جہل خرد نے یہ دن دکھائے
جہالت کی فتنہ پروری کا عبرت انگیز ماجرا
اس بات سے توکوئی ذی شعور انکارنہیں کرسکتا کہ ہمارے معاشرے میں جنم لینے والے اکثرپے چیدہ ترین مسائل کی جڑ کسی نہ کسی طرح جہالت کے کسی اندھیرے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔مسئلہ بیماری کا ہویا گھریلو اور خاندانی جھگڑوں کا یامعاشی واقتصادی ہو۔اگر ہم نہایت باریک بینی سے اس کا جائزہ لیں توآخر میں اس نتیجے میں پرپہنچ جائیں گے کہ جہالت کسی نہ کسی مرحلے پراپنی کار فرمائی دکھارہی ہے اورمسئلے کی زد میں آئے ہوئے افراد اس کارفرمائی سے بے خبرہوتے ہیں۔
ابھی چند روز قبل ہی ایک ایسی خاتون ہمارے کلینک میں آئیں جن کی حالت ناقابل یقین حد تک خراب ہوچکی تھی۔ ایک نہایت بھیانک بیماری ان کے پورے جسم میں پھیل چکی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی بیماری نہیں ہے جسے عجوبہ کہاجائے یاناقابل علاج ہولیکن حیرت انگیز طورپر کسی نے اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اورآخر میں کراچی کے ایک بہت بڑے اسپتال نے یہ کہ کران کے علاج سے انکارکردیا کہ ان کی بیماری ہماری سمجھ سے باہر ہے اورہم نے جوٹیسٹ کئے ہیں وہ سب کلیئر ہیں۔
مریضہ کی تمام رپورٹس دیکھنے کے بعد اندازہ ہواکہ ڈاکٹرز کی تشخیص کارخ غلط تھا۔ وہ اس مسئلے کو غالباً کینسریا ایڈز سمجھ رہے تھے۔ لہٰذا ٹیسٹ بھی اسی نوعیت کے کرائے جارہے تھے۔ اورنتیجہ صفر آرہاتھا۔بہرحال ایسی کون سی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے ایک بڑے اسپتال نے مریض کومایوس کردیا۔
ہم یہ حقیقت جاننے سے قاصر رہے ۔ شاید مرض کی شدت اورمریضہ کی حالت دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ فیصلہ کیاہوکہ اس مصیبت سے جان چھڑالینا ہی بہترہے۔مریضہ کا تعلق چونکہ ایک غریب گھرانے سے ہے لہٰذا وہ کسی بڑے پرائیویٹ اسپتال تک جانے کی ہمت نہیں کرسکتی تھیں ورنہ شاید یہ صورت حال پیش نہ آتی کیوں کہ پرائیویٹ اسپتالوں کی صورت حال کچھ مختلف ہے۔ وہاں مرض کی تشخیص درست طورپر ہو یانہ ہوعلاج جاری رہتاہے کیونکہ اسپتال کے اخراجات بھی جاری رہتے ہیں۔
ہم نے مریضہ کی کیس ہسٹری لی تومعلوم ہوا کہ تقریباً12`10ماہ قبل معاملہ کھانسی سے شروع ہوا تھا اوراس وقت مریضہ کراچی سے باہر پنجاب میں اپنے آبائی شہر میں تھی۔
کھانسی کے لیے بہت سے علاج معالجے ہوئے ‘حکیم ڈاکٹر اسپتال ‘کھانسی کے ساتھ منہ میں چھالے بھی تھے۔یہ چھالے آہستہ آہستہ پورے جسم پر نمودار ہونے لگے توایک ڈاکٹر نے پنسلین کے انجکشن لگانے شرو ع کردیئے اوریہ انجکشن اتنی کثرت سے لگے کہ مریضہ کا برا حال ہوگیا۔
یہ ساری روداد سنانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آج بھی ہمارے ملک میں لوگوں کی ناواقفیت کا حال یہ ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ ایک طویل عرصے سے پنسلین سے متعلق ادویات کومضرترین یعنی خطرناک ادویات میں شامل کردیا گیا ہے اوراس کااستعمال ممنوع قرار دیاگیاہے۔
