جیوے جیوے پاکستان کے خالق جمیل الدین عالی

خوبیاں، خامیاں، تخلیقی سرگرمیاں ،علم نجوم کی روشنی میں

برادرم عقیل عباس جعفری تحقیق کے میدان میں ایک شہ سوار کے طور پر نمودار ہوئے اور بلا شبہ مسلسل نت نئی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں، انھوں نے ہمیں ہمارے محترم جمیل الدین عالی صاحب کی درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش فراہم کیا تھا اور فرمائش کی تھی کہ جب بھی وقت ملے ، عالی جی کا برتھ چارٹ ضرور بنائیں، یہ ہمارا ذاتی شوق بھی ہے،کسی بھی شعبے کے غیر معمولی افراد کا ان کے زائچے کی روشنی میں مطالعہ کیا جائے،کئی سال پہلے عالی جی کا برتھ چارٹ بنا لیا تھا مگر اس حوالے سے کچھ لکھنا ممکن نہ ہوسکا جس کی وجہ اہل سیاست کے برتھ چارٹ رہے،اب ہم اہل سیاست سے اکتا رہے ہیں،بے زار ہورہے ہیں،اول تو ان کی تاریخ پیدائش میں کوئی نہ کوئی گھپلا ضرور ہوتا ہے،دوم یہ کہ وقت پیدائش درست معلوم کرنا ایک جوئے شیر لانا ہے اور سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ ان کے بارے میں کھل کر کچھ لکھنا پاکستان میں ممکن نہیں ہے لہٰذا اب نیت یہ باندھی ہے کہ اہل علم و ہنر افراد پر توجہ دی جائے۔
ہماری برسوں پرانی خواہش یہ رہی ہے کہ دنیا کے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل اور عظیم کارنامے انجام دینے والے افراد کو علم نجوم کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جائے،بے شک اس جانچ پرکھ میں ایسے پہلو بھی سامنے آتے ہیں جو دنیاوی یا دینی اصول و قواعد یا اخلاقیات کے منافی ہوتے ہیں،جیسا کہ آئین اسٹائن جیسی عظیم شخصیت کے زائچے میں سیکس کا پہلو ازحد نمایاں اور ہرجائی پن بھرپور انداز میں موجود ہے لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ بڑے اور عظیم لوگ دنیاوی اور دینی اصول و قواعد سے ماورا ہوتے ہیں، اگر یہ ان اصول و قواعد کی پیروی کرنے لگیں تو پھر وہ غیر معمولی کارنامے انجام ہی نہ دے سکیں جو انھوں نے دیے،یہاں علم نجوم کے ایک بنیادی اصول کی نشان دہی ضروری ہے تاکہ ایسے غیر معمولی افراد کا مسئلہ درست طور پر سمجھا جاسکے۔
انسانی فطرت بڑی ہی عجیب شے ہے،یہ ایک ناقابل تبدیل حقیقت ہے،انسان کبھی اپنی فطرت کے خلاف نہیں جاتا، علم نجوم میں اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے منازل قمری (Nakshtar) بہت اہم ہیں،جنھیں اصطلاحاً جنم راشی بھی کہا جاتا ہے،کسی بھی قمری منزل میں پیدا ہونے والے فرد کو تین اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے،اول دیوا (Divine) ،دوم منش (Human) ، سوم راکھشس (Non human) ۔
دیوا سے مراد ایسے لوگ ہیں جو روایت سے جڑے رہنا پسند کرتے ہیں،اپنی زندگی میں مذہبی اقدار کو اہمیت دیتے ہیں، جزا اور سزا اور آخرت کے قائل ہوتے ہیں،اگر حالات کی مجبوری انھیں بعض غلط کاموں کی طرف لے جائے تو وہ ایسی صورت میں خوش نہیں رہتے۔
منش عام انسانی جذبوں اور احساسات کے مالک ہوتے ہیں،وہ حالات کے جبر سے سمجھوتا کرلیتے ہیں اور خوش رہتے ہیں،ان کی زندگی کا مقصد زمانے اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتا ہے۔
راکھشس کی اصطلاح ہندو نظریات کے تحت ہے یعنی جن بھوت،ظالم اور خطرناک لوگ لیکن ہمیں اس سے اختلاف ہے،بے شک غیر انسانی فطرت کسی فرد کو ظالم اور خطرناک بھی بناسکتی ہے لیکن اس کے زائچے کی آراستگی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ وہ کوئی ظالم اور نہایت خطرناک شخصیت ہے یا دنیا کو اور دنیا والوں کے لیے مشعل راہ ہے،اس حوالے سے ہماری تحقیق برسوں سے جاری ہے،ہم نے دیکھا کہ بے شک دنیا کے خطرناک ترین افراد بھی غیر انسانی فطرت کے حامل تھے اور بڑے بڑے علم و فضل کے حامل ، شاعر ، آرٹسٹ، مذہبی اسکالر، سیاست داں ، عظیم حکمران بھی غیرا نسانی فطرت رکھتے تھے،مرزا غالب کا یہ مصرع غیر انسانی فطرت کے حامل افراد کی درست تشریح کرتا ہے کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے۔
گویا یہ لوگ روایت سے بغاوت کرتے ہیں اور ایک عام انسانی زندگی بھی انھیں پسند نہیں ، یہ کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو پہلے کسی نے نہ کیا ہو، اس حوالے سے منازل قمری پر ہماری کتاب ” اک جہان حیرت“نہایت اہمیت کی حامل ہے،اردو زبان میں اس موضوع پر دوسری کوئی کتاب نہیں ہے۔
عالی جی کے زائچے پر گفتگو سے پہلے ایک اور اہم نکتہ پیش خدمت ہے جس پر ویدک سسٹم بہت زور دیتا ہے اور یہ زور بلاوجہ نہیں ہے،صدیوں کی تحقیق اور تجربات کا نچوڑ ہے،کسی بھی زائچے میں مختلف سیارگان کی نشست کے نتیجے میں مخصوص قسم کے امتزاج تشکیل پاتے ہیں جنھیں اصطلاحاً یوگ (Combination) کہا جاتا ہے،ان یوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، بے شمار یوگ تجربے کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے لیکن جو تجربے کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں انھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ”پنچم مہاپرش یوگ“ بھی ایسے یوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو تجربے کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں اور کسی بھی زائچے میں ان کی موجودگی صاحب زائچہ کی غیر معمولی خصوصیات کی نشان دہی کرتی ہے،اگر کسی زائچے میں ان میں سے کوئی یوگ موجود نہیں ہے تو صاحب زائچہ غیر معمولی خصوصیات اور صفات کا حامل نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ پانچ یوگ پانچ سیاروں کی مخصوص پوزیشن سے تشکیل پاتے ہیں، اول بھدرا یوگ جو مرکری کی زائچے میں مخصوص پوزیشن سے تشکیل پاتا ہے، ملاویا یوگ سیارہ زہرہ بناتا ہے ، ہمسا یوگ سیارہ مشتری ، ساسا یوگ، سیارہ زحل اور رچاکا یوگ سیارہ مریخ کا مرہون منت ہے،پانچواں یوگ اپنی اپنی خصوصیات کے اعتبار سے مختلف ہیں، ان کے غیر معمولی مثبت اور منفی اثرات صاحب زائچہ میں ظاہر ہوتے ہیں،علم و دانش ، ذہانت اور کار خیر کا رجحان بھدرا یوگ اور ہمسا یوگ میں نمایاں ہے،اس تفصیل کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عام لوگ جو علم نجوم سے واقف نہیں ہیں، اس اہم نکتے کو ذہن میں رکھیں۔

 

 

جمیل الدین عالی کا تعلق ایک نواب گھرانے سے تھا، وہ 20 جنوری 1925 کو رات 11 بجے لوہارو میں پیدا ہوئے،زائچے میں طالع برج سنبلہ 14 درجہ 14 دقیقہ طلوع ہے،برج سنبلہ کا اور دسویں گھر کا حاکم سیارہ عطارد چوتھے گھر برج قوس میں نہایت طاقت ور ہے،اسی برج میں زہرہ اور مشتری بھی موجود ہےں اور طاقت ور پوزیشن رکھتے ہیں،مشتری اپنے ذاتی گھر میں ہے اور ہمسا یوگ بنارہا ہے،عطارد زہرہ و مشتری ایک اور نایاب یوگ تشکیل دے رہے ہیں جسے سرسوتی یوگ کہا جاتا ہے، اس یوگ کا ثمرہ اعلیٰ درجے کی تخلیقی اور آرٹسٹک صلاحیتیں ہیں جب کہ ہمسا یوگ عقل و دانش ، طویل عمر ، کار خیر کے لیے مخصوص ہے،ایسے لوگ زندگی میں ضرور خدمت خلق اور رفاہ عامہ کے کام کرتے ہیں،مرکری کی مضبوط پوزیشن علم ریاضی میں اچھی صلاحیت دیتی ہے،زہرہ دوسرے اور نویں گھر کا حاکم ہے،اس کی مضبوط پوزیشن ذرائع آمدن ، حیثیت و مرتبہ ،فیملی لائف اور فنکارانہ صلاحیتوں کی نشان دہی کرتی ہے،مشتری زہرہ اور عطارد کا قران زائچے میں راج یوگ بھی تشکیل دے رہا ہے،وہ اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہے ، ایک بار سینیٹ کے رکن بھی بنے۔
زائچے میں قمر برج عقرب میں ہبوط یافتہ ہے،شمس پانچویں گھر میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے،کیتو بھی پانچویں گھر میں ہے،سیارہ مریخ ساتویں اور زحل دوسرے گھر برج میزان میں شرف یافتہ ہے،اس کی نظر راہو پر ہے۔
جمیل الدین عالی نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پاکستان آنے کے بعد بینکنگ سیکٹر میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہے لیکن ان کے اندر کا فنکار ابتدا ہی سے تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہا ورنہ ایک بینکر اور شاعری !دو متضاد رُخ ہیں، عالی جی کی زندگی کے کارہائے نمایاں پر گفتگو کرنا ہم ضروری نہیں سمجھتے، علمی ادبی حلقے اس سے خوب واقف ہیں، ان کی ساری زندگی ایک کھلی کتاب رہی ہے، ہمارا موضوع صرف ان کی ذات و صفات کے پوشیدہ جوہر کی نشان دہی کرنا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور اور قابل احترام رہے، ایسے کام کرگئے جنھیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
سب سے پہلے کردار و عمل کے حوالے سے ہم ان کے ذاتی طالع کا مطالعہ کریں گے جو سنبلہ ہے اس کا حاکم سیارہ عطارد ہے اور زائچے میں نہایت عمدہ پوزیشن رکھتا ہے۔
جسمانی ساخت: دبلے پتلے مناسب قدوقامت کے مالک ، چوڑی پیشانی اور مضبوط جبڑوں کے حامل ،بال اور آنکھوں کا رنگ سیاہ، بھنویں گھنی اور خمیدہ ، آواز باریک یا چیختی ہوئی ، آپ اکثر اپنی عمر سے کم نظر آتے ہیں،چال میں تیزی ، آنکھوں کا تاثر ایماندارانہ اور راست باز ، ناک ستواں اور بھنووں کے پاس پیشانی نمایاں ۔
کردار و عمل: طالع پیدائش سنبلہ کے تحت عالی جی تجزیاتی ذہن کے مالک ہیں اور ہر معاملے کی بڑی باریکی سے چھان پھٹک ضروری سمجھتے ہیں، فوراً حقیقتوں کو بھانپ لیتے ہیں اور انہیں برقرار رکھنے کے اہل ہیں لیکن خرابی یہ ہے کہ پھر اِنھیں تفصیلات کی بُھول بھلیوں میں گم کر دیتے ہیں۔
عملی طور پر بے حد سلیقہ مند، ہر شے کو اس کی مناسب جگہ پر رکھنا پسند کرتے ہیں، اصلاح و درستگی کی عادت ایک خبط کی صورت اختیار کر سکتی ہے، دوسروں کو تفصیلات اور جزیات بیان کرکے اپنی اہمیت جتانے کی کوشش میں بور کرسکتے ہیں، ہوشیار ہونے کے ساتھ ایک ناقد، ایک نکتہ چیںبھی ہیں اور حالات کے تحت حکمتِ عملی طے کرسکتے ہیں، کاملیت پسند (Perfectionist) ، جتنی خوشی سے تنقید کرتے ہیں اتنی ہی خوشی سے تنقید قبول بھی کرتے ہیں اور فوراً اپنی غلطی تسلیم کر لیتے ہیں۔ اکثر دوستوں کے درمیان بھی تمسخر اڑاتے ہیں۔ اپنے آپ کو خوش فہم ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ان کے اندر چھپاہوا کاملیت پسند اکثر عدم اطمینان کی صورتِ حال پیدا کرتاہے اور اکثر خود اپنے کیے ہوئے کاموں سے بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ نفاست اور سلیقہ مندی طرہ¿ امتیاز ہے۔
ان کے اندر تجزیہ کرنے کی بلا کی صلاحیت موجودہے، ذہن تفتیشی ہے اور جب تک بال کی کھال نہ نکال لیں اور مکمل معلومات حاصل نہ کرلیں تب تک چین سے نہیں بیٹھتے، حافظہ بھی بہت اچھا ہے۔ ایک سنبلہ شخصیت کے لیے ترتیب اور موافقت بے حد ضروری ہے، لوگوں سے معلومات حاصل کرنے میں ماہر ہیں، ذہن پر تصور کی حکمرانی ہے جو انھیں حادثات، بیماریوں اور مالی مسائل سے خوف زدہ رکھتی ہے، ان کے بارے میں اکثر سوچتے ہیں، دکھ درد اور تکلیف کے معاملے میں بہت حساس ہیں لہذا دوسروں کی مصیبت ان سے دیکھی نہیںجاتی۔
محبت اور رومان: محبت ان کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ ان کے معیار پر پورا اترنا بڑا مشکل کام ہے۔ ان کی سخت گیری، تنقیدی رویے اور کبھی کبھی حد سے زیادہ توجہ چاہنے کی فطرت کے باعث محبت ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔ان کے اپنے آئیڈیل ہیں اور ان کے آئیڈئیل پر پورا اترنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔ وہ جب بھی کوئی ساتھی یا محبوب ڈھونڈتے ہیں تو جذبات سے زیادہ ذہانت سے کام لیتے ہیں لہذا محبت کا خون ہوتے دیر نہیں لگتی کیوں کہ محبت کا تعلق دل سے ہے، دماغ سے نہیں جب کہ یہ لوگ محبت میں بھی دماغ سے کام لیتے ہیں۔ مزید یہ کہ اپنی چاہت کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ محبت تنقید کا نہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے عمل کا نام ہے۔ ان کے جذبات میں شاذونادر ہی ہلچل ہوتی ہے۔
شادی: یہ شادی کو سماجی حیثیت کے منصوبے کی ایک کڑی کے طور پر قبول کرتے ہیں ورنہ اکثر سنبلہ افراد اپنی شادی کو ملتوی کردیتے ہیں اور کنوارا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے برج سنبلہ کو دوشیزگی یا کنوارے پن کی علامت ٹھہرایا گیا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر غیر شادی شدہ افراد کا تعلق برج سنبلہ یا دلو سے ہے۔
بحیثیت شوہر: ایک مرتبہ شادی کرنے کے بعد اچھے کمانے والے اور خیال رکھنے والے ساتھی ثابت ہوتے ہیں۔ وہ بہ حیثیت شوہرخاصے بردبار، مطمئن، مہربان، بامروت، صاحبِ فکر اور صاحبِ ضمیر ہوتے ہیں۔ اپنی ازدواجی زندگی میں جذباتی جوش وخروش، بے تابی اور شریکِ حیات کو اپنی ملکیت سمجھنے کے خبط سے دور رہتے ہیں۔ وہ جذباتی نوعیت کی محبت سے دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ اس قسم کے جذبات کے اہل بھی نہیں ہیں۔ ایسی صورتِ حال کو جذباتی حماقت سمجھتے ہیں،اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا گھر سے باہر دوسروں کے ساتھ، کیوں کہ اپنے گھر میں بھی ان کی کاملیت پسندی عروج پر ہوتی ہے، وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ ان کی بیوی یا بچے کوئی غلطی کریں؟
گھریلو ماحول: سنبلہ عورت یا مرد اپنے گھر میں ہر شے سلیقے اور ترتیب سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ جو ان سے وابستہ ہیں ہر کام میں سلیقہ مندی کا مظاہرہ کریں۔ دوسروں کو اپنے گھر مدعو کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن خود بہت کم ہی ان کے ہاں جاتے ہیں۔ ان کے بچوں کی تعداد محدود ہوتی ہے اور بچوں سے اپنی محبت اور شفقت ظاہر نہیں کرتے لیکن اپنے فرض کی ادائیگی سے کبھی غافل نہیں رہتے۔ ان کی تربیت میں بھی کوتاہی نہیں برتتے۔ ان کے بچوں میں پہلا بچہ محنتی ہو سکتاہے۔ جب کہ دوسرا اورتیسرا اچھی صحت برقرار رکھتے ہوئے کم محنت سے زیادہ پیسے کمائے گا۔
مالی امور: ان کی کاروباری جبلّت قوی اور مضبوط ہے لہذا عام طورسے اپنے پیسوں کے بارے میں محتاط رہتے ہیں۔ مالدار بننے کی بڑی خواہش رکھتے ہیں لہذا پیسے کی بہت قدر کرتے ہیں۔ ان کو دولت آسانی سے ہاتھ نہیں لگتی اس کے لیے ان کو سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ ان کی محنت کا معاوضہ تسلی بخش نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی میں بڑے نشیب وفراز آتے ہیں، کاروباری معاملات میں تقریباً تمام دیگر برج والوں کے ساتھ اچھے رہتے ہیں لیکن دوسرے لوگ ان سے بہت زیادہ منافع کماتے ہیں یا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چناں چہ ان کو اپنے کاروباری پارٹنر کے انتخاب کے سلسلے میں بے حد محتاط رہنا چاہیے،خیال رہے کہ طالع پیدائش سنبلہ کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد عام طور پر دوسرے بعض برجوں کے مقابلے میں زیادہ سخت اور مشکل زندگی گزارتے ہیں،سیارہ شمس ،زحل اور مریخ ان کے زائچے میں فعلی منحوس سیاروں کا کردار ادا کرتے ہیں، چناں چہ ان کی زندگی کے مسائل اور پریشانیاں کبھی کم نہیں ہوتے۔
صحت اور بیماریاں: عام طورسے یہ لوگ بیمار نہیں پڑتے کیوں کہ نظم و ضبط کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔صحت کے اصولوں کی پیروی کرتے ہیں اور اپنی خوراک اور ورزش کا خیال رکھتے ہیں لیکن خواب آور دواوں کا عادی نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ عمومی صحت پر خراب نوعیت کے شدید اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انھیں جو بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ان میں اعصابی ، جلدی، ذہنی بیماریاں، السر، معدے اور آنتوں کی بیماریاں، بدہضمی، گیسٹرک، پیچش، یوٹرائن انفیکشن، ایگزیما، پیٹ کے کیڑے، مراق اور اینیمیا شامل ہیں۔(جاری ہے)