مسائل کا شکار موجودہ معاشرے میں لوگوں کے مسائل

مسائل کا شکار موجودہ معاشرے میں لوگوں کے مسائل

ایسے لوگوں کا ماجرا جو اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہیں

گزشتہ کالموں میں علم نجوم سے متعلق زائچہ شناسی کے اصول و قواعد بیان کیے گئے، اندازہ یہ ہواکہ لوگ اب کوئی علم حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کی بدترین معاشی صورت حال نے اس کی گنجائش بھی نظر نہیں آتی، عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے حصول میں در در کی ٹھوکریں کھارہی ہے ، بے روزگاری کا ایک طوفان ہے جس نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اسی وجہ سے ملک میں جرائم بڑھ رہے ہیں ، لوگ شاٹ کٹ کے چکر میں رہتے ہیں جو بہر حال غلط سوچ ہے ۔ چناں چہ فی الحال اس تدریسی سلسلے کو روک دیا گیا ہے ۔

زیر نظر خطوط آج کے کالم کے لیے منتخب کیے گئے ہیں ، یقینا ایسے لوگ آپ کو اپنے ارد گرد بھی نظر آسکتے ہیں ۔

جب چڑیاں چٍگ گئیں کھیت

الف الف، کراچی سے لکھتے ہیں ” سات سال قبل آپ کا مضمون پڑھا اور متعقد ہوگیا، آج تک آپ کا مضمون پڑھتا ہوں، آپ سے ملاقات بھی رہی ہے، آپ نے مدد بھی کی لیکن میں محروم ہوں، میں جس گھر میں رہتا تھا وہاں چھوٹی سی دکان میں بچوں کی اشیا فروخت کرکے گزر اوقات کرتا تھا، وہ جگہ کے ڈی اے کی تھی جس کا میں مقروض تھا ، مجبوراً مکان فروخت کردیا، آپ سے مدد لی تھی، آپ نے یا رحمن یا رحیم کا ورد بتایا تھا اور نقش عنایت کیا تھا، الفاتحہ کا ورد بھی بتایا تھا جس پر آج تک عمل کر رہا ہوں ، مکان فروخت کرکے بچوں کا حق ادا کیا اوراپنے حصے کی رقم ایک دکان دار کے پاس جمع کرادی جو ہر ماہ اخراجات کی رقم دیا کرتا تھا۔

گزشتہ سال ایک حادثہ ہوگیا اور جسم کا سیدھا حصہ ٹوٹ پھوٹ گیا، آمدنی کم تھی پھر بھی علاج کیا، اب اللہ کا شکر ہے ، اہلیہ جوڑوں کے درد کی مریض ہیں ، ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں، سب شادی شدہ ہیں، میری مدد کرنے سے قاصر ہیں ، جس دکان دار کے پاس پیسے جمع کرائے تھے اس نے ماہانہ رقم کم کردی جس میں گزارا مشکل ہوگیا کیوں کہ مکان بھی اب کرائے کا ہے ، میں نے اپنی رقم کا تقاضا کیا تو حیل و حجت کر رہا ہے، آپ کا مضمون بار بار پڑھ کر احساس ہوا کہ میں بہت گناہ گار شخص ہوں اور میرا ہمزاد منہ زور گھوڑا ہے جس نے مجھے قابو کیا ہوا ہے اور میرے قابو میں نہیں آرہا ، براہِ کرم میرا برج اور ستارہ اور مناسب وقت بتادیں تاکہ میں خود محنت مشقت کرکے اپنی مدد آپ کرسکوں”، دعا گو ۔

جواب: آپ کا شمسی برج حوت اور قمری برج قوس ہے، پیدائش کا وقت آپ نے لکھا نہیں لہٰذا پیدائشی برج نہیں بتایا جاسکتا، ہمیںیاد ہے کئی سال پہلے آپ ہمارے پاس آئے تھے۔ ہم نے آپ کو جو کچھ سمجھایا تھا وہ سب شاید آپ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اللہ کے فضل سے آپ کا مکان بک گیا اور قرض سے جان چھوٹ گئی لیکن اس کے بعد آپ نے جو غلطی کی اب اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے، ایک غیر معتبر شخص پر بھروسا کرکے رقم اس کے پاس رکھوادی ، بعض لوگ یہ کام کرتے ہیں ، ان میں سے کچھ ایمان دار بھی ہوتے ہیں مگر اکثریت بے ایمانوں کی ہے، ایک ایمان دار شخص بھی اس وقت بے ایمان ہوجاتا ہے جب اس کے اپنے حالات خراب ہوجائیں، کاروبار میں نقصان ہوجائے، پھر وہ بے ایمانی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، بڑے قدیم شاعر ولی دکنی کا شعر ہے

