دماغی یا جنّاتی مریضوں کے علاج کا اہم ترین نکتہ

دماغی یا جنّاتی مریضوں کے علاج کا اہم ترین نکتہ

انسانی دماغ کی بو العجبیاں حیران کن اور قابل غور ہیں

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میں کچھ خطوط اور ای میلز ایسی موصول ہوئیں جن کا فرداً فرداً جواب دینا تو مناسب معلوم نہیں ہوا لیکن چونکہ موضوعات میں خاصی مماثلت تھی لہٰذا اس حوالے سے مسائل کی وضاحت و تشریح ہم ضروری سمجھتے ہیں‘ مندرجہ ذیل تحریر امید ہے کہ ایسے تمام قارئین کے لیے دلچسپ اور سبق آموز ہوگی۔

انسانی ذہن کی پے چیدگی اور اس سے جنم لینے والی بوالعجبی کا ہم پہلے بارہا تذکرہ کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں انسان سے عجیب و غریب حرکات اور حیرت انگیز کمالات وجود میں آتے ہیں، وہ اپنی ذہنی قلا بازیوں کے سبب کبھی سُپر نیچرل(مافوق الفطرت) قوتوں کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے تو کبھی ذہنی پسماندگی کے پست ترین درجے پر بھی نظر آتا ہے، ان دو صورتوں کے علاوہ تیسری صورت ”نارمل“ کہلا ئے گی جو عام انسانوں کا خاصہ ہے لیکن پہلی دونوں صورتیں ہمارے معاشرے میں عموماً جناتی و آسیبی صورتوں سے جا ملتی ہیں یعنی سُپر نیچرل قوتوں کا مظاہرہ یا ذہنی پسماندگی کا کوئی بھی درجہ ۔

 ذہنی پسماندگی کی مثالیں عام مشاہدے میں آتی رہتی ہےں جن میں طبی نفسیاتی اصطلاحیں مالیخولیا‘ شیز و فرینیا ‘ مرگی اور ہسٹریا نمایاں ہیں یا اس کے علاوہ بھی کوئی صورت ہو سکتی ہے جو بنیادی طور پر کسی جذباتی تناﺅ اورذہنی و روحانی بگاڑ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

سُپر نیچرل مظاہروں میں ہم نے مارشل آرٹ کے کھلاڑیوں اور عمل تنویم کے زیر اثر انسانوں کی غیر معمولی کارکردگی کی مثال بھی دیکھی ہے مگر ان مثالوں سے ہٹ کر بھی ہمیں کچھ ایسے واقعات و شواہد بہرحال ملتے ہیں جو انسان کی ذاتی صلاحیتوں ‘ خوبیوں اور خامیوں سے ماورا کسی نادیدہ وجود کی کارفرمائی کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔

 ماہرین نفسیات تو تقریباً ہر کیس کو ہسٹریا ہی قرار دیتے ہیں اور عموماً یہی ہوتا ہے اور پھر ایسے مریضوں کا علاج ہمارے نفسیاتی اسپتالوں میں اسی انداز میں کیا جاتا ہے کہ جس انداز میں عام ذہنی نفسیاتی مریضوں کا علاج ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں نتائج کیا نکلتے ہیں‘ مریض تندرست ہوتا ہے یا اس کا مرض مزید بھیانک شکل اختیار کر جاتا ہے؟

 ہمارے مشاہدے کے مطابق تو مروّجہ نفسیاتی طریقہ علاج جس میں”شاک تھراپی“ بھی شامل ہے‘ مریض کا شافی و کافی علاج کرنے سے قاصر ہے‘ ایسے مریضوں کی حالت مستقل مسکّن ادویات کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے مُردوں سے بدتر ہوجاتی ہے‘ ان کی ذہنی پسماندگی کا گراف اور بڑھ جاتا ہے، رہی سہی قوت ارادی بالکل ختم ہوجاتی ہے اور پھر وہ حقیقی معنوں میں اس قابل ہوجاتا ہے کہ کوئی بھی دیدہ و نا دیدہ قوت اسے اپنے اثر میں لے سکے‘ اس کے دل و دماغ پر قبضہ کر سکے۔

