کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے، ایک متضاد شخصیت

گزشتہ چند سالوں میں بین الاقوامی سیاست کے اُفق پر بڑے بھرپور انداز میں نمایاں ہونے والے کرداروں میں مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بہت شہرت حاصل کی، مسٹر ٹرمپ تو خاصی سخت جانی کا مظاہرہ کرکے بالآخر رخصت ہوئے مگر نریندر مودی ابھی تک بھارت کے وزیراعظم ہیں، وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، ان کے پرانے اور نئے سیاسی کردار، رجحانات، فیصلے اور اقدام پوری دنیا کے سامنے ہیں، چناں چہ ہمیں ان کا مزید تعارف کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
2014 ء میں جب وہ پہلی بار وزیراعظم بنے تو دنیا بھر میں اور خاص طور پر بھارت میں ایسٹرولوجی سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے معمول کے مطابق ان کے زائچہ ء پیدائش (Birth chart) کی کھوج شروع کی، مسٹر مودی کی معروف تاریخ پیدائش 17 ستمبر 1950 ہے، وقت پیدائش پر اس وقت بھی خاصے اختلافات سامنے آئے، مختلف ایسٹرولوجرز نے مختلف زائچے بنائے لیکن زیادہ اتفاق پیدائشی برج عقرب پر رہا مگر ہم اس وقت بھی ان کی معروف تاریخ پیدائش سے مطمئن نہیں تھے کیوں کہ بہت سے حالات و واقعات ان کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، عام طور پر ایسی صورت حال میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سال پیدائش میں شاید ایک دوسال کی کمی بیشی کی گئی ہوگی، پاکستان اور بھارت میں یہ چلن عام ہے، چناں چہ ہم نے ان کا سال پیدائش 1951 رکھا، اس کے مطابق کسی حد تک حالات و واقعات میں مناسبت محسوس ہورہی تھی، 2019 ء میں انھوں نے دوبارہ بھارتی انتخابات میں نمایاں ترین کامیابی حاصل کی اور دوسری بار بھی وزیراعظم بن گئے، یہ بات ہماری توقع کے خلاف تھی کیوں کہ سابقہ زائچے کی روشنی میں 2019 ء کے انتخابات میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا، اس کے علاوہ بھی بعض حالاتِ زندگی اور صاحب زائچہ کا کردار اور ان کی فکر بھی ان کے عمل سے میل نہیں کھاتی تھی، اس حوالے سے ہماری تلاش جاری تھی کہ ایک بھارتی منجم جو ہماری ہی طرح درست تاریخ پیدائش کی تلاش میں تھے، کسی طرح مسٹر نریندر مودی کا پرائمری اسکول کا ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، اس کے مطابق انھوں نے زائچہ پیدائش بنایا جس میں لگن برج اسد (Leo) رکھا یعنی پیدائش کا وقت صبح 7 بجے کا رکھا مگر کلاسیکل ویدک ایسٹرولوجی میں اتنے گھماؤ پھراؤ موجود ہیں کہ ہر ایسٹرولوجرکسی بھی زائچے سے اپنے مطلب کے نتائج اخذ کرلیتا ہے جو دلیل و منطق کے خلاف ہوتے ہیں، ہندو منجمین کی اکثریت اسی کلاسیکل ویدک سسٹم کی پیروکار ہے جس میں ہندو مائیتھا لوجی بھی شامل ہے گویا یہ ایک خالص سائنس نہیں رہی، چناں چہ مذکورہ بالا منجم صاحب نے لگن اسد رکھ کر مسٹر نریندر مودی کا ایک شاندار قصیدہ لکھ مارا، اس کے بعد ہی ہمیں بھی دلچسپی پیدا ہوئی اور تاریخ پیدائش کے ساتھ وقت پیدائش کی درستی کا خیال آیا جس کے نتیجے میں بھارتی وزیراعظم کا قریب ترین درست زائچہ سامنے آگیا، یہی زائچہ پیش خدمت ہے۔

