خود غرضانہ طرز عمل،بدترین ظلم و ستم کی مثال
ذاتی اغراض و مقاصد کے لئے مذہب کی آڑ لینے والوں کا مجرمانہ قصہ
انسانی خود غرضی جب حد سے بڑھتی ہے تو ظلم کی عجیب عجیب بدترین ظلم و ستم کی مثالیں سامنے آتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ وہی انسان ہے جسے اشرف المخلوقات کا مرتبہ دیا گیا ہے۔
ہمیں خطوط اور ای میلز کے ذریعے بہت سے لوگوں کے مسائل پر غورو فکر کرنے کا موقع ملتا ہے اور ایسے ایسے مسائل سامنے آتے ہیں کہ بعض اوقات عقل حیران رہ جاتی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ تمام مسائل کی جڑ ہماری کم علمی اور جہالت ہی ہے اگر ہم مسئلے کی بنیاد کو سمجھ لیں اور پھر حقیقت پسندی سے کام لیں تو وہ مسئلہ پچاس فیصد تو فوری طور پر حل ہوجاتا ہے مگر افسوس اکثریت اول تو مسئلے کی بنیاد پر ہی توجہ نہیں دیتی اور اگر توجہ دے بھی تو حقیقت پسندی اختیار کرنے کے بجائے اپنی جذباتی خواہشات کا شکار ہوکر کوئی راست اقدام کرنے سے گریزاں رہتی ہے۔آیئے ایک ای میل کا مطالع کیجئے اور انسانی خود غرضی کا ایک نیا رخ دیکھیئے۔
ظلم و ستم
وائی آر ٹیکساس سے لکھتی ہیں میں جب کراچی میں تھی تو آپ کے کالم روزنامہ جرات میں پڑھا کرتی تھی اور آپ کے جوابات مجھے بہت پسند تھے پھر میری شادی ہوگئی اور میں امریکہ آگئی۔یہ شادی میری بربادی ثابت ہوئی کیوں کہ میرے شوہر ایک نفسیاتی مریض ہیں۔وہ کوئی کام بھی نہیں کرتے اور مجھے مستقل ان کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔
انہیں اکثر شدید نوعیت کے دورے پڑتے ہیں۔میرے سسرال والے تقریباً اٹھارہ،انیس سال سے یہاں مقیم ہیں اور وہ ہمارے رشتہ دار نہیں ہیں۔ شادی ہمارے ایک قریبی رشتے دار کے ذریعے طے ہوئی تھی اور میرا نکاح ٹیلیفون پر ہوا تھا۔یہ کوئی لو میرج وغیرہ نہیں تھی بلکہ میں نے اپنے والدین کے حکم پر سر جھکادیا تھا لیکن یہاں آنے کے ایک ماہ بعد ہی مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔
بہر حال میرے شوہر کی بہنوں اور بڑے بھائی نے مجھے تسلی دی کہ وہ بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گے کیوں کہ اُن کا علاج چل رہا ہے اور مجھے ایک بیوی کی حیثیت سے شوہر کی خدمت کا شرعی فریضہ ادا کرنا چاہیے جو میں آج تک ادا کر رہی ہوں۔
ہمارے ہاں اب تک کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی۔جب میں نے یہ ساری صورت حال اپنے گھر والوں کو بتائی تو انہوں نے بھی مجھے تسلی دی اور حوصلہ افزائی کی کہ میں صبر سے کام لوں اور اپنے شوہر کا خیال رکھوں۔دراصل میری حقیقی والدہ کا بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا اور میرے والد نے دوسری شادی کرلی تھی۔میرے دو بڑے بھائی شادی شدہ ہیں اور وہ میرے والد کے ساتھ نہیں رہتے۔
البتہ میری دوسری والدہ سے میری دو بہنیں اور ہیں جو مجھ سے چھوٹی ہیں۔یہ رشتہ میری سوتیلی والدہ ہی نے طے کیا تھا اور شاید وہ نہیں چاہتیں کہ میں واپس پاکستان آوں۔ اس لیے گزشتہ پانچ سال میں میں نے جب بھی اپنے شوہر کی اور سسرال والوں کی شکایات کی ہے انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور یہی زور دیا ہے کہ اگر شوہر بیمار ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بیوی اُس سے علیحدگی اختیار کرے،اُسے چھوڑ دے۔ایسا کرنا شریعت میں ایک گناہِ عظیم ہے۔یہی بات میری بڑی نند صاحبہ مجھے سمجھاتیں رہتی ہیں۔
محترم ! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میرا قصور کیا ہے؟آخر میری زندگی اس طرح کیوں گزر رہی ہے، میرے شوہر کبھی ٹھیک ہوسکیں گے یا نہیں؟اب تو مجھے نفرت سی محسوس ہونے لگی ہے کیوں کہ اُن کی حالت ٹھیک ہونے کے بجائے مزید بگڑتی جارہی ہے۔مستقل دوائیں اُنہیں استعمال کرائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ اب ذہنی طور پر بھی خاصے ایب نارمل ہوچکے ہیں۔
کوئی بات سنتے یا سمجھتے نہیں۔اتنی دواوں کے استعمال کے باوجود اُن کے ہسٹیریائی دورے ختم نہیں ہوسکے۔ دورے کی حالت میں کبھی کبھی مجھے شدید مار پیٹ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ آپ اُن کا زائچہ دیکھ کر بتائیں کہ وہ کبھی ٹھیک ہوسکتے ہیں یا نہیں اور میرا زائچہ بھی دیکھیں کہ میرا مستقبل کیا ہے؟کیا میں ساری زندگی اسی طرح گزار دوں گی؟“
جواب:عزیزم! جیسا کہ ہم نے ابتداءمیں عرض کیا ہے کہ ہر مسئلے کی جڑ میں ہماری کم علمی اور جہالت کار فرما ہوتی ہے۔ایسا ہی معاملہ آپ کے ساتھ ہے۔جب آپ کی شادی ہوئی تو آپ کی عمر 22 سال تھی۔یہ کوئی اتنی زیادہ عمر نہیں ہے کہ انسان اچھائی برائی میں واضح طور پر تمیز کرسکے لہذا آپ کو آپ کی سوتیلی والدہ نے جس جہنم میں دھکا دیا اُس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوسکا۔
یقیناً آپ کی سوتیلی ماں کوئی نہایت ہی ظالم اور خبیث فطرت عورت ہے اور ایسے ہی ظالم، خود غرض اور خبیث آپ کی سسرال والے ہیں جو ایک معصوم کی زندگی تباہ کر رہے ہیں۔آپ کے والد صاحب کو ہم کیا کہیں! بس کچھ نہ کہنا ہی مناسب ہے، انسان اتنا بھی بے حس اور خود غرض نہ ہو کہ اپنے خون کے رشتے کی طرف سے اس طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائے، کیا انہوں نے کبھی براہ راست آپ کو فون کرکے آپ سے بات بھی نہیں کی؟اور کیا آپ نے خود کبھی براہ راست اپنے والد سے بات کرکے اُنہیں اپنے حال سے آگاہ نہیں کیا؟
بہر حال اب ان سوالات کے جوابات سے کیا حاصل! ہم آپ کو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ آپ اُس شوہر کی خدمت گزاری میں لگی رہیں جو آپ کے بنیادی حقوق بھی ادا نہیں کرسکتا۔شریعت تو اس سے بھی زیادہ آگے بڑھ کر عورت کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اگر کسی شخص کے ساتھ رہتے ہوئے کوئی الجھن یا پریشانی محسوس کرتی ہے تو وہ اُس سے علیحدہ ہونے کا حق رکھتی ہے اگر وہ شخص اُسے طلاق نہیں دیتا تو وہ خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی سوتیلی ماں اور آپ کے سسرال والے شریعت کی آڑ لے کر اپنا مطلب نکال رہے ہیں۔