جون کی سیاروی گردش، مشتری در سرطان ایک نیا منظرنامہ

جون کی سیاروی گردش، مشتری در سرطان ایک نیا منظرنامہ

بجٹ اور آئینی ترمیم، حکومت اور ریاست کے لیے نئے چیلنجز

سال کے چھٹے مہینے کا آغاز ہورہا ہے جو زائچہ پاکستان میں اہم جون کی سیاروی گردش ظاہر کر رہا ہے یعنی سیارہ مشتری برج جوزا سے برج سرطان میں منتقل ہوگا اور یہ منتقلی بھی خلاف معمول نہایت تیز رفتار ہے یعنی مشتری جو کسی ایک برج میں تقریباً 13سال کا عرصہ گزارتا ہے اس بار صرف پانچ مہینے میں برج سرطان سے گزر کر یکم نومبر 2026کو برج اسد میں داخل ہوگا اور پھر راجع ہوکر 25جنوری 2027کو ایک بار پھر برج سرطان میں واپس آئے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی اکتوبر میں مشتری سرطان میں داخل ہوا تھا اور 5دسمبر تک اسی برج میں ابتدائی درجات تک رہا اور پھر واپس برج جوزا میں چلا گیا، گزشتہ سال 27ویں آئینی ترمیم اسی عرصے میں پاس ہوئی تھی، چناں چہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ مشتری کا 2جون کو برج سرطان میں داخلہ پھر کسی آئینی ترمیم کا باعث ہوسکتا ہے، اگرچہ 28ویں آئینی ترمیم کا چرچا میڈیا میں شروع ہوچکا ہے اور امید ہے کہ برج سرطان میں داخلے کے فوری بعد اس مسئلے پر مزید کھل کر بات ہونے لگے گی ، ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ اس ترمیم کے اہم نکات کیا ہیں لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ اس سال مشتری کے برج سرطان میں قیام کے نتیجے میں بہر حال آئین میں مزید ترامیم کا امکان موجود ہے۔

برج سرطان زائچہ پاکستان کا تیسرا گھر ہے جس کا تعلق پہل کاری اور نئے احکام و اقدام سے ہے، مشتری اس گھر میں رہتے ہوئے سال کے آخرتک حکومت اور سیاست میں خاصی گرم بازاری کا باعث ہوگا، نہ صرف آئینی ترامیم بلکہ کابینہ یا بیوروکریسی میں بھی ردوبدل کا باعث ہوگا، اس دوران میں عدلیہ اور الیکشن کمیشن بھی نمایاں ہوں گے اور ان کا کردار بھی شدید تنقید کی زد میں آئے گا۔

جون کا مہینہ عموماً بجٹ کے حوالے سے اہم تصور کیا جاتا ہے، بجٹ میں عوام کے لیے کتنا ریلیف دیا جاتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف دینا نہیں چاہتی، اس حوالے سے حکومت کی اپنی مجبوریاں اور آئی ایم ایف کا دبائو بھی خیال کیا جاتا ہے، بہر حال ہم سال 2026 کے حوالے سے اپنے آرٹیکل میں اس بات کی نشان دہی کرچکے ہیں کہ اگر اس سال عوام کی فلاح و بہبود اور ریلیف کے معاملات کو اہمیت نہ دی گئی تو سال کا آخر حکومت اور ریاست دونوں کے لیے خاصا پریشان کن ثابت ہوسکتا ہے۔

ملک کے دو صوبے کے پی کے اور بلوچستان مسلسل دہشت گردی کا شکار ہیں، جون کے مہینے میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا کیوں کہ نیا چاند اس مہینے زائچے کے پہلے گھر میں ہوگا اور تیسرے گھر میں سیارہ مشتری کے ساتھ عطارد اور زہرہ بھی اکٹھا ہوں گے، گویا تیسرا گھر اس مہینے زیادہ ہی فعال رہے گا، ملک میں جرائم کی شرح نہایت تیزی سے بڑھ رہی ہے ، زائچے میں سیارہ مریخ کی پوزیشن بارھویں گھر میں اس کا سبب ہے، مریخ بارھویں گھر سے تیسرے ، چھٹے اور ساتویں گھر کو ناظر ہے۔

