دسمبر کی سیاروی گردش، سال کا آخری اضطرابی مہینہ

دسمبر کی سیاروی گردش، سال کا آخری اضطرابی مہینہ

دہشت گردی کی لہر میں اضافہ، پاک فوج کے لیے نئے چیلنج

دسمبر کا مہینہ اس سال کا آخری اضطرابی مہینہ  ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نہایت انوکھے اور سنگین دور سے گزر رہا ہے، ماضی میں کیے گئے تمام تجربات ناکام رہے ہیں، اس بات کا اعتراف سینئر صحافی اور دانش ور بھی کر رہے ہیں، سینئر صحافی جناب نجم سیٹھی اپنے ایک تجزیے میں فرماتے ہیں کہ جمہوری نظام اب اکثرممالک میں تبدیل ہورہا ہے اور اس کی جگہ اتھیٹیرین نظام رواج پارہا ہے، پاکستان میں بھی بقول وزیر دفاع خواجہ آصف ایک ہائبرڈ نظام آچکا ہے لہٰذا جمہوریت اور جمہوری نظام کی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔
ہمیں اس سے غرض نہیں کہ دنیا میں کون سے جمہوری یا غیر جمہوری سسٹم رواج پارہے ہیں، عام عوام کو بھی کبھی اس بات کی زیادہ فکر نہیں رہی، البتہ عوام اپنے مسائل میں الجھے رہتے ہیں، انھیں روزگار چاہیے تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا عزت کے ساتھ پیٹ بھر سکیں، ہمارے ملک میں جمہوری نظام کی ناکامی کا بنیادی سبب بلدیاتی نظام سے دوری ہے۔
ہماری تمام جمہوری حکومتیں اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے تحت بلدیاتی نظام کو پس پشت ڈال کر کام چلانے کی کوشش کرتی رہی ہیں جب کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی ایک مذاق ہے۔
حیرت انگیز طور پر ہمارے ملک کے تمام مارشل لا ایڈمنسٹریٹراپنے طویل دور اقتدار میں بلدیاتی نظام پر خصوصی زور دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو عدم اطمینان کی کیفیت سے نکالنا آسان ہوجاتا ہے، وہ اپنی پریشانیوں میں باآسانی علاقے کے کونسلر سے رابطہ کرتے ہیں اور اپنے مسائل حل کرالیتے ہیں۔
شاید موجودہ دور کے ارباب حل و عقد نے بھی اس خرابی کو نوٹ کرلیا ہے اور ملک میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کرلیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد 28ویں آئینی ترمیم کا چرچا شروع ہوچکا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس ترمیم میں بلدیاتی نظام کو اہمیت دی جائے گی، اسی طرح نئے صوبوں کے حوالے سے بھی گفت و شنید شروع ہوچکی ہے ، شاید یہ تبدیلیاں آئندہ سال دیکھنے میں آئیں۔
عزیزان من! جیسا کہ ہم نے ستمبر ہی میں اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اکتوبر اور نومبر کے مہینے خاصے ہنگامہ خیز ثابت ہوں گے توہمارا اندازہ درست ہی رہا۔ آج جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں تو ابھی نومبر ختم نہیں ہوا ہے ، اس ماہ کے اختتام تک مزید چونکا دینے والے اقدام سامنے آسکتے ہیں۔
پاکستان کے زائچے میں سیارگان کی گردش کا دباؤ چھ سات اور آٹھ گھروں میں نہایت اہم ہوتا ہے ۔ دسمبر میں بھی سیارہ عطارد چھٹے گھر میں حرکت کر رہا ہے اور ساتویں گھر میں شمس ، زہرہ اور مریخ ہیں۔ 6دسمبر سے سیارہ عطارد بھی ساتویں گھر میں آجائے گا۔
مشتری تیسرے گھر سے سیارہ زحل کوناظر ہے اور زحل خود نیپچون کے ساتھ حالت قران میں ہے، یہ بہت ہی دلچسپ اور دوسرے معنوں میں پرخطر سیچوئشن ہے ۔ سیارہ زحل موجودہ حکومت کی نمائندگی کرتا ہے، آٹھویں نحس گھر کے حاکم مشتری کی اس پر نظر ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کو دہشت گردی جیسی بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔
نیپچون سے قران ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کے فیصلے اور اقدام درست سمت میں نہیں ہیں، وہ غلط فہمیوں کا شکار ہیں، سمجھ رہے ہیں کہ جو کچھ کر رہے ہیں وہی ٹھیک ہے ۔ جب تک زحل اور نیپچون کے درمیان نظر قائم ہے حکومت خواب غفلت سے بے دار نہیں ہوگی۔
سیارہ مشتری 6 دسمبر سے بحالت رجعت دوبارہ برج جوزا میں داخل ہوگا اور تقریباً 8دسمبر سے سیارہ مریخ زائچے کے آٹھویں گھر میں داخل ہوگالہٰذا اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ دہشت گردی کی لہر میں مزید تیزی آجائے اور افغانستان سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہوجائے۔ انڈیا جو ایک بار منہ کی کھا کر تلملا رہا ہے وہ اب دیگر پراکسی ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے، ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، چناں چہ پاکستان کی مسلح افواج کے لیے مسلسل نت نئے چیلنجز میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ صورت حال کسی طور بھی اطمینان بخش نہیں ہے ، ملک جو معاشی مسائل سے دوچار ہے ، اس صورت حال میں معاشی استحکام سے دور ہوتا جارہا ہے ۔
16دسمبر سے زائچہ پاکستان میں سیاروی اجتماع آٹھویں گھر میں ہوگا، نیا چاند بھی اسی گھرمیں طلوع ہوگا۔ یہ بھی کوئی اچھی پوزیشن نہیں ہے، نئے سال 2026 کا آغاز ایسی ہی پیچیدہ سیاروی گردش سے ہورہا ہے اور تقریباً جنوری کا پورا مہینہ ملک میں اضطراب اور بے چینی کی نشان دہی کرتا نظر آتا ہے ۔دوسری طرف سیاسی سطح پر بھی بے چینی کی لہر شروع ہوچکی ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی آمد آمد کا غلغلہ سنائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
پی پی کا زائچہ اب ایک نیا موڑ لے رہا ہے جو اس پارٹی کے لیے بہتر نظر نہیں آتا، نئے صوبوں کا اضافہ اور ایک مضبوط بلدیاتی نظام پاکستان کی کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور یہ حقیقت ان سیاسی پارٹیوں کی جمہوریت پسندی کا بھانڈا پھوڑنے کے لیے کافی ہے مگر جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا ہے کہ زائچہ پاکستان آنے والے سال میں جو رخ بدل رہا ہے، وہ یقینا ایسے فیصلوں اور اقدام کی نشان دہی کرتا ہے جس میں عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی جائے۔
یاد رہے کہ زائچہ پاکستان میں سیارہ زحل کا دور اکبر اور دور اصغر جاری ہے اور زحل کا تعلق عام عوام خصوصاً نچلے طبقے سے ہے، اگر ارباب حل و عقد عام عوام کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے اور اپنی سابقہ روش پر قائم رہتے ہیں تو یہ ان کے حق میں بھی بہتر نہیں ہوگا کیوں کہ نئے سال 2026میں اس بات کا خطرہ موجو د ہے کہ کئی سال سے پکتا ہوا لاوا کسی وقت بھی اچانک ابل پڑے اور ایسا وقت سامنے ہو کہ سب کچھ کسی خس و خاشاک کی طرح ہوا میں اڑ جائے۔
ہماری اشرافیہ کو اس وقت سے ڈر نا چاہیے، ایسی کسی صورت حال کا اندیشہ نومبر 2026میں نظر آتا ہے جس کااظہارہم نے اپنے 2026کے سالانہ آرٹیکل میں کیا ہے ، اللہ بس باقی ہوس۔

دسمبرکی سیاروی گردش

سیارہ شمس برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے۔ 16دسمبر کو برج قوس میں داخل ہوگا۔
سیارہ عطارد برج میزان میں ہے، 6 دسمبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا اور اسی مہینے میں 29دسمبر کو برج قوس میں داخل ہوجائے گا۔
سیارہ زہرہ برج عقرب میں ہے اور 20 دسمبر کو برج قو س میں داخل ہوجائے گا۔
سیارہ مریخ برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے اور 7 دسمبر کو برج قو س میں داخل ہوگا۔
سیارہ مشتری برج سرطان میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے، 5 دسمبر کو برج جوزا میں داخل ہوگا۔
سیارہ زحل مستقیم ہونے کے بعد برج حوت میں حرکت کر رہا ہے اور نیپچون کے ساتھ حالت قران میں ہے ۔
سیارہ یورینس برج ثور میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں راجع رہے گا۔
سیارہ نیپچون بھی بحالت رجعت برج حوت میں پورا مہینہ حرکت کرے گا۔
سیارہ پلوٹو برج جدی میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا۔
راہو اور کیتو بالترتیب برج دلو اور اسد میں حرکت کریں گے۔

شرف قمر

قمر اپنے شرف کے گھر برج ثور میں بہ روز بدھ تین دسمبرپاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات 10:44پر داخل ہوگا اور بہ روز جمعہ پانچ دسمبر رات 09:45 تک شرف یافتہ رہے گا۔
اس مہینے دوسری بار اپنے شرف کے برج ثور میں بہ روز بدھ 31دسمبر کو صبح 08:52 پر داخل ہوگا اور دو جنوری 2026 صبح 08:56 تک شرف یافتہ رہے گا۔
سیارہ قمر اپنے درجہ شرف پر اس ماہ 4 دسمبر کو دوپہر 01:50 سے 03:52 تک رہے گا جب کہ دوسری بار یعنی 31دسمبر کو دوپہر 12:05 سے 01:42 تک درجہ شرف پر ہوگا۔
طویل عرصے سے اس موقع پر اپنے جائز مقاصد کے لیے وظیفہ ہم لکھتے رہے ہیں، شرف کے اوقات میں 556مرتبہ اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر دعا کرنا افضل ہے ۔

قمر در عقرب

قمر اس ماہ اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق بہ روز بدھ 17دسمبر کو داخل ہوگا اور بہ روز جمعہ 19دسمبر رات 10:21 تک ہبوط زدہ رہے گا۔ یہ وقت نہایت نحوست کا تصور کیا جاتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کوئی نیا کام شروع نہ کریں،خصوصاً منگنی و نکاح وغیرہ سے گریز کریں، کسی جاب وغیرہ کی جوائننگ کوئی ایگریمنٹ وغیرہ بھی نہ کیا جائے ۔ البتہ علاج معالجے کے لیے یہ موافق وقت ہے۔
اس عرصے میں بری عادات اور غلط کاموں سے چھٹکارا پانے کے لیے اعمال و طلسم تیار کیے جاتے ہیں، اپنی ضرورت کے مطابق ایسے اعمال ہماری ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
آیئے اپنے سوالات اور ان کے جوابات کی طرف۔

امتحان میں کامیابی

ایس جے، نواب شاہ: عزیزم! یاد داشت کا تعلق انسان کی دلچسپی سے ہے، جن باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے ، وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں،معلوم ہوتا ہے آپ کو اپنے تعلیمی سبجیکٹ سے دلچسپی نہیں ہے،اسی لیے جو کچھ پڑھتے ہیں ، وہ یاد نہیں رہتا،اس کے لیے ایک بائیوکیمیک دوا بھی ہم لکھ رہے ہیں ، دن میں تین مرتبہ چار ٹکیاں منہ میں ڈال کر چوس لیا کریں،دوا کا نام کالی فاس 3x ہے،دوا جرمنی کی سیل بند لیں۔
امتحان میں کامیابی اور علم میں ترقی کے لیے نوچندے بدھ سے یہ وظیفہ شروع کریں، ہر نماز کے بعد 109 مرتبہ سورئہ آل عمران کی آیت نمبر 26 اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر علمی ترقی اور امتحان میں کامیابی کے لیے دعا کیا کریں،وظیفے کی مدت چالیس دن ہے،آیت یہ ہے ’’تُوتِیُ الْمُلک مَن تَشاء‘‘

دکان کا وظیفہ

ایچ آر، میرپورخاص: پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ دکان نہ چلنے کی وجوہات پر غور کریں،آپ دوسرے دکان داروں سے کس اعتبار سے کمزور ہیں،آپ کے پاس ان سے بہتر مال نہیں ہے یا آپ کے ریٹ ان سے زیادہ ہیں یا آپ گاہکوںسے خوش اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کرتے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایسی کوئی خامی موجود ہے تو پہلے اُسے دور کریں،کاروبار میں ایمانداری کو اپنا نصب العین بنائیں ورنہ کوئی بھی وظیفہ فائدہ نہیں دے گا، آپ کے لیے وظیفہ یہ ہے ۔
دوسرے دکانداروں سے پہلے دکان کھولنے کی کوشش کیا کریں اور دکان میں صندل کی اگر بتی جلایا کریں،بعد ازاں سورئہ آل عمران کی آیت نمبر 73 قل ان الفضل سے ذوالفضل العظیم تک پڑھا کریں،جب تک کوئی پہلا گاہک نہ آئے ، تلاوت کرتے رہا کریں،اس عمل کو روزانہ کا معمول بنالیں،جب پہلا گاہک آجائے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ، دکانداری کا آغاز کریں۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبزکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبزکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