Astrology

سیاست داں اور سیاسی پارٹیاں،علم نجوم کی روشنی میں

خوبیاں، خامیاں، انتخابات میں کامیابی یا ناکامی کے امکان کا جائزہ

مشہور اور غیر معمولی افراد کے زائچے عموماً اس لیے پیش کیے جاتے ہیں کہ ہم ان کے بارے میں جان سکیں، ان کی خوبیوں اور خامیوں سے باخبر ہوسکیں حالاں کہ ہمارے ملک میں اہل سیاست، کھلاڑی اور فلم و ٹی وی سے متعلق افراد کی درست تاریخ پیدائش کا حصول خاصا مشکل کام ہے،اس کے بعد پیدائش کے درست وقت تک رسائی اس سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوتی ہے،پاکستان میں ہم نے اس کام کی ابتدا کی کہ باقاعدہ طور پر تحقیق و جستجو سے ایسا زائچہ سامنے لایا جائے جو قریب ترین نتائج کی نشان دہی کرسکے، اس حوالے سے اب تک خاصی بڑی تعداد میں اہم افراد کے زائچے ہم پیش کرچکے ہیں مگر پھر بھی شک و شبہے کی گنجائش باقی رہتی ہے کیوں کہ بعض اوقات تاریخ پیدائش میں اتنا زیادہ فرق ہوتا ہے جو صورت حال کو بہت زیادہ الجھا دیتا ہے مثلاً عمران خان کی عام طور پر دستیاب تاریخ پیدائش 25 نومبر 1952 ہے لیکن خود عمران خان کا کہنا یہ ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر ہے، ماضی میں بہت پہلے ہم نے اسی تاریخ کے مطابق زائچہ بنایا تھا لیکن جب 5 اکتوبر کے بارے میں معلوم ہوا تو ایک صحافی کے ذریعے عمران خان سے رابطہ کیا گیا اور انھوں نے تصدیق کی کہ وہ 5 اکتوبر کو پیدا ہوئے اور پیدائش کا ٹائم صبح 9,10 بجے کے درمیان ہے لہٰذا دوبارہ ان کا زائچہ اسی تاریخ کے مطابق بنایا گیا ، قصہ مختصر یہ کہ ہمارے ملک کی مشہور شخصیات کے زائچے اکثر متنازع ہوجاتے ہیں، نواز شریف صاحب کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1949 ء دستیاب ہے لیکن ہم اس سے متفق نہیں ہیں ہمارا خیال ہے کہ ان کا سال پیدائش 1948 ء ہے،جناب آصف علی زرداری 26 جولائی کو اپنی سالگرہ مناتے ہیں لیکن سال پیدائش مختلف ذرائع سے مختلف ہی دستیاب ہوتا ہے،ہم ان کا زائچہ بہت پہلے بناچکے ہیں لیکن اس سے مطمئن ہر گز نہیں تھے،ایک طویل عرصے کے غوروفکر کے بعد ہمارے خیال میں ان کی تاریخ پیدائش 26 جولائی 1954 ء ہے۔
گزشتہ دنوں ملالہ یوسف زئی کا زائچہ پیش کیا گیا تھا، ان کی تاریخ پیدائش میں کوئی اختلاف نہیں تھا، البتہ وقت پیدائش اندازے کے مطابق مقرر کیا گیا لیکن زائچہ درست وقت کے مطابق نہ بنایا جاسکا، اس کی اصلاح ضروری ہے،ہمارے نزدیک ان کا درست وقت پیدائش 11:55 am ہے، اس طرح طالع کے درجات 19 درجہ 50 دقیقہ ہوں گے۔
2013 ء میں بھی اہم سیاست دانوں کے زائچے اور سیاسی پارٹیوں کے زائچے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اب الیکشن کی گرما گرمی شروع ہوگئی ہے،یہ ایک الگ بحث ہے کہ الیکشن ہوں گے یا کسی تاخیر کا شکار ہوں گے کیوں کہ زائچہ پاکستان میں اس سال مئی سے اکتوبر تک سیارہ مریخ اور کیتو کے تین قرانات ، سیارہ مشتری کی چھٹے گھر میں پوزیشن اور دسویں گھر کے حاکم سیارہ زحل کی آٹھویں گھر میں پوزیشن الیکشن کے انعقاد کو مشکوک بنارہی ہے لیکن اس ساری صورت حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ زائچے کا نواں گھر بہت زیادہ ایکٹیو ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سال ابتدا ہی سے عدلیہ اور الیکشن کمیشن بھی کچھ زیادہ ہی فعال ہیں، عدلیہ کی فعالیت نے تو سیاسی اشرافیہ کی چیخیں نکلوادی ہیں،ساتھ ہی بیوروکریسی زد میں ہے،کڑے احتساب کا مطالبہ عروج پر ہے،اس کے بعد ہی الیکشن کا تقاضا بھی ہورہا ہے لیکن چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کی پوری کوشش یہی ہے کہ الیکشن بروقت منعقد ہوں، اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ فلکیاتی منظر نامے میں انسانی کوششیں کس حد تک بارآور ہوتی ہیں۔