چناں چہ ہماری سیکورٹی فورسز کو مسلسل دہشت گردی اور جرائم پر کنٹرول کے لیے فعال رہنا ہوگا، بہر حال جون سے پاکستان ایک نئے منظرنامے کی طرف گامزن ہوجائے گا ، یہ منظر نامہ مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی۔ (واللہ اعلم بالصواب)

جون کی سیاروی گردش

سیارہ شمس برج ثور میں حرکت کر رہا ہے، 15جون کو برج جوزا میں داخل ہوگا۔

سیارہ عطارد 29مئی سے برج جوزا میں حرکت کرر ہا ہے اور 22جون کو برج سرطان میں داخل ہوجائے گا۔

سیارہ زہرہ برج جوزا میں ہے، 8 جون کو برج سرطان میں داخل ہوگا۔ سیارہ مریخ برج حمل میں حرکت کر رہا ہے 20جون کو برج ثور میں داخل ہوجائے گا۔

سیارہ مشتری برج جوزا میں حرکت کر رہا ہے، 2جون کو اپنے شرف کے برج سرطان میں داخل ہوگا۔

سیارہ زحل برج حوت میں حرکت کررہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا۔

سیارہ یورینس برج ثور میں ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا، سیارہ نیپچون برج حوت میں اور سیارہ پلوٹو برج جدی میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے ، راس و ذنب بالترتیب برج دلو اور اسد میں حرکت کریں گے۔

شرف قمر

سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں 13 جون بہ روز ہفتہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق صبح 08:55پر داخل ہوگا اور 15مئی بہ روز پیر صبح 08:10 تک برج ثور میں رہے گا، اس دوران میں اپنے درجہ ء شرف پر 13جون کو دوپہر 12:04سے 01:40تک ہوگا۔

یہ سعد اور مبارک وقت ہوتا ہے لیکن اس ماہ قمر جب درجہ شرف پر ہوگا، تو سیارہ شمس سے حالت قران میں ہوگا لہٰذا ضروری اعمال و وظائف کے لیے یہ وقت موزوں نہیں ہوگا، ویسے بھی چاند کی آخری تاریخوں میں شرف قمر کمزور خیال کیا جاتا ہے۔

قمر در عقرب

سیارہ قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق26جون بہ روز جمعہ دوپہر 12:03پر داخل ہوگا اور 29جون رات 12:36تک برج عقرب میں رہے گا، اپنے درجہ ہبوط پر 26 جون کو شام 04:02سے  06:03تک رہے گا۔

برج عقرب میں قمر کی پوزیشن نہایت خراب تصور کی جاتی ہے اور اس وقت کو نحس اثرات کا حامل سمجھا جاتا ہے، چناں چہ اس وقت میں کوئی نیا کام شروع نہیں کرنا چاہیے، کوئی نئی جوائننگ، نیا ایگریمنٹ ، منگنی ، نکاح وغیرہ سے گریز کرنا چاہیے ورنہ نتائج بہتر نہیں ہوتے،اس وقت میں علاج معالجہ کرانا، بری عادتوں سے نجات ، مخالفین کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے عمل و وظائف کیے جاتے ہیں، اس حوالے سے ضروری عملیات ہماری ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

شرف مشتری ثانی

جون کے مہینے میں سیارہ مشتری جسے عقل و دانش ، علم و ترقی ، وسعت و دولت کا سیارہ کہا جاتا ہے، آخری بار اپنے شرف کے برج سے گزرر ہا ہے، اس کے بعد یہ وقت تقریباً 13سال بعد آئے گا، مشتری کے شرف کے اوقات پہلے بھی ہم دے چکے ہیں، ایک بار اور یہاں دیے جارہے ہیں۔

مشتری اپنے درجہ شرف پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 22جون بہ روز پیر شب 01:30پر آئے گا اور 26جون بہ روز جمعہ رات 07:53 تک درجہ شرف پر رہے گا، اس وقت سے فائدہ اٹھانے کا یہ آخری موقع ہے، ہم لوح مشتری نورانی کی تیاری کا طریقہ پہلے دے چکے ہیں، اس بار خاتم مشتری کی تیاری کا طریقہ دیا جارہا ہے ۔