زائچہ بھارتی وزیراعظم

 

اسکول ریکارڈ کے مطابق مسٹر نریندر مودی کی درست تاریخ پیدائش 29 اگست 1949 مہسنا ہے،ہماری تحقیق اور اندازے کے مطابق وقت پیدائش 12:15pm ہے، اس طرح لگن برج عقرب ایک درجہ 23 دقیقہ ہوگا، خیال رہے کہ مسٹر مودی کا قد بہت زیادہ نہیں ہے جو عام طور پر اسد افراد کا ہوتا ہے، عقربی افراد کسی خصوصی سیاروی پوزیشن کے سبب طویل قامت ہوسکتے ہیں ورنہ عام طور پر ان کا قد 5.6 سے زیادہ نہیں ہوتا۔
لگن کا مالک سیارہ مریخ زائچے کے نویں گھر میں ہبوط یافتہ (Debilated) ہے،زائچے کے دوسرے گھر قوس کا حاکم اپنے ہی گھر میں آخری درجات پر گویا ضعیف ہے، چوتھے اہم ترین گھر کا حاکم سیارہ زحل دسویں گھر میں شمس کی قربت کے سبب غروب ہے لیکن بہر حال شمس سے قران اور دسویں گھر میں ہونا اچھی بات ہے، سیارہ مریخ بھی اپنے گھر کے اعتبار سے بھاگیہ استھان میں ہے جو اچھی بات ہے، اس طرح مریخ کی کمزوری صرف پچاس فیصد رہے گی، زائچے میں دسویں گھر کرئر کے اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتا ہے، اس گھر پر برج اسد قابض ہے اور سیارہ شمس اپنے ہی گھر میں نہایت باقوت پوزیشن رکھتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والا گجرات کا وزیراعلیٰ اور بالآخر بھارت کا وزیراعظم سیارہ شمس کی اسی طاقت ور پوزیشن کی وجہ سے بن سکا،اصولی طور پر کیندر (4,10) کے مالکان راج یوگ بنارہے ہیں۔
نویں مول ترکون برج کا مالک سیارہ قمر بارھویں گھر میں ہے جب کہ قمری منزل وشاکا ہے جس کا حاکم سیارہ مشتری ہے، لگن بھی وشاکا نچھتر میں ہے، گیارھویں فوائد کے گھر میں برج سنبلہ کا حاکم عطارد موجود ہے لیکن نوامسا چارٹ (D-9) میں ہبوط یافتہ ہے، محبت، دوستی، شادی، ازدواجی زندگی کا نمائندہ سیارہ زہرہ برج سنبلہ ہی میں ہبوط یافتہ ہے، راہو برج حوت میں اور کیتو بھی برج سنبلہ میں ہیں۔
زائچے میں سیاروی آراستگی نہایت دلچسپ ہے جو پوری طرح مسٹر مودی کی زندگی پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے مگر سب سے پہلے لگن عقرب اور جنم راشی میزان اور ان کی قمری منازل پر گفتگو ضروری ہے، خیال رہے کہ لگن ہمارے کردار و عمل کا آئنہ ہے جب کہ جنم راشی ہمارے فطری رجحانات اور خصوصیات پر روشنی ڈالتی ہے۔

