نومبر کی سیاروی گردش، ایک سخت گیر مہینہ
ضروری اہداف حاصل کرنے کے لیے کوشش
اگریہ کہا جائے کہ موجودہ سال کے سیاروی گردش کے اعتبار سے سخت ترین مہینوں میں سے ایک مہینہ نومبر بھی ہے تو غلط نہیں ہوگا، چوں کہ اس مہینے میں سیارگان کی اکثریت رجعت میں ہے، سیارہ مشتری اپنی اتیا چاری چال سے برج اسد میں داخل ہوچکا ہے اور اسی مہینے میں سیارہ مریخ بھی برج اسد میں داخل ہوکر سیارہ مشتری سے قران کرے گا۔
دونوں کا یہ گٹھ جوڑ آئندہ سال جنوری تک جاری رہے گا۔ سیارہ زہرہ بھی ایک بار پھراپنے ہبوط کے برج سنبلہ میں آئے گا اور پھر دوبارہ برج میزان میں داخل ہوگا، زہرہ کے برج میزان میں ایک طویل قیام کے حوالے سے ہم پہلے بھی نشان دہی کرچکے ہیں جو غیر معمولی نوعیت کا ہے۔
سیارہ عطارد بھی اپنی مقررہ مدت سے زیادہ برج میزان میں رہے گا جب کہ 10نومبر کو قران شمس و قمر یعنی نیو مون بھی برج میزان میں ہوگا، طرفہ تماشا یہ کہ سیارہ مشتری پورا مہینہ راہو کیتو کے محو ر میں رہے گا اور کیتو سے حالت قران میں جب کہ راہو کی نظر میں ہوگا۔یہ پوزیشن گرو چنڈال یوگ سے مشابہ ہے۔
عزیزان من! یہی سب صورت حال دیکھتے ہوئے گزشتہ سال ہم نے سال 2026 کے حوالے سے اپنے آرٹیکل میں اس مہینے کی غیر معمولی اہمیت کے بارے میں لکھا تھا۔
نومبر میں زائچہ پاکستان کی سیاروی گردش کسی طور بھی اطمینان بخش نظر نہیں آتی،یہ ایسا وقت ہے جس میں کوئی بھی بیرونییا عوامی طوفان انگڑائی لے سکتا ہے ۔ گزشتہ سال کا یہ آرٹیکل ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ اس کے علاوہ زنجانی جنتری 2026 میں بھی شائع ہوچکا ہے ۔
خیال رہے کہ اس ساری صورت حال سے اگرچہ تقریباً تمام ہی بروج متاثر ہوں گے لیکن خصوصی طور پر طالع یا لگن ثور ، سرطان، اسد ، میزان، عقرب، جدی، حوت پر یہ سیاروی پوزیشن زیادہ اثر انداز ہوگی ۔ جن لوگوں کے پیدائشی برج مذکورہ بالا ہیں انھیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کریں اور کثرت سے استغفار کا ورد جاری رکھیں۔
دنیا کے جن ممالک کا لگن یعنی پیدائشی برج مذکورہ بالا بروج ہیں، ان میں بھی غیر معمولی تغیر و تبدل، جنگ و جدل ، مختلف نوعیت کے بحران سامنے آسکتے ہیں، جیسا کہ پاکستان، بھارت، انڈونیشیا، مصر، میکسیکو کا لگن ثور ہے جب کہ امریکا، روس، ترکی، ایران، لبنان، یورپ کا پیدائشی لگن سرطان ہے اور اسرائیل، فرانس، چائنا، یوکرین، جاپان کا پیدائشی لگن برج جدی ہے جب کہ سعودی عرب کا لگن برج اسد ہے۔
مشہور بین الاقوامی شخصیات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا لگن بھی اسد ہے، نریندر مودی کا لگن عقرب اور ہمارے وزیراعظم جناب شہباز شریف کا پیدائشی لگن بھی عقرب ہے ۔لہٰذا یہ ممالک موجودہ سیاروی پوزیشن سے کسی نہ کسی طور زیادہ متاثر ہوں گے اور ان ملکوں میں غیر معمولی حالات و واقعات کے ساتھ اہم تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئیں گی ۔
