امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی متنازع شخصیت

وہ زندگی کے ہر معاملے کو کاروباری نظر سے دیکھتے ہیں
امریکا درحقیقت ایک مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہا ہے

متنازع شخصیت کے مالک مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ 14 جون 1946 ءکو جمیکا میں صبح 10:54 am پر اس جہان فانی میں تشریف لائے، ویدک سسٹم کے مطابق ان کا شمسی برج ثور ہے اور برتھ سائن اسد (Leo) ہے جب کہ قمری برج عقرب اور پیدائشی نچھتر جیشیٹھا ہے۔
برج اسد کو بادشاہوں کا برج کہا جاتا ہے،طالع کے درجات 6 درجہ 51 دقیقہ ہیں اور سیارہ مریخ برج اسد میں طالع کے درجات سے قران کر رہا ہے،مشتری دوسرے گھر میں برج سنبلہ میں ہے اور راہو کی نظر کا شکار ہے،یہ اس بات کی نشان دہی ہے کہ صاحب زائچہ ایک گیمبلر ہیں، ان کی زندگی میں داو¿ لگانے ، بلف کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
چوتھے گھر میں کیتو اور قمر حالت قران میں ہےں،دسویں گھر میں راہو اور شمس حالت قران میں ہیں گویا راہو کیتو محور کے ساتھ زائچے کے دو اہم سیارگان قمر اور شمس بری طرح متاثرہ ہیں، دوسرے گھر کا حاکم سیارہ عطارد گیارھویں گھر میں طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے،گویا اس زائچے کے سب سے زیادہ سعد و باقوت سیارے عطارد اور مشتری ہےں،زہرہ اور زحل بارھویں گھر میں ہیں، زحل کی بارھویں گھر میں موجودگی ان کے مشیروں کے مشوروں کو مشکوک بناتی ہے اور مسٹر ٹرمپ کے لوگوں سے تعلقات کو بھی غیر مخلصانہ ظاہر کرتی ہے۔