 دوسری طرف ہمارے معاشرے میں روحانیت کے نام پر جو طریقہءہائے علاج مروج ہیں، وہ بھی اکثریت میں ناقص بلکہ اکثر تو باطل ہیں کیوں کہ یہ علاج معالجہ کرنے والے اکثر پیر، فقیر اور عاملیت و کاملیت کا دعویٰ کرنے والے خود کس معیارِ علمی کے حامل ہوتے ہیں؟ اس کا اظہار کرنا ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ سادہ لوح اور کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے تو اتنی عقیدت ہی کافی ہوتی ہے کہ بابا جی بہت نیک اور مذہبی انسانی ہیں تو یقیناً ان کی روحانی قوتیں بھی بہت بلند ہوں گی‘ ان کی زبان سے کلام الٰہی سن کر بڑے سے بڑا جن لمحہ بھر میں بھاگ کھڑا ہوگا، ان کا دیا ہوا نقش و تعویذ اسے جلا کر راکھ کردے گا۔

 روحانی معالجین کا ایک اور گروہ بھی ہمارے معاشرے میں مصروف کار ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس جنات ہیں، موکلات ہیں۔ ارواحِ لطیفہ و خبیثہ ان کے رابطے میں رہتی ہیں اور یہ لوگ ان سے کام لیتے ہیں، ایسے افراد میں مرد بھی ہیں اور خواتین بھی۔

مردوں کا دعویٰ عموماً یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے چلّے وظیفے کر کے یہ قوتیں اپنے قابو میں کی ہیں یا انہیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملی ہیں جبکہ ایسے کسی ورثے کا دنیا میں کوئی تصّور نہیں ہے اور جہاں تک خواتین کے اس شعبے میں ماہر روحانیات ہونے کا تعلق ہے تو ان کی اکثریت ”حاضری“ یا ”سواری“ کی وجہ سے عاملہ و کاملہ بنی بیٹھی ہے حالانکہ انہیں خود علاج معالجے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ جس نفسیاتی بیماری کا شکار ہوگئی ہیں اس سے نجات پا کر اپنی حقیقی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔

ایسے تمام افراد سے اگر جنات، موکلات اور ارواح کے بارے میں گفتگو کی جائے یا اس حوا لے سے دینی موضوعات پر یا دنیاوی موضوعات پر بات ہو تو معلوم ہوگا کہ ان کی معلومات ان حوالوں سے صفر ہے یا جہالت کے آخری درجہ پر پہنچی ہوئی ہے‘ وہ سنی سنائی غیر مستند باتوں سے کم علم اور سادہ لوح افراد کو مزید گمراہی میں مبتلا کرتے ہیں۔

نفسیات یاد یگر جدید طبی علوم سے واقفیت تو خیر بہت دور کی بات ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ لوگ دین‘ شریعت اور طریقت کے بارے میں بھی انتہائی گمراہ کن باتیں معاشرے میں پھیلا رہے ہوتے ہیں، عقیدت مند آنکھ بند کر کے ان باتوں پر یقین بھی کر رہے ہوتے ہیں۔

کچھ سال پہلے ہمارے ٹی وی چینلز کے نکمے اور جاہل قسم کے اینکر پرسن اپنے پروگراموں کی خواتین میں مقبولیت کے لیے ایسے فراڈیے اور جاہل افراد کو ٹی وی پر پیش کرتے رہے ہیں اور بعد میں ان میں سے اکثر کی خود مٹی پلید بھی کی‘ ان کے کرتوتوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔

حاضری  اور  سواری کے حوالے سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ بعض خواتین و حضرات اپنی حاضری یا سواری کی نسبت کسی صاحب مزار سے ظاہر کرتے ہیں اور صاحب مزار بھی کوئی اولیا اللہ اور ان کا یہ دعویٰ سننے والے افراد ایک لمحے کو بھی یہ نہیں سوچتے کہ اولیاءکرام کی ارواح مقدّسہ کا مذکورہ دعویٰ کرنے والے سے رابطہ ممکن بھی ہے یا نہیں؟

 پہلی بات تو یہ غور طلب ہے کہ روح کے حوالے سے دین ہمیں کیا بتاتا ہے اور مستند اہل تصوف کی تحقیق و مشاہدات کیا ہیں؟ اور کیا ان کی روشنی میں کسی بزرگ کی روح مبارک ایسا کوئی رابطہ قائم کر سکتی ہے جیسا کہ عموما بتایا جاتا ہے؟ اور اگر بالفرض ایسا کوئی رابطہ ممکن بھی ہے تو اس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی علاج معالجے کی اور مروجہ صورت حال کی جس میں مریض کی حالت سدھرنے کے بجائے روز بہ روز بگڑتی چلی جاتی ہے، عارضی افاقے کو فائدہ سمجھ لیا جاتا ہے اور اس پر دائمی طور پر کار بند ہو کر صبر کرلیا جاتا ہے کہ اس کے سوا چارہ ہی کیا ہے؟