مفلسی سب بہار کھوتی ہے

مرد کا اعتبار کھوتی ہے

آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ ہمارا ہر کالم پڑھتے ہیں اور کٹنگ بھی جمع کرتے رہتے ہیں، کیا آپ نے وہ کالم نہیں پڑھا تھا جس میں ہم نے واضح طورپر ایک قرآنی آیت کا ذکر کیا تھا جس میں حکم دیا گیا ہے کہ جب تم کسی سے کوئی معاملہ کرو تو اسے تحریر کرلو اور دو گواہ مقرر کرلو، پھر ہم نے حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارک بھی کوٹ کی تھی جس میں ارشاد نبوییہ بھی ہے کہ اللہ اس شخص کی فریاد نہیں سنے گا جس نے کسی سے کوئی معاملہ کیا اور اسے تحریر نہ کیا اور پھر وہ شخص اس کی رقم کھاگیا ۔

آپ نے کیسےیہ غلطی کی کہ اس دکان دار سے تحریری معاہدہ نہیں کیا، اب آپ کس منہ سے اللہ کے سامنے فریاد لے کر جائیں گے، بہتر بات یہ ہوتی کہ آپ گورنمنٹ کے منظور شدہ سیونگ سرٹیفکٹ خرید لیتے، شاید آپ نے زیادہ منافع کا لالچ کیا، آپ عمر کی جس منزل میں ہیں وہاں محنت مشقت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آپ کے بیٹے پر ہر صورت میں آپ کی اور اپنی ماں کی کفالت فرض ہے، یہ فرض تو وہ ادا نہیں کر رہا لیکن مکان بکنے کے بعد حصہ لینا بیٹے اور آپ کی بیٹیوں کو خوب یاد رہا اورآپ بھی خدا معلوم کون سے حقوق کی ادائیگی فرما رہے تھے۔

اصولاً تو آپ کی زندگی میں کسی کا کوئی حق نہیں ہونا چاہےے بلکہ آپ کے حقوق کی اہمیت اس عمر میں کچھ زیادہ ہی اہم ہوجاتی ہے ، اگر مکان کی کل رقم سے سیونگ سرٹیفکٹ لے لےے جاتے تو آپ کا بڑھاپا آرام سے کٹ جاتا اور آپ کے بعد وہ رقم آپ کی اولاد کو مل جاتی ، انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ آپ مکان کا کرایہ کہاں سے دیں گے اور کھائیں گے کیا ؟ شاید اسی لےے ان کے اپنے حالات بھی خراب ہیں اور شاید خراب ہی رہیں گے ۔

اگر ممکن ہوسکے تو کسی وقت تشریف لائیں، ہم سے جو ہوسکے گا آپ کے لےے کرنے کی کوشش کریں گے۔

شادی اور بیماری

ح، میرپور خاص سے لکھتی ہیں ” میں بہت پریشان ہوں مجھے ڈر ہے کہ کسی بیماری میں مبتلانہ ہوجاﺅں ، نفسیاتی نہ ہوجاﺅں ، عمر بڑھتی جارہی ہے، سب بہنوں اور سہلیوں کی شادی ہوچکی ہے ، میرے بہت رشتے آتے ہیں ، پسند بھی کرتے ہیں لیکن بات نہیں بنتی ، سب کہتے ہیں جادو کا اثر ہے ، امی ابو پریشان رہتے ہیں ، میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی ، ہاتھوں اور پیروں میں بہت درد رہتا ہے ، سردیوں میں پاﺅں کی انگلیاں پک جاتی ہیں ، الرجی ہوتی ہے ، میرا پارلر بھی ہے جو پہلے اچھا چلتا تھا لیکن اب نہیں چلتا ، ایک صاحب کو پسند بھی کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ میری شادی ان سے ہوجائے ، ان کی امی خود رشتہ لے کر آئیں لیکن شادی نہیں ہوپاتی ، ایسی کیا رکاوٹ ہے ؟ آپ میری مدد کریں ، رہنمائی کریں ، کیا مسئلہ ہے میرے ساتھ کسی نے جادو کروایا ہے ؟ خط کا جواب ضرور دیجئے گا” ۔