برج عقرب

طالع برج عقرب (Birth sign) بلاشبہ ایک غیر معمولی برج ہے، عقربی افراد ثابت قدم، مسلسل کوشش و جدوجہد کرنے والے پختہ عزم کے مالک، ضدی، پیچیدہ شخصیت کے مالک، مشکل پسند،نظریات و عقائد میں شدید اور انتہا درجے تک جانے والے ہوتے ہیں، برج عقرب دائرۂ بروج کا آٹھواں برج ہے جس کا تعلق تناسلی اعضا سے ہے، ایک آبی برج ہونے کی وجہ سے روحانیت بھی اس برج کا خاصا ہے، چناں چہ یہ لوگ روحانی طور پر بھی مضبوط ہوتے ہیں اور سیکس بھی ان کی زندگی میں اہمیت اختیار کرتا ہے، یہ ایک عجیب تضاد ہے، ان کی منفی توانائیوں میں ملکیت کا شدید احساس، بہت زیادہ توجہ کے طالب، حاسد، معاف نہ کرنے والے، محبت اور نفرت میں انتہا پسند، غصہ ور، قاتل، خودکشی کرنے والے اور ہر صورت میں خود کو درست سمجھنے والے، دنیا میں عقربی افراد نے ہر اعتبار سے غیر معمولی کارنامے انجام دئیے ہیں، مثبت یا منفی۔

جنم راشی

پیدائش کے وقت چاند جس برج میں ہو اسے قمری برج یا جنم راشی (Moon sign) کہا جاتا ہے، مسٹر مودی کا قمر برج میزان میں ہے، گویا فطری طور پر وہ توازن، ہم آہنگی، شراکت، دوستی اور دشمنی، امن پسندی کے خواہاں ہوتے ہیں، اچھے سفارت کار اور دو افراد کے درمیان تنازعات ختم کرانے والے،لوگوں کو کسی ایک مقصد کے تحت یکجا کرنے والے، محبت اور دوستی میں پیش پیش ہوتے ہیں، برج میزان کی ان خصوصیات میں فرق اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب قمر کی پوزیشن ناقص ہو، قمری منزل اپنی جگہ ایک منفرد خصوصیات و رجحانات کی حامل ہوتی ہے، زائچے میں قمر کی پوزیشن ناقص ہے، وہ بارھویں ناموافق گھر میں قابض ہے، چناں چہ جنم راشی کی مثبت خصوصیات منفی رخ اختیار کرسکتی ہیں، نویں گھر کا مالک جب بارھویں گھر میں ہو تو صاحب زائچہ فطری طور پر منفی سوچ کا شکار ہوتا ہے، اس کے ذہن پر بہت سے نامعلوم مستقبل کے خوف مسلط ہوتے ہیں جو اسے نفسیاتی مسائل کا شکار بناتے ہیں، مزید یہ کہ قسمت پوری طرح ساتھ نہیں دیتی، کسی بڑے مقام و منزل تک پہنچنے میں پوری زندگی خرچ ہوجاتی ہے۔
لگن اور جنم راشی دونوں ایک ہی قمری منزل میں ہیں یعنی وشاکا، اس منزل پر سیارہ مشتری کی حکمرانی ہے جو عقل و دانش اور علم دوستی کا سیارہ ہے، اپنی فطرت میں یہ غیر انسانی (راکھشس) ہے، راکھشس کا لفظ ویدک ایسٹرولوجی میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے جو معنی ہیں ہم ان سے متفق نہیں ہیں، ہمارے نزدیک غیر انسانی یعنی عام انسان سے بھی زیادہ جوش و جذبہ اور صلاحیت و ہمت ان لوگوں کی فطرت میں شامل ہے حقیقی معنوں میں یہی وہ لوگ ہیں جو بقول غالب کہتے ہیں ؎ کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے، ایسی قمری منزل کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے جو غیر انسانی کہلاتی ہیں۔
اس منزل میں پیدا ہونے والے افراد انتہائی ذہین، دوسروں کو قائل کردینے والے، ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے یعنی لیڈر شپ کی صلاحیت کے حامل،سیاسی رجحان رکھنے والے ہوتے ہیں، اکثر اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں، نمود و نمائش اور طم طراق کے قائل نہیں ہوتے، سادہ انداز میں زندگی بسر کرت ہیں، عام طور سے ان کی زندگی کسی نہ کسی تضاد کا شکار ہوتی ہے،خصوصاً جنم راشی اگر میزان ہو، روحانیت اور مادّیت کی ایک کشمکش ابتدا ہی سے ان کے اندر جاری رہتی ہے، بقول غالب ؎ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر۔
ان کی منفی خصوصیات میں جارحیت، آمرانہ فطرت سامنے آسکتی ہے، غصہ، سفاکی، فرسٹریشن کے مسائل ہوسکتے ہیں، یہ لوگ بہت بلند عزائم رکھتے ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، اپنی زندگی میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے غیر قانونی اور غیر اخلاقی راستے بھی اختیارکرسکتے ہیں، زائچے کی دیگر خوبیاں اور خامیاں ان کے رجحانات اور خواہشات کے رخ کا تعین کرتی ہیں، اس پر آگے چل کر گفتگو ہوگی۔

