ہمارے معاشرتی مسائل میں جہالت کے پہلو

جو راہ اُدھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے

ہمارے معاشرتی مسائل میں جہالت کے پہلو

عزیزان من! اگرچہ ہم ہر ماہ کی سیاروی گردش پر روشنی ڈالتے ہیں لیکن اس بار خصوصی طور پر کچھ باتیں گوش و گزار کرنا ضروری ہیں۔

زائچہ پاکستان نہایت اہم اور ٹرننگ پوائنٹ سے گزر رہا ہے، ہم نے پہلے بھی نشان دہی کی تھی کہ غیر معمولی طور پر سیارہ زہرہ زائچے کے چھٹے گھر برج میزان میں ایک طویل قیام کر رہا ہے، اب 3اکتوبر سے اسے رجعت ہوگئی ہے اور یہ 7نومبر کو بحالت رجعت میں واپس اپنے ہبوط کے برج سنبلہ میں داخل ہوگا اور اس کے بعد 23 نومبر کو دوبارہ مستقیم ہونے کے بعد پھر برج میزان میں داخل ہوگا تو زہرہ کی یہ لوٹ پلٹ اور آنیا ں جانیاں یقینا نت نئے گل کھلائیں گی، سیارہ عطارد بھی برج میزان میں زہرہ کے ہمراہ ہے۔

مزید یہ کہ سیارہ مریخ برج سرطان میں سیارہ مشتری کے ہمراہ ہے اور مریخ کی نظر عطارد اور زہرہ دونوں پر ہے، حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات شروع ہوئے تو زہرہ کو رجعت ہوچکی تھی اور مرکری کو زہرہ متاثر کر رہا تھا، چناں چہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے اور نتیجے کے طور پر لانگ مارچ شروع ہوگیا، تقریباً 9اکتوبر تک زہرہ اور عطارد حالت قران میں ہوں گے، امکان ہے کہ مذاکرات ایک بار پھر شروع ہوں۔

قصہ مختصر یہ کہ پاکستان کے لیے بھی اور عوام کے لیے بھی یہ وقت خاصا مخدوش اور مختلف نوعیت کی پریشانیوں کا باعث ہوسکتا ہے، 10اکتوبرکو شمس و قمر کا قران متوقع ہے اور اس کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ موجودہ سیاسی اور ملکی صورت حال کے بارے میں دانش مندانہ سوچ پیدا ہوگی لیکن مجموعی طور پر اکتوبر کا پورا مہینہ نت نئی تبدیلیوں اور حادثات کی نشان دہی کررہا ہے، جرائم میں اضافہ ہورہا ہے، بہر حال بہت محتاط رہ کر وقت گزارنے کی ضرورت ہے (واللہ اعلم بالصواب)

عورت، عورت کی دشمن

کراچی سے ک، س انصاری کا احوال جو یقینا قابل عبرت بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ ہمارے معاشرے میں ہم ہی جیسے لوگ مذہب، انسانیت اور ہر قسم کی اخلاقیات کو فراموش کرکے ظلم کے کیسے کیسے راستے ایجاد کرتے ہیں، اس پر حیرت ہوتی ہے، حالانکہ دنیا کے سامنے یہی لوگ مسلمان بھی ہیں اور انسان بھی ہیں، شرافت اور اخلاقیات کے علم بردار بھی ہیں ۔ خط کے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجئے ۔

شادی کے دن سے ہی میری ازدواجی زندگی میں پریشانیاں ہیں ، سسرال والوں نے اپنی سازشوں اور چغل خوریوں کے ذریعے میرے شوہر کے دل میں میرا مقام نہ بننے دیا ۔ میرے شوہر کے دل میں نہ تو میری محبت ہے نہ عزت ہے اور نہ ہی میری کوئی قدر ہے اور میرے بچے کے لئے بھی دل میں باپ والی محبت نہیں ہے۔

چار شادی شدہ نندیں ہیں اور سب سے چھوٹی اپنے بچے سمیت یہیں رہتی ہے باقی نندیں بھی تقریباً روز ہی یہاں ڈیرہ جمائے رہتی ہیں اور اپنا حکم چلاتی ہیں، میرے شوہر سب بہن بھائیوں میں چھوٹے ہیں، سب سے ڈرتے ہیں، ان لوگوں کی باتوں میں آکر مجھے صبح شام ذلیل کرتے رہتے ہیں، میرے اور میرے بچے کے حقوق اور ضروریات کا خیال بھی نہیں رکھتے، مجھ سے بات نہیں کرتے اور مہینوں میرے کمرے میں بھی نہیں آتے، ان کے موبائل پر بات کرکے بہت منت سماجت کرکے میں نے بلایا بھی تو میری نند جو رات کو بھی ہماری جاسوسی کرنے سے باز نہیں آتیں۔ رات ڈیڑھ بجے کمرے میں آگئیں اور شور مچا دیا ۔ اس کے بعد شوہر کو ڈرائنگ روم میں لے جا کر ایک پنچائت شروع کردی کہ تو اس کے کمرے میں گیا کیوں تھا۔