مریض بے چارہ ظاہر ہے کہ ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹرکی دی ہوئی دوا سے کیسے منہ موڑ سکتا ہے مگران ڈاکٹروں کے بارے میں کیاکہاجائے جوآج بھی صرف اپناکلینک چلانے کے لیے ایسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں جن کے بارے میں وہ خودبھی جانتے ہیں کہ ان کا استعمال ممنوع ہے ۔یہی صورت حال دیگرپے چیدہ مسائل میں بھی ظاہر ہوتی ہے جہاں ہم عدم واقفیت ‘جاہلانہ رسومات وروایات یا محض جذباتی نوعیت کی غیرحقیقی وابستگیوں کوحد سے زیادہ اہمیت دینے لگیں بلکہ ہم تو یہاں تک کہیں گے کہ ہمارے معاشرے میں لو گ دین کا درست علم نہ ہونے کی وجہ سے رسومات، روایات اورجذباتی عقیدت کے معاملات کی خاطر شریعت ودین کے احکامات کوبھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں جس کی ایک واضح اورکھلی مثال توسندھ میں پائی جانے والی روایت کاروکاری ہے یا لڑکیوں کی قرآن سے شادی وغیرہ، آئیے! ایک ایسے ہی خط کا مطالعہ کیجئے۔ جس میں مسئلے کی پے چیدگی محض جہالت کے سبب سنگین نوعیت اختیارکرگئی ہے۔
ف الف ‘نامعلوم جگہ سے رقم طراز ہیں۔
کئی دنوں سے سوچ رہی تھی کہ آپ کواپنے مسئلے سے آگاہ کروں لیکن آج توحد ہی ہوگئی ہے ۔آج جمعتہ المبارک ہے۔ یہ دن بڑی برکتوں والاہے لیکن ہمارے گھر میں جمعے کوہی کوئی نہ کوئی جھگڑاہوجاتاہے۔
ہم 3بہنیں ہیں اورتینوں میں کسی نہ کسی وجہ سے بہت لڑائی ہوتی ہے۔ میں اس کی اصل وجہ لکھ رہی ہوں۔امید ہے کہ آپ مجھے کوئی اچھا جواب دیں گے۔ ہم پہلے جس گھرمیں رہتے تھے وہاں ہمارے پڑوسی بہت اچھے تھے۔
انہیں میری بڑی بہن پسند آگئی اورانہوں نے ہم سے کہاکہ ہم تمہارے گھراپنے بڑے لڑکے کا رشتہ لے کرآئیں گے لیکن پھراس بات کوکافی عرصہ گزرگیا لیکن وہ لوگ نہیں آئے۔ ان کا چھوٹا بیٹا میری بڑی بہن کا بھائی بناہواتھا۔
میری بڑی بہن نے اسے اپنا چھوٹا بھائی بنایاہواتھا۔ایک دن ان کے گھرمیں سخت لڑائی ہوئی اوربڑے بھائی نے میری بہن کے ساتھ شادی سے انکارکردیا۔ کیونکہ اس وقت اس کے پاس کوئی کام دھندا نہیں تھامگراس کی امی اسے منگنی کرنے پرآمادہ کرتی رہتی تھیں۔ اسی وجہ سے لڑائی ہوئی۔
یہ سب دیکھ کران کاچھوٹا بیٹا جومیری بہن کا بھائی بناہواتھا اس نے اپنی ماں سے کہاکہ اگریہ شادی نہیں کرے گاتومیں وہاں شادی کروں گا۔ یعنی اپنی بنائی ہوئی بہن سے۔ اس بات پران کے گھرمیں اورجھگڑا ہوا اوراس رات کوچھوٹے بھائی نے میری بہن کو ایس ایم ایس کرکے پروپوز کردیاجس پرمیری بہن کوبہت غصہ آیا اس نے انکارکردیا۔ اس بات کوکئی روز ہوگئے، اب وہ لڑکا روزانہ اپنی ماں پر زوردیتا رہا کہ تم جاکرمیرے لئے رشتہ مانگومگراس کی ماں نے یہ کہہ کرٹال دیا کہ ہم نے بڑے بیٹے کے بارے میں سوچا تھا، تمہارے لیے نہیں، اس کے بعد اس لڑکے نے شراب پی اورہلا گلا کیا۔ پورے محلے کوجمع کیا، میری بہن چونکہ بہت بھولی ہے لہٰذا اس نےایس ایم ایس کرکے اس کوبہت سمجھایا مگروہ نہ مانا بلکہ اس نے میری بہن کوہمدردی جتاکراپنی طرف کرلیا کیونکہ وہ جانتا تھاکہ میری بہن بہت بھولی ہے۔