ایک بات بہر حال پورے اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ نویں گھر کی فعالیت اور آٹھویں گھر کے حاکم مشتری کی چھٹے گھر میں قیام و حرکت احتسابی عمل کو کسی منطقی انجام تک ضرور لے جائے گی اور چوں کہ دسویں گھر کا حاکم آٹھویں گھر میں مصیبت زدہ ہے لہٰذا اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے افراد خصوصاً ہدف بنیں گے، الیکشن ہوں یا نہ ہوں، احتسابی عمل رکتا نظر نہیں آتا اور شاید یہ بات ہماری اشرافیہ کی سمجھ میں بھی آچکی ہے،اسی لیے آئین میں ترامیم کے منصوبے زیر غور ہیں، نواز شریف صاحب تو صاف لفظوں میں اپنے آئندہ عزائم کا اظہار کرچکے ہیں، ان کے عزائم اپنی جگہ لیکن آسمانی کونسل کے فیصلے اپنی جگہ، اس بار آئینی تبدیلیاں تو ضرور ہوں گی لیکن اس انداز میں نہیں ہوں گی جیسا کہ نواز شریف صاحب سوچ رہے ہیں، ایک بالکل ہی یا منظر نامہ سامنے آئے گا جو بہت سے لوگوں کو حیران کرسکتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی

سیاسی جماعتوں اور ان سے متعلقہ اہم افراد کے زائچوں کی ابتدا ہم پاکستان کی ماضی کی سب سے بڑی پارٹی کے زائچے سے کر رہے ہیں، ہماری نظر میں پیپلز پارٹی کا پہلا زائچہ تو وہی ہے جو پارٹی کے قیام کی تاریخ کے مطابق ہے یعنی 30 نومبر 1967 ء بقام لاہور لیکن موجودہ پارٹی کا زائچہ ہم 30 دسمبر 2007 ء لاڑکانہ شب 8 بجے کے مطابق درست سمجھتے ہیں، اس زائچے کو پیپلز پارٹی کے 2008 ء میں اقتدار میں آنے کے بعد آزمایا گیا تو نتائج درست رہے، زائچے میں برج سرطان 15 درجہ 17 دقیقہ طلوع ہے،2013 ء میں جو زائچہ پیش کیا گیا تھا ، اس میں وقت مختلف رکھا گیا تھا لیکن زائچے کی آزمائش نے ثابت کیا کہ درست وقت شب آٹھ بجے زیادہ مناسب ہے۔
پہلے گھر یعنی طالع کا حاکم سیارہ قمر دوسرے گھر میں قابض ہے اور کمزور ہے جب کہ دوسرے گھر کا حاکم شمس چھٹے گھر میں کمزور ہے،اسی طرح تیسرے گھر کا حاکم سیارہ عطارد بھی چھٹے گھر میں کمزور پوزیشن رکھتا ہے، چوتھے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ بھی کمزور ہے کیوں کہ زائچے کے سب سے منحوس سیارہ زحل کی نظر برج میزان پر ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ محترمہ شہید کی شہادت سے جو کامیابی 2008 ء کے الیکشن میں حاصل ہوئی تھی، پارٹی اس کے بھرپور فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور مستقل رو بہ زوال ہے، 5 سالہ دور اقتدار ذاتی مفادات کے تحفظ میں گزر گیا، عوامی بھلائی اور ملکی ترقی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیے گئے،زائچے میں 18 نومبر 2010 ء سے قمر کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر شروع ہوا تو مصائب اور مسائل کا دروازہ کھل گیا، پہلے این آر او کا کیس گلے پڑا، پھر 2011 ء میں ایبٹ آباد کا سانحہ پیش آیا اور میموگیٹ اسکینڈل نے پریشان کیا، 19 مئی 2012 ء سے چھٹے گھر