آپ بتایئے کہ یہ کتنی شرم ناک بات ہے کہ میاں بیوی کے رشتے کے درمیان اس طرح حائل ہو رہے ہیں۔ تمام تر حالات و واقعات بیان کرنے کے لئے تو درجنوں صفحات چاہئے ہوں گے مختصر یہ کہ میں ایک سال 4 ماہ سے اپنے میکے میں ہوں اس عرصے میں نہ شوہر صاحب یہاں آئے نہ کبھی بچے کی خیریت دریافت کی۔

سسرال والے اب طلاق پر زور دے رہے ہیں اور بچے کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ براہ مہربانی میری زندگی کا اور شادی کا زائچہ بنا دیں۔ مستقبل سے متعلق بہت سے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں، آیا میرا طلاق لینا صحیح ہے؟ میرا بچہ میرے پاس ہی رہے گا ہمیشہ اور ا س کا مستقبل کیا ہو گا ؟ کیا میری دوسری شادی ہوگی ؟ آ یا د وسرا شوہر میرے اور بچے کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا ؟

 جواب:عزیزم ! پہلی بات تو یہی ہے کہ آپ کا نکاح کسی اچھے دن نہیں ہوا، انتہائی خراب وقت چل رہا تھا۔ سیارہ مریخ اپنی الٹی چال پر تھا لہٰذا اس شادی کا یہی انجام ہونا تھا، دوسری بات یہ کہ آپ کے اور شوہر کے زائچے بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔

آپ کا شمسی برج دلو اور شوہر کا شمسی برج جدی ہے، ایک ہوائی برج ہے اور ایک خاکی ہوا اور مٹی میں موافقت نہیں ہے، پھر اس گھر کا ماحول بھی آپ کے لئے مناسب ثابت نہیں ہوا، اب اگر وہ لوگ طلاق پر زور دے رہے ہیں تو آپ صبر و سکون کے ساتھ انتظار کریں لیکن اپنے لئے کچھ دفاعی انتظامات ضرور کرلیں تاکہ آئندہ وہ جو بھی کارروائی کریں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے ۔

 اس سلسلے میں اکثر لڑکی والے مصلحتوں اور مجبوریوں کے پیش نظر ضروری کارروائی سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ وہ ہر حال میں لڑکی کا گھر بسانا چاہتے ہیں لہٰذا نہیں چاہتے کہ ان کی طرف سے کوئی ایسا اقدام ہو جس پر بات زیادہ بگڑ جائے، لیکن ہمارے خیال میں یہ ایک غلط سوچ ہے، کیونکہ اب معاشرے کی شریفانہ اور مہذب اقدار ختم ہوچکی ہیں ، لوگ بزرگوں کی بات کا بھی پاس نہیں کرتے ، بلکہ ہر شخص اپنی ذات میں ایک فرعون بنا رہتا ہے، لڑکے والوں کو یا لڑکے کو اپنی برتری اور غالب پوزیشن کا احساس رہتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم چاہے کیسا بھی سلوک کریں، لڑکی والوں کو بہر حال ہمارے سامنے جھکنا پڑے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کمزور پر دباﺅ ڈالنے والے اور ظلم و زیادتی کرنے والے در حقیقت بزدل ہوتے ہیں۔

اگر مضبوط انداز میں جوابی کارروائی سامنے آجائے تو یہی ظلم کرنے والے بکری بن جاتے ہیں اور ہاتھ پاﺅں جوڑنے لگتے ہیں ۔ یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ بھیڑیا بکری کی معقول دلیلوں اورعاجزی انکساری کو کبھی خاطر میں نہیں لاتا ۔وہ تو شیر کے تھپڑ کی زبان ہی سمجھتا ہے ۔

 آپ سب سے پہلے اپنے علاقے کے ایم پی اے آفس میں اپنے والد کی طرف سے ایک درخواست دے دیں جس میں تمام صورتِ احوال بیان کردیں، اس کے بعد اپنے علاقے کے تھانے میں والد کی طرف سے ایک اطلاعی رپورٹ درج کرالیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ آپ کے خلاف کبھی کوئی قانونی کارروائی نہیں کرسکے گا اور آپ کے حقوق بھی غصب نہیں کئے جاسکیں گے۔ آئندہ کبھی کسی عدالتی کارروائی کا مرحلہ آیا تو یہ اطلاعی رپورٹ آپ کی معاون ثابت ہوگی، تھانے سے اس رپورٹ کی نقل ضرور حاصل کریں ۔

