مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ

مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ

لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی کے لیے پیسے نہیں، علاج کیسے کرائیں؟

مہنگائی اور بے روزگاری اور مسلسل معاشی دباو پاکستان میں صرف لوگوں کی قوت خرید ہی نہیں بلکہ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔پاکستان کے معروف ماہنامہ معالج نے اس حوالے سے چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے۔

ماہرین کے مطابق مالی مشکلات، روزگار کا عدم تحفظ، قرضوں کا بڑھتا بوجھ اور مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورت حال کے باعث ڈپریشن، اینزائٹی، بے خوابی، چڑچڑا پن، خاندانی تنازعات، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض سمیت مختلف ذہنی و جسمانی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔

کلینیکل سائیکا لوجسٹ کے مطابق آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن مسلسل ذہنی دباوکو جنم دیتا ہے جو بعد ازاں ڈپریشن، اینزائٹی، غصے، خوف اور مایوسی کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بروقت نفسیاتی معاونت نہ ملنے کی صورت میں یہ مسائل جسمانی بیماریوں، سماجی تنہائی اور خاندانی تنازعات کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

ماہر نفسیات اور فاوٹین ہاس میں پچھلے بیس برس سے بطور سائیکا ٹرک سوشل ورکر و ڈائریکٹر ہیومن ریسورس خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور افلاس ذہنی بیماریوں کے پھیلنے اور ان کے شدید ہونے میں بنیادی عوامل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کم آمدنی والے طبقے میں زندگی کے صدمات اور معاشی مشکلات ذہنی بیماریوں کو متحرک کرتی ہیں جب کہ ان کے پا س فیملی سپورٹ کی بھی شدید کمی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق غربت اور ذہنی بیماری کا ایک ایسا تعلق بن چکا ہے جہاں یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ انسان غربت کی وجہ سے بیمار ہورہا ہے یا بیماری کے باعث غریب ہورہا ہے۔ دوا خریدنے کے لیے پیسے نہ ہونے کے باعث مریض بار بار ذہنی حملوں کا شکار ہوتے ہیں۔ جب گھر کا واحد کمانے والا فرد بیماری کی زد میں آجائے تو پھر گھر کا نظام اور ساخت ابتر ہوجاتی ہے۔

پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی کے نیشنل سائیکاٹرک مور بیڈیٹی سروے کے مطابق ملک کی 32.2 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے جب کہ 37.9 فیصد افراد زندگی کے کسی مرحلے پر ذہنی عارضے کا سامنا کرچکے ہیں۔

سروے کے مطابق اضطراب، ذہنی دباواور ڈپریشن سب سے عام امراض ہیں جب کہ خواتین، کم آمدنی والے افراد اور شہری آبادی نسبتاً زیادہ متاثر ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کو ذہنی صحت کی خدمات کی ضرورت ہے تاہم ملک میں اس شعبے کے ماہرین کی شدید کمی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صرف 300 سے 340 کے درمیان ماہرین نفسیات موجود ہیں جس کے باعث اوسطاً ہر 7سے 8 لاکھ افراد کے لیے صرف ایک ماہر نفسیات دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 478 ماہرین نفسیات، 3,145 سماجی کارکن اور صرف 22 پیشہ ورانہ بحالی کے معالج ذہنی صحت کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

پاکستان سائیکیٹری سوسائٹی کے صدر کے مطابق ہر 4 میں سے ایک نوجوان اور ہر 5 میں سے ایک بچہ کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے جب کہ تقریباً 10 فیصد آبادی منشیات کے استعمال میں مبتلا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ذہنی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے مقابلے میں ماہرین اور علاج کی سہولیات ناکافی ہیں، اس لیے ذہنی صحت کو قومی صحت اور سماجی پالیسی کا اہم حصہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت ذہنی امراض کے شکار افراد کے علاج اور بحالی کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ ( پی آئی ایم ایچ) لاہور کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کر رہی ہے۔ ادارے میں نفسیاتی علاج، ایمرجنسی، منشیات سے بحالی، بحالی مراکز اور تربیتی پروگرام ایک سی چھت تلے فراہم کیے جارہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ذہنی صحت کی خدمات کو ضلعی اور تحصیل سطح کے سرکاری اسپتالوں تک بھی توسیع دی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو اپنے علاقوں میں علاج کی سہولت میسر آسکے۔

ایلو پیتھک دوائیں بہت زیادہ مہنگی ہیں، اسی طرح ایلو پیتھک ڈاکٹر ز بھی اول تو آسانی سے دستیاب نہیں ہیں ، دوسرے ان کی بھاری بھر کم فیس بھی غریب آدمی برداشت نہیں کرسکتا، اس صورت میں ہومیو پیتھی اور ہومیوپیتھک میڈیسن ایک نعمت غیر مترقبہ ہیں اور ضروری نہیں ہیں کہ آپ غیر ملکی ہومیو پیتھک دوائیں استعمال کریں، اب پاکستان میں بھی معیاری ہومیو پیتھک دوائیں تیار کی جارہی ہیں جو غیر ملکی دواو کے مقابلے میں بہت کم قیمت پر دستیاب ہوجاتے ہیں ، ذہنی امراض کے حوالے سے ہم یہاں ایک دوا کی نشان دہی کر رہے ہیں جس کی ایک بوتل ہی پورے گھر کے لیے کئی ماہ تک کافی ہوگی۔

اس ہومیو پیتھک میڈیسن کا نام اگنیشیاہے۔ اس دوا کے صرف دو قطرے ہفتے میں ایک بار زبان پر ٹپکالیے جائیں تو موجودہ ماحول میں جس نوعیت کے ذہنی امراض جنم لے رہے ہیں، ان سے نجات مل سکتی ہے ۔ خیال رہے کہ مرض کی نوعیت اگر کرانک صورت اختیار کرجائے تو پھر کسی قریبی قابل ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

روزانہ میٹھے مشروبات پینا معدے کے کینسر کا خطرہ دکنا کردیتا ہے

روز مرہ زندگی میں میٹھے اور کاربونیٹیڈ مشروبات کا استعمال صحت کے لیے ایک اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جو افراد روزانہ کم از کم ایک مرتبہ میٹھا مشروب پیتے ہیں، ان میں معدے کے کینسر کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہوسکتا ہے جو مہینے میں ایک بار سے بھی کم ایسے مشروبات استعمال کرتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ تحقیق طبی جریدے ’گیسٹر وہیپ ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مصنف اینڈریو چان کے مطابق یہ پہلی تحقیق ہے جس میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے۔

تحقیق میں یہ اشارہ بھی ملا کہ مصنوعی مٹھاس یا کم کیلوریز والے مشروبات معدے کے کینسر کے اضافی خطرے سے منسلک نہیں تھے۔ محققین کے مطابق مصنوعی مٹھاس والے کاربونیٹیڈ مشروبات کا استعمال اس حوالے سے خطرہ بڑھاتا ہوا دکھائی نہیں دیا بلکہ ابتدائی نتائج میں اس کے ممکنہ طور پر کم خطرے کی جانب اشارہ بھی ملا ہے۔

اس سے قبل مختلف تحقیقات میں میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال کو بڑی آنت، چھاتی اور جگر کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا جاچکا ہے تاہم معدے کے کینسر کے ساتھ اس تعلق کے بارے میں شواہد نسبتاً محدود تھے۔ نئی تحقیق نے اس حوالے سے مزید اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

محققین نے کئی دہائیوں پر محیط 112 ہزار افراد کے صحت اور طرز زندگی سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے۔ تجزئیے کے دوران معلوم ہوا کہ ان افراد میں سے 278 کو معدے کا کینسر لاحق ہوا جب کہ یہ بیماری مردوں اور خواتین دونوں میں پائی گئی ۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق میٹھے مشروبات کے روزانہ استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق نمایاں رہا۔ تاہم تحقیق کسی حتمی وجہ اور اثر کو ثابت نہیں کرتی بلکہ مشروبات کے استعمال اور بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشان دہی کرتی ہے۔

تحقیق کے مصنف اینڈریو چان نے کہا کہ معدے کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔ ان نتائج کے بعد میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال اور صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کو مزید سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ہومیو پیتھک میڈیسن نیٹرم فاسفوریکم 6x پوٹینسی میں روزانہ صبح، دوپہر، شام استعمال میں رکھی جائے تو میٹھی اشیا کے زیادہ استعمال کی خرابیوں کو روکا جاسکتا ہے ۔

فون سے اسکریٹ شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کرسکتا ہے، تحقیق

موبائل فون سے کسی اہم لمحے کی تصویر یا اسکریٹ شاٹ محفوظ کرنا بظاہر یاد رکھنے میں مددگار لگتا ہے تاہم ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسا کرنا بعض اوقات معلومات کو یاد رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرسکتا ہے۔