جواب: آپ نے صورت حال کی جو تصویر کھینچی ہے اس میں شادی نہ ہونے کی وجہ مالی کم زوری نظر آتی ہے ،جادو وغیرہ نہیں ہے، آخر آپ پر کوئی کیوں جادو کرے گا، آپ کے پاس ہے کیا؟ جس کے لیے کوئی جادو کرے؟ جسے آپ پسند کرتی ہیں اس کی ماں کیوں آپ کے گھر رشتہ لے کر آئے گی ؟ وہ اپنے بیٹے کے لےے کوئی اونچا خواب دیکھ رہی ہوگی۔

آپ کے سارے گھریلو مسائل حد یہ کہ آپ کی بیماری سے بھی وہ واقف ہے ، آپ کو اپنے علاج پر بھرپور توجہ دینا چاہےے اور اس معاملے میں کوئی کنجوسی نہیں کرنا چاہیے، آج کل یہ رواج بھی ہے کہ بڑی بڑی سخت بیماریوںکو عام سی بیماریاں سمجھ لیا جاتا ہے اور ان کا علاج بھی ٹونے ٹوٹکوں، روحانی طریقوںیا تکلیف بہت زیادہ بڑھا جائے تو عام قسم کے ڈاکٹروں سے یا سرکاری اسپتالوں سے کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کیوں کہ مالی حالات زیادہ مہنگے علاج کی اجازت نہیں دیتے ، لہٰذا بیماری عارضی طورپر تو دب جاتی ہے لیکن ختم نہیں ہوتی، پھر زیادہ طویل عرصہ گزرنے کے بعد یہی بیماری کوئی خوف ناک شکل بھی اختیار کرلیتی ہے ، آپ کو ہومیو پیتھک علاج کرانا چاہےے اور آپ کی بیماری اب جس مرحلے میں آچکی ہے اس کے پیش نظر اگر دو تین سال بھی مکمل شفایابی میں لگ جائیں تو یہ سودا مہنگا نہیں ہوگا ۔

آپ کا شمسی اور قمری برج سرطان ہے اور زائچے میں قمر اورشمس کا قران ہے ، زیادہ ٹیکنیکل باتیں ہم بیان نہیں کرنا چاہتے ، مختصریہ کہ شادی ہونا اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ نے سمجھ لیا ہے لیکن اگر حکمت اور دانش مندی سے کام لیاجائے توآپ کی زندگی صحیح رخ پر آجائے گی، سب سے پہلے سچا موتییا مون اسٹون پہننا آپ کے لےے ضروری ہے ، جمعرات اور پیر کو نفلی روزہ رکھا کریں اور پیرکو سفید اورجمعرات کو زرد چیزوں کا صدقہ دیا کریں ، کوئی خوب صورت سی بلی پال لیں اوراسے روز دودھ پلایاکریں ۔

ہر بات کو ذہن سے جھٹک کر جس میں شادی کا مسئلہ بھی شامل ہے، صرف اور صرف اپنے علاج پر توجہ دیں ، اس معاملے میں کوئی کنجوسی نہ کریں، صرف ہومیو پیتھک علاج کریں اور کسی ایسے ڈاکٹر سے علاج کرائیں جو کم ازکم پندرہ بیس سال سے ہومیو پیتھک پریکٹس کر رہا ہو، ضروری پرہیز کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور پھر سختی کے ساتھ پرہیزکریں، جو چیزیں آپ کو نقصان دیتی ہیںیا بیماری میں اضافہ کرتی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام کرلیں ۔یاد رکھیں آپ کو آرتھرائٹس اور اور ایگزیما کی بیماری ہے اور یہ دونوں نہایت ضدی اور سخت مرض ہیں، دونوں کا علاج ایلوپیتھک طریقہءکار میں نہیں ہے۔

اپنی تعلیمی صلاحیت میں اضافے کے لےے کوشش کریں، ساتھ ہی اپنے پارلر کے سلسلے میں زیادہ بہتر جگہ کا انتخاب کریں اور جدید انداز میں کام کو آگے بڑھائیں ، ہمیں معلوم ہے کہ ان ہدایات پر عمل کرنے میں بہت سی رکاوٹیں اور دشواریاں ہوں گیلیکن اگر آپ اپنے ارادے کومضبوط کرلیں اور سچی لگن کے ساتھ کوشش شروع کردیں تو آہستہ آہستہ ہر رکاوٹ دور ہوجائے گی اور مشکلات ختم ہوجائیں گی ۔

ہم آپ کو بتادیں کہ آنے والے دور میںیقینا مشکلات بہت زیادہ ہیں، اگر حوصلے سے کام لیں گی تو کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے، محبت اور پسندیدگی وغیرہ کے جذبات کو دل سے نکال دیں، جھوٹی امیدوں کو سہارا نہ بنائیں ۔

جادو کے اثرات

ایک بہن کی پریشانی بھائی کے لیے ، لکھتی ہیں ” آپ کا کالم بہت زیادہ شوق سے پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور ہمیشہ ہی اللہ کے حکم سے رہنمائی ملتی ہے، امید ہے کہ ہر بار کی طرح آج بھی آپ مجھے ضرور تسلی بخش جواب دیں گے ، ساری تفصیل میرے بھائی کی ہے، ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی شاپ سے تقریباً 2 سال پہلے کچا گوشت، پھول اور کالی مرغی نکلی تھی اور اُس وقت دل میں ایک ڈر اور وہم ضرور آیا تھا پر اللہ پر معاملہ چھوڑ دیا تھا کیوں کہ میرے بھائی خود بھی عاملوں وغیرہ کے چکر میں نہیں پڑتے۔ پانچ وقت کی نماز میں اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ ہر طرح کے شر سے محفوظ رہیں۔

آج پھر جب انہوں نے شاپ کھولی تو ایک لیمو جس میں ایک کیل لگی ہوئی ہے ، آر پار اور ایک پرچی سی ہے یا تعویذ ، کچھ سمجھ میں نہیں آیا ، اُس پر ایک شبیہہ سی بنی ہوئی ہے جیسے کسی کی تصویر ۔ بس یقین کریں جب سے کچھ پریشان ضرور ہے دل کہ آخر یہ سب ہے کیا؟ اور کس لیے ہورہا ہے؟ کیوں کروایا جارہا ہے؟اس کا مقصد کیا ہے” ؟

جواب: جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اور کون یہ سب کر رہا ہے ، اس کے مقاصد کیا ہیں تو یہ معلوم کرنا بہت آسان کام ہے لیکن ہم لوگ یہ آسان کام ہی توجہ اور تفتیش کی نظر سے نہیں کرتے ، ہمیں اپنے ارد گرد نظر ڈالنی چاہیے کہ ہماری ذات سے یا ہمارے کسی فعل سے کن لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔

ظاہر ہے وہی لوگ ایسی کارروائی کرسکتے ہیں اور ان کا مقصد بھی نقصان پہنچانا ہی ہوگا ، یوں بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر یک طرفہ کارروائی شروع کردیتے ہیں، مختلف جعلی اور نام نہاد عاملوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں جو ان سے پیسے وصول کرکے یا فی سبیل اللہ بھی ایسے کام کرکے دے دیتے ہیں لیکن اگر انسان خود سیدھے راستے پر ہو، ظلم اور شرک میں مبتلا نہ ہو تو اُس کا کچھ نہیں بگڑتا، سب کیا کرایا ضائع جاتا ہے لہٰذا آپ کے بھائی کو بھی مطمئن رہنا چاہیے لیکن پنج وقتہ نماز وغیرہ کے باوجود اگر وہ کسی ظلم و نا انصافییا شرک میں دانستہ یا نادانستہ مبتلا ہے تو پھر اپنا احتسابی انداز میں جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ آپ کے کسی قول و فعل سے کسی دوسرے کو تکلیف تو نہیں پہنچی ہے اور ایسی تکلیف کہ وہ آپ کے خلاف جب ظاہری طور پر کچھ نہیں کرسکا تو تعویذ گنڈوں پر اُتر آیا، ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض لوگ ظاہری طور پر بڑے پابندِ صوم و صلواة نظر آتے ہیں لیکن خود اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ظلم کر رہے ہوتے ہیں اور خود ان کی بیویاں ان کے خلاف مجبور ہوکر ایسی ہی کوئی کارروائی کر رہی ہوتی ہیںیا وہ اپنے کسی پڑوسی کے ساتھ یا کسی قریبی عزیز رشتہ دار کے ساتھ یا کسی دوست کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔

بہر حال آپ کے بھائی کو اپنا احتسابی جائزہ بھی ضرور لینا چاہیے تو پھر یقیناً وہ جان لیں گے کہیہ سب کون کر رہا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ ظاہر ہے بلا مقصد تو کسی کا دماغ خراب نہیں ہے کہ آپ کے خلاف کوئی قدم اُٹھائے ۔

آپ کے بھائی کے زائچے کی روشنی میں ہمیں اس بات کا امکان نظر آتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوسکتے ہیں، اس کی تفصیل میں ہم جانا نہیں چاہتے،اپنے بھائی سے کہیں کہ منگل اور جمعہ کو اپنا صدقہ دیا کریں ، اپنے زائچے کی روشنی میں وہ ایک خراب وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن اس کی وجہ جادو وغیرہ کے اثرات نہیں ہیں بلکہ اُن کے اپنے وقت کی خرابی ہے ۔

انوکھا لاڈلا

الف، ت، نارتھ کراچی سے لکھتی ہیں ” میں جس بچے کے بارے میں لکھ رہی ہوں یہ میرا تیسرے نمبر کا بیٹا ہے ، اس نے میرا دودھ نہیں پیا بلکہ کافی بیمار رہتا تھا ، کمزور بہت تھا ، پھر کافی علاج کروایا ، اب بہتر ہوگیا مگر اس نے پڑھا نہیں ، بہت کوشش کی ، اُس کو بہت شوق ہے شادی کرنے کا مگر یہ کام نہیں کرتا،اب میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بتایئے ایسے کیسےچلے گا؟ابھی میں زندہ ہوں تو سب کچھ ہے اس کے بعد کون کرے گا ؟غصہ اور جنون بہت ہے آخر اس کی قسمت کیا ہے؟اس کا وقت ایسے ہی گزرے گا؟بغیر کوئی کام کیے۔گٹکا، مین پوری کھاتا ہے، میں بہت پریشان رہتی ہوں“

جواب: ابھی تک تو اس کی قسمت اچھی ہے جو آپ جیسی نخرے اُٹھانے والی ماں کے سائے میں ہے،بعد کی فکر کرنا اُس نے سیکھا نہیں،نہ آپ نے اُسے کچھ سیکھنے کا موقع دیا کیوں کہ حد سے زیادہ لاڈ پیار بچے کو بگاڑ دیتا ہے اور آپ نے یہی کچھ کیا ہے،بلکہ ابھی تک کر رہی ہیں،اگر ابتدا میں سختی کی ہوتی تو کچھ پڑھ لکھ لیتایا بھوکا مرتا تو کام دھندے کے بارے میں بھی سوچتا،35,36 سال عمر ہوگئی ہے اور وہ ابھی تک آپ کی گود سے باہر نہیں نکلا، آپ کییہ بے پناہ محبت اسے بگاڑ رہی ہے،اس پر شادی کا بھی شوق ہے اور آپ یقیناًیہ شوق بھی پورا کرا دیں گی۔ مگر خیال رہے کہ اس طرح کہیں اپنی عاقبت نہ خراب کرلیں کیوں کہ وہ کسی اور ماں کی بیٹی کو خوش نہیں رکھ سکے گا، گٹکا اور مین پوری سے بھی آپ اسے نہیں روک سکتیں،دوسرے معنوں میں اسے زہر کھانے کی مکمل آزادی ہے،پیسے بھی آپ سے لیتا ہے۔

اس تمام صورتِ حال میں صرف دُعا ہی کی جاسکتی ہے، روزانہ فجر کی نماز کے بعد 41 مرتبہ سورئہ فاتحہ پڑھ کر پانی پر دم کرلیا کریں اور دن میں تین چار مرتبہ یہ پانی اُسے پلادیا کریں،شاید اللہ اپنا کرم فرمائے۔

جہاں تک اُس کے زائچے کا تعلق ہے تو آنے والا سال ہمیں اچھا نظر نہیں آتا،اس سے پہلے ہی کچھ بندوبست کرلیں تاکہ کسی کام دھندے میں لگ جائے۔

دائمی مریض

الف، ج،جگہ نامعلوم، لکھتے ہیں” خاندان میں لکھنے پڑھنے میں بہتر ہونے کی وجہ سے بچپن سے حسد ، کینہ ، جلن اور بغض پایا جاتا ہے ، سب سے پہلے نوکری ملی تو اس میں اور اضافہ ہوا ، شادی سے تقریباً 2 ماہ پہلے کسی نے دودھ میں تعویذ پلائے جس کی وجہ سے شادی کے قابل نہ رہا۔