پاکستان کے زائچے میں تیسرا، چوتھا، چھٹا اور نواں، دسواں گھر خصوصی طور پر سیاروی دباوقبول کر رہا ہے۔ تیسرا گھر ایکشن کا ہے، پہل کاری کا ہے، چناں چہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اہم فیصلے اور احکام اس مہینے میں متوقع ہیں جیسا کہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی باز گشت بھی فضا میں موجود ہے، چوتھا گھر عوام اور اپوزیشن کا ہے اور پیدائشی چارٹ میں اس کا حاکم شمس آٹھویں گھر میں ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے عوام ہمیشہ سے ہی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔
مشتری اور کیتو کی نظر نہ صرف یہ کہ پیدائش کے شمس پر ہے بلکہ ابتدائی درجات پر ہونے کی وجہ سے دیگر حساس گھروں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ عوام غصہ اور اشتعال میں بھری ہوئی ہے ، یہ خطرہ موجود ہے کہ کسی بھی وقت کوئی ایک چنگاری شعلہ بن جائے اور پھر صورت حال قابو سے باہر ہوجائے۔
پاکستان کے زائچے میں حقیقتیہ ہے کہ اس وقت بدترین اپوزیشن عوام ہی کی ہے ، باقی حکومت ہمارے سیاست داں ، سول و ملٹری بیوروکریسی سب ہی اپنی اپنی دھن میں مگن ہیں اور چین کی بانسری بجارہے ہیں۔ زائچے کا چھٹا گھر سول و ملٹری بیوروکریسی الیکشن کمیشن کے فیصلےیا عدلیہ کے فیصلوں سے متعلق ہے۔
تازہ صورت حال یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک سینئر جج استعفیٰ دے کر گھر جاچکے ہیں، گویا عدلیہ کی صورت حال بھی اچھی نہیں ہے ، اسی طرح دیگر سرکاری عہدے داران اگرچہ اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ ملک کے موجودہ حالات سے مطمئن نہیں ہوں گے، نومبر میں اس حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں اور اکھاڑ پچھاڑ دیکھنے میں آسکتی ہیں۔
راہو کیتو ایسی پوزیشن میں ہیں جو زائچے کے بارھویں، دوسرے، چوتھے ، چھٹے ، آٹھویں، دسویں گھر کو متاثر کر رہے ہیںلہٰذا معاشی معاملات ہوں یا غیر ملکی تعلقات سے متعلق مسائل ، افغانستان ، بھارت سے جو خطرات موجود ہیں ، اس طرف سے بھی ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، اگرچہ افغانستان سے جنگ جاری ہے اور دہشت گردی کے محا ذ پر بھی پاکستان کی مسلح افواج کو بہت سے چیلنج درپیش ہیں، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ نومبر سے شروع ہونے والا کوئی نیا کھیل آئندہ سال اپریل تک جاری رہے گا جس کے مثبت یا منفی نتائج پر فی الحال کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔
9 نومبر کو نیو مون برج میزان میں ہوگا اور اس وقت طالع لگن برج جدی ہوگا، سیارہ مریخ کی قمر و شمس پر نظر ہوگی لہٰذا آئینی اور انتظامی معاملات پر نہایت سختی کے ساتھ کنٹرول کو یقینی بنانا ممکن ہوسکے گا،کے پی کے میں ایمرجنسی لگ چکی ہے ، مزید کسی ایمرجنسی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے اور یقین رکھنا چاہیے کہ ریاست قومی مفاد میں ایسے اقدام کرسکتی ہے جو ملک کا نقشہ ہی بدل دیں۔ملک میں صدر اور وزیراعظم کی حیثیت اور اہمیت ماضی کے مقابلے میں کم ہے، مگر امکان ہے کہ آئندہ اس میں مزید کمی ہوجائے ۔
