سال 2026 کا آغاز پاکستان کو ایک نئی سمت لے جارہا ہے
جنوری کی سیاروی گردش، غیر معمولی اثرات کا حامل مہینہ
قارئین کرام! سب سے پہلے نئے سال 2026کے آغاز کی مبارک باد قبول کیجیے، ہماری دعا ہے کہ یہ نیا سال پوری دنیا کے لیے امن و آشتی اور صحت و سلامتی کا باعث ثابت ہو۔
سال 2026کے امکانات کے حوالے سے ہمارا طویل مضمون یقینا آپ ہماری ویب سائٹ پر پڑھ چکے ہوں گے ، اس کے علاوہ یہی مضمون زنجانی جنتری سال 2026 میں بھی شائع ہوچکا ہے ۔
یقینا موجودہ پاکستان کی تاریخ کے چند ایک غیر معمولی سالوں میں سے ایک ہے ، اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس سال دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں نہایت اہم نوعیت کی بڑی تبدیلیاں واقع ہوں گی، فی الحال ہم صرف نئے سال کے پہلے مہینے جنوری کے حوالے سے زائچہ پاکستان کی سیاروی گردش پر بات کریں گے۔
عزیزان من! پاکستان اور بھارت میں تقریباً تمام ہی ماہرین نجوم آج تک پاکستان کے پہلے زائچے یعنی 14یا 15اگست 1947 کے مطابق گفتگو کرتے نظر آتے ہیں بلکہ اکثر تو یہ زحمت ہی نہیں کرتے کہ پاکستان کے زائچے کے حوالے سے وضاحت کریں کہ وہ پاکستان کا زائچہ کس تاریخ اور وقت کے مطابق بنائے بیٹھے ہیں اور زائچے کی بنیادی سیاروی صورت حال کیا ہے؟
عام طور سے ان کی گفتگو ایک مجذوب کی پیش گوئی معلوم ہوتی ہے، یقینا ایسے لوگ حقیقی علم نجوم سے نابلد ہیںاور عام لوگوں کو جنھیں علم نجوم سے کوئی واقفیت نہیں ہے ، بے وقوف بنارہے ہیں۔
ہماری تحقیق کے مطابق پاکستان کا پہلا زائچہ 15اگست 1947 شب صفر بج کر صفر منٹ پر بہ مقام کراچی درست تھا لیکن 1971میں جب پاکستان دولخت ہوا اور پاکستان کا آدھا حصہ بنگلا دیش کے نام سے ایک نیا ملک بن گیا تو پاکستان کا پرانا زائچہ بھی معطل ہوگیااور نیا زائچہ 20دسمبر 1971ء دوپہر 02:52 کواسلام آباد ٹائم کے مطابق وجود میں آیا کیوں کہ یہی وہ تاریخ اور وقت تھا جب جنرل یحییٰ خان نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کیا۔
ہمارے لکیر کے فقیر ماہرین نجوم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے، حالاں کہ پوری دنیا میں یہ اصول علم نجوم میں موجود ہے کہ جب کوئی نیا ملک وجود میں آتا ہے تو اس کا نیا زائچہ بنایا جاتا ہے، اس کی مثال برصغیر کی تقسیم کے وقت اور اس سے پہلے سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کے وقت سامنے آچکی تھی جب ترکی کے حصے بخرے کیے گئے تو کئی نئے ملک وجود میں آئے ۔
خصوصاً تمام مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل بعد میں، اسی طرح جب سویت یونین تقسیم ہوا تو بھی ایک سے زیادہ ممالک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے اور سب کا علیحدہ علیحدہ نیا زائچہ تخلیق ہوا، چناں چہ ہم بھی پاکستان کا زائچہ مذکورہ بالا 20دسمبر 1971کے مطابق ہی بناتے ہیں، اس زائچے کے حوالے سے برسوں پہلے تفصیلی تجزیاتی مضمون بھی لکھ چکے ہیں اور یہی ہماری پریکٹس میں رہتا ہے ۔اس کا طالع پیدائش یا لگن برج ثور ہے ۔
نئے سال کا پہلا مہینہ جنوری شروع ہوچکا ہے اور گزشتہ ماہ دسمبر کی 15تاریخ سے سیاروی گردش کا دورہ زائچے کے آٹھویں گھر میں ہے بلکہ نیا چاند بھی آٹھویں گھر میں طلوع ہوا ہے۔
آٹھواں گھر زائچے کا سخت اور نحس گھر تصور کیا جاتا ہے، حالاں کہ اس گھر سے بعض اچھی خصوصیات بھی وابستہ ہیں لیکن مجموعی طور پر اس گھر میں سیاروی اجتماع بہتر نہیں سمجھا جاتا، جنوری کے آغاز میں سیارہ شمس، عطارد، زہرہ اور مریخ یعنی چار سیارگان آٹھویں گھر میں حرکت کر رہے ہیں اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ کیتو کی آٹھویں گھر پر نظر ہے ۔