طریقہءاول جو ماہرین نفسیات کا ہے یعنی برقی جھٹکے لگا کر مریض کو وقتی طور پر ہوش میں لے آنا اور پھر بعد ازاں اسے مستقل طور پر ذہنی سکون کی دواﺅں کے زیر اثر رکھنا۔

دوسرا طریقہ جو ہمارے پیشہ ور ماہرین روحانیت کا ہے۔ وہ دم درود، نقش و فلیتے‘ مرچوں کی دھونی وغیرہ پر انحصار کرنا ہے اور جب معاملے اس طرح بھی قابو میں نہ آئے تو پھر مریض کو کسی مزار کا راستہ دکھا کر اپنی جان چھڑالی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اب معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے۔

مزارات پر کیا ہوتا ہے؟ اس کا نظارہ اکثر قارئین نے کیا ہوگا۔ ہم نے بھی ایسے نظارے دیکھے ہیں اور اکثر اپنے مضامین میں بیان بھی کیے ہیں لیکن کیا یہ ساری صورت حال اطمینان بخش ہے۔

ظاہر ہے جواب انکار میں ہی آئے گا‘ کیوں کہ ایسے مریضوں کو جو قوت در حقیقت شفا بخشی کی جانب گامزن کر سکتی ہے وہ ان کی اپنی قوت ارادی ہے جسے مذکورہ بالا طریقے تو اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں،

ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے مریضوں کی سوئی ہوئی خود اعتمادی اور قوت ارادہ کو جگانے کی کوشش کی جائے جس کی مدد سے وہ شیزو فرینیا (تقسیم شدہ شخصیت) مالیخولیا (ذہنی خبط و مراق) ہسٹریا (جذباتی تناﺅ) مرگی (حواس کی کارکردگی میں خلل) وغیرہ جیسی بیماریوں کا مقابلہ کر سکیں یا اگر کسی آسیبی و جناتی گرفت میں بھی آ چکے ہےں تو اس سے خود کو آزاد کر سکےں کیوں کہ ایسے معاملات میں کوئی بیرونی امداد ( دواﺅں کی ہو یا نقش و تعویذ کی ) ہمیشہ اس کی مدد گار نہیں رہ سکتی۔ اسے خود بھی اس مقابلے میں اپنی قوتوں سے کام لینا ہوگا۔

 اس موقع پر ہمیں حضرت رئیس امروہوی یاد آ رہے ہیں جو اس موضوع پر بھی محققانہ انداز میں لکھتے رہے ہیں‘ ان کے خیالات سے ممکن ہے بعض لوگوں کو اختلاف ہو مگر ان کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات اور تجزیہ غور طلب ضرور ہے‘ وہ لکھتے ہیں۔

ہم اس قسم کے معمولوں کو ( جس کی مثال کسی حقیقی جن زدہ کے واقعے میں ملتی ہے ) جن گرفتہ اور آسیب زدہ سمجھیں یا ہسٹریا اور شیزو فرینیا کی مریضہ‘ عام طور پر معمول لڑکیاں اور مریض مرد واقعی دماغی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں البتہ دس پندرہ ہزار دماغی مریضوں میں ایک آدھ کیس ایسا بھی ہوتا ہے کہ مریض کسی نادیدہ طاقت کے زیر اثر آجاتا ہے۔

ڈاکٹر مسعود چشتی نے جس مریضہ کا ذکر کیا ہے، میں تو اسے صرف ہسٹریا کی مریضہ ماننے پر تیار نہیں، وہ اکبر شاہ جن ہوں یا جہانگیر شاہ عفریت بہر حال اس کی شخصیت کا مرکزی حصہ کسی جناتی طاقت کی گرفت میں ضرور ہے۔

مقررہ تاریخ پر یعنی 29 اگست کو سانپ کا ڈسنا اور ہر سال ڈسنا! دورے کی حالت میںپانی کا پورا گھڑا ڈگ ڈگا کر پی لینا! چائے کی بھری ہوئی گرما گرم کیتلی منہ سے لگا کر غٹ غٹ چڑھا جانا! اچھل کر چھت پر چڑھ جانا! یہ سب مافوق العادت ( پیرا نارمل) کام یا کارنامے ہیں۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہسٹریا کے مریض میںفوق البشری طاقت پیدا ہوجاتی ہے اور جس طرح ہیپناٹزم کا معمول تنویمی نیند میں عامل کی ہدایت پر ایسے کارنامے انجام دیتا ہے کہ عام آدمی حیران رہ جاتا ہے یا پاگل آدمی جنون کے دورے میں چار چار پانچ پانچ آدمیوں کے قابو سے نکل جاتا ہے۔ اسی طرح ہسٹریا کا مریض شعور معطل ہونے یعنی عالم بے خبری میں بہت کچھ کرتا اور کر سکتا ہے۔

میں نے ہسٹریا اور آسیب زدگی کے بے شمار کیسوں کا مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجے تک پہنچا ہوں کہ ہسٹریا کا دورہ ہو یا جنات کا دورہ، ان دونوں کی علامتیں مشترک ہوتی ہیں، دماغی مریضوں میں قوت ارادی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، انسانی انا میں ہوں“ کا سب سے بڑا مظہر اس کا ارادہ ہے‘ اگر ارادے کی قوت معطل ہوجائے تو انا ایک موہوم تصور بن کر رہ جاتی ہے، ہسٹریا اور شیز وفرینیا کے مریض آزاد ارادے کی قوت سے محروم ہوتے ہیں۔

ان کے نفس کا یہ خانہ خالی ہوتا ہے اور مثل مشہور ہے کہ ”خانہءخالی رادیومی گیرد“ یعنی خالی گھروں پر بھوت پریت قبضہ کر لیتے ہیں، یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ جنات نامی ایک مخلوق موجود ہے اور ہمارے گرد و پیش کار فرما ہے‘ ہم یہ تصور کر سکتے ہیں کہ جن عورتوں اور مردوں کی دماغی فعلیت اورذہنی میکانزم ابترہوجاتا ہے، ان پر نہایت آسانی کے ساتھ کوئی پُر اسرار طاقت مسلط ہوجاتی ہے یعنی دماغی دورے اور جن گرفتگی کسی حد تک لازم و ملزوم ہیں۔

عربوں کا تصور یہ تھا کہ مجنون جن گرفتہ ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تصور میں بہت حد تک صداقت موجود ہے، اگر ہم مضبوط ارادے کے مالک ہوں تو ہم جذبات سے مغلوب ہو سکتے ہیں نہ جنات سے جب انسانی ارادہ فاتحِ کائنات ہے تو فاتحِ جنات کیوں نہ ہوگا ؟ جس مشت خاک کو فرشتے سجدہ کر چکے ہیں، اسے آتشی مخلوق سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے البتہ جب انسانی دماغ کے قویٰ یعنی اس کی ذہنی اور اعصابی قوتیں کسی گہرے اور دوررس جذباتی دھچکے کی بنا پر تلپٹ ہوجاتی ہےں تو اس پر کوئی بھی سواری گانٹھ سکتا ہے‘ جن ہو یا آسیب ‘ ہسٹریا کا حملہ ہو یا شیزہ وفرینیا کا‘مختصر یہ کہ دماغ کے ایب نارمل کیسوں میں ایک سپر نارمل عنصر ضرور شامل ہوتا ہے“

 عزیز ان من!دیکھا آپ نے!زور کس بات پر ہے؟ انسانی کی قوت ارادی کی کمزوری یا توانائی، دونوں صورتوں کا نتیجہ ظاہر ہے، کمزوری کا شکار افراد بھی آپ نے دیکھے ہوں گے اور توانائی سے مالا مال افراد کے قصے بھی ضرور سنے ہوں گے کہ انہوں نے تن تنہا کسی جن سے مقابلہ کیا‘ فن پہلوانی کے شائق حضرات یہ بات جانتے ہیں کہ پہلا رستم ہند (برصغیر کی تاریخ میں) صدیقا گلگو پہلوان ایک جن سے کشتی لڑ چکا ہے۔ بہر حال ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جن کا تذکرہ کر کے ہم بات کو طول نہیں دینا چاہتے‘ اس ساری گفتگو سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ نفسیاتی امراض ہوں یا آسیبی ہمارے مروجہ طریق علاج اس سلسلے میں زیادہ کارآمد نہیں ہیں‘ انشاءاللہ اس موضوع پر آئندہ بھی تفصیلی گفتگو جاری رہے گی۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