کے حاکم مشتری کا دور اصغر شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کو اپنے وزیراعظم سے ہاتھ دھونا پڑے اور اسی پیریڈ میں وہ 2013 ء کے انتخاب میں گئی اور ناکام ہوئی،البتہ سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی،مشتری کے دور میں پارٹی میں اختلافات بھی بڑھے اور پھر زحل کا دور اصغر شروع ہوا جو 19 اپریل 2015 ء تک جاری رہا، یہ تمام دور پارٹی کو مستقل طور پر زوال کا شکار بنانے میں نمایاں رہے،بعد ازاں اپریل 2015 ء سے عطارد کا دور اصغر شروع ہوا جو فعلی منحوس نہیں ہے لیکن کمزور ہے اور چھٹے گھر میں قابض ہے لہٰذا زرداری صاحب کی بے پناہ کوششوں کے باوجود پنجاب میں پارٹی پوزیشن اطمینان بخش نہیں ہوسکی۔
19 اپریل 2017 ء سے قمر کے دور اکبر میں زہرہ کا دور اصغر جاری ہے،اگرچہ دونوں کمزور سیارے ہیں لیکن زائچے میں اچھی پوزیشن کے حامل ہیں لہٰذا 2017 ء میں زرداری صاحب کے ساتھ بلاول بھٹو نے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سخت محنت سے صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی،اسی دور میں جو 18 دسمبر 2018 ء تک جاری ہے ، پیپلز پارٹی بلوچستان میں اپنی مرضی کی تبدیلی لانے میں کامیاب رہی اور سینیٹ کے الیکشن میں بھی ن لیگ کی اکثریت کو شکست دینے کا موقع ملا، جناب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی جدوجہد جاری ہے،حال ہی میں بلاول بھٹو نے فیڈرل بی ایریا میں جلسہ کرکے ایک پرانی روایت کو تازہ کیا لیکن کیا اس سال اگر الیکشن ہوئے تو پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے گی؟اس سوال کا جواب نفی میں ہے لیکن چوں کہ دسویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ زائچے کے ساتویں گھر میں شرف یافتہ پوزیشن میں ایک طویل عرصہ قیام کرے گا اور الیکشن اکتوبر سے آگے نہ گئے تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ پیپلز پارٹی 2013 ء کے مقابلے میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب رہے گی،مفاہمت اور جوڑ توڑ کے ماہر جناب آصف علی زرداری ایسے داؤ پیچ دکھا سکتے ہیں، جن کی وجہ سے انھیں اقتدار میں شمولیت کا موقع مل سکے، اگر الیکشن نومبر دسمبر میں ہوئے تو پیپلز پارٹی کو سندھ میں بھی حکومت بنانا مشکل ہوجائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری


پارٹی کے زائچے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ایک نظر پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے زائچے پر ڈالنا بھی ضروری ہے،ان کی تاریخ پیدائش 21 ستمبر 1988 ء کراچی ہے اور پیدائش کا ٹائم تقریباً 11:18 am ہے،اس طرح ان کا برتھ سائن برج عقرب 10 درجہ سامنے آتا ہے،طالع کا حاکم سیارہ مریخ پانچویں گھر میں ہے،دوسرے گھر کا حاکم سیارہ مشتری ساتویں گھر میں نہایت طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے اور پہلے ، تیسرے ، ساتویں اور گیارھویں گھر سے ناظر ہے،مشتری کی نظر سعادت ان کے زائچے کا سب سے اہم پوائنٹ ہے،اسی وجہ سے ان کی شخصیت اور قدوقامت بھی نمایاں نظر آتے ہیں، دوسرے گھر میں سیارہ زحل قابض ہے جو نوامسا چارٹ میں ہبوط یافتہ ہے،قمر زائچے کے تیسرے گھر میں ہے اور کمزور ہے جب کہ راہو چوتھے گھر میں اور زہرہ نویں گھر میں ، کیتو دسویں گھر میں، شمس کمزور گیارھویں گھر میں اور گیارھویں گھر کا حاکم عطارد بھی کمزور اور بارھویں گھر میں ہے۔
