الواح و طلسمِ زحل

اعمالِ شرفِ زحل کے لیے خصوصی روحانی تحائف

29 سال بعد سیارہ زحل سال 2011-12ء میں اپنے شرف کے برج میزان سے گزرا، ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی وقت نہیں تھا، عاملین اور جفار اس سعادت افروز وقت کا انتظار کرتے ہیں تا کہ زحل کی سعد قوتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ کیونکہ زحل ہی وہ ستارہ ہے جو زندگی کے تمام امور میں استحکام دیتا ہے۔ قیام و بقا کے گہرے دائمی اثرات اس سے وابستہ ہیں۔ اپنے ذاتی برج جدی ، دلو اور برج اوج قوس کے بعد یہ اپنے شرف کے برج میزان میں اپنی مثبت قوتوں کا اظہار کرتا ہے۔
علماء جفرو نجوم فرماتے ہیں کے شرف زحل دراصل بادشاہوں کے لیے تسخیر سلطنت اور فتوحات کے سلسلے میں کام دیتا ہے۔ اس کے سعد اثرات عام لوگوں کی زندگی میں حصول جائداد و زمین یا بقائے جائدادو زمین کے سلسلے میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ عام زندگی میں ایسے تمام امور جن میں قیام و استحکام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، سیارہ زحل کی سعادت اثری سے انجام پاتے ہیں۔ معاشی اور مالی استحکام ہو یا محبت اور شادی اور ازدواجی زندگی میں پائداری مقصود ہو الغرض بقائے دائمی کا کوئی بھی معاملہ ہو تو سیارہ زحل کے سعد اوقات میں کیے گئے اعمال موثر و مفید ثابت ہوتے ہیں۔
سیارہ زحل ایک برج میں ڈھائی سال قیام کرتا ہے اور بارہ بروج کا چکر تقریبا ساڑھے انتیس سال میں پورا کرلیتا ہے۔ اس کے ناقص اثرات میں جو مخالف بروج میں قیام کے دوران میں یا نحس نظرات کے تحت ہوتے ہیں ، جہالت ، جھوٹ، غم و فکر، بغاوت، خراب صحبت، غرور و تکبر، زوال اور بربادی، رکاوٹیں اور پابندیاں شامل ہیں۔ زحل کے نحس اوقات میں جو کام بھی کیا جائے اس کے مثبت اور فائدہ بخش نتائج سامنے نہیں آتے۔ دائرہ ء بروج میں یہ قدیم نظریات کے تحت برج جدی اور برج دلو کا حاکم ہے۔ ہفتے کا دن سیارہ زحل کا دن کہلاتا ہے اور اس روز طلوع آفتاب کے وقت پہلی ساعت زحل کی ہوتی ہے اور آٹھویں ساعت بھی زحل کی ہوتی ہے، زحل دن کے وقت طاقت ور ہوتا ہے، لہٰذا اس کے اعمال بھی دن کی ساعتوں میں انجام دینا چاہئیں۔
علمائے روحانیات کی تحقیق کے مطابق سیارہ زحل کے موکلِ علوی کا نام سیدنا کسفیائیل، مؤکلِ سفلی یا ارضی کا نام ابو نوح اور عون کا نام میمون سیاف السحابی ہے اور اسمائے حسنیٰ میں یا فتاح یا رزاق اس سے منسوب ہیں۔ دونوں اسمائے الٰہی کے اعداد کا مجموعہ 797 ہے،ہم یہاں لوحِ زحل طبعی اور وضعی دونوں دے رہے ہیں، کیونکہ اعمالِ شرفِ زحل کے لئے ایک نہایت باقوت وقت 17 ستمبر کو بروز ہفتہ ہوگا، جس کی نشاندہی پہلے بھی کی جاچکی ہے، اُس روز سیّارہ زحل کی دوسری ساعت جو سندھ کے اوقات کے مطابق دوپہر 1:21 منٹ سے 2:33 منٹ تک ہوگی، اس وقت میں لوحِ شرفِ زحل تیار کرنا نہایت مناسب ہوگا، اگرچہ اس کے بعد بھی نومبر میں مزید سعد اوقات آئیں گے لیکن ہم وقت سے کافی پہلے نہایت مجرّب باقوت الواح و طلسم سے اپنے قارئین کو آگاہ کر رہے ہیں تاکہ وہ پروگرام کے مطابق شرفِ زحل کے سعد اوقات سے فائدہ حاصل کرسکیں، یاد رہے کہ یہ وقت دوبارہ پھر 30 سال بعد ہی مل سکے گا اور یقیناًہم اُس وقت نہ ہوں گے، ممکن ہے ہماری یاد بعض لوگوں کے دلوں میں باقی رہ جائے۔

