نومبر کی سیاروی گردش، ایک اور ہنگامہ خیز مہینہ
انتشار و اختلاف ، نئی محا ذ آرائیاں ، طاقت کا استعمال
نومبر ہنگامہ ز خیز مہینہ ثابت ہوسكتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا تھا كہ اکتوبر تقریباً ایسا ہی غیر معمولی اور ہنگامہ خیزمہینہ رہا، اچانک تحریک لبیک نے فلسطین کی حمایت میں احتجاجی جلوس نکالا اور پھر جو کچھ ہوا وہ نہایت افسوس ناک اور دل خراش تھا، ہم نے نشان دہی کی تھی کہ اکتوبر میں سیارہ مریخ راہو کی نظر میں رہے گا۔
راہو کی نظر بہت دھوکے باز ہوتی اور ہنگامہ خیز ہے۔انسان زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوکر ایسے کاموں کی طرف راغب ہوجاتا ہے جو اسے کسی بڑی مصیبت میں پھنسا دیتے ہیں، تحریک لبیک کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا لیکن اس کے نقصانات حکومت کو بھی بہت زیادہ ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہوسکتے ہیں۔
نومبر کے مہینے میں بھی سیاروی گردش خاصی مخدوش اور ہنگامہ خیز مہینہ نظر آتا ہے، 27اکتوبر سے سیارہ مریخ برج عقرب میں داخل ہوچکا ہے جہاں اس پر ڈائریکٹ سیارہ مشتری کی نظر ہے۔
مزید یہ کہ سیارہ عطارد اس کے ساتھ ساتھ حالت قران میں ہے۔یہ قران عطارد کی رجعت کے سبب مسلسل جاری رہے گا کیوں کہ عطارد کو رجعت ہوجائے گی اور اس طرح دونوں پھر قریب آجائیں گے، اسی دوران میں سیارہ شمس بھی زائچہ پاکستان کے ساتویں گھر برج عقرب میں داخل ہوگا او ر یہ بھی مشتری کی نظر کا شکار ہوگا، اسی مہینے میں زہرہ بھی برج میزان میں رہتے ہوئے راہو کی نظر کا شکار ہوگا۔
عزیزان من! ہم زیادہ ٹیکنیکل وضاحتیں نہیں کرنا چاہتے جو یقینا آپ کی سمجھ میں نہیں آئےں گی، سیدھی بات ہے زائچہ کے چھٹے اور ساتویں گھروں میں جو صورت حال اس سیاروی گردش سے پیدا ہورہی ہے وہ ملک میں انتشار اور نت نئے چیلنج سامنے لاسکتی ہے۔
مزید یہ کہ پڑوسی ممالک سے بھی خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر افغانستان کی طرف سے زیادہ شرانگیزیاں سامنے آسکتی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ افغانستان کی پیٹھ تھپکنے میں بھارت کا ہاتھ نمایاں ہے۔ چناں چہ ملک کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
جرائم کی شرح جو پہلے ہی کم نہیں ہے، مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہے، ملک میں ایسے قوانین نافذ کیے جاسکتے ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود اور آرام و آسائش کے بجائے بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے کا سبب ہوسکتے ہیں۔ یہ مہینہ بہت سے اعلیٰ عہدہ و مرتبہ رکھنے والے سرکاری اہل کاروں کے لیے نہایت سخت ثابت ہوسکتا ہے۔ بعض نئے اور غیر معمولی اسکینڈل بھی چونکا دینے والے ثابت ہوسکتے ہیں۔
مشتری کی زائچے میں پوزیشن نویں آئین و قانون ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے گھر سے ناظر ہونے کی وجہ سے یہ اندیشہ موجود ہے کہ آئینی معاملات سے مزید چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے اور عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے، زہرہ پر راہو کی نظرسول و ملٹری بیوروکریسی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اس دوران بہت سے اسکینڈل سامنے آسکتے ہیں اور اکتوبر میں بھی آئے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ زائچہ پاکستان میں سیاروی گردش اس ماہ بھی اطمینان اور سکون ظاہر نہیں کرتی بلکہ نقصانات، غلط فیصلے اور جارحانہ اقدام کے امکانات نمایاں نظر آتے ہیں، جن کے نتیجے میں ردعمل بھی سامنے آتا ہے اور ملکی فضا میں انارکی پھیلتی ہے، ہمارے ارباب حل و عقد کو ان مہینوں میں بہت محتاط رہ کر فیصلے اور اقدام کرنا ہوں گے اور یاد رکھنا ہوگا کہ ہر مسئلے کا حل طاقت کا استعمال نہیں ہے ہم نیک و بد حضور کو بتلائے جاتے ہیں۔