سیارہ قمر کا تعلق انسانی زندگی میں دماغ سے ہے، جب کہ سیارہ عطارد ذہن سے اور ذہانت سے وابستہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ غیر معمولی ذہین ، ہوشیار، چالاک شخصیت کے مالک ہیں لیکن قمر کی برج عقرب میں موجودگی اور راہو کیتو سے اشتراک دماغی کجروی ، کسی حد تک پاگل پن ظاہر کرتا ہے، قمر زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہے، اس کی یہ پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ مسٹر ٹرمپ کی زندگی میں بہت کچھ ایسا بھی ہے جو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے ، وہ جیسے نظر آتے ہیں درحقیقت ویسے نہیں ہیں۔
بے شک اسد افراد شاہانہ مزاج ، فیاض، بالغ نظر اور بہت سی دیگر اعلیٰ صفات کے حامل ہوتے ہیں،خاص طور پر انتظامی صلاحیتیں بھرپور ہوتی ہیں، یہ لوگ بزنس مائنڈ ہوتے ہیں اور اپنے ذاتی بزنس میں بہت ترقی کرتے ہیں لیکن کسی بھی زائچے میں کسی بھی برج کی بنیادی خصوصیات میں منفی یا مثبت اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اس برج کے حاکم کی پوزیشن دیکھی جاتی ہے،مزید یہ کہ اس برج پر دیگر سیارگان کے اثرات کس نوعیت کے ہیں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ برج اسد کا حاکم سیارہ شمس کمزور ہے اور راہو کیتو محور میں پھنس کر برج اسد کی مثبت خصوصیات کو تباہ کر رہا ہے،راہو سے قران اور کیتو سے مقابلہ ، بالغ نظری کے بجائے کینہ پروری اور دیگر منفی کمزوریوں کی نشان دہی کر رہا ہے،راہو کی مشتری پر بھی نظر ہے جو پانچویں شعور کے گھر کا حاکم ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ صاحب زائچہ کا شعور بھی منفی اثرات سے پاک نہیں ہے، البتہ راہو اور مشتری کی نظر ایسے بزنس میں بے پناہ کامیابی کا باعث ہوسکتی ہے جو اخلاقی نظریات کے مطابق ناجائز قرار پاتے ہیں، پیدائشی برج کے حاکم شمس کی متاثرہ پوزیشن صاحب زائچہ کے نزدیک جائز و ناجائز کے فرق کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی، صرف اپنے ذاتی مفاد کو اولیت دی جاتی ہے،اس کے علاوہ برج اسد کی انا پرستی بھی عروج پر پہنچتی ہے، ایسے لوگ تنقید برداشت نہیں کرسکتے اور تعریف کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
مریخ نویں گھر کا حاکم ہوکر طالع کے درجات سے قران کر رہا ہے،جس کے نتیجے میں مذہبی اور نظریاتی انتہا پسندی نمایاں ہوتی ہے، قمر اور شمس کے ساتھ کیتو کے نظرات بھی ہیں جو نظریاتی طور پر زیادہ شدت پسندی لاتے ہیں، مثبت پہلو یہ ہے کہ ایسے شخص پر قسمت ہمیشہ مہربان رہتی ہے۔
قمر برج عقرب میں ہبوط یافتہ اور راہو کیتو سے متاثرہ ہوکر فطری طور پر حسد ، جیلسی ، تنگ نظری اور دیگر اخلاقی برائیوں کو جنم دیتا ہے،چوں کہ برج عقرب ایک واٹر سائن ہے اور قمر یہاں ہبوط کا شکار ہوتا ہے،قمر کا تعلق دماغ سے ہے لہٰذا ایسے افراد راہو، کیتو کے اثرات کی وجہ سے اگر ذہنی اور نفسیاتی مریض بن جائیں تو حیرت نہیں ہونی چاہیے، اب تک اخبارات میں موصوف کے بارے میں جو جنونی نوعیت کے قصے سامنے آئے ہیں وہ قمر کی اس خرابی کی وجہ سے ہےں۔
سونے پر سہاگا یہ کہ قمر چاند کی منزل جیشٹھا میں ہے،یہ بڑا ہی جارح اور جنونی نچھتر ہے،اگرچہ اس پر ذہانت کے سیارے عطارد کی حکمرانی ہے لیکن زائچے کی دیگر آراستگی کا رُخ منفی ہے لہٰذا غیر معمولی ذہانت کا رُخ بھی منفی ہوگا، مشہور امریکی ارب پتی ہاورڈ ہیوز کی پیدائش بھی اسی نچھتر میں ہوئی تھی جو ”خبطی ارب پتی“ کے نام سے مشہور ہوا، ان لوگوں میں منفی اثرات کی وجہ سے عجیب و غریب عادتیں یا رجحانات پیدا ہوتے ہیں جو ابتدائی زندگی میں ہی نمایاں ہونے لگتے ہیں، ان کا حلقہ ءاحباب محدود ہوسکتا ہے یا وہ تنہائی پسند اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے لگتے ہیں،ایک گُھنی یا منافقانہ فطرت کا مشاہدہ اس نچھتر کی خصوصیات میں کیا جاسکتا ہے،ایک عجیب تضاد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سختی سے مذہبی رجحان ظاہر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مادّی آسائشوں کے متوالے بھی ہوتے ہیں،اکثر کیسوں میں مادّیت کے زیر اثر مذہب سے لاتعلق بھی ہوسکتے ہیں۔
اس نچھتر کا بنیادی محرک مادّی ترقی ہے، یہ لوگ خود خیالی اور خود توقیری کے مابین ایک باطنی جنگ میں مصروف رہتے ہیں،ایسٹرولوجی ایسے لوگوں کو گھمنڈ ، تکبر اور انانیت کی روک تھام کرنے کا مشورہ دیتی ہے،یہ لوگ چڑچڑے، بدمزاج اور جھگڑالو فطرت کے ہوسکتے ہیں،بے شک یہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے سبب اعلیٰ مقام تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں،اپنی فطرت میں یہ قمری منزل غیر انسانی (راکھشش) ہے، ایسے لوگ زندگی میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے کے لیے بے چین ہوتے ہیں گویا وہ ایک عام زندگی پسند نہیں کرتے، دوسروں کے مقابلے میں کچھ نیا اور سب سے الگ کرنے یا کرکے دکھانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں، گرم مزاج اور ہٹ دھرم ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اپنے اندازوں پر انحصار کرتے ہیں، دوسروں سے مشورہ لیتے ہوئے انھیں شرمندگی ہوتی ہے، فوری فیصلہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔
اس نچھتر (قمری منزل)کے زیر اثر پیدا ہونے والی دیگر مشہور شخصیات میں عیسائی فرقے کا بانی مارٹن لوتھر، ماہر فلکیات کوپر نیکس، اطالوی فلسفی نطشے، جرمن موسیقار موزارٹ، عظیم مصور ونسٹ وین گوگ، خبطی ارب پتی ہاورڈ ہیوز، بدنام زمانہ لارنس آف عربیہ،الپسینو، بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واج پائی،پاکستانی سیاست داں اور دانش ور رسول بخش پلیچو وغیرہ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ فطری رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے مکمل زائچے کی ساخت پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ جس قمری منزل میں پیدا ہوئے ہیں ، اس میں پیدا ہونے والے بعض دیگر مشہور افراد کی بھی ہم نے نشان دہی کی ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ یہ تمام لوگ اپنی فطرت میں مکمل طور سے مسٹر ٹرمپ جیسے ہوں، ہاں یہ ضرور ہے کہ تقریباً 75 فیصد خصوصیات مشترک ہوں گی اور اس فرق کی وجہ کسی کے انفرادی زائچے کی جداگانہ ساخت ہوسکتی ہے،دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہماری بعض خوبیاں دنیاوی معاملات میں اکثر خامیاں بن جاتی ہیں اور بعض خامیاں خوبیاں بن جاتی ہیں، مثلاً فیاضی، داد و دہش اگر ایک طرف عمدہ خصوصیات میں شمار ہوگی لیکن دنیاوی اعتبار سے کبھی کبھی سخت نقصان دہ بھی ثابت ہوتی ہے، رسک لینے کی فطرت اگر نقصان دہ ہوسکتی ہے تو کامیابی کی صورت میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے میں بھی معاون ہوسکتی ہے، وہ مشہور شعر کو ضرور آپ نے سنا ہوگا

گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا لڑیں گے جو گھنٹوں کے بل چلیں

مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ رسک لینے والے اور نت نئے تجربات کرنے والے انسان ہیں، ان کے زائچے کی ساخت و پرداخت اگرچہ انھیں کچھ زیادہ ہی رسک لینے والا ، گیمبلر، بہت زیادہ اوور کانفیڈنس کا شکار بناتی ہے مگر ایسے ہی لوگ مثبت یا منفی کوئی غیر معمولی قدم بھی اٹھاسکتے ہیں، مسٹر ٹرمپ کی ظاہری و باطنی شخصیت سے آشنائی کے بعد ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں کرسکتے۔
جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی ہے کہ وہ ایک بزنس مائنڈ شخصیت کے مالک ہیں، اپنے کردار و عمل میں بھی بزنس کو اولیت دیتے ہیں اور ایک کامیاب بزنس مین ہیں،امریکا کا صدر بننے کے بعد انھوں نے امریکا کی معاشی ترقی کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھا اور دیگر ملکوں سے اہم تجارتی معاہدات کیے، جب وہ سیاست میں آئے تو زائچے میں راہو کا مین پیریڈ (دور اکبر) جاری تھا، ان کا باقاعدہ رابطہ امریکا کی کسی پارٹی سے نہیں تھا، ماضی میں وہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹی کو وقتاً فوقتاً سپورٹ کرتے رہے ہیں،بہرحال صدارت کے لیے ان کی نام زدگی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے ہوئی، سال 2016 ءمیں جب انھوں نے الیکشن میں حصہ لیا تو راہو کے مین پیریڈ میں سیارہ مریخ کا سب پیریڈ (دور اصغر) جاری تھا، مریخ ان کے زائچے کا لکی سیارہ ہے کیوں کہ نویں گھر (بھاگیہ استھان) کا مالک اور زائچے کے پہلے گھر میں براجمان ہے، انھیں الیکشن میں کامیابی حاصل ہوئی اور پھر 16 نومبر 2016 ءسے زائچے میں سیارہ مشتری کا مین پیریڈ اور سب پیریڈ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے، مشتری کی پوزیشن زائچے میں بہت بہتر ہے اور وہ زائچے کے دوسرے گھر میں موجود ہے، جب کہ پانچویں گھر کا حاکم ہے، چناں چہ ان کے اسٹیٹس میں اضافہ ہوا اور انھوں نے گزشتہ سالوں میں اپنے مزاج اور فطرت کے مطابق جو اقدام اور فیصلے کیے وہ ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن گئے، تاحال وہ اسی روش پر قائم ہیں، اس سال 4 جنوری 2019 ءسے زائچے میں سیارہ زحل کا سب پیریڈ شروع ہوا جو اگرچہ زائچے کا سعد سیارہ ہے لیکن زائچے کے بارھویں گھر میں موجود ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو بہت اچھے مشیر میسر نہیں آتے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اکثر اپنے مشیروں اور وزیروں سے خوش نہیں رہتے، انھیں تبدیل کرتے رہتے ہیں، موجودہ سال میں چوں کہ سیارہ زحل تقریباً سارا سال ہی راہو کیتومحور میں پھنسا رہا ہے لہٰذا اس سال بھی یقیناً انھیں اپنے مشیروں سے معقول مدد و معاونت نہیں ملی ہوگی، اسی طرح امریکی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ان کے اختلافات سامنے آتے رہے ہیں اور ابھی تک ہیں۔
اگر زائچے کے پہلے گھر کا حاکم سیارہ متاثرہ ہو تو ایسے افراد اکثر عجیب و غریب حرکات کرتے نظر آتے ہیں، یہ پہلو بھی مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کی لائف میں نمایاں ہیں اور آئندہ بھی رہے گا، اگلے سال وہ دوبارہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، ان کی کامیابی یا ناکامی کا درست فیصلہ تو اسی صورت میں ہوسکے گا جب ان کے مخالف امیدوار کے برتھ چارٹ کو بھی سامنے رکھا جائے لیکن خود ان کے برتھ چارٹ کی پوزیشن آئندہ سال بہت بہتر نظر نہیں آتی، خصوصاً ستمبر سے نومبر 2020 ءتک ، آئندہ سال ان کے زائچے میں زحل اگرچہ چھٹے گھر میں ہوگا اور اپریل ، مئی، جون میں سیارہ مشتری بھی چھٹے گھر میں ہبوط یافتہ ہوگا ، شاید انہی دنوں میں پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ ہوگا، ممکن ہے انھیں پارٹی ٹکٹ سے بھی محروم ہونا پڑے، چناں چہ ان کی کامیابی کے بارے میں قوی امکانات نظر نہیں آتے، بہر حال امریکا کی تاریخ میں انھوں نے اپنا نام ایسے امریکی صدور کی فہرست میں لکھوالیا ہے جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ آج کل ایک اسکینڈل کی زد میں ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہوچکی ہے، یہ مسئلہ خاصی سنگین نوعیت اختیار کرسکتا ہے، ماضی میں صدر نکسن ایسی ہی صورت حال میں اپنے عہدے سے استعفا دینے پر مجبور ہوگئے تھے، یہ کارروائی اگر زیادہ طول پکڑے گی اور نومبر تک دراز ہوگی تو امکان ہے کہ وہ اس مواخذے سے بچنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیوں کہ نومبر میں سیارہ مشتری زائچے میں سپورٹنگ پوزیشن میں آچکا ہوگا لیکن نومبر سے جنوری تک تین مہینے ان کی شہرت اور حیثیت کو چیلنج کرنے والے خاصے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
جہاں تک آنے والے سال 2020 ءمیں ان کی ذاتی کارکردگی کا سوال ہے تو نئے سال میں ان کا سارا زور آنے والے الیکشن پر ہی رہے گا جس میں کامیابی کے امکانات بہت کمزور نظر آتے ہیں۔

