مختلف ممالک اور بھارت و پاکستان کے زائچوں کا تجزیاتی جائزہ

کرونا وائرس کی ابتدا دسمبر کے آخر میں چین سے ہوئی اور آج پوری دنیا اس وائرس کے خوف سے کانپ رہی ہے، اٹلی، ایران، فرانس، انگلینڈ، امریکا، اسپین، جرمنی، سعودی عربیہ، تقریباً دنیا کے 195 یا شاید اس سے زیادہ ممالک اس وقت اس وائرس کی لپیٹ میں ہیں، پاکستان بھی محفوظ نہیں رہا اور اب تقریباً پورا ملک لاک ڈاو¿ن کی صورت حال سے دوچار ہے۔
عزیزان من! سال 2000کے بعد دسمبر 2019 میں جو عظیم سیاروی قران ہوا، اس پر ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور اس حوالے سے ویڈیوز بھی ریکارڈ کراچکے ہیں لیکن یہ درست ہے کہ ہم نے کسی وبا کے خطرے کی نشان دہی نہیں کی تھی کیوں کہ ملکی حالات اور دنیاوی حالات زیادہ پیش نظر تھے، البتہ چائنہ کے حوالے سے یا وہ ممالک جن کا پیدائشی برج جدی ہے، ان کے حوالے سے ہم نے یہ امکان ضرور ظاہر کیا تھا کہ ان ممالک کو مشکل ترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، ہم نے قران کے حوالے سے لکھا تھا۔
”فطری زائچے کے مطابق یہ قران اگر ایک طرف دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی ، آئین و قانون سے ماورا فیصلے اور اقدام اور معاشی بحران لائے گا تو دوسری طرف عالمی زائچے کے مطابق قوموں اور ملکوں کی نئی حد بندیوں اور اندرونی انتشار کا باعث ہوگا“
مزید عرض کیا تھا ”عالمی زائچے میں چوں کہ چوتھا گھر اس اجتماع کا مرکز ہے جسے پناہ گاہ کہا گیا ہے، گھر کی چار دیواری اور خاندانی رسم و روایات ، نسلی ارتقا اسی گھر سے وابستہ ہےں، چناں چہ یہ سیاروی اجتماع اس حوالے سے بھی پرانے طور طریقوں اور رسم و رواج کو یکسر تبدیل کردے گا جس کے نتیجے میں بعض ممالک کی سرحدیں ، بعض ممالک کے داخلی ڈھانچے تبدیل ہوں گے، اس عظیم اجتماع کے اثرات ماضی کی طرح تقریباً بیس سال کی مدت پر محیط ہوسکتے ہیں محو حیرت ہوں کہ دنیا سے کیا سے کیا ہوجائے گی“
اس حوالے سے مزید بھی کچھ گزارشات پیش کی گئیں تھیں، ہم نے لکھا تھا کہ برج ثور کے زیر اثر ممالک پاکستان ، بھارت، مصر، میکسیکو، ملائشیا، بحرین ہیں، تازہ انکشاف یہ ہوا ہے کہ اٹلی کا بھی پیدائشی برج ثور ہے، ثور ممالک یا افراد کے حوالے سے نشان دہی کی گئی تھی کہ یہ قران آٹھویں گھر میں ہوگا جو خانہ ءحادثات، موت اور کایا پلٹ کا گھر ہے گویا ان ملکوں میں غیر معمولی صورت حال سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دے گی، تازہ صورت حال مستقبل کے حوالے سے کچھ ایسی ہی نشان دہی کر رہی ہے۔
برج سرطان کے زیر اثر ممالک امریکا ، روس، ایران، ترکی اور فرانس ہیں جب کہ برج سنبلہ کے زیر اثر انگلینڈ، جرمنی، کنیڈا، برما، لبنان اور افغانستان ہیں، برج جدی کے زیر اثر چین ، اسرائیل، جاپان اور یوکرائن ہیں گویا یہ قران سرطانی ممالک یا افراد کے زائچے میں چھٹے گھر میں ہوا جو صحت اور کام سے متعلق ہے، برج سنبلہ سے متعلق افراد اور ملکوں کے چوتھے گھر میں ہوا جو داخلی امور ، عوام سے متعلق ہے، برج جدی کے بارھویں گھر میں ہوا، یہ گھر نقصانات ، خوف اور بیرونی مداخلت سے متعلق ہے، کہا جارہا ہے کہ چین میں یہ وائرس کہیں باہر سے امپورٹ ہوا تھا، (واللہ اعلم بالصواب)
قصہ مختصر یہ کہ مذکورہ بالا عظیم سیاروی قران کسی نہ کسی حوالے سے دنیا بھر کو ایک بڑی تبدیلی کا پیغام دیتا ہے، بے شک ہم نے اس وقت کرونا وائرس جیسی وبا کے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی تھی، آئیے دیکھتے ہیں کہ اس وبا کی وجوہات علم نجوم کی روشنی میں کیا ہےں؟