زائچے کی واحد خصوصیت دوسرے اسٹیٹس ، آمدن اور فیملی کے سیارے مشتری کی مضبوط پوزیشن ہے،گویا ہوش سنبھالتے ہی جب ان کی عمر انیس بیس سال تھی وہ پارٹی کے چیئرمین تسلیم کرلیے گئے، طالع برج عقرب آبی برج ہے،یہ لوگ حساس اور جذباتی ہوتے ہیں، عام طور پر پختہ عزم کے مالک، ضدی ، کچھ پیچیدہ شخصیت و کردار ، ایسے کام انجام دینے کی صلاحیت جسے کوئی اور انجام نہ دے سکے، دوسروں کو متاثر کرنے والے، سرگرم اور محنتی ، کم آمیز، پرجوش، عاشق، وفادار ہوتے ہیں۔
ان کی منفی خصوصیات میں توجہ طلبی ، حق ملکیت جتانے والے، حاسد، معاف نہ کرنے والے، آگ بگولہ ہوجانے والے،دشمنیاں پالنے والے، شکی مزاج،برج عقرب کا نشان بچھو ہے لہٰذا کہا جاتا ہے کہ ڈنک مارنا بچھو کی فطرت ہے۔
ہمارے نزدیک قمری برج انسان کی فطرت پر زیادہ بہتر روشنی ڈالتا ہے،بلاول بھٹو کا قمر برج جدی میں ہے،برج جدی کو نظم و ضبط کا برج کہا جاتا ہے،یہ لوگ اصول و قواعد کی پابندی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ اصول و قواعد کی خلاف ورزی نہ کریں، ایک مزاحمتی رویہ قمر در جدی میں پیدا ہونے والوں کی فطرت کا حصہ ہے،شاید یہی وجہ ہو کہ وہ اکثر اپنے والد سے بھی اختلاف کرتے رہے ہیں، سنا ہے کہ کئی بار ناراض ہوکر ملک سے باہر چلے گئے، سیاسی معاملات میں انھوں نے اپنی بعض باتیں منوائیں، یقین رکھنا چاہیے کہ جب بھی پیپلز پارٹی جناب زرداری کے اثر سے آزاد ہوگی اور بلاول بھٹو کو آزادانہ طور پر پارٹی چلانے کا موقع ملے گا تو پارٹی کی تنظیم نو بہتر انداز میں ہوسکے گی،وہ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کریں گے جن کے کردار اور قول و فعل مشکوک ہوں گے۔
قمری برج کے حوالے سے دوسری اہم ترین چیز قمری منزل ہے، ان کی پیدائش چاند کی منزل اُتر شدھ میں ہوئی ہے جس کا حاکم سیارہ شمس ہے،اُتر شدھ ’’عالمی ستارہ‘‘ کہلاتا ہے،اس کا تعلق گہری انسانیت اور تمام نسلوں کے لیے منصف مزاجی سے ہے،مشہور امریکی صدر ابراہام لنکن کا پیدائشی قمر اسی منزل میں تھا ، اس کی فطرت انسانی ہے ،زبردست بسیرت اور زیادہ مستحکم پوزیشن کے ساتھ ایک جارحانہ فطرت جنم لیتی ہے،یہ لوگ کسی بھی کام میں انتہائی انہماک کا مظاہرہ کرتے ہیں، قیادت کی خوبیاں اور لوگوں سے رابطہ کرنے کی اہلیت انھیں اچھا سیاست داں بناتی ہے،یہ جو بھی کام کرتے ہیں اس میں استقامت کا اظہار کرتے ہیں، ان لوگوں کا ایک نصب العین ہوتا ہے،انھیں اپنے پیشہ ورانہ معاملات میں بھی مقصدیت کی ضرورت ہوتی ہے، کوئی بڑا مقصد اگر ان کے سامنے نہ ہو تو یہ کام میں دلچسپی نہیں لیتے، یہ بھی ضروری ہے کہ مقصدیت کا تعلق عالم انسانیت کی بھلائی اور فلاح و بہبود سے ہو ورنہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی ضائع ہورہی ہے۔
یہاں اس بات پر بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ یہ منزل برج جدی میں واقع ہے اور سیارہ زحل اس برج سے وابستہ ہے،زائچے میں کمزور اور نوامسا میں ہبوط یافتہ ہے،یہ خرابی منزل کی بعض خوبیوں کو خامیوں میں بھی تبدیل کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں طبیعت میں حد سے زیادہ بے چینی اور فعالیت پیدا ہوتی ہے،بے حسی اور سفاکی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے،وہ کوئی نیا کام شروع کرسکتے ہیں لیکن اسے مکمل کرنے میں ناکام رہیں گے، ایک خود غرض ضدی فطرت نمایاں ہوتی ہے،جب برج کا حاکم متاثرہ ہو یا کمزور ہو۔ ان لوگوں کو عمر کے پینتیسویں سال میں زیادہ کامیابیاں ملتی ہیں۔