شرف مشتری کے موقع پر ایک نادر تحفہ ءخاص

طلسمی خاتم مشتری کا راز اور تیاری کے اصول و قواعد

خاتم مشتری

مشتری انسانی زندگی کے اہم ترین معاملات و مسائل پر اثر انداز ہوتا ہے، مثلاً اعلیٰ تعلیم کا حصول، اچھی جاب، معقول شوہر، بیرون ملک سفر، حج و عمرہ کی سعادت، کاروباری معاملات میں وسعت و ترقی، انعامی اسکیموں میں خوش بختی اور شادی میں رکاوٹ یا تاخیر کوختم کرنے میں بھی مشتری کی سعادت اہم حیثیت رکھتی ہے، خاص طورپر لڑکیوں کے زائچے میں جدید علم نجوم کی تحقیقات کے مطابق مشتری ایک بہتر شوہر کے انتخاب میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

اگر مشتری کی پوزیشن زائچہ پیدائش میں کم زور ہو، وہ برج جدی میں ہبوط زدہ ہواور زائچے کے سعد گھروں کا حاکم ہوکر نحس گھروں یعنی 6,8,12 گھروں میں بیٹھا ہو یا زائچے میں کسی منحوس سیارے کے نحس اثرات کا حامل ہو تو شادی میں تاخیر، ناکارہ، نکھٹو، جاہل، ظالم اور کنجوس شوہر ملتا ہے۔

ایسی صورت میں منجم حضرات مشتری کا منسوبی پتھر پیلا پکھراج کسی اچھے وقت میں پہننے کا مشورہ دیتے ہیں (اچھے وقت سے مراد یہ ہے کہ اُس وقت مشتری باقوت ہو اور زائچے میں طالع کے درجات سے ناظر ہو) یا مشتری کا منسوبی نقش انگوٹھی پر کندہ کرکے دائیں ہاتھ کی پہلی انگلی یا رنگ فنگر میں پہنایا جاتا ہے، ساتھ ہی مشتری کے مخصوص صدقات پابندی سے دینے کی ہدایت کی جاتی ہے تو تھوڑے ہی عرصے میں لڑکی کی نصیب کشائی کا سامان ہوجاتا ہے ۔

 یہی صورت مرد حضرات کے ساتھ اس وقت پیش آتی ہے جب سیارہ مشتری زائچے کے سعد گھروں کا مالک ہوکر نحس گھروں میں بیٹھا ہو یا نحس سیاروں کی نحس نظر کا شکار ہو توایسی صورت میں ذاتی صلاحیتوں میں کمی، ذہانت اور تعلیم سے محرومی، خوش بختی اور عمدہ شعور کا فقدان، جاہل اور نامعقول شریک حیات، بیرون ملک سفر میں رکاوٹ یا بیرون ملک جانے کے بعد ناکامیاں، کاروبار میں اور عزت و وقار میں نامرادی، اولادنرینہ سے محرومی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

ایسی صورت میں بھی عام منجمین پیلا پکھراج پہننے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں مشتری کا پتھر استعمال کرنا نقصان دہ بھی ثابت ہوجاتا ہے، وہ کچھ دوسری خرابیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

خاص طورپر جب مشتری زائچے کے چھٹے ، آٹھویں اور بارھویں گھر کا مالک بھی ہو اور ان گھروں پر برج قوس قابض ہو تو ایسی صورت میں مشتری کا منسوبی پتھر کچھ نئی خرابیاں اور مسائل پیدا کرتا ہے، ایسی صورت میں بہترین بات یہی ہوتی ہے کہ مشتری کا نقش انگوٹھی پر کندہ کرکے خاص وقت پر پہنایا جائے۔ قدیم زمانوں سے یہ طریقہ کار رائج ہے اور سات سیارگان کے ساتھ راس و ذنب کے نقش مثلث بھی اس حوالے سے مستعمل ہیں ۔