 اس کے بعد اگر وہ آپ کو طلاق دیتے ہیں تو ٹھیک ہے آپ اپنے اور اپنے بچے کے حقوق کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاسکتی ہیں، اگر طلاق نہیں دیتے اور ایسے ہی لٹکا کر رکھتے ہیں تو بھی آپ کو عدالت سے رجوع کرنے میں آسانی ہوگی اور آپ کا کیس اس اطلاعی رپورٹ کی وجہ سے مضبوط ہوجائے گا ۔

 آپ کا پیدائشی زائچہ گزشتہ سال ستمبر کے بعد سے بہتر پوزیشن میں آچکا ہے اور آنے والا وقت آپ کے لئے اچھا ثابت ہوگا، اس وقت سے فائدہ اٹھانے کے لئے آپ کو آگے قدم بڑھانا چاہئے، اپنے لئے کوئی کام ڈھونڈیں تاکہ آپ کسی پر بوجھ نہ بنیں، اپنا اور اپنے بچے کا خرچ اٹھا سکیں ،آپ کا زائچہ دوسری شادی کا امکان ظاہر کرتا ہے اور اس شادی کو بہر حال کسی نہ کسی طور ختم ہونا ہی ہے ۔

 آپ کے لئے ہم ایک وظیفہ لکھ رہے ہیں اسے شروع کریں، اللہ آپ کے تمام مسائل ضرور حل کرے گا ۔

 نیا چاند ہونے کے بعد جو پہلا اتوار، پیر، جمعرات یا جمعہ آئے اس دن سے شروع کریں، روزانہ گیارہ بار اول و آخر درود شریف کے ساتھ سورہ طلاق کی دوسری آیت ”ومن یتق اللہ سے لکل شی قدرا “ تک 406 مرتبہ پڑھیں ، اس وظیفے کی مدت 90 دن ہے ۔ بہتر ہوگا کہ قرآن کریم میں دیکھ کر آیت مبارکہ کا ترجمہ بھی یاد کرلیں ۔

 باقی آپ نے جو دوسرے گھریلو مسائل لکھے ہیں ان کا تعلق آپ کی ذات سے نہیں ہے بلکہ آپ کے والدین کی ذات سے ہے ، مکان کے کاغذات اگر گم ہوگئے ہیں تو ان کی دوسری کاپی کے ڈی اے آفس سے نکلوائی جاسکتی ہے ، اس کے لئے بھی پہلے ایک اطلاعی رپورٹ تھانے میں درج کرائیں اور پھر سوک سینٹر جاکر باقی کارروائی کریں ، اس سلسلے میں کسی عمل وظیفے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کو جو وظیفہ بتایا ہے وہ آپ کے تمام مسائل کا حل ہے ۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ اللہ کس طرح آپ کی مدد فرمائے گا ۔“

بیٹیوں سے پہلے باپ کی شادی

 د، الف کراچی سے  دونوں بچیوں کا شمسی ، قمری اور طالع پیدائش بتائیں، ان کی شادی کب ہوگی ، تعلیمی کریئر کیسا رہے گا، اس کے علاوہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ماں کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کے والد دوسری شادی کر رہے ہیں، بچیاں راضی نہیں ہیں ، ان کی ماں طویل عرصے سے بیمار رہتی تھیں، پیٹ کی تکلیف کی وجہ سے جو بالآخر ہیپا ٹائٹس بن گئی۔

وہ بھی یہ جانتی تھیں کہ ان کے شوہر کی بہن ان کی شادی کروانا چاہتی ہیں ، اب جب کہ ان کا انتقال ہوچکا ہے تو وہ شادی کر رہے ہیں ، ہمارا خیال ہے کہ پہلے آپ بچیوں کی شادی کردیں پھر آپ خود کرلیجئے گا ، ایک چھوٹی بیٹی کی منگنی اس کے تایا کے گھر طے ہے ، اب یہ بتائیں کہ پہلے باپ اپنی شادی کریں گے یا بچیوں کی ؟