چناں چہ 12جنوری تک کا وقت خاصا مخدوش اور حادثات و سانحات کی نشان دہی کرنے والا نظر آتا ہے، مزید یہ کہ سیارہ مشتری جو زائچے کے دوسرے گھر میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے اس کی نظر بھی آٹھویں گھر پر ہے جس کی وجہ سے حادثات اور جرائم کی شرح میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ صورت حال تقریباً 15دسمبر کے بعد سے جاری ہے ۔ اسی عرصے میں پی آئی اے کی فروخت جیسا بڑا واقعہ بھی پیش آچکا ہے گویا پاکستان اپنی مشہور زمانہ ایئر لائن سے محروم ہوگیا، مختلف نوعیت کے جرائم اور حادثات کی خبروں سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے اور یہ سلسلہ 12جنوری تک بلکہ اس کے بعد بھی جاری رہے گا۔
پندرہ جنوری سے سیارہ شمس، زہرہ اور بعد ازاں سیارہ مریخ زائچے کے نویں گھر برج جدی میں داخل ہوجائیں گے، زائچے کا نواں گھر آئین و قانون اور قسمت کے نئے رخ کی نشان دہی کرتا ہے۔
یہاں پیدائشی زائچے کے قمر، زہرہ اور راہو بھی موجود ہیں، چناں چہ اس گھر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ خیال رہے کہ اکتوبر 2025میں جب سیارہ مشتری زائچے کے تیسرے گھر میں داخل ہوا اور نویں گھر کے مقابل ہوا تو نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم سامنے آئی، چناں چہ توقع کرنی چاہیے کہ جنوری کے دوسرے ہاف اور فروری تک کسی اور آئینی ترمیم کا چرچا ہم سن سکتے ہیں۔
ویسے تو اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی باز گشت میڈیا میں موجود ہے اور اس حوالے سے نت نئی قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں، نہایت اہم صورت حال کی سیاروی پوزیشن 19جنوری کو ہوگی کیوں کہ 6سیارگان شمس، عطارد، زہرہ، مریخ، پلوٹو اور قمرنویں گھرمیں اجتماع کریں گے اور نیا چاند بھی اسی گھر میں طلوع ہوگا۔
چناں چہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز میں آئین وقانون کے حوالے سے مزید ترمیم و اضافے نہ ہوں، یقینا ہمارے ارباب حل و عقد جو بھی نئی ترامیم کریں گے وہ ملک کے قومی مفاد میں ہوں گی اور دعا کرنی چاہیے کہ وہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے امن و آشتی اور خوشیاں لائیں ۔
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم گزشتہ سال ہی سے تبدیلی لانے والے اہم سیارگان یورینس، نیپچون اور پلوٹو کے زائچہ پاکستان میں اہم مقامات پر گردش کرنے کے حوالے سے بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ سیارگان زائچہ پاکستان میں ایسی پوزیشن پر حرکت کر رہے ہیں جو پورے نظام کی تبدیلی پر زور دیتی ہے یعنی بہت کچھ ایسا ہونے جارہا ہے جو پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔
سیارہ یورینس زائچے کے پہلے گھر میں، نیپچون گیارھویں گھر میں اور پلوٹو نویں گھر میں غیر معمولی اثرات مرتب کر رہے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ یہ اثرات منفی ہوں، مثبت بھی ہوسکتے ہیں۔ بہ شرط یہ کہ ہمارے قائدین اور ارباب حل و عقد حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ دانش مندانہ فیصلے اورا قدام کریں کیوں کہ زائچے میں سیارہ زحل کا دور اکبر اور دور اصغر جاری ہے اور زحل کو کرما کا پھل دینے والا کہا جاتا ہے یعنی جیسا کروگے ویسا بھروگے۔
ذاتی اغراض و مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر فیصلے کیے جائیں تو اس مشکل اور پیچیدہ وقت سے نکلنے میں آسانی ہوگی ورنہ’’تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ یہاں ایک بار پھر ہمیں فیض احمد فیض صاحب کا شہرہ آفاق شعر یادآرہا ہے ؎