 12 سال بعد شرف مشتری کے موقع پر ” خاتم مشتری “ تیار کرنے کا موقع قدرت نے فراہم کیا ہے، اس سنہرے موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ خاتم مشتری نہ صرف یہ کہ زائچہ پیدائش میں مشتری کی پیدائشی خرابیوں کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے بلکہ چوں کہ مشتری کا تعلق مال و دولت، وسعت و ترقی اور فہم فراست سے ہے لہٰذا اس انگوٹھی کو پہننے والا جس کام میں بھی ہاتھ ڈالے۔ کامیاب و کامران رہتا ہے۔ اس کا ہاتھ روپے پیسے سے خالی نہیں رہتا، انعامی اسکیموں میں شرکت فائدے کا باعث ہوتی ہے، وہ اپنے کاموں میں معقول حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور ایسے راستوں سے بچتا ہے جو اسے نقصان یا کسی تباہی کی طرف لے جائیں ، اس حوالے سے حسبِ وعدہ ہم اپنا مخصوص طریقہ کار قارئین کی نذر کر رہے ہیں، یہ سینے کے وہ راز ہیں جنہیں لوگ عام نہیںکرتے ، وما توفیقی اللہ باللہ

  “نقش خاتم مشتری” ذیل میں دیا جارہا ہے، اسے مشتری کے شرف کے اوقات میں، ساعت مشتری میں اس وقت کندہ کیا جائے یا ڈھال لیا جائے جب قمر بھی باقوت ہو اور موافق برج میں ہو۔ مشتری سے قربت یا دوستانہ نظر رکھتا ہو ۔ اس وقت سے فائدہ اٹھانے کے لےے مشتری کی ساعت کا انتخاب کیا جائے اور پہلے سے تمام تیاری مکمل کرلی جائیں، مشتری کا بخور اور خوشبو استعمال کریں اگر انگوٹھی پہلے سے تیار نہ ہو تو چاندی کے پترے پر نقش کندہ کرکے رکھ لیں اور بعد میں اس پترے کو چاندی کی انگوٹھی میں جڑوالیں، یہ نقش کسی زرد رنگ کے نگینے پر بھی لکھا جاسکتا ہے مگر ظاہر ہے یہ کام عام لوگوں کے بس کا نہیں ہے، اس سلسلے میں ہم سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم چاندی کے علاوہ مشتری کے منسوبی پتھر زرد، عقیق اور پیلے جیڈ پر لوح مشتری نورانی اور خاتم مشتری تیار کریں گے ۔

اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نقش کا دائرہ اور اندرونی خانے ہر قسم کی خامی سے پاک ہوں کیوں کہ ان خانوں کے مخصوص زاویے بھی ایک طلسمی اثر رکھتے ہیں ، نقش کے درمیان میں مشتری کا طلسم ہے، اسے بھی مکمل صفائی اور درستگی کے ساتھ بنانا ضروری ہوگا ۔

 مخصوص ڈیزائن میں درحقیقت یہ 9 خانوں کا مثلث نقش ہے، جس کی چال آتشی ہے، یعنی پہلا خانہ عدد 5 کا ہے اور اس کے بعد بالترتیب 6 ، 7، 8، 9 ، 10 ، 11 ، 12 اور 13 عدد لکھے جائیں گے۔ اگر کسی سانچے میں ڈھالنا مقصود ہو یا ڈائی بناکر ایک سے زیادہ نقوش مختصر وقت میں تیار کرنا ہوں تو لازم ہوگا کہ یہ کام بھی اسی دوران میں کرلیا جائے جب مشتری سرطان میں حرکت کر رہا ہو ، خیال رہے کہ یہ کام مکمل درستگی کے ساتھ صرف ڈائی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔بہ صورت دیگر نقش میں کاملیت پیدا نہیں ہوگی۔

گزشتہ مضمون لوح مشتری نورانی اور اس کی تیاری کے طریق کار پر دیا گیا تھا، اس حوالے سے چند معروضات گوش و گزار کرنا ضروری ہیں۔

عزیزان من! امید ہے کہ مندرجہ بالا گزارشات کو ذہن میں رکھیں گے، اس موقع پر خاتم مشتری کا تحفہ بھی آپ کی نظر ہے، یہاں بھی یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ دائرے میں موجود نقش کے اضلاع اور طلسم ہاتھ سے بنانے کی کوشش نہ کی جائے کیوں کہ درحقیقت یہ ایک طلسم ہے جو ہر صورت میں کاملیت کا مطالبہ کرتا ہے۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبزکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبزکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