 جواب: بڑی بچی کا شمسی برج قوس اور قمری برج اسد ہے جبکہ طالع پیدائش بھی برج قوس کا ہے۔ جبکہ چھوٹی بچی کا شمسی برج میزان اور قمری برج عقرب ہے اور طالع پیدائش جدی ہے۔ دونوں نہایت ذہین اور ٹیلنٹڈ ہیں ، ان کے تعلیمی کریئر پر توجہ دینا چاہئے تاکہ مستقبل روشن ہوسکے۔ دونوں کی عمر اتنی بھی زیادہ نہیں ہے کہ شادی کے لئے زیادہ پریشان ہوا جائے ، خاص طور سے چھوٹی ابھی کافی چھوٹی ہے، ازدواجی زندگی کی ذمہ داریاں اٹھانے کے پوری طرح قابل نہیں ہے ، اگر ان کی شادی میں کچھ تاخیر ہوتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اور آپ لوگوں نے کیوں یہ فرض کرلیا ہے کہ سوتیلی ماں کوئی بری عورت ہی ہوگی ، بچیاں اپنی ناسمجھی کی وجہ سے باپ کی دوسری شادی کی مخالفت کر رہی ہیں اور آپ لوگ ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ کو انہیں سمجھانا چاہئے، ان کے والد کوئی ناجائز یا غیر ضروری کام نہیں کر رہے ، ہمارے نزدیک تو اگر وہ اپنی پہلی بیوی کے انتقال سے قبل ان کی طویل بیماری کے دوران میں دوسری شادی کرلیتے تو وہ بھی ناجائز نہیں ہوتا ۔

 ہمارے خیال سے زیادہ بہتر رویہ اور طرز عمل یہ ہوگا کہ آپ بچیوں کو یہ سمجھائیں کہ فوری طور پر باپ کی شادی زیادہ ضروری ہے اور وہ آنے والی باپ کی بیوی کو بھی اپنی ماں کا درجہ دیں، اس کی عزت کریں اور اسے محبت دیں تاکہ جواباً وہ بھی بچیوں سے محبت کا سلوک کرے۔

اگر خدا نخواستہ وہ کوئی گھٹیا عورت ثابت ہوئی تو بھی آخر باپ تو سگا ہے ، وہ اپنی بچیوں پر کوئی ظلم و زیادتی کیسے برداشت کرے گا اور بچیاں بھی اتنی چھوٹی نہیں ہیں کہ کسی ظلم و زیادتی کا مقابلہ نہ کرسکیں ۔ انہیں بھی یہ غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ اپنی آنے والی ماں کی اماں بننے کی کوشش کریں ۔اس بات کا خطرہ بڑی بیٹی سے ہے کیوں کہ اس کے پیدائشی برج آتشی ہیں اور وہ بہت زیادہ انانیت کے زیر اثر ہے۔

باپ کی پہلے شادی اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایک اجڑا ہوا گھر دوبارہ بس جائے ، لڑکیوں کی دیکھ بھال کے لئے بھی گھر میں ایک سمجھ دار عورت کا ہونا ضروری ہے تاکہ باپ اپنے کام دھندے پر جائے تو بچیاں گھر میں اکیلی نہ رہیں ۔

 جہاں تک بچیوں کی شادی کا مسئلہ ہے، اس میں جلد بازی جس کا آپ نے اظہار کیا ہے، بچیوں کے مستقبل کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، بچیوں کے زائچے کے مطابق ان کی شادی میں بہت زیادہ تاخیر نظر نہیں آتی، بڑی لڑکی کی شادی اس سال ہوسکتی ہے، البتہ چھوٹی کی شادی میں تاخیر کا امکان ہے۔

دوسری بات یہ بھی ہے کہ آپ ایک شخص پر ایک دم اتنا زیادہ بوجھ کیوں ڈالنا چاہتی ہیں کہ وہ دونوں لڑکیوں کی شادی اور پھر اپنی شادی کا بوجھ مختصر عرصے میں اٹھالے، آخر وہ ان لڑکیوں کا باپ ہے، آپ کو باپ سے زیادہ ان سے محبت ہے ؟ تو انہیں اپنے پاس رکھ لیں اور ان کی تعلیم و تربیت یا شادی کی ذمہ داری خود قبول کرلیں۔

بہر حال ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی بے جا مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہیں اور اس خیر خواہی میں ان لڑکیوں کے لئے مزید کوئی گڑھا کھود رہی ہیں ۔ ویسے بھی وہ لڑکیاں خاصے ٹیڑھے مزاج کی مالک ہیں ، خاص طور سے بڑی لڑکی ، اگر ان کو پہلے سے ہی آنے والی ماں سے خوف زدہ کردیا گیا اور باپ کے خلاف ان کے دل میں نفرت کا بیج بو دیا گیا تو پھر اس گھرانے کے مستقبل کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