میڈیکل ایسٹرولوجی

عزیزان من! میڈیکل ایسٹرولوجی ایک الگ ہی شعبہ ءعلم نجوم ہے، اس موضوع پر ہماری کتاب اگرچہ تیار ہے مگر ابھی تک اس کی اشاعت ممکن نہیں ہوسکی، کرونا وائرس کی وبا نے ہمیں اس موضوع پر تحقیق کے لیے مجبور کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس معاملے میں دیگر سیاروی اثرات کے علاوہ نہایت اہم ترین پوزیشن سیارہ عطارد کو حاصل ہے، گزشتہ سال دسمبر ہی سے سیارہ عطارد کی پوزیشن مسلسل خراب رہی ہے اور آنے والے مہینوں میں بھی عطارد کی پوزیشن خراب ہی رہے گی، ویسے بھی عطارد پورا سال وقتاً فوقتاً ایک مختصر مدت کے لیے ہبوط یافتہ ، غروب اور تحت الشعاع ہوتا رہتا ہے، دیگر مخالف یا نحس سیارگان کے خراب نظرات کا شکار بھی ہوتا ہے لیکن اس بار دسمبر کے آخری ہفتے سے اس کی پوزیشن مسلسل جنوری تک اور پھر تھوڑے سے وقفے کے بعد فروری مارچ میں بھی خراب رہی، آئیے دیکھتے ہیں کہ میڈیکل ایسٹرولوجی میں سیارہ عطارد کی منسوبات کیا ہیں۔

اعضائے جسمانی

اعضائے جسمانی میں اس کا تعلق پیڑو کے نچھلے حصے سے ہے (Lower parts of the obdomen) ، جلد (Skin) ، دماغ (Mind) ، اعصابی نظام (nervous system)، مثانہ (Urinary bladder) ، سانس کی نالی (Broncile tube) ، گیسٹرک جوسز (Gastric juices) ، آنتیں (Intestine) ، پھیپھڑے (Lungs) ، زبان (Tongue) منہ (Mouth) ، ہاتھ (Hands) ، بازو (Arms) ۔
آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ سیارہ عطارد کی خرابیاں پیدائشی زائچے میں ہوں یا عطارد کی پوزیشن کسی اعتبار سے بھی خراب چل رہی ہو تو ہمارے اعضائے جسمانی میں سے کون سے حصے متاثر ہوسکتے ہیں۔

عطاردی امراض

عطارد کے متاثر ہونے یا اس کی دیگر خرابیوں کے سبب جو امراض جنم لے سکتے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے، نفسیاتی تکالیف، بے خوابی، نروس بریک ڈاو¿ن، مرگی (epilapsy)، جلدی امراض ، لیوکو ڈرما ، یادداشت کی خرابی، گفتگو کے دوران میں لکنت، سرچکر یا سردرد، بہرا پن، دمہ، ٹی بی یا پھیپھڑوں سے متعلق تکالیف، ریڑھ کے اعصاب کی خرابیاں، آنتوں کی خرابیاں وغیرہ۔