مختلف بیماریاں جسم میں پیدا ہوئیں اور خواب میں اپنے آپ کو مردہ پایا ، مجھے دفن کرنے کے بعد کچھ رشتہ دار قبر کے پچھلی طرف پاﺅں والی سائیڈ پر سوراخ کرکے پاﺅں کے بل گھسیٹ کر باہر لائے ، گھر آکر خواب میں والد کو سلام کیا انہوں نے جواب دیا اور پوچھا کہ تم آگئے ، جب آنکھ کھلی تو زبان پر درود شریف کا ورد تھا ، ذاتی کاروبار میں پہلے فائدہ ہوا پھر نقصان ہوتا رہا اور آج تک پھر کوئی کاروبار نہ کرسکا، ہر کاروبار میں نقصان ہوتا ہے ، ہر کام میں رکاوٹ ہوتی ہے اور کام مکمل نہیں ہوتے، گردے میں درد محسوس ہوا، غدود ظاہر ہوئے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہے ہیں ، سارے جسم میں تکلیف اورکم زوری ہے، پیشاب میں ہر وقت گرمی اور جلن کا احساس ، اب دماغی کم زوری کی وجہ سے چکر آنا شروع ہوگئے ہیں، جسم میں خشکی بڑھ رہی ہے، خشکی کی وجہ سے جسم ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے لکڑی سوکھ رہی ہو”۔

جواب: ابتدا میں ان سارے مسائل کا جواز بھی آپ نے خود ہی پیش کردیا ہے کہ میں اپنے پورے خاندان میں ابتدا ہی سے حسد، کینہ ، جلن اور بغض وغیرہ کا شکار رہا ہوں ، اگر آپ یہ بات پورے یقین سے جانتے ہیں تو مزید ہم سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ کوئی آپ کو دودھ میں تعویذ پلا رہا ہے تو کوئی غلط دوائیں آپ کی دواﺅں میں شامل کر رہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ برسوں گزر جانے کے باوجود آپ انہی لوگوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اب تک آپ نے کیا علاج کرائے ؟ اس کی بھی کوئی تفصیل تحریر نہیں کی، آپ کا سارا زور صرف دو باتوں پر ہے، اول یہ کہ پورا خاندان آپ کا دشمن ہے اور خاندان والوں نے آپ کو تباہ و برباد کردیا، غلط دوائیں کھلاکر،آپ پر تعویذ گنڈے کرکے وغیرہ وغیرہ ۔

دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی کم زوریوں، خامیوں، نااہلی اور نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا کر مطمئن ہوجاتے ہیں، ایسے تمام لوگ ہمیشہ ایکیکطرفہ بیان دیتے رہتے ہیں کہ میرے ساتھ یہ ہوا اور میرے ساتھ وہ ہوا، اپنی محرومیوں اور مصیبتوں کا دکھڑا روتے رہتے ہیں۔

 وہ یہ کبھی نہیں بتاتے کہ انہوں نے خود دوسروں کے ساتھ کیا کیا ہے؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود اپنے لےے کیا کیا ہے؟ اگر آپ اہل، لائق اور سمجھ دار انسان ہیں، بہادر اوردلیر ہیں، ہمت اور حوصلہ رکھتے ہیں تو کوئی آپ کو پریشان نہیں کرسکتا ، سامنے والے کے ایک وار کے جواب میں آپ چار وار اس پر کرسکتے ہیں، ہماری نظر میں آپ کا سارا مسئلہ ایک فرضی کہانی ہے، آپ نے اپنے طورپر ابتدا ہی سے اپنے پورے خاندان کو اپنا دشمن سمجھ لیا تھا اور اس بنیادی سوچ کانتیجہ آپ کا وہ خواب تھا جو آپ نے دیکھا۔

 آج تک آپ اسی غلط فہمی اور غلط سوچ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ، شاید اسی لیے آپ کی بیماریاں بھی لاعلاج ہوچکی ہیں کیوں کہ آپ ان کا درست طریقے پر علاج کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں ، ہمیںیقین ہے کہ آپ کا سارا علاج معالجہ نام نہاد روحانی معالجین تک محدود ہوگا ، ان کی باتوں پر آپ نے زیادہ دھیان دیا ہوگا اور ڈاکٹروں کی تشخیص کو بھی سحر و جادو کے کھاتے میں ڈال رکھا ہوگا ، آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ اللہ آپ کے حال پر رحم فرمائے ۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