امریکا کی بنگہیمٹن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے وابستہ محققین کی تحقیق کے مطابق جو افراد کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے خود اس کی تصویر کھینچتے ہیں، ان میں اس کی تفصیلات یاد رکھنے کے امکانات ان افراد کے مقابلے میں نمایاں طر پر کم ہوتے ہیں جو تصویر نہیں کھینچتے۔

 جرنل میموری اینڈ کاگنیشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے اس رجحان کو فوٹو ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفکیٹ قرار دیا ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور بنگ یمیٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ صوفیہ فیبر یزیو کے مطابق لوگ کسی واقعے یا معلومات کی تفصیلات زیادہ آسانی سے بھول جاتے ہیں اگر وہ بعد میں اپنی بنائی ہوئی تصاویر دوبارہ نہ دیکھیں۔

محققین کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد کے فون میں اوسطاً ہزاروں تصاویر محفوظ ہوتی ہیں اور روزانہ مزید تصاویر شامل ہوتی رہتی ہیں۔ اگرچہ بعد میں تصاویر دیکھنا یادداشت تازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے لیکن صرف تصویر کھینچ کر اسے کیمرہ رول میں چھوڑ دینا یادداشت بہتر بنانے کے لیے کافی نہیں۔

اس رجحان کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے سات مختلف تجربات کیے جن میں شرکاءنے فن پاروں کی تصاویر بنائیں اور بعد میں ان سے پوچھا گیاکہ انھوں نے کیا دیکھا تھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے خود تصاویر کھینچی تھیں، انھیں بعد میں معلومات نمایاں طور پر کم یاد رہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اثر صرف اس وقت سامنے آیا جب شرکاءنے خود کیمرہ استعمال کرکے تصویر بنائی۔ جسم پر نصب کیمروں سے خود کار طور پر بننے والی تصاویر نے اس طرح کی یادداشت کی کمزوری پیدا نہیں کی جس سے محققین نے اندازہ لگایا کہ خود تصویر کھینچنے کا عمل اس اثر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اگر ہومیوپیتھک دوا ایکسرے 200 کی پوٹیسی میں ہفتے میں ایک بار ایک خوراک لے لی جائے تو اس خرابی سے بچا جاسکتا ہے ۔

روزانہ ٹماٹر کھانے سے جگر کی خطرناک بیماری سے بچاومیں مدد مل سکتی ہے، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ ٹماٹر کھانے سے جگر میں چربی جمع ہونے کی بیماری سے متاثرہ افراد میں جگر کی چربی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نان الکوحل فیٹی لیور ڈیزیز ( این اے ایف ایل ڈی) برطانیہ میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کا تعلق موٹاپے، بلند کولیسٹرول اور ٹائپ ٹو ذیا بطیس سے ہے، بعض افراد میں یہ بیماری جگر میں سوزش اور داغ بننے کا سبب بن سکتی ہے۔ جب کہ شدید صورتوں میں جگر ناکارہ ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔

اٹلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹرو اینٹرولوجی کے محققین نے فیٹی لیور ڈیزیز اور 30یا اس سے کم بی ایم آئی رکھنے والے 79 بالغ افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا۔

ایک گروپ نے چھ ہفتوں تک روزانہ 200 گرام کچے ٹماٹر (یعنی تقریباً ایک بڑا ٹماٹر) کے ساتھ 50 گرام ٹماٹر ساس استعمال کی جب کہ دوسرے گروپ نے ٹماٹر سے پاک غذا اختیار کی۔

چھ ہفتوں کے بعد خصوصی اسکین کے ذریعے شرکاءکے جگر میں موجود چربی کی مقدار کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج کے مطابق دونوں گروپوں میں جگر کی چربی میں کمی۔ تاہم ٹماٹر استعمال کرنے والے افراد میں کمی زیادہ نمایاں تھی۔

ٹماٹر کھانے والے گروپ میں جگر کی چربی کی مقدار چھ ہفتوں کے دوران ابتدائی سطح کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کم ہوئی جب کہ ٹماٹر سے پرہیز کرنے والے گروپ میں یہ کمی تقریباً 6 فیصد رہی۔

جرنل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی اور اطالوی وزارت صحت کی جانب سے فنڈ کی گئی اس تحقیق سے ٹماٹر کے استعمال اور جگر کی صحت کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آتا ہے۔ البتہ مزید تحقیق سے اس اثر کی تصدیق ضروری ہے۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبسکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبسکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