ظاہر ہے امریکہ میں کس کو اتنی فرصت ہے کہ ایک نفسیاتی مریض کی دیکھ بھال اور تیمارداری کرے چناں چہ آپ کے چالاک و مکار سسرال والوں نے اُس کا آسان حل یہ ڈھونڈ نکالا کہ پاکستان سے ایک مفت کی نرس منگالی جائے جس کے اخراجات بھی معمولی ہوں گے۔چنانچہ انہوں نے آپ کی شکل میں اپنے بھائی کے لیے ایک نرس حاصل کرلی ہے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ امریکہ میں آپ کی قانونی پوزیشن کیا ہے اگر آپ کو نیشنلٹی مل چکی ہے اور آپ کی حیثیت قانونی طور پر مضبوط ہے تو آپ قانون کا سہارا لے سکتی ہیں اور ان لوگوں سے جان چھڑا سکتی ہیں تاکہ اپنی مرضی کی زندگی گزار سکیں۔آپ تعلیم یافتہ ہیں، آپ کو جاب بھی مل سکتی ہے اور بعد میں آپ دوسری شادی بھی کرسکتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ سب کچھ ممکن ہے، صرف مسئلے کی بنیادی وجہ کو سمجھتے ہوئے حقیقت پسندانہ انداز میں ایک انقلابی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس خوف کو ذہن سے نکال دیں کہ آپ شوہر کو چھوڑیں گی تو کوئی گناہ کریں گی۔
آپ کے شوہر کا شمسی برج حمل،قمری برج اسد اور پیدائشی برج سرطان ہے۔ان کے زائچے کی پوزیشن یقیناً بہت پیچیدہ ہے جس کی ٹیکنیکل تشریح یہاں مناسب نہیں ہے۔ہم صرف اتنا ہی عرض کریں گے کہ ماضی میں اُن کی انا شدید مجروح ہوئی ہے اور اس بات کا امکان نظر آتا ہے کہ اُن کے بڑے بھائی اور بہن ہی ان کے مجرم ہیں جن کی وجہ سے وہ موجودہ ذہنی ابتری کا شکار ہوئے۔ماضی میں یقیناً اُن کا کوئی زبردست عشق بھی ناکام ہوا ہے۔
چوں کہ بنیادی سائن یعنی حمل ، اسد اور سرطان، آتشی اور آبی ہیں اور کوئی ارتھ سائن ساتھ نہیں ہے لہذا ایسے لوگ جب کسی جذباتی اور احساساتی دباو کا شکار ہوتے ہیں تو ہسٹیریا یا شیزو فرینیا جیسے نفسیاتی مرض انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔
بے شک ایسے امراض کا علاج موجود ہے لیکن ایلو پیتھک طریقہ ءعلاج اور اُس میں استعمال ہونے والی میڈیسن ایسے مریضوں کو مکمل شفایابی نہیں بخش سکتیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ نفسیاتی مریضوں کے علاج میں اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی کہ مرض کی بنیادی وجہ کا علاج کیا جائے۔
ایسے مریضوں کو جس قسم کے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی اُنہیں مہیا نہیں کیا جاتا۔اس تیز رفتار مشینی دور میں اتنی فرصت ہی کسے ہے کہ ایک نفسیاتی مریض کے ساتھ وقت گزارے لہذا آسان علاج یہی ہے کہ اُسے سالہا سال تک مسکن ادویات کے زیر اثر رکھا جائے تاکہ وہ دیگر اہل خانہ کے لئے مشکلات پیدا نہ کرسکے۔یہی کچھ آپ کے شوہر کے ساتھ ہورہا ہے اور ہمارے نزدیک یہ ایک نہایت مجرمانہ فعل ہے۔