ریمیڈی

ملکوں اور افراد کے زائچوں میں سیارہ عطارد سے متعلق خرابیوں کو دور کرنے کے لیے اہم اسٹون زمرد (Emrled) ، فیروزہ اور پیری ڈوٹ یا دانہ ءفرہنگ مفید ثابت ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو بدھ کے روز گرین کلر کی اشیا کا صدقہ دینا چاہیے، غریب اسٹوڈنٹس کی مدد کرنی چاہیے، مویشیوںکو سبز چارہ ڈالنا چاہیے یا لوح عطارد نورانی پاس رکھنا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر موجودہ وبائی صورت حال میں فیروزہ کم از کم پانچ کیرٹ وزن میں دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی میں پہنا جائے تو یقیناً اس وائرس کے حملے سے محفوظ رہنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
سیارہ عطارد جیسا کہ پہلے عرض کیا دسمبر ہی سے کمزور اور خراب پوزیشن میں تھا یعنی شمس سے قربت کے سبب غروب رہا، مزید یہ کہ تقریباً شروع سال سے راہو اور کیتو سے بھی متاثر ہوا، دوسری بار تقریباً پانچ فروری سے راہو کی نظر 13 فروری تک عطارد پر رہی، بعد ازاں اسے رجعت ہوگئی اور دوبارہ شمس سے قریب ہونے کی وجہ سے غروب ہوگیا، 15 مارچ سے ایک بار پھر راہو کی نظر کا شکار ہوا اور 26 مارچ تک راہو سے متاثر رہا، 8 اپریل سے اپنے برج ہبوط میں داخل ہوجائے گا گویا اس کی پوزیشن مزید کمزور ہوگی، تقریباً 22 اپریل سے ایک بار پھر شمس کے قریب ہوگا اور غروب ہوجائے گا اور ساتھ ہی کیتو کی نظر میں بھی آجائے گا، تقریباً 17 اپریل تک غروب رہنے کے بعد اس کی پوزیشن بہتر ہوگی، 25 مئی سے برج جوزا میں داخل ہوگا تو ایک بار پھر راہو سے قریبی قران شروع ہوجائے گا جو تقریباً یکم جون تک جاری رہے گا، قصہ مختصر یہ کہ موجودہ وبائی صورت حال جس کا سبب ایک مخصوص وائرس کو قرار دیا جارہا ہے ، ہماری نظر میں اس کی بنیادی وجہ سیارہ عطارد کی خراب ترین پوزیشن ہے جو مسلسل جاری ہے۔

ملکی یا افرادی صحت

کسی بھی ملک کے یا شخص کے زائچے میں صحت اور امراض سے متعلق معاملات دیکھنے کے لیے سب سے پہلے اس ملک کا طالع پیدائش (Birth sign) دیکھا جاتا ہے، اس کے بعد چھٹا گھر اور پھر اس کے بعد سیارہ شمس کو دیکھا جاتا ہے، زائچہ ءپاکستان ، بھارت ، ملائشیا، اٹلی، مصر، بحرین کا طالع برج ثور ہے، چھٹے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ ہے اور سیارہ شمس زائچے میں صحت کا نمائندہ ہے ،زائچے کا پانچواں گھر برج سنبلہ ہے جس کا حاکم سیارہ عطارد ہے، آئیے دیکھیں پانچویں گھر سے متعلق جسمانی اعضا اور امراض کی نوعیت کیا ہے ۔

پانچواں گھر

اعضائے جسمانی میں اس گھر کا تعلق میڈیکل ایسٹرولوجی کے مطابق شکم کا اوپری حصہ، معدہ، جگر، پتّا (gal bladder) ، لبلبہ (Pancrias) ، تلّی (Spling) ، ریڑھ کی ہڈی اور اسپائنل کارڈ، حمل (Pregnency) سے متعلق معاملات اس گھر سے دیکھے جاتے ہیں، اس گھر کی کمزوری یا گھر کے متاثر ہونے یا اس کے حاکم کے متاثر ہونے اور کمزور ہونے کی صورت میں مذکورہ بالا اعضائے جسمانی متاثر ہوتے ہیں اور ان سے متعلق امراض جنم لیتے ہیں۔
خیال رہے کہ چائنا کا برج جدی ہے اور سیارہ عطارد نویں گھر کا حاکم ہے، سرطانی ممالک ایران، امریکا، فرانس، ترکی وغیرہ کا تیسرا گھر سیارہ عطارد کے زیراثر ہے وغیرہ وغیرہ۔
عزیزان من! مندرجہ بالا تفصیلی وضاحت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کرونا وائرس سے پھیلی ہوئی وبا کے اگرچہ کچھ دوسرے اسباب بھی ہیں جیسا کہ سیارہ شمس کی راہو کیتو سے متاثرہ پوزیشن وغیرہ لیکن بنیادی خرابی کی جڑ عطارد کی لمبے عرصے تک مسلسل خراب پوزیشن ہے، ان ظاہری اسباب سے قطع نظر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس نوعیت کی وبائیں بہر حال اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور اپنی مشیعت کے راز وہ ہی بہتر جانتا ہے، کس خرابی کے نتیجے میں کون سی بہتری مقصود ہے اس کا علم تو صرف اسی کو ہے اور یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ اس کے ہر کام میں ایک حکمت پوشیدہ ہوتی ہے جس کا ادراک بہر حال عام انسان کو نہیں ہوتا، کرونا کی وبا بالآخر ختم ہوجائے گی لیکن اس کے بعد دنیا یقیناً ایک ایسا نیا موڑ لے گی جس کے بارے میں شاید پہلے ہماری دنیا کے دانش وروں اور بقراطوں نے کبھی نہیں سوچا ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے 1918 ءمیں انفلوئنزا کی وبا کے بعد ایک نیا شعور دنیا میں پھیلا اور خاص طور پر خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے تحریکیں چلیں، خواتین کے معاشرے میں کردار کو اہمیت دی گئی اور وہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر عملی میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنے لگیں۔