اس مہینے کا اہم ترین ٹرننگ پوائنٹ 13 نومبر ہوگا، یقینا اس موقع پر کوئی ایسا بڑا واقعہ یا حادثہ پیش آسکتا ہے جو ریاست کومزید سخت قدم اٹھانے پر مجبور کردے کیوں کہ زائچے کے چوتھے گھر میں کیتو اور مشتری کے ساتھ مریخ بھی شریک ہوجائے گا اور اس کی شمولیت موجودہ جمہوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی۔
اس سال کا موسم سرما کچھ زیادہ ہی سخت ہوسکتا ہے، ایسی صورت میں گیس کی قلت اور مہنگائی عوام کے لیے تکلیف کا باعث ہوگی۔
صوبوں کے زائچے
شاید ہمارے پرانے قارئین کو یاد ہو کہ ہم نے ایک زمانے میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے زائچے تیار کیے تھے اور ان کے حوالے سے بھی گفتگو کی تھی، پاکستان کے چاروں صوبوں کا طالع پیدائش برج حوت ہے اور یاد رہے کہ گزشتہ دو سال سے سیارہ زحل برج حوت میں حرکت کررہا ہے ۔ لگن حوت کے لیے زحل بارھویں گھر کا حاکم ہوکر فعلی منحوس سیارہ بن جاتا ہے، چاروں زائچوں میں بنیادی فرق طالع کے درجات کا ہے۔
کراچی اور کوئٹہ کے زائچے میں درجات 7ڈگری ہیں جب کہ پشاور تقریباً 15 ڈگری اور لاہور 24 ڈگری ۔ زحل بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے اور اس وقت تقریباًکے پی کے کے زائچے میں طالع کے درجات کے قریب ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی لگ گئی ہے لیکن خیال رہے کہ زحل آئندہ سال جون تک برج حوت میں ہی رہے گا اور امکان یہی ہے کہ اس دوران میں صوبوں کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے ۔خیال رہے کہ چاروں صوبوں کے زائچے میں دور اکبر بھی سیارہ زحل کا جاری ہے۔
زحل کو کرنی کاپھل لانے والا سیارہ کہا جاتا ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ کرنی کا پھل کھانے کا وقت آچکا ہے۔
پورے ملک میں صوبوں کی نئی تقسیم اور بحث و مباحثہ جاری ہے ۔ مخالفت اور حمایت دونوں طرح کے نکتہ نظر پیش کیے جارہے ہیں ، اس حوالے سے انتہا پسندانہ نظریات اور اشتعال انگیز گفتگو بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔حالاں کہ یہ ایک احمقانہ فعل ہے، باہمی طور پر اس قسم کا بحث مباحثہ نامناسب ہے کیوں کہ کسی بھی صوبے کے عوام کا یہ ایجنڈا نہیں ہے۔
ظاہر ہے کہ ریاست کا ایجنڈا ہے جسے وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیش کیا تھا اور اب امکان ہے کہ نومبر میںیہ اسمبلی میں بھی پیش کیا جاسکتا ہے لہٰذا عوامی سطح پر بحث کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دیکھنایہ ہے کہ اسمبلی میں آنے کے بعد اس کی صورت کیا ہوگی، کس قسم کے خدوخال سامنے آئیں گے اور کتنے انتظامییونٹ بنائے جائیں گے اور انھیں چلانے کے لیے کس نوعیت کی مقامی حکومتیں بنائی جائیں گی۔ قصہ مختصر یہ کہ جب تک پورا منصوبہ سامنے نہ آئے اس پر بحث و مباحثہ کرنااور باہمی طور پر تلخیاں پیدا کرنا مناسب نہیں ہے۔
نومبر کی سیاروی گردش
سیارہ شمس اپنے ہبوط کے برج میزان میں حرکت کر رہا ہے، 16نومبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا۔
سیارہ عطارد بحالت رجعت برج میزان میں حرکت کر رہا ہے، 13نومبر کو مستقیم ہوگا اور پورا مہینہ برج میزان ہی میں رہے گا۔