اس قمری منزل میں پیدا ہونے والی مشہور شخصیات میں نیپولین بوناپارٹ، امریکی صدر ابراہام لنکن، نازی لیڈر ایڈولف ایشمن، سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی، شیخ ایاز، ڈان ابو سالم شامل ہیں۔
اس منزل میں پیدا ہونے والے افراد اکثر ’’پہل کار‘‘ ہوتے ہیں یعنی کسی نئے کام کی بنیاد رکھتے ہیں، توقع رکھنی چاہیے کہ بلاول بھٹو زرداری بھی مستقبل میں کوئی ایسا ہی نمایاں کام کرکے شہرت حاصل کریں گے۔
عزیزان من! زائچے کی تکنیکی موشگافیوں کے بجائے ہم نے زیادہ زور اس بات پر دیا ہے کہ آپ پیپلز پارٹی کے مرکزی لیڈر کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوسکیں، اب ضروری ہے کہ ان کے زائچے کے حوالے سے بعض تکنیکی امور پر بھی روشنی ڈالی جائے۔
زائچے میں مشتری کی مضبوط پوزیشن ان کی حیثیت کو متعین کرتی ہے،سیارہ زہرہ و مریخ کے علاوہ راہو کیتو اس زائچے کے فعلی منحوس سیارے ہیں، باقی سیارگان اپنی قوت کے مطابق سعد اثر دیں گے،مئی 2012 ء سے زائچے میں فعلی منحوس چھٹے گھر کے حاکم سیارہ مریخ کا دور اکبر شروع ہوا، اسی دور میں بارھویں گھر کے فعلی منحوس زہرہ کا دور اپریل 2007 ء سے جون 2008 ء تک رہا، اس منحوس وقت میں ان کی والدہ کا سانحہ پیش آیا۔
سیارہ مریخ کا دور اکبر مئی 2009 ء میں ختم ہوا اور راہو کا دور اکبر جاری ہے،راہو کے دور اکبر میں 26 جنوری 2012 ء سے مشتری کا دور اصغر 20 جون 2014 ء تک جاری رہا، اگر 2013 ء کے الیکشن میں مکمل قیادت بلاول بھٹو کے ہاتھ میں ہوتی تو شاید پیپلز پارٹی کی کامیابی کا گراف زیادہ بہتر ہوتا، ہم نے اس وقت یہ بات پارٹی سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک جیالے سے کہی تھی لیکن ان کا کہنا یہ تھا کہ فی الحال یہ ممکن نہیں ہے،تازہ صورت حال یہ ہے کہ راہو کے دور اکبرمیں سیارہ عطارد کا دور اصغر جاری ہے جو نومبر 2019 ء تک جاری رہے گا، عطارد بارھویں گھر میں ہے ، راہو بھی زائچے میں طاقت ور پوزیشن نہیں رکھتا، لہٰذا موجودہ الیکشن میں ان کی کارکردگی نمائشی رہے گی، ان کی موجودگی پارٹی کو کچھ زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

آصف علی زرداری


یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت حقیقی معنوں میں جناب آصف علی زرداری کے دست کرشمہ ساز میں ہے،ہماری تحقیق کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 26 جولائی 1954 ء ، نواب شاہ اور وقت پیدائش 00:03 am ہے، ان کا طالع پیدائش برج حمل ہے جس کا حاکم ڈائنامک مریخ ہے،یہ لوگ تھکنا اور شکست تسلیم کرنا نہیں جانتے، چیلنج قبول کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے،برج حمل کا نشان مینڈھا ہے،طالع کے درجات 13 درجہ 4 دقیقہ ہیں اور اشونی منزل میں گر رہے ہیں، اس منزل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ لوگ گھوڑوں سے بہت محبت کرتے ہیں، زرداری صاحب بھی گھوڑے پالنے کے ہمیشہ شوقین رہے ہیں، طالع کا حاکم سیارہ مریخ زائچے کے نویں گھر میں ہے گویا قسمت ان پر ہمیشہ مہربان رہی ہے،زائچے کا نواں گھر ’’بھاگیہ استھان‘‘ کہلاتا ہے،ایک نہایت اچھی بات یہ بھی ہے کہ زائچے میں کوئی سیارہ بھی 6,8,12 گھروں میں نہیں ہے، اگرچہ بھرپور طاقت کا حامل بھی کوئی نہیں ہے،قمر زائچے کے دوسرے گھر میں اپنے شرف کے برج میں ہے اور سیارہ زحل بھی ساتویں گھر میں برج میزان میں شرف کے گھر میں ہے،بھاگیا استھان یعنی نویں گھر کا حاکم سیارہ مشتری تیسرے گھر برج جوزا میں دو فعلی منحوسوں کے درمیان بری طرح متاثرہ ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم سے دور رہے،ساتویں گھر کے حاکم زہرہ پانچویں گھر میں براجمان ہے اور اس پر راہو کی نظر ہے،یہ صورت حال عاشق مزاج بناتی ہے،سنا ہے نوجوانی میں وہ خاصے رنگین مزاج رہے ہیں۔
جیسا کہ برج حمل کے حوالے سے چند خصوصیات کی نشان دہی کی گئی کہ یہ لوگ اپنی مثبت خصوصیات میں انتھک کام کرنے والے اور شکست قبول نہ کرنے والے ہوتے ہیں، مزید یہ کہ کھلے ذہن کے مالک ، انفرادیت پسند، چوکنا اور فوری بولنے والے ، پہل کار، پرعزم، فیاض، جرأت مند اور پراعتماد ہوتے ہیں، ان کی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں خود غرضی، فوراً طیش میں آنا، چیلنج قبول کرنا، من موجی، بے صبر، صحیح سمت کا شعور نہ ہونا، دوسروں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے بجائے خود تجربات کرنا، کسی کی پیروی نہ کرنا اور من مانی کرنا شامل ہیں۔
برج حمل کے زیر اثر پیدا ہونے والی ایک مشہور شخصیت اسپائک للی گین (مزاحیہ اداکار) کا قول ملاحظہ کریں، فرماتے ہیں ’’میں نے سوچا کہ میں شیکسپیئر کی کسی نظم سے ابتدا کروں لیکن پھر میں نے سوچا کہ میں ایسا کیوں کروں؟وہ کبھی میری نظم تو نہیں پڑھتا‘‘
آپ جب بھی زرداری صاحب کو تقریر کرتے یا کسی کو کوئی انٹرویو دیتے دیکھیں گے تو ایسا محسوس کریں گے کہ ان کے مخاطب بہت چھوٹے یا کم علم لوگ ہیں اور وہ انھیں سبق پڑھا رہے ہیں، دوران گفتگو اکثر ایک استہزائیہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر رہتی ہے جیسے وہ یہ بتانا چاہتے ہوں کہ جو کچھ ہوں ، میں ہوں، کہا جاتا ہے کہ حمل افراد کا نعرہ ہے I AM” “، زرداری صاحب کے زائچے میں سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں ہے اور یہ زائچے کا دوسرا گھر ہے،اگرچہ قمر معمولی سا کمزور ہے اور اس کمزوری کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے، قمر زائچے کے چوتھے گھر کا حاکم ہے،گویاانھوں نے مالی طور پر مضبوط والدین کے گھر میں آنکھ کھولی اور سیاست انہیں ورثے میں ملی، قمر کی ثور میں موجودگی انھیں فطری طور پر مستقل مزاج ، ضدی اور اپنی لگن کا پکا ظاہر کرتی ہے،ان کی پیدائش چاند کی منزل روہنی میں ہوئی ہے،اس پر سیارہ قمر ہی حکمران ہے،اس منزل میں حسن، شہوانیت، کرشمہ اور سحر انگیزی منعکس ہیں، روہنی میں پیدا ہونے والے افراد شائستہ اطوار اور اچھی گفتگو کرنے والے ہوتے ہیں، اپنے حواس پر کنٹرول رکھنا جانتے ہیں، سیاست میں کامیاب ہوسکتے ہیں،عمر کے تیس سے پچاس سال تک کا عرصہ کامیابیاں لاتا ہے،لوگوں میں مقبول ہوتے ہیں،انھیں مالی معاملات میں کبھی پریشانی نہیں ہوتی اور ہمیشہ اپنے خاندان سے جڑے رہتے ہیں،یہ ہر اس کام کو انجام دینے کی فطری صلاحیت رکھتے ہیں جو انھیں سونپا جائے،ان کی تعلیم اوسط درجے کی ہوتی ہے،فطری طور پر ان کا رجحان دولت کمانے کی طرف رہتا ہے،برج ثور خاکی برج ہے اور مادّیت کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے،عام طور پر یہ لوگ اپنے غصے اور اشتعال پر قابو پانے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب ایک بار انھیں غصہ آجائے تو اسے ٹھنڈا کرنا آسان ثابت نہیں ہوتا۔