وشاکا کی دیگر مشہور شخصیات

ترک سلطان سلیمان ذیشان، ابو ریحان البیرونی، آمر ایڈولف ہٹلر، صدر جمی کارٹر، نیلسن منڈیلا، خان عبدالولی خان، اداکارہ جوہی چاولہ، ملکہ شراوت، الزبتھ ٹریلر، کرکٹر برائن لارا، عالمی شہرت یافتہ جرائم پیشہ بلی دی کڈ وغیرہ شامل ہیں۔

سیاروی آراستگی

زائچے میں سیارہ مشتری دوسرے گھر میں برج قوس میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرانے اور نمایاں مقام حاصل کرنے میں مددگار ہے، زائچے کا دوسرا اہم سیارہ زحل چوتھے گھر کا حاکم ہوکر دسویں گھر میں سیارہ شمس کے ساتھ حالت قران میں ہے، اگرچہ شمس کی قربت کے سبب غروب ہے لیکن شمس کے ساتھ مل کر راج یوگ بنارہا ہے، یہ بھی زندگی میں کسی بلند مقام کے حصول میں کامیابی کا اشارہ ہے لیکن چوتھے گھر کا تعلق ماں باپ، ابتدائی تعلیم، رہائش، سواری اور پراپرٹی سے ہے لہٰذا والدین کی پوزیشن زحل کی غروب پوزیشن کے سبب کمزور تھی، ابتدائی تعلیم میں بھی دشواریاں رہیں، سیارہ مریخ چھٹے گھر کا حاکم ہوکر اور طالع کا مالک نویں گھر میں اپنے برج ہبوط میں ہے، گویا مریخ کی کمزوری بھی اپنی جگہ ہے مگر نویں گھر کی سعادت اپنی جگہ، سیارہ شمس زائچے کا سب سے نمایاں اور طاقت ور ترین سیارہ ہے، شمس جن لوگوں کے زائچے میں طاقت ور ہو وہ بلند حوصلہ اور مسلسل اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے ہوتے ہیں، خاص طور پر دسویں گھر کا حاکم ہوکر پروفیشن کے معاملے میں مسٹر مودی کو اقتدار کے خواب دکھانا سیارہ شمس ہی کا کمال ہے،سیارہ عطارد گیارھویں گھر میں اور اپنے ہی برج عقرب میں موجود ہے، نوامسا چارٹ میں ہبوط یافتہ ہے، چناں چہ کاروباری فوائد سے محروم کرتا ہے، ایسے لوگ بزنس میں ناکام رہتے ہیں، سیارہ زہرہ بھی گیارہویں گھر میں اور برج سنبلہ میں ہے جو زہرہ کے ہبوط کا برج ہے، گویا زہرہ کی پوزیشن بدترین ہے، خصوصاً محبت، دوستی، شادی اور ازدواجی زندگی کے حوالے سے یہ ہبوط یافتہ زہرہ ہر گز اچھے نتائج نہیں دیتا، چناں چہ اگرچہ شادی جلد ہی ہوگئی تھی جسے نہ ہونے کے برابر سمجھا جائے، مودی صاحب نے بیوی سے دور رہنا ہی بہتر خیال کیا، ہبوط یافتہ زہرہ زائچے میں اکثر مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے، مزاج میں خشکی، سردمہری اور عدم توازن کا باعث بنتا ہے، بعض لوگ روحانیت کی جانب راغب ہوتے ہیں یا کچھ دیگر پراسرار علوم کے حصول کو زندگی کا مقصد بناتے ہیں، سنا ہے کہ مودی صاحب بھی سادھوؤں اور جوگیوں کے بہت معتقد رہے ہیں اور زندگی کا خاصا بڑا حصہ اسی آوارگی میں گزارا ہے، زہرہ زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہے، اس کا ہبوط یافتہ ہونا، بے خوابی، بستر کی لذت سے محرومی، مستقبل کے پریشان کن خوف لاتا ہے، مزید یہ کہ نویں آئین و قانون، مذہب اور روحانیت، قسمت سے متعلق امور و دلچسپیاں سیارہ زہرہ سے منسلک ہوجاتے ہیں، زائچے میں قمر اور مریخ نویں اور بارھویں میں بیٹھ کر چندر منگل یوگ بنارہے ہیں، یہ یوگ انسان کو بہت زیادہ مفاد پرست بناتا ہے، ایسے لوگ دولت کمانے کے جو ذرائع بھی اختیار کریں اس میں جائز اور ناجائز کی تمیز کھودیتے ہیں، عام طور سے اپنی ماں کے لیے تکلیف اور صدمے کا باعث بنتے ہیں۔