اس جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجیے
جو راہ اُدھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے
جنوری کی سیاروی گردش
سیارہ شمس برج قوس میں حرکت کر رہا ہے اور 14جنوری کو برج جدی میں داخل ہوگا، مہینے کے آخر تک اسی برج میں حرکت کرے گا۔
سیارہ عطارد برج قوس میں ہے، 17جنوری کو برج جدی میں داخل ہوگا۔
سیارہ زہرہ برج قوس میں حرکت کر رہا ہے، 13جنوری کو برج جدی میں داخل ہوگا۔
سیارہ مریخ برج قوس میں ہے اور 16جنوری کو برج جدی میں داخل ہوگا۔
سیارہ مشتری بحالت رجعت برج جوزا میں حرکت کر رہا ہے اور مہینے کے آخر تک اسی برج میں رہے گا۔
سیارہ زحل برج حوت میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا۔
سیارہ یورینس بحالت رجعت برج ثور میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا۔
سیارہ نیپچون برج حوت میں ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا۔
سیارہ پلوٹو برج جدی میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا۔
راہو اور کیتو بالترتیب برج دلو اور اسد میں ہیں اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کریں گے، 31 جنوری سے اسٹیشنری پوزیشن میں 15ڈگری پر ہوں گے اور 6اپریل تک اسی ڈگری پر رہیں گے۔
قمر در عقرب
سیارہ قمر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 13 جنوری بہ روز منگل کی شام 04:51پر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں داخل ہوگا اور 16جنوری بہ روز جمعہ 05:17 تک برج عقرب میں رہے گا، اپنے درجہ ء ہبوط پر 13جنوری کورات 08:52سے 10:53 تک ہوگا۔
قمر برج عقرب میں نحس خیال کیا جاتا ہے، اس تمام عرصے میں کوئی نیا کام شروع کرنا فائدہ بخش نہیں ہوتا، خصوصاً شادی بیاہ، کوئی نیا معاہدہ یا نئی جوائننگ وغیرہ سے گریز کرنا چاہیے ، اپنے روز مرہ کے فرائض کی ادائیگی تک محدود رہنا چاہیے۔ البتہ یہ وقت علاج معالجے یا بری عادات سے نجات کے لیے اور مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے مناسب ہوتا ہے۔
اس وقت میں خصوصی طلسمات و عمل کیے جاتے ہیں، آپ بھی اپنی جائز ضروریات کے لیے ایسے اعمال ہماری ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔
شرف قمر
سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 27جنوری بہ روزمنگل شام 04:14 پر داخل ہوگا اور 29جنوری بہ روز جمعرات شام 06 بجے تک شرف یاب رہے گا، اپنے درجہ شرف پر 27جنوری کورات 07:34سے 09:14تک ہوگا۔
یہ سعد وقت تصور کیا جاتا ہے، اس وقت میں نئے کاموں کی ابتدا کرنا مبارک ہوتا ہے، خیال رہے کہ اس ماہ شرف قمر عروج ماہ میں ہوگا یعنی چاند کی ابتدائی تاریخوں میں۔
ایسا شرف قمر زیادہ طاقت ور اور مؤثر ہوتا ہے، اس وقت جو کام شروع کیے جائیں گے، ان کے نتائج ان شاء اللہ بہتر حاصل ہوں گے۔ اس وقت میں اپنے جائز مقاصد کے لیے ورد و وظائف کرنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
برسوں سے ہم ایسے وظائف اس موقع کے لیے دے رہے ہیں ، خاص طور پر اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم ، اس وقت میں 556مرتبہ، اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے کسی بھی جائز مقصد کے لیے دعا کرنا افضل ہے، اس کے علاوہ بھی برکاتی انگوٹھی یا لوح قمر نورانی وغیرہ اس وقت میں تیار کی جاسکتی ہیں، ضرورت مند خواتین و حضرات اس حوالے سے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔

