ذہانت، حافظہ اور قوت ارادی کے لیے ایک سادہ طریقہ

ذہانت، حافظہ اور قوت ارادی کے لیے ایک سادہ طریقہ

بہت ہلکی پھلکی لیکن انتہائی موثر سانس کی مشق

برسوں ہم نے پیراسائیکولوجی کے حوالے سے لکھا ہے، در حقیقت یہ ایک ایسا موضوع ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا، کہا جاتا ہے کہ جہاں علم نفسیات کی حدود ختم ہوتی ہے، وہاں سے مابعد النفسیات کی عظیم سلطنت کا آغاز ہوتا ہے، زیر نظر تحریر بھی ہماری ایک پرانی کتاب سے لی گئی ہے جو اب آوٹ آف پرنٹ ہے اور اس کا خیال اس لیے آیا گزشتہ دنوں ایک لڑکی نے اپنی بعض کمزوریوں کا ذکر کیا کہ وہ جو کچھ پڑھتی ہے اسے یاد نہیں رہتا، وہ اپنے ارادوں پر عمل کرنے میں اکثر ناکام رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں حافظے کی کم زوری، پڑھائی میں بے توجہی، مزاج میں چڑا چڑا پن ، ذہانت کی کمی، اپنے روز مرہ فرائض سے غفلت، بے خوابی، ذہنی بے چینی، اختلاج قلب، غیر مستقبل مزاجی وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں اس کے علاوہ بھی بے شمار شکایات اور تکالیف ایسی ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی طور پر دماغ سے ہوتا ہے، حد یہ کہ اکثر سحر و آسیب سے متعلق مریض یا مرگی جیسی بیماری میں مبتلا افراد کا معاملہ کسی نہ کسی دماغی پیچیدگی سے ہی وابستہ ہوتا ہے۔

ہم نے دماغ کی کارکردگی کے بارے میں لکھا تھا اور اس حوالے سے آکسیجن کی اہمیت پر زور دیا تھا، ساتھ ہی ایک نہایت آسان اور سادہ سی سانس کی مشق بھی متعارف کرائی تھی جو دماغی اور قلبی کم زوریوں پر قابو پانے میں معاون اور مددگار ثابت ہوسکتی تھی، جن لوگوں نے اس سے استفادہ کیا،بہترین نتائج مشاہدہ کیے،یہ مشق لو اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوئی ہے۔

ہمارے پرانے قارئین کے پاس یقینا یہ مشق محفوظ ہوگی مگر جب نئے پڑھنے والوں اورسوال کرنے والوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ فلاں مشق شروع کیجیے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس سے واقف ہی نہیں لہٰذا ہم اسے ایک بار پھر دہرانا ضروری خیال کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ اور بھی ہے، ٹنڈوآدم سے ہماری ایک قاری شہناز جونیجو نے سوال کیا تھا کہ آپ پیراسائیکولوجی کے ہر شعبے میں سب سے پہلے سانس کی مشق ہی کیوں تجویز کرتے ہیں، ہپناٹزم، ٹیلی پیتھی، مستقبل بینی، غرض کوئی بھی پیراسائیکولوجی کی شاخ ہو، آپ سب پہلے سانس کی مشق شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جب کہ میں نے اکثر کتابوں میں مختلف طریقہ کار دیکھے اور پڑھے۔ مثلاً ہپناٹزم کے لیے دائرہ یا دھبہ بینی اور ٹیلی پیتھی کے لیے شمع بینی، سورج بینی یا مراقبہ وغیرہ پہلے شروع کرایا جاتا ہے جب کہ اس معاملے میں آپ کا طریقہ کار بالکل الٹ ہے۔ ابھی تک آپ نے دائرہ بینی یا دھبہ بینی قسم کی کوئی مشق تجویز نہیں کی،شمع بینی سے بھی گریز کا مشورہ ہی دیا ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت فرمادیں۔

شہناز جونیجو کے خط سے اقتباس آپ نے ملاحظہ فرمایا، یہ خط بھی سانس کی مشق نمبر 2کو دہرانے کا سبب بن گیا ہے۔ شہناز ایک ذہین طالبہ ہیں اور گزشتہ چند ماہ سے ہمارا تجویز کردہ کورس خوش اسلوبی سے کر رہی ہیں۔ آب آئیے اصل مسئلے کی طرف۔

ہم ہی نہیں، تمام ماہرین پیراسائیکولوجی اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری تمام تر باطنی، دماغی اور جسمانی قوتوں کا دارومدار آکسیجن اور دماغ پر ہے اور یہی دونوں عناصر ہماری زندگی کے لیے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا روحانی علوم کی ہر شاخ سے متعلق ریاضتیں ان کی محتاج ہیں، کون نہیں جانتا کہ بہترین صحت کے لیے آکسیجن ایک نہایت اہم ضرورت ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی موٹر کار کے لیے پیٹرول، اگر آکسیجن کی کوئی قیمت مقرر ہوتی تو لوگ ہر قیمت پر اسے خریدتے کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال ہے لیکن چوں کہ یہ ہمیں مفت میں مل جاتی ہے اس لیے ہم اس کی صحیح قدر و قیمت اور ضرورت سے بخوبی علم و آگہی نہیں رکھتے۔

آکسیجن حاصل کرنے کا واحد ذریعہ سانس ہے۔ یہ جاننے کے لیے ہمارے بدن میں موجود خلیات کے لیے آکسیجن کتنی ضروری ہے، ہمیں انسانی جسم میں آکسیجن کی آمدورفت کے نظام پر ایک نظر ڈالنا پڑے گی۔

 اگر ہم اپنے پھیپھڑوں پر توجہ کریں تو ان میں ہوا کی 75 کروڑ تھیلیاں پائیں گے جن میں سے آکسیجن گزر کر ہماری خون کی نالیوں میں پہنچتی ہے۔ اگر ہم ایک پھیپھڑے سے ان تھیلیوں کو نکال کر کسی کھلی جگہ پر پھیلادیں تو یہ اوسطاً 465 مربع فٹ جگ لیں گی۔ انسان کے بدن کے تمام خون کا چوتھا حصہ ہر سیکنڈ میں پھیپھڑوں میں سے گزرتا ہے(تقریباً ہر صحت مند انسان میں ڈیڑھ گیلن خون ہوتا ہے) خون اس ہوا سے جو ہم سانس میں لیتے ہیں، آکسیجن لے کر خلیات میں واپس دورہ کرتا ہے۔ وہ خلیات جن کا کام بدن میں آکسیجن کی آمدورفت کو جاری رکھنا ہے، یہ سرخ رنگ کے ہوتے ہیں، یہ خون کے ہر قطرے میں تقریباً چار ملین (40لاکھ) کے لگ بھگ پائے جاتے ہیں، ہر خلیہ اتنی شدید محنت کرتا ہے کہ وہ تقریباً 90 دن تک زندہ سلامت رہتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزانہ ہر سیکنڈ میں ایک کروڑ 20 لاکھ خلیات پیدا ہونے چاہئیں تاکہ انسان کے سارے بدن میں کروڑوں خلیات کو خون پہنچایا جاسکے۔

دماغ کے ماہرین اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آکسیجن کی کمی کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ احساس کرنے والے خلیات ہمارے دماغ میں ہی ہوتے ہیں، اب جب کہ روحی یا روحانی علوم کی تمام مشقوں کا انحصار ہی ہمارے دماغ پر ہے، اس صورت میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آکسیجن ہمارے جسم خصوصاً دماغی قوت کے لیے کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔

ہمارا دماغ ہمارے جسمانی نظام کو قائم رکھنے کے لیے ایک ”پاور ہاوس“ یا بجلی مہیا کرنے والے آلے کی حیثیت بھی رکھتا ہے ۔ اس کی فراہم کردہ برقی قوت سے ہمارے تمام اعصاب کام کرتے ہیں اور اس کی دی ہوئی بجلی سے ہمارے حواس تازہ دم اور بحال رہتے ہیں، اسی مرکز سے جاری ہونے والی برقی رو سے ہماری ”جان“ یا ہماری زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیے اگر ہمارا یہ جسمانی ” بجلی گھر” فیل ہوجائے یا کمزور پڑ جائے تو ہماری جسمانی حالت کیا ہوگی؟

ہمارا دماغ بجلی کیسے پیدا کرتا ہے اور اپنی ضروریات کہاں سے پوری کرتا ہے؟ یہ دماغی بجلی کہاں سے آتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو منطقی طور پر پیدا ہونے چاہئیں تو عرض یہ ہے کہ ہمارے دماغ کی تمام ضروریات کی کفالت آکسیجن کرتی ہے اور اس کا سرچشمہ ”ہوا“ ہے جسے ہم سانس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔

اگر بذریعہ سانس صاف آکسیجن اپنے پھیپھڑوں میں بھر لی جائے تو وہ ہوا ہمارے خون میں گردش کرکے بدن میں برقی رو پیدا کرتی ہے، وہی برقی رو ہمارے باطنی اور جسمانی قوتوں کو نکھارنے، بڑھانے اور پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب بھی سانس کے ذریعے آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے تو سب سے پہلے دماغ کے اعلیٰ ترین مراکز اس سے شدید متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عقل میں کمی، چڑچڑاپن، بے خوابی اور قوت ارادی میں شدید کمی اور دیگر بڑی بڑی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں جب کہ کسی بھی نوعیت کی تعلیم و تربیت یا زندگی کی جدوجہد میں ہمیں ہروقت ذہانت، خوش مزاجی، صبر و برداشت، حوصلہ مندی اور مضبوط قوت ارادی کی ضرورتی ہوتی ہے۔ روحی یا روحانی علوم کے حصول کے لیے کی جانے والی ریاضتوں میں یہ ضرورت کچھ اور بڑھ جاتی ہے۔

ایک مشہور ڈاکٹر فرماتے ہیں کہ بدن میں آکسیجن کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو ذہانت اور احساسات سست اور کمزور پڑ جاتے ہیں اور متاثرہ شخص کو علم بھی نہیں ہو پا تا کہ وہ کند ذہن، غبی اور بے حس ہوتا جارہا ہے، وہ چڑچڑا ہوکر، جھگڑالو ہوجاتا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر جوزف کا کہنا ہے کہ جب کسی شخص کے دماغ میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے تو اس میں بے صبری اور ملتون مزاجی کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جان ایس ایس ہیلڈا نے یہ دریافت کیا کہ جب انسانی دماغ میں آکسیجن کی کمی واقع ہوجاتی ہے تو آدمی کی عقل اور یادداشت میں خلل پیدا ہوجاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ معمولی معمولی سوالات کے جوابات بھی احمقانہ انداز میں دیتا ہے۔مزید برآں وہ اپنے تئیں پورا پورا یقین رکھتا ہے کہ وہ اپنے پورے وجود پر قابض ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان کی نسوں اور اعصاب کا سلسلہ نارمل نہیں رہتا۔ دماغ بہتر طور پر کام نہیں کرتا، احساسات شدید متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جذبات قابو میں نہیں رہ سکتے۔

ملاحظہ فرمایا آپ نے، آکسیجن کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دماغی کمزوریوں کا احوال۔ ہمارے ملک میں شہروں میں خصوصاً ماحولیاتی آلودگی کی زیادتی اور نامناسب طرز رہائش کے سبب بھی تازہ اور صاف ہوا کا فقدان ہمیں ذہنی مریض بنارہا ہے۔ ہمارے دماغ آکسیجن کی کمی کا شکار ہوکر کم زور ہوتے جارہے ہیں اور وہ تمام شکایات عام ہورہی ہیں جن کا ہم ابتدا میں ذکر کرچکے ہیں اور اب قارئین یقینا اس راز کو پاگئے ہوں گے ہم سانس کی مشقوں پر اتنا زیادہ زور کیوں دیتے ہیں۔ ہر مشق میں کمرے کا ہوادار ہونا کیا معنی رکھتا ہے اور جب تک کوئی شخص جسمانی اور دماغی طور پر صحت مند و توانا نہ ہوگا وہ روحانی قوتیں کیسے حاصل کرسکے گا یا مادی طور پر زندگی میں کامیابی و کامرانی کی منزل تک کیسے پہنچے گا۔ اب آئیے، اس مشق کی طرف جسے ہم نے سانس کی مشق نمبر 2کا نام دیا ہے اور جو نہایت سادہ اور آسان ہوتے ہوئے بھی بیش قیمت فوائد کی حامل ہے۔

