مختلف سیاروں کے زائچہ پیدائش میں اثرات (۳)
سیارہ مشتری کے بارہ برجوں میں اچھے برے اثرات
ایران اسرائیل، امریکا جنگ دنیا کو کس سمت لے کر جارہی ہے ، یہ سوال اس وقت عالمی سطح پر زیر بحث ہے، اگرچہ جنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مسئلے کا کوئی پر امن حل برآمد ہوسکے اور ایسے امکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاجائے۔ البتہ اسرائیل اس معاہد ے میں شامل نہیں ہوگا، گویا ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش جاری رہے گی۔
موجودہ جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا ہے، مہنگائی کا طوفان دنیا بھر میں سر اٹھاچکا ہے اور جنگ بندی کے بعد بھی اس طوفان کو روکنا فوری طور پر ممکن نہیں ہوسکے گا، خصوصاً پیٹرول اور گیس کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ رہی ہیں، اس جنگ کے حوالے سے خود امریکا میں بھی عوامی ردعمل صدر ٹرمپ کے خلاف ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے جال میں پھنس کر خودکشی کی کوشش کی ہے، ان کے زائچے کے مطابق سیاروی گردش آٹھویں گھر میں دبائو ڈال رہی ہے یعنی نیپچون، زحل، مریخ، شمس،عطارد اور زہرہ گزشتہ ایک مہینے سے آٹھویں گھر میں رہے ہیں، پہلے زہرہ اور اب سیارہ شمس آٹھویں گھر سے نکل کر نویں گھرمیں داخل ہوچکے ہیں ، یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
مسٹر ٹرمپ کو شاید اب عقل آرہی ہے اور وہ جلد از جلد میدان جنگ سے رخصتی چاہتے ہیں لیکن زحل اور نیپچون پورا سال اسی گھر میں حرکت کریں گے جس کا نتیجہ کسی طور بھی بہتر نہیں ہوگا۔
امکان ہے کہ آنے والے الیکشن میں وہ اپنی مخالف پارٹی کو برتری کا موقع فراہم کردیں ، اس صورت میں ان کے ہاتھ پاوں بندھ جائیں گے اور وہ ایسے مزید جارحانہ اقدام نہیں کرسکیں گے ۔
ایران کے زائچے میں جنوری ہی سے جوخراب سیاروی گردش شروع ہوئی تھی وہ بھی اب اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایرانی زائچے میں لگن سرطان ہے اور 23فروری سے آٹھویں گھر میں مریخ اور راہو انگارک یوگ بنارہے ہیں، دیگر سیارگان بھی آٹھویں گھر ہی میں مقیم رہے ہیں جس کے نتیجے میں بدترین نوعیت کی تباہی و بربادی کا سامنا رہا، ایک سپر پاور سے مقابلہ کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن ایرانی قیادت اور عوام نے جس دلیری اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا اس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی، بہر حال ایران نے امریکا کو مجبور کردیا کہ وہ مذاکرت کی ٹیبل پر آجائے اور طاقت کے گھمنڈ کو چکنا چور کردیا۔
اس قدر تباہی و بربادی کے بعد جو جانی و مالی نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ ایران کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں خاصا وقت لگے گا لیکن ایک معقول معاہدہ طے پاجائے اور ایران پر سے ناجائز پابندیاں اٹھا لی جائیں تو وہ بہت جلد سنبھل جائے گا کیوں کہ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہے لہٰذا ہماری دعا یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی معقول معاہدہ ہوجائے۔