آپ کے زائچے کی پوزیشن بھی عجیب ہے۔شمسی برج سرطان ہے اور قمری برج بھی سرطان ہے۔البتہ پیدائشی برج جدی ہے۔ زائچے میں سیارہ زحل بھی سرطان میں ہے اور سرطان آپ کے زائچے کا ساتواں گھر ہے جس کا تعلق شادی اور شریک حیات سے ہے۔
پیدائشی قمر اور شمس کو زحل متاثر کر رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شادی میں رکاوٹ یا پھر کسی غلط جگہ شادی اور شوہر رنڈوا،طلاق شدہ یا پھر عمر میںکافی بڑا۔ہمیں نہیں معلوم کہ آپ کے شوہر کی آپ سے پہلے بھی کوئی شادی ہوئی تھی یا نہیں لیکن ہم اس امکان کو زائچے کی روشنی میں نظر انداز نہیں کرسکتے۔دوسری بات یہ کہ وہ آپ سے عمر میں تقریباً 12سال بڑے ہیں۔
آپ کے زائچے میں ایک نادر اور نایاب یوگ موجود ہے جسے ویدک ایسٹرولوجی میں پری ورتن یوگ کہا جاتا ہے اور یہ یوگ کچھ اس طرح واقع ہوا ہے کہ راج یوگ بن گیا ہے یعنی نویں گھر کا حاکم عطارد دسویں گھر میں اور دسویں گھر کا حاکم زہرہ نویں گھر میں ہے۔
یہ ایک نہایت طاقت ور سیاروی امتزاج ہے اور شاید اب اس کے اثر انداز ہونے کا وقت قریب ہے۔آپ کی زندگی بدل جائے گی اور اس صورت حال سے نجات مل جائے گی۔آپ مستقبل میں ایک کامیاب زندگی گزارےں گی، آپ کی دوسری شادی بھی ہوگی اور اولاد بھی ہوگی۔ہم یہاں زیادہ تفصیلات میں نہیں جاسکتے۔
آپ کے لئے ہمارا مشورہ یہی ہے کہ اپنی قانونی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے آئندہ کا پروگرام طے کریں۔آپ کی کامیابی کا وقت شروع ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر سے آپ پر جاری سیارہ زحل کی ساڑھ ستی بھی ختم ہوچکی ہے۔
گزشتہ ساڑھے سات سال یعنی تقریباً 2017 سے زحل کی ساڑھ ستی کا اثر جاری تھا۔آپ کو ایمبرلڈ اور وہائٹ سفائر ضرور پہننا چاہیے۔خیال رہے کہ ایمبرلڈ سیارہ عطارد کا اسٹون ہے اور وہائٹ سفائر یا ڈائمنڈ سیارہ زہرہ کا ہے۔
یہ دونوں پتھر پہننے سے ان دونوں سیارگان کو مزید تقویت ملے گی اور آپ کے زائچے میں موجود راج یوگ کی کارکردگی بڑھ جائے گی۔آئندہ سال مئی سے اگست تک کا وقت ایسے آثار ظاہر کرتا ہے جس میں آپ کی مثبت کوششوں کے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔امید ہے کہ آپ وقت ضائع کئے بغیر اپنے بہتر مستقبل کے لئے کوششوں کا آغاز کریں گی اور فضول بدگمانیوں اور غلط نظریات سے جان چھڑائیں گی۔
آپ کے لیے ایک وظیفہ بھی ہم لکھ رہے ہیں اسے نیا چاند ہونے کے بعد جو پہلی جمعرات، جمعہ،اتوار یا پیر آئے اُس سے شروع کریں ۔سورئہ حدید کی ابتدائی 6 آیات روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد گیارہ مرتبہ پڑھ کر اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے دعا کیا کریں۔آیات سے پہلے اور بعد میں گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی ضرور پڑھیں۔یہ وظیفہ چالیس دن تک پڑھنا چاہیے لیکن اس سے زیادہ مدت تک بھی پڑھ سکتی ہیں یعنی جب تک آپ کے حالات مکمل طور پر درست نہ ہوجائیں آپ پڑھ سکتی ہیں۔