امریکی برتھ چارٹ


صدر امریکا کے ساتھ ہی ایک نظر امریکی زائچے پر بھی ڈالنا ضروری ہے جو درحقیقت اس سال جون سے اچھی پوزیشن میں نہیں ہے، امریکا کے زائچے میں سیارہ شمس کا دور اکبر جاری ہے، شمس زائچے کا نہایت طاقت ور اور سعد سیارہ ہے لیکن اس سال فروری سے شمس کے دور اکبر میں سیارہ زحل کا دور اصغر چل رہا ہے جو آئندہ سال 26 جنوری تک جاری رہے گا، زحل امریکی زائچے کا سب سے زیادہ فعلی منحوس سیارہ ہے، دیگر سیارگان کی پوزیشن بھی خاصی خراب نظر آتی ہے، چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ سال امریکا کے لیے بہت اچھا سال نہیں رہا ہے اور ابھی تک صورت حال بہتر نہیں ہے، اندرونی خلفشار، حادثات، سمندری طوفان، عوام میں بے چینی اور اضطراب کے علاوہ بیرون ملک معاملات بھی اطمینان بخش نہیں ہیں ، ایران سے محاذ آرائی اپنے عروج پر ہے اور اس اندیشے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ امریکا ایران کے خلاف کوئی سخت کارروائی کر بیٹھے، افغانستان میں بھی طالبان سے جو معاہدہ ہونے والا تھا اسی خراب صورت حال کی وجہ سے نہیں ہوسکا اور آنے والے مہینوں میں اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا، افغانستان میں امریکا کے لیے مزید مسائل بڑھ سکتے ہیں، اسی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی امریکی کردار پر نئے سوالات اٹھیں گے جو اس کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوں گے، امریکی خارجہ پالیسی بھی نئے تنازعات اور مسائل کا شکار ہوگی، امریکی زائچے کے مطابق 15 نومبر سے 15 دسمبر تک امریکا کے لیے خاصا مشکل اور نئے چیلنج لانے والا وقت ہوگا جس میں صدر ٹرمپ کا کردار پہلے سے بھی کچھ زیادہ ہی متنازع ہوسکتا ہے۔
26 جنوری 2020 ءسے امریکی زائچے میں سیارہ عطارد کا دور اصغر شروع ہوگا تو صورت حال تبدیل ہوگی اور امریکا موجودہ دورانی صورت حال سے نکلنے میں کامیاب ہوسکے گا، مرکری کا سب پیریڈ 2 دسمبر 2020 ءتک جاری رہے گا اور امکان یہی ہے کہ اس عرصے میں امریکا کو افغانستان سے نکلنے کا موقع بھی مل سکے گا، امریکا کی خارجہ پالیسی میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں گی جو مثبت ہوں گی (واللہ اعلم بالصواب)