لوح شرف زحل طبعی

سیارہ زحل سے متعلقہ اعمال بے شمار ہیں۔ علمائے مشرق نقش متع یعنی9 در 9 کو زحل سے منسوب کرتے ہیں ، اس میں 81 خانے ہوتے ہیں جبکہ علمائے مغرب نقش مثلث کو زحل کا نقش قرار دیتے ہیں۔ ( واضح رہے کہ علمائے مشرق اور مغرب کی اصطلاح کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مغرب سے مراد یورپ اور امریکا لیا جائے جیسا کہ آج کل رواج ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائے اسلام سے ہی یہ اصطلاح رائج ہے، ایشیائی ممالک کے اہل علم علمائے مشرق کہلائے اور افریقہ ، اندلس ( اسپین) کے اہل علم کو علمائے مغرب کہا گیا)۔ بہرحال دونوں کی تقلید ہمارے نزدیک جائز ہے۔ امام بونیؒ کا شمار اگرچہ علمائے مشرق میں ہے مگر وہ بھی نقش مثلث کو زحل سے منسوب کرتے ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو نقش مثلث اور متع میں نہایت دلچسپ مماثلت موجود ہے۔ 9 در 9کے 81 خانوں میں 9 مثلثیں چُھپی ہوئی ہیں۔ اس طرح مثلث کو نقش متع سے علیحدہ نہیں کہا جاسکتا۔ مثلث کو عام طور پر 15کا نقش بھی کہا جاتا ہے جس میں 9 خانے ہوتے ہیں۔ علمائے مشرق اسے سیارہ قمر سے منسوب کرتے ہیں اور علمائے مغرب کے نزدیک 9در 9 کا نقش متع قمر سے منسوب ہے۔ مثلث کونقش ’’حوا‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ حوا کے اعداد ابجد قمری سے 15 ہیں۔ نقش مثلث کی مساحت یعنی کل اعداد نقش کی میزان 45 ہے جو حضرت آدم ؑ کے عدد ہیں۔ اس کے علاوہ زحل کے عدد بھی 45 ہیں اور حضرت لوط ؑ کے نام مبارک کے اعداد بھی 45 ہیں۔
45 کے مرکب عدد سے مفرد عدد 9 برآمد ہوتا ہے اور 9 در 9 کے نقش متع کے 81 خانوں کا مفرد عدد بھی 9 ہے جبکہ نقش کے ہر ضلع کی میزان 369ہے اور مفرد عدد اس کا بھی 9 ہے۔ نقش کی مساحت 3321 ہے اور مفرد عدد 9 ہوگا۔ قصہ مختصر یہ کہ زحل کی ’’لوح طبعی‘‘ 9 در9 کا نقش متع ہے جس کے خواص میں دشمنی اور تفرقے کا خاتمہ ، امن و آشتی، اعلی افسران اور امراء حکام بالا وغیرہ سے تائید و حمایت یا حاجت روائی وغیرہ شامل ہیں۔ علمائے جفر کہتے ہیں کہ شرف زحل میں اس لوح طبعی کو سیسے کی تختی پر کندہ کرکے سرہانے رکھ کر سو جائے تو خواب میں مدفون خزانوں کی اطلاع مل سکتی ہے۔
شرف زحل کے موقع پر ہم زحل کی لوح طبعی موافق چال کے مطابق پہلی بار متعارف کروارہے ہیں۔ اسے موثر اوقات میں تمام قواعد و ضوابط کے مطابق سیسے کی دھات پر کندہ کیا جائے اور تمام اصول و قواعدِ عملیات کی پابندی کی جائے، زحل کا بخور میعہ سائلہ، کالی مِرچ، قرنفل وغیرہ ہیں، ان میں سے کوئی ایک جلاکر دھونی دی جائے، زحل کے عطریات میں عطرِ گِل (مٹی کا عطر) اور عطرِ خس شامل ہیں، نقش کندہ کرتے ہوئے رِجال الغیب کی سمت کا خیال رکھا جائے، ہفتہ 17 ستمبر کو رِجال الغیب جنوب کی سمت ہوں گے۔

 


لوح کا سامنے والا حصّہ مکمل ہونے کے بعد پشت پر موکلات و طلسم اور مقصد تحریر کرنا ضروری ہوگا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوح صرف آپ کے لئے مخصوص رہے تو اپنا نام مع والدہ بھی مقصد کے بعد تحریر کریں، تمام کام سے فارغ ہوکر کچھ مٹھائی پر فاتح دیں اور لوح کو حفاظت سے کسی جگہ محفوظ کرلیں، بعدازاں نوچندِ ہفتہ کو صبح زحل کی ساعتِ اوّل میں پہن لیں اور حسبِ توفیق صدقہ و خیرات کریں، یعنی کم ازکم آٹھ فقیروں کو کھانا کھلادیں،یہ لوح زندگی بھر کام دے گی، شرف زحل کے موقع پر تیار کی گئی یہ لوح طبعی ہمارے دفتر سے حاصل کی جاسکتی ہے۔


وضعی لوح شرف زحل

جیسا کہ ابتدا میں واضح کردیا گیا تھا کہ زحل کے منسوبی اسمائے الٰہی یا فتاح یا رزاق ہیں۔ ان کے اعداد کے مطابق اور لوح طبعی کی چال کو مد نظر رکھتے ہوئے وضعی لوح شرف زحل تیار کی جاسکتی ہے جو کہ مروج بھی ہے۔ ہمیں ذاتی طور پر جو طریقہ پسند ہے اور ہمارے طویل تجربے اور مشاہدے میں آیا ہے وہ ’’لوح حرفی‘‘ کا ہے یعنی دونوں اسمائے الٰہی کو بست حرفی کے بعد 9 در9 کے نقش میں پُر کیا جائے۔ اس طرح یہ لوح مبارک عروج و ترقی اور بلند مقام و مرتبے کے حصول میں سریع التاثیر ثابت ہوتی ہے اور زحل کی ہر قسم کی نحوست کا خاتمہ کرتی ہے، زحل جو پابندیاں اور بندشیں لگاتا ہے وہ بھی اس لوح کی برکت سے ختم ہوجاتی ہیں۔ حضرت کاش البرنی نے اسے ’’لوح عروج‘‘ لکھا ہے۔ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر سفارش کی جاتی ہے جن کا ستارہ زحل ہے یا سیّارہ زحل کے ستائے ہوئے ہیں اور زندگی ناکام گزار رہے ہیں۔
ہمارے طریقہ کار کے مطابق مذکورہ اسمائے الٰہی کی لوح وضعی یہاں دی جارہی ہے اور نقش کی رفتار لوح طبعی کے مطابق ہوگی ساتھ ہی سیارہ زحل کی طلسمی لوح بھی دی جارہی ہے جو وضعی لوح کی پُشت پر بنائی جائے گی۔ اس میں سیارہ زحل کی مہر ، طلسم کے علاوہ ثابت کوکب اسپیکا کا نشان بھی موجود ہے،اس طرح یہ لوح اپنے فوائد میں بے بہا ثابت ہوگی، ہم اس کی تعریف میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے، اہلِ نظر اس کی اہمیت اور افادیت کو خود سمجھ سکتے ہیں، مختصر یہ کہ یہ لوح ناکام زندگی کو کامیابیاں اور خوشیاں دینے کی پوری طرح اہل ہے، زندگی کا کوئی بھی مسئلہ ہو، روزگار، ترقی، شادی میں رکاوٹ، ازدواجی زندگی میں عدم استحکام، طلاق کا اندیشہ وغیرہ اور اس کی وجہ زحل کے ناقص اور نحس اثرات ہوں تو یہ لوحِ مبارک اُنہیں زائل کرنے اور رکاوٹوں کو دور کرنے میں نہایت مؤثر ومفید ثابت ہوتی ہے، اسے شرفِ زحل کا خصوصی تحفہ سمجھنا چاہیے، شرف زحل کے موقع پر تیار کی گئی یہ لوح نورانی ہمارے دفتر سے حاصل کی جاسکتی ہے۔