تعلیم و پیشہ

ابتدائی تعلیم میں مشکلات رہیں، چوتھے گھر کے حاکم سیارہ زحل کا دور اکبر جون 1962 ء سے شروع ہوگیا تھا جو جون 1981 ء تک جاری رہا، شمس زدہ زحل کیوں نا عظمت و بزرگی کے خواب دکھاتا، خیال رہے کہ سیارہ زحل دنیاوی علم و نجوم میں نچلے طبقے خصوصاً مزدوروں کا نمائندہ ہے، یہ مسلسل محنت اور کوشش کے بعد زندگی میں کامیابی کا باعث بنتا ہے، بلاشبہ مسٹر نریندر مودی کی طویل جدوجہد اور کوشش سے انکار ممکن نہیں ہے، شمس سے قران نچلے طبقے کو بلند مراتب کے خواب دکھا رہا تھا، سیارہ شمس اقتدار اور حکمرانی کا نمائندہ ہے، اپنی فطری خصوصیات کے سبب انھوں نے ایک انتہا پسند سیاسی جماعت سے رابطہ جوڑ لیا، بھارتی کانگریس پارٹی سے دور رہے،جون 1998 ء سے زائچے میں کیتو کا دور اکبر شروع ہوا جو فوائد کے گھر میں براجمان ہے، سیاسی نظریات میں مفاد پرستی کا عنصر نمایاں ہوگیا، کیتو کے دور اکبر میں 20 جنوری 2000 ء میں سیارہ شمس کا دور اصغر شروع ہوا تو مودی صاحب کا اقتدار کے راستوں پر سفر تیز ہوگیا اور بالآخر 17 اکتوبر 2001 ء کو کیتو کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری تھا تو وہ گجرات کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوگئے اور اس طرح انھوں نے وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو وہ چاہتے تھے، دوسری بار راہو کے ہی دور اصغر میں وہ وزیراعظم بھارت کی کرسی پر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے، یہاں ایک اہم سوال موجود ہے، روایتی ویدک سسٹم میں راہو کو نہایت منحوس اور ضرر رساں کہا جاتا ہے اور اس حوالے سے کلاسیکل تعلیم خاصی متنازع ہے، راہو سیاست کا نمائندہ ہے، چھل فریب، مکاری، جھوٹ، دغا بازی اس کا ثمرہ ہے، زائچے میں راہو پانچویں گھر میں برج حوت میں ہے، اچھی پوزیشن رکھتا ہے، پانچواں گھر شعور و دانش کا ہے جو راہو کے زیر اثر منفی ہی ہوگا، زندگی کی خوشیاں بھی اس سے منسلک ہیں، ہمارے نظریات کے مطابق وہ کسی طرح بھی زندگی میں خوشی اور کامیابی لانے کا باعث ہوسکتا ہے مگر یہ بھی خیال رہے کہ راہو کی لائی ہوئی خوشیاں قانونی و دائمی نہیں ہوتیں، بعد کے نتائج پریشان کن ہوتے ہیں کیوں کہ یہ خوشیاں مثبت طریقوں سے حاصل نہیں ہوتیں، مودی صاحب نے بھی یقینا اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے میں جو راستے اختیار کیے ہوں گے وہ قابل تعریف نہیں ہوسکتے اور بعد میں جس طرح گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ان کے کردار کا چرچا ہوا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ بعد میں عدالتوں نے انھیں تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔
ایک منفی سوچ کو ہوا دے کر انھوں نے سیکولر پارٹی کانگریس کے مقابلے میں اپنی سیاست چمکائی اور اب تک یہی کر رہے ہیں، کچھ ایسا ہی انھوں نے 2019 ء کا الیکشن جیتنے کے سلسلے میں بھی کیا یعنی کشمیر میں پلوامہ کا ڈراما اسٹیج کرکے پاکستان پر حملہ اور اپنے عوام کے سامنے ہیرو بننے کی کوشش جس میں ان کا خریدا ہوا میڈیا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
2019 ء میں سیارہ مشتری برج عقرب سے گزر رہا تھا یعنی پہلے گھر سے گویا پہلے گھر کے علاوہ پانچویں، ساتویں اور نویں قسمت کے گھر پر اس کی نظر کرم تھی، اس کے بعد مشتری برج قوس میں داخل ہوا جو دوسرا گھر ہے، مشتری کی یہ پوزیشن بھی معاون و مددگار تھی، اس دوران سیارہ زحل کا سب پیریڈ جاری تھا جو اس سال 24 جون 2021 ء تک جاری رہے گا، اس کے بعد زہرہ کے دور اکبر میں عطارد کا دور اصغر شروع ہوگا، ہبوط یافتہ عطارد آئندہ زیادہ مددگار نہیں ہوگا۔
20 نومبر 2020 ء سے مارچ 2021 ء تک حیثیت و مقام کا سیارہ مشتری بھی ہبوط یافتہ ہے، چناں چہ جو کچھ ان کے خلاف صورت حال پیدا ہوچکی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، بھارتی وزیراعظم بلاشبہ خاصی پریشان کن صورت حال سے دوچار ہیں جس میں آئندہ بھی کمی آتی نظر نہیں آرہی۔
اس سال 2021 ء میں راہو کیتو پہلے اور ساتویں گھر میں رہتے ہوئے مسٹر مودی اور بھارت کے زائچے میں اکتوبر تا دسمبر انتہائی سخت اثرات ڈالیں گے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ اپنی پوزیشن کو بچانے کے لیے وہ ایک بار پھر کوئی پلوامہ جیسی مہم جوئی کے بارے میں سوچیں اور پاکستان سے محاذ آرائی کریں لیکن بہر حال بھارت کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور احتجاجی تحریکیں شاید انھیں اس کی اجازت نہ دیں مگر ایک شدت پسند انسان کچھ بھی کرسکتا ہے، مسٹر مودی نے ہندوتوا کے نعرے پر بھارت میں جو ماحول پیدا کیا ہے یہ بہر حال بھارت کو تقسیم کرنے کی طرف ایک قدم ہے، وہ ایسے آدمی نہیں ہیں کہ اپنے نظریات و عقائد سے پیچھے ہٹ جائیں، نتیجے کے طور پر ایسے لوگ بالآخر تاریخ کی کچرا کنڈی میں پہنچ جاتے ہیں، ان کے ایک دوست مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ تو پہنچ چکے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)