عزیزان من! جیسا کہ شروع میں عرض کیا تھا کہ اس جنگ کے مابعد اثرات پوری دنیا کو ایک نئی سوچ دیں گے، امریکا کا وقار بری طرح مجروح ہوگا اور شاید آنے والے سالوں میں وہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر کردار ادا نہ کرسکے، گویا یہ امریکا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
دوسری طرف خلیجی ممالک بھی خطرات کی زد میں آچکے ہیں، انھیں بھی اب نئی حکمت عملی کے بارے میں سوچنا ہوگا، اس ساری عالمی صورت حال میں سب سے زیادہ بری پوزیشن ہمارے پڑوسی بھارت کی ہوئی ہے اور آج کل پورے بھارت میں ایک ماتم کی سی کیفیت ہے، وہاں الیکشن بھی ہورہے ہیں اور مودی صاحب کی حکومت سخت تنقید کی زد میں ہے۔
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال ہم نے مودی کے زائچے اور بھارت کے زائچے کے حوالے سے لکھا تھا کہ مودی صاحب کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور بھارت بھی آنے والے سالوں میں اپنی موجودہ مضبوط حیثیت کھودے گا تو ایسے ہی آثار شروع ہوچکے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)
مختلف برجوں میں مشتری
شرف یافتہ مشتری: اگر مشتری شرف یافتہ ہو تو صاحب زائچہ مسرور، مہربان، خوش گمان اور معاف کرنے والا ہوگا۔ صاحب زائچہ یہ بھی محسوس کرے گا کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہے۔
متاثرہ مشتری: اگر مشتری متاثر ہوتو مادی دنیا میں کسی پائیدار شے کے حصول کی خواہش ہوتی ہے۔ اگر یہ چیز نہیں ملتی تو اس کے نتیجے میں زندگی کے بے مقصد ہونے کے احساسات جنم لیتے ہیں اور اعتماد اور امید پر سے یقین اٹھ جاتا ہے۔ اور صاحب زائچہ مایوس اور دل شکستہ ہوجاتا ہے۔ اس بے یقینی اور بے اعتمادی کے سبب زائچے پر اثرانداز ہونے والے مفتگاثرہ مشتری کو بھگتنا پڑتا ہے جو زندگی میں مشکلات اور حوادث سے گزرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے اور اس دو۔۔ سے بھی متاثرہ مشتری کو بھگتنا پڑتا ہے کہ یقین اور امید کا دامن چھوڑ دینے پر صاحب زائچے کو زندہ رہنے کا کوئی عظیم مقصد نظر نہیں آتا۔
اگر متاثرہ مشتری کی نحوست ٹل جائے تو صاحب زائچہ کو پتا چلتا ہے کہ زندگی کا مقصد اور مطلب تو چھوٹی چھوٹی چیزوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
تحت الشعاع مشتری: جب مشتری تحت الشعاع ہوتا ہے تو صاحب زائچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے آدرشوں کو حاصل کرنے کا اہل ہے جنہیں اس کی انا روحانی فضائل کے لئے ضروری سمجھتی ہے۔ خدا کی خوشنودی کے لئے ذاتی حسن سلوک کا حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ صاحب زائچہ ان چیزوں میں عدم کاملیت کے سبب اپنے اپ کو اس قابل نہیں سمجھتا اور یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔ اپنے آپ کو معاف کرنے کی گنجائش کم ہوتی ہے اور ان کے ذاتی فلاح و بہبود کے معاملے میںخدا پر اعتماد میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ وہ آسانی سے یقین کر سکتے ہیں کہ دوسروں پر خدا کی مہر بانیاں اور رحمتیں نازل ہوسکتی ہیں لیکن انہیں یقین نہیں ہوتا کہ ان پر بھی خدا کا کرم ہوسکتا ہے۔
