کوئی خاص یا ایک سے زیادہ نحوست بھرپور اثر کرتی ہے، اگر وہ دو ڈگری کے اندر ہوں، جب کہ نحوست 75 فیصد، 50 فیصد، 25 فیصد یا 0 فیصد ہوتی ہے جب متاثر کرنے والا سیارہ متاثر ہونے والے سیارے یا کمزور مول ترکون گھر کے موثر مقام سے بالترتیب، 2 ڈگری، 3 ڈگری، 4 ڈگری اور 5 ڈگری دور ہو۔
اگر کمزور اور متاثرہ سیارہ بیٹھک کے لحاظ سے بھی خراب ہو تو یہ بہت ہی نحس صورت حال ہوتی ہے، لوگوں کے تاثرات پر مبنی تجربہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ نجوم کی مدد یعنی وظائف، جواہرات اور صدقات سے ان نحوستوں کا 80 فیصد سے 90 فیصد تک حل نکالا جاسکتا ہے، اگر سیارے یا گھر مضبوط ہوں تو نقصان کم ہوگا، جو گھر مول ترکون نہ ہو ان پر نحوست کا اثر 100 فیصد سے 0 فیصد تک ہوتا ہے جس کا انحصار گھر کے مو ¿ثر مقام اور فعلی نحس سیاروں کے درمیان فاصلے پر ہوتا ہے، جیسا کہ پہلے کمزور سیاروں یا مول ترکون گھروں سے متعلق بتایا گیا ہے، اگر کسی گھر کا حاکم سیارہ کمزور ہے تو اس کے کارک گرہ اور ضمنی گھر کی طاقت دیکھنی چاہیے۔
جب کسی نحوست کے باعث سیارے کی طاقت کے نقصان کو جانچنا ہو جو اس کے مول ترکون برج یا بیٹھک کے لحاظ سے گھر کے مول ترکون برج کو ہوا ہو تو مندرجہ ذیل پیمانے پر عمل کیا جائے گا۔
۔1 اگر مول ترکون برج ایک ڈگری کے مدار میں متاثر ہو (یعنی نحوست 100 فیصد ہو) تو اس کا حاکم 75 فیصد طاقت کھودے گا۔
۔2 اگر مول ترکون برج سے 2 ڈگری کے مدار میں متاثر ہو (یعنی نحوست 80 فیصد ہو) تو اس کا حاکم 60 فیصد طاقت کھودے گا۔
۔3 اگر مول ترکون برج 2 سے 3 ڈگری کے مدار میں متاثر ہو (یعنی نحوست 60 فیصد ہو) تو اس کا حاکم 45 فیصد طاقت کھودے گا۔
۔4 اگر مول ترکون برج 3 سے 4 ڈگری کے مدار میں متاثر ہو (یعنی نحوست 40 فیصد ہو) تو اس کا حاکم 30 فیصد طاقت کھودے گا۔
۔5 اگر مول ترکون برج 4 سے 5 ڈگری کے مدار میں متاثر ہو (یعنی نحوست 20 فیصد ہو) تو اس کا حاکم 15 فیصد طاقت کھودے گا۔
۔6 اگر مول ترکون برج پانچ ڈگری یا اس سے زیادہ کے مدار میں متاثر ہو تو اس کا حاکم 0فیصد طاقت کھوئے گا۔
جب کسی خاص یا متعدد نحوست کے باعث طاقت کے نقصان کو جانچنا ہو جب کہ اثرات کا مدار عین دو ڈگری ہو تو مندرجہ ذیل پیمانے پر عمل کیا جائے گا۔
۔1) 2 ڈگری کے مدار میں نحوست 100 فیصد ہوگی، طاقت کا نقصان 75 فیصد ہوگا۔
۔2)۔ 2 سے 3 ڈگری کے مدار میں نحوست 75 فیصد ہوگی، طاقت کا نقصان 56.25 فیصد ہوگا۔
۔3)۔ 3 سے 4 ڈگری کے مدار میں نحوست 50 فیصد ہوگی، طاقت کا نقصان 37.50 فیصد ہوگا۔
۔4)۔ 4 سے 5 ڈگری کے مدار میں نحوست 25 سے 0 فیصد ہوگی، طاقت کا نقصان 18.75 سے 0 فیصد ہوگا۔