اس مشق کے لیے سب سے بہتر وقت صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد کا ہے لیکن یہ شرط اتنی بھی لازمی نہیں ہے، کوئی اور وقت بھی اپنی سہولت اور فرصت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا جاسکتا ہے، البتہ کھلی اور ہواد دار جگہ کا ہونا ضروری ہے۔ کمرے کی بہ نسبت مکان کی چھت یا صحن، فلیٹ کی گیلری وغیرہ بہتر ہوگی، گھر میں ہی کرنا پڑے تو کمرا ہوا دار ہو۔ کسی پارک وغیرہ میںبھی اس کی ادائی بہترین ہوگی۔

۔1۔ کھلی اور ہوادار جگہ میں کھڑے ہوجائیں، بالکل اس طرح جیسے بچے پی ٹی کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی نچلی پسلیوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ لیجیے۔

۔2۔ اب ناک سے آہستہ آہستہ گہرے گہرے سانس اندر کی طرف کھینچیں، اس امر کا خیال رکھیے کہ سانس کھینچنے کے ساتھ ساتھ نچلی پسلیاں باہر کی طرف ابھرتی رہیں۔

۔3۔ خوب اچھی طرح پھیپھڑوں میں ہوا بھرنے کے بعد منہ سے سانس کو زور سے خارج کریں، ( اس مشق میں سانس سینے میں روکنا نہیں ہے بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ سانس اندر کھینچنے اور باہر خارج کرنے کا عمل کرنا ہے) یہ ایک چکر ہوگا۔

۔4۔ دوسرے چکر میں ناک کے راستے سانس تیزی اور زور سے اندر کھینچیں جب کہ منہ سے اس کے برعکس آہستہ آہستہ باہر خارج کریں۔ یہاں تک کہ پھیپھڑے ہوا سے خالی ہوجائیں۔

اسی طرح ہر چکر میں تبدیلی کریں، یعنی ایک بار ناک سے آہستہ آہستہ سانس اندر لیں اور منہ سے زور سے تیزی کے ساتھ خارج کریں تو اگلے چکر میں اس کے برعکس ناک سے تیزی سے سانس اندر کھینچیں اور منہ سے آہستہ آہستہ باہر نکالیں، پھر اگلے چکرمیں اس کے برعکس پہلے والا طریقہ اختیار کریں۔

۔5۔  مشق کے دوران میں کبھی کبھی سانس اندر کھینچتے ہوئے پسلیوں پر سے ہاتھ اٹھاکر بازو اوپر سر کی جانب بلند کریں اور سانس باہر خارج کرتے ہوئے نیچے کی طرف لائیں۔

۔6۔  آخری بار سانس لیتے وقت اپنی انگلیاں پسلیوں کے نیچے رکھ کر باہر کی طرف اٹھائیں جب کہ منہ کھول کر سانس خارج کرتے ہوئے پسلیوں کو اندر کی طرف دبائیں، ابتدا میں یہ مشق صرف پانچ منٹ کرنا بھی کافی ہوگا۔ اگر آپ بغیر کسی دشواری اور تکلیف کے پانچ منٹ سے زیادہ کرسکتے ہیں تو ضرور کریں۔ یہ آسان سی سانس کی مشق نوجوان ہی کے لیے نہیں، بوڑھوں اور بچوں کے لیے بھی مشکل نہیں، سب کے لیے یکساں مفید ثابت ہوگی، حاملہ خواتین بھی اسے کرسکتی ہیں، اس سے انھیں اور بچے کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔

اس مشق پر کار بند رہنے والے افراد اپنے جسمانی “پاور ہاوس” کو مکمل اور بھرپور ایندھن فراہم کریں گے جس کے سب ان کی رگوں میں برقی توانائی بڑھ جائے گی۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