یہ احساس ان کے کاموں میں بے مقصدیت کو جنم دیتا ہے اس میں روحانی سرگرمیاں شامل ہیں، کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں خہ وہ چاہے کتنی ہی کوشس کیوں نہ کرلیں، وہ اب بھی کامل نہیں ہیں، لہٰذا خدا کی نظروں میں بے کار اور بے حقیقت ہیں ۔ اس کا نچوڑ یہ ہے کہ صاحب زائچہ غصے میں خدا اور مذہب کو اس کا قصور وار ٹھہراتا ہے۔
عام طور سے ایک تحت الشعاع کے گرد چکر کاٹتے ہوئے مسائل کسی عقیدے کے نتیجے میں فروغ پاتے ہیں جو کسی قاعدہ با اصول کے طرز پر پیش کےے گئے تھے۔ یہ عقیدہ یااسے پیش کرنے کے طریقے نارمل احساسات اور خواہشات کی اجازت دیتے جو تمام بنی نوع انسان میں ہوتے ہیں۔ ایک مکمل رویہ ہونے کی وجہ سے زہن اور حد سے بڑھی ہوئی خواہشات کو کنٹرول کرنے کا کوئی عملی طریقہ سکھائے بغیر لفظ اور خیال پر زور دیا گیا ہوتا۔ تب صاحب زائچہ کسی ممکنہ بچاﺅ کی امید کے بغیر مایوس اور نا امید ہوجاتا۔ مشتری کے تحت الشعاع ہونے کا دوسرا خیال یہ ہے کہ صاحب زائچہ اپنے علم یا دانش کے بارے میں عدم تحفظ محسوس کرے گا ۔لہٰذا جب اس کا سامنا کسی ایسی چیز سے ہوگا جسے وہ سمجھ نہیں سکتا تو غصہ اور مایوسی کا شکار ہوجائے گا۔
حمل میں: شاندار محبت، طاقت ور، مالدار، عقل مند ، فیاض ، بہت سے بچے، مہذب، ہمدرد، خوشگوارشادی، صابر، موافقت ، نکھرا ہوا، اعلیٰ پوزیشن ۔
ثور میں: پر تمکنت، شاندار، بہ خود غلط، لبرل، فرض شناس بیٹے، مصنف مزاج، ہمدرد، کثیر المطالعہ ، تخلیقی صلاحیت، خود مختار، صحت مند، خوش گوار شادی ، سب کو محبوب، خود لذتی کا شکار۔
جوزا میں: خطابت کی اہلیت، طویل قامت، تندرست و توانا، فیض رساں ، شاندار، خالص دل، اسکالر جیسا، زیرک، ڈپلو میٹک، شاعر، رغبت دلانے والا۔
سرطان میں: صاحب زائچہ کو جو اہرات ، جائیداد ، بیٹے ، دولت ، بیوی ، خوش حالی، ذہانت اور خوشیاں عطا ہوں گی۔
اسد میں: صاحب زائچہ حاکمانہ شخصیت، طویل قامت، عقل مند، پر عزم ، فعال، خوش باش ذہین، دانش مند، فیاض، کشادہ ذہن، ہم آہنگ قرب و جوار، پہاڑوں اور جھیلوں کو پسند کرتا ہے۔
سنبلہ میں: درمیانہ قد، پر عزم، خود غرض، زاہدانہ، راضی بہ رضا، پر خلوص، خوش نصیب، کنجوس، محبت کے قابل، ایک خوبصورت بیوی، بے حد قوت برداشت، قابل ۔
میزان میں: خوش شکل ، آزاد کشادہ ذہن، جلد باز، پرکشش ، مضبوط مہذب ، حد سے زیادہ سرگرمی کے باعث تھکن، مذہبی، اہل، منکسر المزاج، لائق اور خوش طبع۔
عقرب میں: کشیدہ قامت، قدرے آگے کو جھکا ہوا،شاندار طور طریقہ، سنجیدہ، سخت گیر، مضبوط کاٹھی، بر تری کا انداز، خود غرض، احمق، کمزور جسم، بیتاب، روایتی ، گھنڈی اور نا خوش گوار زندگی۔
قوس میں: مالدار، اچرو رسوخ کا مالک، وجیہ، معزا، قابل بھروسہ، مخیر، اچھی ایگزیکٹیو کی صلاحیت ، کمزور جسمانی ساخت، شاعر انہ، کشادہ ذہن ، فن کارانہ خوبیاں، اچھی گفتگو کرنے والا۔
دلو میں: قابل، امیر نہیں‘ متنازع شخصیت، فلسفیانہ، مقبول، بامروت، ہمدرد، دلکش، عقل مند، خواب دیکھنے والا ، استغراق، انسانیت نواز، غم زدہ، دانت کی تکلیف۔
حوت میں: اچھا ترکہ، لحیم و شحیم، درمیانہ قد، مہم جو، سیاسی ڈپلو میسی، اعلیٰ پوزیشن۔
مختلف برجوں میں زہرہ
شر ف یافتہ زہرہ:اگر زہرہ شرف یافتہ ہو تو صاحب زائچہ میں ایک دوسرے کا احترام قائم رکھنے کی صلاحیت ہوگی، جس سے محبت بڑھتی ہے۔ نفیس اور عظیم حسن کی تخلیق اور اپنے آپ کو وقف کردینے کی زبردست توانائی ہوتی ہے۔خواہش کی فطرت خالص ہے اور اگر چہ صاحب زائچہ بیتاب و بیقرار ہوگا، اس کا جذبہ کنٹرول میں رہے گا اور آدرش وادی ہوگا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ صاحب زائچہ اپنے افعال ور خواہشات کی قدرو قیمت کا اس وقت تعین کرنے کا اہل ہوگا جب اسے اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ لہٰذا وہ یہ سمجھ بوجھ کر اپنی پسند کا انتخاب کرنے کا اہل ہوگا کہ اس کی پسند نہایت قابل قدر ہے اسے اپنے انتخاب پر پورا اعتماد ہے اور کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
متاثرہ زہرہ: اگر زہرہ متاثرہ ہو تو ایک دوسرے کے لئے احترام مشروط ہوجاتا ہے اور انسانی تعلقات میں ایک دوسرے کے احترام اور عزت کو بر قرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
صاحب زائچہ کو کسی بھی خوبصورت اور حسین شے میں بھی آسانی سے خامیاں اور نقائص نظر آجاتے ہیںاور اس کے لئے کسی بھی حسین شے کی تخلیق میں دشواری پیش آتی ہے۔ جنسی عدم توازن بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ ممکنہ جنسی سرد مہری سے لے زناکے معاملات تک، سب سے اہم بات یہ ہے کہ صاحب زائچہ کوئی صحیح فیصلہ کرنے سے قاصر رہتا ہے جس سے اس کی خوشی اور مسرت متاثر ہوتی ہے اور ناخوشی جنم لیتی ہے نیز حالات محدود ہوجاتے ہیں ۔
اگر متاثرہ زہرہ کی نحوست ٹل جائے تو تکلفات کی مدد سے ایک دوسرے کا احترام قائم ہوجاتا ہے۔صاحب زائچہ قواعد و قوانین کوسمجھنے کے قابل ہوجاتا ہے جس سے اسے انتخاب کرنے میں مدد ملتی ہے اور بٹری خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ۔
تحت الشعاع زہرہ: اگر زہرہ تحت الشعاع ہو تو صاحب زائچہ اپنے صحت مندانہ فخرو نازکا نمائش کرنے کے قابل نہیں رہتا، جو ڈپلو میسی کے لئے ضرو ری ہوتا ہے۔
صحت مندانہ فخر کے لئے ڈپلو میسی وہ آلہ ہے جس سے انسان اپنی اور دوسروں کی عزت کرتا ہے۔تحت الشعاع زہرہ کمزور اور ناکام ڈپلو میٹک صلاحیتوں کی نشاندہی کرتا ہے جو غیر محفوظ فخر پر منقسم ہوتا ہے۔ لہٰذا دوسروں کیطرف سے انہیں بے عزتی سہنی پڑتی ہے جس سے گہری مایوسی اور نا امیدی پیدا ہوتی ہے۔
ایک دوسرا خیال یہ ہے کہ جب زہرہ تحت الشعاع ہوتا ہے تو صاحب زائچہ کو خلوص اور محبت کے اظہار میں عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ اگر ان کے اظہار محبت کا جواب بھر پور طریقے سے نہ دیا گیا تو وہ دل شکستہ ہوجاتے ہیں ۔ اس سے صاحب زائچہ کے رویے میں سختی اور بے رخی آجاتی ہے ، وہ محبت کے اظہار میں بھی یہی رویہ رو رکھتا ہے۔
اس کا لب لباب یہ ہے کہ جب زہرہ تحت الشعاع ہوتا ہے تو صاحب زائچہ اس بات پر خفا ہوتا ہے کہ انہیں ویسی محبت اور شفقت نہیں مل رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔
یہ رحجان دھیرے دھیرے اس وقت فروغ پاتا ہے جب صاحب زائچہ نے ایک بچے کی حیثیت سے اپنے باپ کے یا تو گلے لگا تھا ، یا پھر اس سے کہا تھا ” میں آپ سے محبت کرتا ہوں“ ۔لیکن اس کے جواب میں اسے یا تو شفقت نہیں ملی تتھی یا اسے وہی الفاظ سننے کو نہیں ملے تھے کیونکہ باپ یا تو مصروف تھا یا پھر اس کی محبت کا جواب محبت اور شفقت سے دینے سے قاصر تھا۔
حمل میں: فضول خرچ، فعال، بدل جانے والا، فن کار انہ، خواب دیکھنے والا، آدرش وادی، فنون لطیفہ میں ماہر، اوباش ، غمگین ، متلون مزاج، لاپروا، عقل مند، غیر مذہبی، عیاشی کی زندگی کے باعث دولت سے محروم۔
ثور میں: اچھے قد کاٹھ کا، وجیہہ، خوش طبع، ہنس مکھ، شاندار، آزاد، شہوت پرست، لذت و سرور کا شیدائی ، خطرات سے محبت، رقص و موسیقی کا ذوق۔
جوزا میں: امیر، نیک، مہربان، پر جوش مقرر، فراخ دل، گھمنڈی، قابل معزز، سادہ لوح ،ذہن دو شادیاں، اچھا منطقی، مصنف مزاج، فنون لطیفہ کا شائق ، مادہ پرستی کا رحجان۔
سرطان: افسردہ، جذباتی ، بزدل، اداس ، رنجیدہ، ایک سے زیادہ بیویاں، گھمنڈی، غیر مستحکم ناخوش، بہتر سے بچے، حساس۔
اسد میں: عورت کے ذریعہ پیسہ، خوش رو بیوی، گمراہ، خود پسند، بے تاب، جذباتی، پر جوش اوباش صنف نازک کا شیدائی۔
سنبلہ میں: چھوٹا ذہن، اوباش، بے ضمیر، ناخوش، ناجائز محبت، پھر تیلا، باتونی، امیر ، قابل۔
میزان میں: مدبر، ذہین، فراغ دل، فلسفیانہ، شہوت پرست، وجیہہ، مادی خوشی، کامیاب شادی، بے تاب ، گھمنڈی معزز وجدانی، شاعر اور وسیع سفر۔
عقرب میں: دوسروں کی بیویوں کا رسیا، صاحب زائچہ ان کے ذریعہ اپنی جدائداد سے محروم ہوجائے گا اور اپنی فیملی کے لئے مصیبت لائے گا۔ چوڑے خدو خال ، جھگڑالو، درمیانہ قد، فن کار انہ، بے ایمان ، امیر نہیں، گھمنڈی، آزاد، محبت میں کامامی۔
قوس میں: درمیانہ قد، طاقت ور مالدار، معزز، اعلیٰ پوزیشن، صاف گو، گستاخ، فلسفیانہ، خوش گوار، گھریلو زندگی ۔
جدی میں: نچلے طبقے کی عورتوں کا رسیا، بے عقل پر عزم، بے اصول، اوباش، شیخی باز، پیچیدہ ، قابل ، کمزور جسم۔
دلو میں :سب کا پسندیدہ درمیانہ قد، خوبصورت، خوش اخلاق، پر سکون، بزدل ، منوا لینے والا، بزلہ سنج، پارسا، مدد گار اور انسانیت نواز۔
حوت میں: صاحب زائچہ امیر، مالدار، قابل ہوگا۔ بادشاہ اس کی عزت کریں گے، سب کا پسندیدہ اور خوبصورت وضع وقطع کا حامل، بزلہ سنج، باتد بیر، مقبول ، منصف مزاج، جدت طراز، نکھرا ہوا اور منکسرالمزاج ہوگا۔