اس منزل میں پیدا ہونے والی دیگر مشہور شخصیات میں ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ، ملکہ وکٹوریا، امریکی صدر بارک اوباما، مدر ٹریسا، ہالی ووڈ اسٹار اومر شریف، اداکار پریم ناتھ وغیرہ شامل ہیں۔
عزیزان من! جناب آصف علی زرداری کی نمایاں خوبیوں اور خامیوں یا رجحانات آپ کے سامنے ہیں، وہ ایک خوش قسمت انسان ہیں، ان کے والد صاحب حیثیت تھے ، مزید خوش قسمتی یہ کہ ان کی شادی محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی عالمی شناخت رکھنے والی سیاست داں سے ہوئی جو شادی کے بعد دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم منتخب ہوئیں،ایک سانحے نے انھیں زرداری صاحب سے جدا کردیا لیکن لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بھی زرداری صاحب کے لیے کوئی گھاٹے کا سودا نہیں رہا، وہ ملک کے صدر بنے، اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک نان گریجوئیٹ 5 سال تک ایوان صدر میں براجمان رہا، ان پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے بے شمار کیسز بنائے گئے لیکن وہ تمام مقدمات سے جان چھڑانے میں کامیاب رہے،کہا جاتا ہے کہ انھوں نے گیارہ سال جیل میں گزارے اور وہاں ان پر سختیاں بھی ہوئیں لیکن دوسری طرف کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جیل ان کے لیے کسی مصیبت و پریشانی کا باعث نہیں رہی،وہ جیل میں بھی ایک نمایاں اور برتر حیثیت کے حامل رہے۔
جناب آصف علی زرداری کے ماضی کے حوالے سے زیادہ روشنی ڈالنا ضروری نہیں ہے وہ ایک مشہور شخصیت ہیں اور تمام لوگ ان کے حالات زندگی سے واقف ہیں، چند اہم امور پر روشنی ڈالنا ضروری ہے،فروری 2001 ء سے ان کی زندگی میں سیارہ زحل کا دور اکبر شروع ہوا جو 19 سال پر محیط ہے ، سیارہ زحل زائچے میں اچھی جگہ واقع ہے اور اپنے شرف کے برج میں ہے،یہی وہ دور ہے جب ملک پر جنرل پرویز مشرف حکمران تھے اور مشرف ہی کے دور میں وہ رہا ہوئے، ملک سے باہر گئے،3 دسمبر 2007 ء سے زحل کے دور اکبر میں زہرہ کا دور شروع ہوا تو وہ اقتدار میں آئے اور پانچ سال کی مدت پوری کی،اس عرصے میں وہ جو کرنا چاہتے تھے انھوں نے کیا، 24 ستمبر 2014 ء سے راہو کے دور اصغر میں ان پر زیادہ دباؤ رہا جو جولائی 2017 ء تک جاری رہا، پھر مشتری کا دور شروع ہوا جو تاحال جاری ہے،مشتری جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے اگرچہ بھاگیا استھان کا مالک ہے اور سعد اثر رکھنے والا سیارہ ہے لیکن بری طرح متاثرہ ہے،چھٹے گھر کے حاکم عطارد اور کیتو اور راہو مشتری کو گھیرے ہوئے ہیں، یہ ایک ایسی پوزیشن ہے جسے مثبت نہیں کہا جاسکتا، یہ زائچے کا ایک منفی پہلو ہے جس سے کسی کارخیر کے بجائے کاربد کا امکان پیدا ہوتا ہے،حال ہی میں سینیٹ الیکشن میں زرداری صاحب نے جو کارنامے انجام دیے انھیں مثبت نہیں کہا گیا، تو کیا آنے والے الیکشن میں بھی ایسے ہی کسی کارنامے کی توقع کی جاسکتی ہے؟ مگر خیال رہے کہ منفی کاموں کا انجام بھی بالآخر منفی ہی ہوتا ہے۔