سیارہ زہرہ بحالت رجعت برج میزان میں حرکت کر رہا ہے، 6 نومبر کو اپنی الٹی چال سے برج سنبلہ میں داخل ہوگا، پھر 14 نومبر کو مستقیم ہوگا اور 22 نومبر کو دوبارہ برج میزان میں داخل ہوگا۔خیال رہے کہ برج سنبلہ میں سیارہ زہرہ ہبوط زدہ ہوتا ہے ، اس دوران میں منگنییا نکاح وغیرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔
سیارہ مریخ اپنے ہبوط کے برج سرطان میں حرکت کر رہا ہے ، 12نومبر کو برج اسد میں داخل ہوگا۔
سیارہ مشتری برج اسد میں داخل ہوچکا ہے، پورا مہینہ اسی برج کے ابتدائی درجے پر مقیم رہے گا اور 13دسمبر کو اسے رجعت ہوجائے گی۔
سیارہ زحل بحالت رجعت برج حوت میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں بحالت رجعت رہے گا۔
سیارہ یورینس بحالت رجعت برج ثور میں اور نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں جب کہ پلوٹو برج جدی میں حرکت کر رہے ہیں اور پورا مہینہ ان ہی بروج میں رہیں گے، راہو کیتو بالترتیب برج دلو اور اسد میں حرکت کریںگے۔
عزیزان من! سیارہ شمس و قمر اور مریخ کے علاوہ تقریباً تمام سیارگان رجعت میں ہیں، مشتری بھی ابتدائی درجات پر مقیم رہے گا، یہ صورت حال خاصی تشویش ناک ہے، اس دوران میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے ، بہتر ہوگاکہ بہت اہم کاموں کے آغاز میں جلد بازی نہ کریں، نومبر کا مہینہ ایک مشکل ترین مہینہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اس دوران میں اپنے روز مرہ کے فرائض کی ادائی تک محدود رہنا بہتر ہوگا، کسی بھی نوعیت کے ایڈونچر سے دور رہیں ۔
قمر در عقرب
سیارہ قمر 10نومبر بہ روز منگل اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق شب 02:18پر داخل ہوگا اور 12 نومبر بہ روز جمعرات دوپہر 01:48تک ہبوط زدہ رہے گا، یہ انتہائی نحس وقت خیال کیا جاتا ہے۔
اس دوران میں کوئی نیا کام شروع نہ کریں ، کسی نئی جاب کی جوائننگ ، کوئی نیا ایگریمنٹ ، منگنی و نکاح وغیرہ سے گریز کریں، البتہ علاج معالجہ کرانا بہتر ہوگا یا بری عادتوں اور غلط کاموں سے نجات کے لیے اس دوران میں کوشش کرنا بہتر ہے۔
قمر در عقرب کے وقت بندش اور رکاوٹ وغیرہ سے متعلق اعمال و طلسم کیے جاتے ہیں جس کے لیے ہماری ویب سائٹ سے مدد لی جاسکتی ہے۔
سیارہ قمر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 10 نومبر بہ روز منگل 06:10سے صبح 08:08تک درجہ ءہبوط پر ہوگا، یہ وقت بندش وغیرہ کے اعمال کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوگا۔
شرف قمر
سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں 24 نومبر بہ روز منگل صبح 06:54پر داخل ہوگا اور 26 نومبر بہ روز جمعرات صبح 06:40تک شرف یافتہ رہے گا، اپنے درجہ ءشرف پر 24نومبرصبح 10:05سے 11:42تک ہوگا۔
شرف قمر کا وقت سعد اور مبارک تصور کیا جاتا ہے، اس موقع پر نئے کاموں کا آغاز کرنا بہتر ہوتا ہے، کسی مشکل مرحلے کے لیے اس وقت دعا کرنا بھی بہتر ہے ۔ سیارہ قمر سے منسوب اسمائے الٰہییا رحمن یا رحیم ہیں ۔ دونوں اسمائے الٰہی کو 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے جائز اور نیک مقاصد کے لیے دعا کرنا چاہیے ۔