پاکستان و بھارت

بھارت اور پاکستان کا پیدائشی برج ثور ہے، طالع کے درجات بھی قریب قریب ہیں یعنی پاکستان تقریباً 4 درجہ ثور اور بھارت 7 درجہ ثور، چناں چہ اکثر معاملات میں سیاروی پوزیشن دونوں ملکوں کو یکسر انداز میں متاثر کرتی نظر آتی ہے۔
دونوں ملکوں کے زائچوں میں راہو کیتو دوسرے اور آٹھویں گھر میں حرکت کر رہے ہیں اور تقریباً یکم اپریل کو 8 درجہ 51 دقیقے پر ہے، اپریل اور مئی میں یہ مزید طالع کے درجات سے قریب ہوں گے جس کے نتیجے میں زائچے کا دوسرا ، چھٹا ، آٹھواں اور بارھواں گھر متاثر ہوگا، خیال رہے کہ دوسرا گھر معیشت کا، چھٹا گھر صحت کا، آٹھواں گھر حادثات و اموات کا، بارھواں گھر نقصانات اور خوف کا گھر۔
دونوں ملکوں کے زائچے میں سیارہ مشتری اپنے ہبوط کے برج جدی کی ابتدائی ڈگری پر آچکا ہے، سیارہ مشتری طالع برج ثور کے لیے سب سے منحوس اثر رکھنے والا سیارہ ہے، اس درجے پر مشتری پہلے گھر، پانچویں گھر اور نویں گھر کو متاثر کرے گا اور تقریباً جون تک مشتری کی منحوس نظر قائم رہے گی، پاکستان کے پیدائشی زائچے میں قمر اور زہرہ نویں گھر کے ابتدائی درجات پر ہےں لہٰذا مشتری انھیں بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے اور اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ مشتری کی یہ پوزیشن پاکستان میں صحت کے معاملات کو مزید خرابی کی طرف لے جاسکتی ہے۔
زائچے کا دوسرا منحوس سیارہ مریخ بھی نویں گھر برج جدی میں داخل ہوچکا ہے اور دسویں گھر کے حاکم سیارہ زحل سے حالت قران میں ہے، مزید یہ کہ نویں گھر ، بارھویں گھر ، تیسرے گھر اور چوتھے گھر پر بھی اس کی منحوس نظر جاری ہیں، سیارہ زہرہ پہلے گھر میں ہے، مریخ اور زحل کا قران زائچہ پاکستان اور بھارت میں حکومت ، وزیراعظم اور انتظامی مشینری کے لیے نئے چیلنجز کی نشان دہی کر رہا ہے۔
عزیزان من! پاکستان کے زائچے کی یہ صورت حال ہر گز اس حوالے سے خوش آئند نہیں ہے کہ موجودہ وبائی صورت حال کو آسانی سے کنٹرول کرلیا جائے، اس مہم کو سر کرنے کے لیے پوری قوم کو مکمل یکجہتی کے ساتھ اس وبا کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی، گویا اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اپریل، مئی اور جون یہ تین مہینے انتہائی سخت اور محتاط رہنے کے ہیں، عوام اور اشرافیہ دونوں کو باہمی اختلافات و تنازعات کو پس پشت ڈال کر مثبت طور طریقے اپنانے کی ضرورت ہے، ملک کے صاحب حیثیت افراد کو آگے بڑھ کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملک کی یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ملک میں کوئی ایمرجنسی نافذ کی جائے، اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے مسلح افواج اپنا کردار ادا کرے، ایسی صورت میں خود وزیراعظم ہی کو اہم فیصلے کرنا ہوں گے، آئندہ کے منظر نامے میں پاکستانی فوج کا عملی طور پر زیادہ مو¿ثر کردار نظر آرہا ہے، شاید اس کے بغیر صورت حال پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