جب یہ بات ہمارے گھروالوں کوپتہ چلی توقیامت آگئی کہ ایک بھائی نے بہن کوشادی کے لیے پروپوز کیاہے۔ چنانچہ ان کے گھروالوں کوبلایاگیا اوران کے بھائی کی حرکت بتائی گئی جس پر بہرحال بات ان کے اورہمارے گھروالوں کے بیچ میں ختم ہوگئی لیکن میری بہن پھربھی اسے روزایس ایم ایس کرتی جس کی وجہ سے بات اندرہی اندر اس حد تک پہنچ گئی کہ دونوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا۔جب وہ کرتی تومجھے بہت غصہ آتا اورمیرا بڑی بہن سے جھگڑا ہوتا۔
یہ جھگڑا روز بروز بڑھتا گیا اورایک دن میرا ہاتھ بھی اٹھ گیا اورپھراٹھتاہی گیا۔ اب ہم نے وہ گھرچھوڑ دیاہے ۔میرے بھائیوں نے بھی بہت غصہ کیا اورایک بھائی نے اسے مارا بھی کیونکہ یہ اس کی غلطی تھی کہ جس کوبھائی بنایا اس سے شادی کا فیصلہ کرلیااوریہ بھی نہیں خیال کیا کہ اس کے بھائی نے اس کے ساتھ کیا کیا۔پھربھی وہ روزانہ اسے ایس ایم ایس کرتی رہی۔ اب وہ گھرمیں کسی سے بات نہیں کرتی ہے اورہاں اس معاملے میں بعد میں میری امی نے بھی اس کا ساتھ دیا اوریہ دیکھ کر میں ان سے بھی لڑتی رہی لیکن میری امی نے ہی مجھے بدنام کردیا۔ بھائیوں کے سامنے اورابو کے سامنے۔
اب جبکہ ہم نئے گھر میں آگئے ہیں تومیںنے اپنی دونوں بہنوں سے معافی مانگی مگروہ پھربھی معاف نہیں کررہی ہیں۔ بات بھی نہیں کرتیں۔ بڑی بہن اتنی حساس ہوگئی ہے کہ بس ‘میری دوسرے نمبرکی بہن سے بھی بہت لڑتی ہے۔ گھرکا نظام درہم برہم ہوگیاہے۔
فراز انکل! آپ کاکالم پڑھنے سے میرے دل میں امید کی کرن جاگی ہے میرامسئلہ یہ ہے کہ تمام لڑائی جھگڑا اورگزشتہ تمام باتیں میرے دماغ میں چلتی رہتی ہیں۔ میں نفسیاتی کیفیت میں تونہیں ہوں؟ میں بہت بیزار آچکی ہوں تمام خیالات سے ۔آپ سے میری درخواست ہے کہ آپ ہم تینوں بہنوں کے جھگڑوں کا کوئی حل بتائیں۔ کوئی ”سورة“ کوئی ”تعویز“ وغیرہ۔ایسا لگتاہے کہ کسی نے ہم تینوں پرکچھ کردیاہے تاکہ ہم لڑتے رہیں اورہمارا گھر جہنم بن جائے۔ آج آپ کویہ سب لکھ کرمیرے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیاہے۔
جواب؛۔عزیز بیٹی‘آپ نے اپنے خط میں یکطرفہ طورپرجس صورت حال کی نشاندہی کی ہے اس میں صرف آپ کا موقف نمایاں ہے۔ آپ کی بڑی بہن کا موقف دب کررہ گیاہے اس سارے معاملے میں فساد کی وجہ صرف اتنی ہے کہ اس لڑکے نے جوآپ کی بہن کا بھائی بناہواتھا جب یہ دیکھا کہ اس کا بڑا بھائی اس لڑکی کوٹھکرارہاہے جواس کے گھروالوں کے وعدوں سے ایک آس لگائے بیٹھی تھی تواس نے اپنے بھائی کی جگہ خود کوپیش کردیا۔
ہماری نظر میں تویہ کوئی غلط بات یابرائی کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ بہرحال اس کا سگا بھائی نہ تھااورنہ ہی دودھ شریک بھائی تھا۔ شریعت نے ایسی صورت میں کوئی پابندی نہیں لگائی توپھر ہم کون ہوتے ہیں ان دونوں کواس معاملے میں خطادار ٹھہرانے والے !یہ ٹھیک ہے کہ اس واقعے سے پہلے بھائی بہن کی طرح رہتے تھے توایسا تو اکثرگھرانوں میں ہوتاہے کہ تمام کزنز، چچا، تایا، خالہ، ماموں کے بیٹے بھائیوں کی طرح ہی ہوتے ہیں اوراپنی کزنز کوبہن ہی سمجھتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کوبھائی بہن کہہ کرمخاطب کرتے ہیں اوربعد میں ان کے بڑے ایک دوسرے سے منسوب کرکے ان کی شادی کردیتے ہیں کیونکہ حقیقت میں ان کا رشتہ ایسے بہن بھائیوں کا نہیں ہوتاجن کی شادی پرشریعت نے پابندی لگائی ہے۔
یقینا پہلی بارجب اس نے آپ کی بہن کوپروپوز کیاہوگا تو اسے ذہنی جھٹکا لگاہوگا کہ جولڑکا اب تک اسے بہن کہتاتھا اب شادی کی باتیں کررہاہے مگربعدمیں اس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ وہ اس کا بہرحال حقیقی بھائی نہیں ہے۔
اس کے پیش نظر اس بات کی بھی بڑی اہمیت ہوگی کہ اس نے اپنے گھروالوں کی مخالفت کوبالائے طاق رکھ کراس کا سہارا بننے کی کوشش کی۔لہٰذا آپ کی بہن کا دل اگراس کے لیے نرم ہوگیا ہویادل میں اس کے لئے محبت پیدا ہوگئی ہوتواس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ۔نہ ہی اس بناپر اسے کوئی الزام دیاجاسکتاہے۔
آپ چوں کہ اس ساری صورت حال کی مخالفت کرنے میں پیش پیش رہیں۔ حدیہ کہ جب آپ کی امی نے اپنی بڑی بیٹی کی حمایت میں آواز اٹھائی توآپ ان کی بھی مخالف ہوگئیں۔ نتیجتاً صورت حال بگڑتی چلی گئی۔
دانش مندی کا تقاضا تویہ تھا کہ اگروہ دونوں ایک دوسرے کوپسند کرنے لگے تھے توان کی شادی کردی جاتی۔ اس رشتے کی مخالفت اگر اس بنیاد پرہوتی کہ لڑکایا اس کے گھروالے خراب ہیں، بدکردارہیں یا لڑکا کوئی کام دھندا نہیں کرتا۔
کوئی ہنریا تعلیم اس کے پاس نہیں ہے توبھی ایک معقول جواز ہوتا کہ آپ اپنی بہن کوایک غلط شخص کے ساتھ شادی سے روک رہی ہیں مگراس کے برعکس آپ نے اورآپ کے بھائیوں نے جس وجہ کوبنیاد بنایا اس کی توکوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔
اگراب بھی صورت حال کودرست طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کی جائے توسب گلے شکوے اورلڑائی جھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔ آپ نے جس غلطی کوبنیادبناکراپنی بہن کوہدف ملامت بنارکھاہے وہ تودرحقیقت کوئی غلطی ہی نہیں ہے بلکہ ہماری نظر میں اس سے بھی بڑی غلطیاں جومذہب کی نظرمیں بھی ناقابل معافی ہیں وہ توآپ نے کی ہیں۔
مثلاً بڑی بہن پرہاتھ اٹھانا‘اورماں سے زِبان چلانا۔اب آپ اگران سے معافی بھی مانگ رہی ہیں توکیا صرف ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگنے سے آپ کی ان غلطیوں کاازالہ ہوجائے گا جوآپ کرچکی ہیں۔ان کا ازالہ اسی طرح ممکن ہے کہ آپ اپنی بہن کا دل جیتنے کی کوشش کریں اوراگر وہ لڑکا مناسب ہے اوراب بھی شادی کے لئے تیارہے توان کی شادی کرادیں یا پھراپنی بہن کی مرضی معلوم کریں کہ اب وہ کیا چاہتی ہے اورگھر کے دوسرے لوگوں کوبھی سمجھائیں کہ انہوں نے نادانستگی میں جوزیادتیاں کی ہیں اس کی معقول تلافی کریں۔تب ہی گھرکی موجودہ صورتحال نارمل ہوسکے گی۔
ایسامعلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والدین بھی اتنے ہی ناسمجھ ہیں جتنی آپ خود ہیںاوریہ حال بھائیوں کا بھی ہے۔ آپ نے کسی سورة یا تعویز کی فرمائش کی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔آپ کی جوذہنی اورنفسیاتی کیفیت ہے یہ اس ظلم کے نتیجے میں ہے جوآپ نے اپنی بہن پرکیاہے۔
لاشعوری طورپرآپ بھی یہ بات جانتی ہیں کہ جذباتی رومیں بہہ کرآپ نے جوکچھ کیاہے وہ غلط ہے مگرشعوری طورپرآپ کی انااپنی غلطیوں کوتسلیم کرنے کےلئے تیارنہیں ہے اوراسی شعوری اورلاشعوری کشمکش میں آپ نفسیاتی مریضہ بنتی جارہی ہیں۔
اس کا علاج یہی ہے کہ ماں اوربہن کے سامنے کھلے دل سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیں۔آپ چھوٹی ہیں اورچھوٹوں سے غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ جب آپ کھل کران کا اعتراف کرلیں گی تولاشعورمیں موجود کسک ختم ہوجائے گی اورآپ کوایسا محسوس ہوگا جیسے ذہن سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ آپ نے اپنی اوردیگربہنوں کی مکمل تاریخ پیدائش نہیں لکھی۔صرف مہینہ اورسن لکھ دیاہے۔ اس لئے علم نجوم کے حوالے سے ہم کوئی تجزیہ کرنے سے قاصرہیں۔
میں جلد بوڑھا ہوجاوں گا
م ،ک ب،جگہ نامعلوم: آپ کا خط ہم نے بہت توجہ سے پڑھا۔آپ نے جن خدشات کا اظہار کیاہے وہ بے بنیاد ہیں آپ کی اورلڑکی کی عمر میں جوفرق ہے وہ بہت زیادہ نہیں ہے، آپ بلاخوف وخطر شادی کریں۔ آپ کی والدہ نے جوباتیں آپ کوسمجھائی ہیں وہ درست ہیں اورنہایت تجربے کی باتیں ہیں۔ انہیں آپ نظرانداز نہ کریں۔
رہا سوال آپ کی صحت کا تو آپ کومعقول علاج معالجے کی طرف توجہ دیناچاہیے۔ بالوں کاجلد سفید ہونا بڑھاپے کی علامت نہیں ہے بلکہ حد سے زیادہ نزلے کا شکار رہنے والے بھی بالوں کی سفیدی کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
آپ ابھی جوان ہیں ۔32سال کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔ ایسامعلوم ہوتاہے کہ آپ کسی نہ کسی وجہ سے احساس کمتری میں مبتلا ہوگئے ہیں اوراس حوالے سے کوئی معقول رہنمائی کرنے والا نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ کچھ دوست غلط مشورے دے رہے ہوں۔
آپ نے جس دوسری بیماری کا ذکر کیاہے وہ بھی قابل علاج ہے اورو ہ ایسی بیماری بھی نہیں ہے کہ آپ کوشادی کے بعد کسی پریشانی کاسامنا کرناپڑے۔البتہ یہ ضرورہے کہ اس بیماری سے انسان جسمانی طورسے کمزوریوں کا شکارہوجاتاہے۔
اگرآپ ہومیوپیتھک علاج کریں اورخوراک میں پرہیز کاخیال رکھیں۔یعنی بادی چیزیں مثلاً گائے بھینس کا گوشت‘چاول‘ماش کی دال، آلوگوبھی، اروی، بینگن وغیرہ اورتیز مرچ مسالوں والی بازاری اشیا استعمال نہ کریں توآپ کی آدھی بیماری توصرف پرہیز سے ہی قابومیں آجائے گی۔
اس بیماری میں یہ بھی خیال رکھیں کہ قبض کی شکایت نہ ہونے پائے۔اگرصبح شام اسپغول کی بھوسی مستقل استعمال کریں تو بہت بہترہوگا۔باقی اپنے ذہن سے ہرقسم کا وہم نکال دیں اوریہ بات یاد رکھیں کہ بڑھاپا عمر سے نہیں ذہن ودل سے ہوتاہے۔اگرآپ کا دل جوان ہے اورذہنی قوتیں تواناہیں توآپ 60سال کی عمرمیں بھی جوان نظرآئیں گےاور یہ بات بھی درست ہے کہ مردکے مقابلے میں عورت پربڑھاپا جلدی آتاہے آپ کا شمسی برج ثور ہے اوربرج ثوروالے افراد کسی بیل کی طرح سخت جان اورتواناہوتے ہیں۔
حالات یک دم نہیں بدلتے
ش ق خ، کراچی،جواب: تمہارے80فیصد مسائل جن کا تعلق خاندانی معاملات سے ہے مصنوعی ہیں۔ ایسے مسائل صرف تمہارے ساتھ ہی پیش نہیں آرہے۔ بے شمار لڑکیوں کے ساتھ پیش آتے ہیں اورپھروقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتے چلے جاتے ہیں دوسرے معنوں میں یہ سب عارضی نوعیت کے مسائل ہیں۔
تمہیں ان کازیادہ نوٹس نہیں لیناچاہیے۔ جتنا زیادہ ان کواپنے اوپر طاری کروگی اپناہی سکون اورچین برباد کروگی۔ حقیقی مسئلہ معاشی ہے مگروہ بھی رفتہ رفتہ وقت کے ساتھ حل ہوجائے گا۔ آخرگزشتہ ایک سال میں ایک ایسی تبدیلی آہی گئی جوبظاہر ناممکن نظرآتی تھی یعنی تمہارے شوہر نے کمانا شروع کردیا اوراس کے ساتھ اب تم خوش ہو۔
انشاءاﷲ آئندہ آمدنی میں مزیداضافہ بھی ہوجائے گا۔ اس سال کے جون سے جب مشتری برج سرطان میں داخل ہوگا تومعاشی معاملات میں مزید بہتری آئے گی۔ لہٰذا حوصلہ ہارنے اوربددل ہونے والی باتیں مت کرو۔
باقی خاندانی جھگڑوں اورلوگوں کے طعنوں تشنوں کی طرف سے کان بند کرلواوردل کوپتھربنالو، اپنے اسم اعظم کا ورد جاری رکھو۔ اگرممکن ہوسکے تواپنے شوہر کوہمارے پاس بھیج دو۔
مزید یہ کہ خود بھی کوئی کام کرنے کی کوشش کروتاکہ معاشی طورپر مضبوط ہوسکو۔اس سلسلے میں خاندان والوں کی کسی بات کی پروانہ نہ کرو صرف شوہر کی اجازت اوررضامندی ضروری ہے۔ باقی لوگ اگرباتیں بناتے ہیں توبنانے دو۔تمہارے دیگربے شمار سوالات کے جوابات یہاںنہیں دیئے جاسکتے۔ ان کے لیے تمہیں آناپڑے گا یاپھر فون پربات کرو۔
نام، شادی، اسم اعظم
ف م‘کراچی۔ جواب: آپ کا نام درست نہیں ہے۔ مکمل نام کا عدد8ہے۔جوآپ کی تاریخ پیدائش کے مطابق غلط ہے۔بہترہوگا کہ نام کے دوسرے لفظ ”زہرا“ کے آخر میں الف کے بجائے ”ہ“لگالواور انگریزی میں بھی ”H“کا اضافہ کرو۔اس طرح نام کا عدد 3بن جائے گا اورنام موافق ہوجائے گا۔آپ کا شمسی برج عقرب اورقمری برج جوزاہے۔ شادی کا فی الحال امکان نظرنہیں آتا۔ البتہ2027ءکے آخری 3ماہ یا پھر 2028ءمیں شادی ہوسکتی ہے۔ آپ کا اسم اعظم یہ ہے۔
یاعلی اللطیف التواب
بدھ کے دن سے 710مرتبہ اول وآخر گیارہ 11 مرتبہ درودشریف روزانہ پڑھیں ‘آپ کے لئے مناسب شریک حیات سرطان ‘ثوراورسنبلہ والے ہوں گے۔