اپریل کی سیاروی پوزیشن

سیارہ شمس برج حوت میں حرکت کر رہا ہے،14 اپریل کو اپنے شرف کے برج حمل میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد برج دلو میں ہے،8 اپریل کو اپنے ہبوط کے برج حوت میں داخل ہوگا اور 26 اپریل کو برج حمل میں داخل ہوجائے گا، سیارہ زہرہ اپنے ذاتی برج ثور میں ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا، سیارہ مریخ اپنے شرف کے برج جدی میں ہے،پورا مہینہ شرف یافتہ رہے گا، سیارہ مشتری اپنے ہبوط کے برج جدی میں ہے، گویا مشتری کی یہ انتہائی خراب اور ناقص پوزیشن ہے، جون تک یہ برج جدی ہی میں رہے گا، ہمارا مشورہ ہے کہ اس دوران میں نکاح و شادی سے گریز کیا جائے، مشتری کی خراب پوزیشن شوہر کے حالات میں خرابی کا باعث ہوتی ہے، سیارہ زحل اپنے ذاتی برج جدی میں ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا، اس ماہ سے سیارہ زحل کوئی خاص پوزیشن میں پورا ماہ رہے گا، بعض لوگوں کے لیے یہ پوزیشن انتہائی فائدہ بخش اور مبارک ہوگی جب کہ بعض کے لیے نہایت نقصان دہ اور تباہ کن ہوسکتی ہے، زحل کے اچھے اوربرے اثرات کسی کے انفرادی زائچے سے ہی معلوم ہوسکتے ہیں، سیارہ یورینس برج ثور میں جب کہ نیپچون برج دلو میں اور پلوٹو برج جدی میں حرکت کریں گے، راس و ذنب بالترتیب جوزا اور قوس میں رہیں گے، خیال رہے کہ یہ سیاروی پوزیشن ویدک سسٹم کے مطابق دی جارہی ہےں۔

قمر در عقرب

قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 10 اپریل کو شام 4 بجے داخل ہوگا اور 12 اپریل 06:45 pm تک برج عقرب میں رہے گا، یہ نہایت منحوس وقت سمجھا جاتا ہے، اس وقت کوئی بھی نیک عمل یا نیا کام شروع نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر شادی بیاہ، سفر، کوئی معاہدہ وغیرہ کرنا اچھے نتائج کا حامل نہیں ہوگا، اس وقت میں رکاوٹ اور بندش سے متعلق عملیات کیے جاتے ہیں، بری عادتوں سے نجات، مخالفین کی زبان بندی ، دشمنوں اور ظالموں کو ظلم و زیادتی سے روکنے کے لیے بھی اس وقت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ ہماری نظر میں قمر در عقرب کا پورا وقت ہی انتہائی نحس ہے لہٰذا اس عرصے میں کسی خاص درجے پر عمل کرنے کے بجائے اپنے عمل سے متعلق ستارے کی ساعت کا انتخاب کریں، اس سلسلے میں پہلے تفصیل سے ایک آرٹیکل میں لکھا گیا ہے، اسے ہی پیش نظر رکھیں، ہر کام کے لیے مخصوص سیارے کی ساعت ضروری ہے۔

شرف قمر

25 اپریل کو قمر اپنے شرف کے برج ثور میں داخل ہوگا، شرف کا باقوت وقت پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 08:45 pm سے شروع ہوگا اور 09:40 pm تک رہے گا، اس وقت قمر سے متعلق ضروری اعمال و وظائف کیے جاسکتے ہیں۔
عزیزان من! اپریل کے مہینے میں شرف شمس اور شرف مریخ بھی ہیں جن کے بارے میں ہم پہلے لکھ چکے ہیں اور ایسے اوقات کی بھی نشان دہی کرچکے ہیں جو ہمارے نزدیک زیادہ سعد اور باقوت ہے، اس حوالے سے آپ ویب سائٹ پر موجود متعلقہ آرٹیکلز کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