نومبرکی سیاروی گردش
سیارہ شمس اپنے ہبوط کے برج میزان میں حرکت کر رہا ہے۔ 16نومبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد برج عقرب میں ہے ، 10نومبر کو اسے رجعت ہوگی اور اپنی الٹی چال پر 23نومبر کو دوبارہ برج میزان میں داخل ہوگا۔
29نومبر کو مستقیم ہوگا، اس تمام عرصے میں 2مرتبہ سیارہ مریخ کے ساتھ، بحالت رجعت و استقامت قران کرے گا، یہ اس سال مریخ و عطارد کے اہم نظرات ہیں جو غیر معمولی حالات و واقعات کی نشان دہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کے حادثات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور میڈیا سے متعلق افراد کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
سیارہ زہرہ اپنے ہبوط کے برج سنبلہ میں ہے، 2نومبر کو اپنے ذاتی برج میزا ن میں داخل ہوگا اور 26نومبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا۔ سیارہ مریخ برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے، پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا۔
سیارہ مشتری برج سرطان کے پہلے درجے پر موجود ہے، 11نومبر کو اسے رجعت ہوگی اور پانچ دسمبر کو بحالت رجعت برج جوزا میں واپس آجائے گا۔
سیارہ زحل بحالت رجعت برج حوت میں حرکت کر رہا ہے، 28نومبر کو مستقیم ہوگا اور پورا مہینہ برج حوت ہی میں حرکت کرے گا،سیارہ یورینس بحالت رجعت برج ثور میں حرکت کررہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا جب کہ سیارہ نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں ہے جب کہ پلوٹو برج جدی میں اور راہو اور کیتو بالترتیب برج دلو اور اسد میں حرکت کریں گے۔
شرف قمر
سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں 6نومبر بہ روز جمعرات داخل ہوگا اور 8نومبر بہ روز ہفتہ برج ثور میں ہی رہے گا، اس عرصے میں پاكستان اسٹینڈرڈ ٹاءم كے مطابق اپنے درجہ ء شرف پر 6 نومبر كو دوپہر 02:23 سے سہ پہر 03:57 تك ہوگا۔
یہ سعد وقت ہوتا ہے جس میں نئے کاموں کی ابتدا وغیرہ کرنا موافق آتا ہے، اس وقت میں اسمائے الٰہی جو سیارہ قمر سے منسوب ہیں یا رحمن یا رحیم 556مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے نیک اور جائز مقاصد کے لیے دعا کرنا چاہیے۔
قمر در عقرب
قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 20نومبر بہ روز جمعرات شب 03:45 پر داخل اور ہوگا اور 22 نومبر بہ روز ہفتہ شام 04:16 تك رہے گا۔ اس دوران میں اپنے درجہ ء ہبوط پر 20 نومبر كو صبح 07:44 سے 09:46 تك رہے گا۔
قمر در عقرب کا وقت نہایت نحس تصور کیا جاتا ہے، اس عرصے میں کوئی نیا کام شروع کرنا یا کوئی ایگریمنٹ وغیرہ یا شادی بیاہ و منگنی وغیرہ سے گریز کرنا چاہیے۔ البتہ یہ وقت علاج معالجے کے لیے مناسب ہوتا ہے، اسی طرح برے کاموں یا بری عادات سے نجات کے لیے بھی اس وقت میں اعمال و وظائف کیے جاتے ہیں۔ آپ اپنی ضرورت کے مطابق عمل ہماری ویب سائٹ پردیکھ سکتے ہیں۔
آئیے ایک اہم مسئلے کی طرف۔
منتشر خیالی ایک نفسیاتی بیماری
ایس، ایچ جگہ نامعلوم سے رقم طراز ہیں۔ ”کیا منتشر خیالی نفسیاتی بیماری ہے؟ کیا یہ بیماری خاندانی بھی ہو سکتی ہے یعنی باپ، دادا، دادی، ماں وغیرہ سے بھی مل سکتی ہے؟ کیا اس بیماری کی وجہ بچے کی پیدائش بھی ہو سکتی ہے؟
مطلب یہ کہ اگر بچے کے پیدا ہونے کے تھوڑی دیر بعد تک وہ نہ روئے یا فوراً سانس نہ لے تو کیا یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے یا اس بیماری کے ذمے دار انسان کا بچپن یا اس کے برے حالات ہو سکتے ہیں؟
کیا منتشر خیالات کا برا اثر جنسی صلاحیتوں پر پڑ سکتا ہے؟ اس کے علاوہ یہ بھی بتائیں کہ کیا ٹینشن، اسٹریس کا اثر انسان کی جنسی صلاحیتوں پر پڑ سکتا ہے اور جن جن وجوہات کی بنا پر ایک انسان منتشر خیالی کی بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے وہ بتا دیں اور اس کے برے اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
جواب:۔ علم نفسیات میں منتشر خیالی کو یقینا ایک بیماری یا انسانی کمزوری تصور کیا گیا ہے اور اس کی وجوہات ماہرین نفسیات کے نزدیک بہت سی ہیں جن میں سرفہرست ماحول کی خرابیاں اور اعصابی و ذہنی کمزوریاں ہیں۔
آپ نے اس حوالے سے جو ڈھیر سارے سوالات کئے ہیں ان کے جوابات صرف مروجہ علم نفسیات کی روشنی میں نہیں دیئے جا سکتے کیوں کہ علم نفسیات کچھ حدود قیود کا پابند ہے جب نفسیاتی مسائل علم نفسیات کی مخصوص حدود سے باہر نکل جاتے ہیں تو ان کا حل علم نفسیات کی روشنی میں تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ نفسیات دانوں کی اکثریت علم نفسیات کو ایک سائنس کا درجہ دلوانے کی کوشش میں ہے اور مابعد النفسیاتی معاملات کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جس مقام پر علم نفسیات کی سرحد ختم ہوتی ہے وہیں سے ماورائے نفسیات (پیرا سائیکلوجی) مسائل کا لامحدود سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
ماہرین نفسیات منتشر خیالی کو خاندانی موروثی بیماری خیال نہیں کرتے کیوں کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر باپ، دادا اس بیماری کا شکار رہے ہوں تو تمام اولادیں منتشر خیالی کا شکار ہوں البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اولادوں میں سے کوئی ایک یا دو یا اس سے زیادہ اپنے ماں، باپ، دادا، دادی یا نانا، نانی کے کچھ اوصاف اپنے اندر رکھتے ہوں اور پھر بعد ازاں بچپن یا لڑکپن کا ماحول ان اوصاف میں کمی و بیشی کا سبب بن جائے۔
منتشر خیالی کے مسئلے کو علم نجوم کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو بھی یہی صورت حال سامنے آتی ہے۔ اسے کوئی موروثی بیماری قرار نہیں دیا جا سکتا البتہ علم نجوم کے ذیعے ہمیں یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعض مخصوص بروج کے تحت پیدا ہونے والے افراد پیدائشی طور پر منتشر خیالی کے جراثیم رکھتے ہیں اور یہ جراثیم نامناسب ماحول اور حالات میں مزید پھل پھول سکتے ہیں۔
برج حمل، جوزا، سرطان، سنبلہ، میزان، قوس، دلو اور حوت والے باآسانی منتشر خیالی کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان بروج میں بھی جوزا، سنبلہ، قوس اور حوت جو ڈبل باڈی سائن کہلاتے ہیں اور اکثر دہری شخصیت اور فطرت کے زیر اثر ہوتے ہیں نامناسب صورت حالات یا ماحول میں زیادہ خیالی انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں۔
آپ نے بچے کی پیدائش کے حوالے سے جو بات لکھی ہے وہ کوئی جاہلانہ کہاوت تو ہو سکتی ہے مگر حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ منتشر خیالی کا بچے کی پیدائش کے بعد رونے یا نہ رونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
میڈیكل نقطہ نظر کے مطابق اعصابی کمزوری جو خواہ کسی بھی سبب سے ہو، منتشر خیالی کا سبب ہو سکتی ہے۔ ٹینشن، ڈپریشن، ہائی یا لو بلڈ پریشر، خون کی کمی، خون میں آکسیجن کی کمی، کسی بھی وجہ سے جسم سے رطوبات زندگی کا زیادہ ضائع ہو جا نا مثلاً کسی وجہ سے بہت زیادہ جریان خون یا بہت زیادہ الٹیاں، دست ، جریان و احتلام وغیرہ کی کثرت سے جو کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں وہ اعصابی کمزوریوں کا سبب بنتی ہیں اور جب انسانی اعصاب کمزور ہونے لگتے ہیں تو پھر ذہن بھی انتشار کا شکار ہونے لگتا ہے نتیجے کے طور پر منتشر خیالی کی بیماری میں مبتلا افراد غیر مستقل مزاج ہو جاتے ہیں۔
کوئی کام بھرپور ذہنی توجہ اور یکسوئی کے ساتھ انجام نہیں دے پاتے۔ ذرا سی مشکل اور پریشانی میں ان کے ہاتھ پاﺅں پھول جاتے ہیں اور گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم نہیں رہتے۔ دوسرں کے سامنے اپنے مقصد کے حصول کے لئے سخت او مضبوط رویہ اختیار نہیں کر سکتے۔ اپنے ذہن کو پرسکون رکھنے کے لئے منشیات یا دیگر بری عادتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ان کی قوت ارادی کمزور ہو جاتی ہے اور احساس محرومی بڑھ جاتا ہے۔ بدمزاج، چڑچڑے، جھگڑالو ہو جاتے ہیں۔ اپنے بہن، بھائیوں، ماں، باپ اور دیگر خاندان والوں کے لئے ایسے افراد مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت یا کام دھندے میں بھی ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوتی اور چونکہ خود انہیں اپنی اس کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور اس پر پردہ ڈالنے کے لئے وہ معاشرے میں ایک احتجاجی باغیانہ رویہ اختیار کئے رہتے ہیں۔
لڑکیاں ہوں یا بڑی عمر کی شادی شدہ خواتین میں بھی منتشر خیالی کی بیماری نت نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ وہ اس کمزوری کے سبب اچھی بیوی، مثالی ماں، قابل فخر طالب علم یا لیڈی ورکر نہیں بن سکتیں۔
اس معاملے میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی کام بھرپور ذہنی توجہ اور دلی لگن کے بغیر انجام کو نہیں پہنچ سکتا اور انجام بھی ایسا جس سے نہ صرف یہ کہ خود کام کرنے والا مطمئن ہو بلکہ دیکھنے والے بھی مطمئن اور شاد ہوں اور یہ خوبیاں منتشر خیالی کے سبب ختم ہو کر رہ جاتی ہیں۔
اب اس تعریف کی روشنی میں آپ کے تقریباً تمام سوالوں کا جواب سامنے آ گیا ہے جس میں جنسی صلاحیتوں کا حوالہ بھی شامل ہے البتہ اس حوالے سے ایک وضاحت نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ غیر شادی شدہ لڑکے لڑکیاں جنسی تسکین کے لئے جب غیر فطری طور طریقوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان اعصابی کمزوری اور پھر منتشر خیالی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
یہ ساری گفتگو ادھوری محسوس ہو گی اگر منتشر خیالی اور اعصاب زدگی کے حقیقی علاج پر بات نہ کی جائے۔ ایلوپیتھک طریقہ علاج میں مندرجہ بالا نفسیاتی مسائل کا کوئی شافی و کافی علاج موجود نہیں ہے صرف عارضی آرام و سکون کے لئے مسکن ادویات استعمال کر لی جاتی ہیں جن کا زیادہ لمبے عرصے تک استعمال ذہن کو مزید کمزور اور اعصابی طور پر انسان کو بے حد حساس بنا دیتا ہے البتہ طب یونانی میں یا ہومیوپیتھی میں ضرور اس بیماری کا معقول علاج موجود ہے مگر ان تمام طریقہ ہائے علاج سے زیادہ زود اثر اور مستقل و پائیدار طریقہ کار پیرا سائیکلوجیکل طور طریقوں میں موجود ہے۔
ہم نے بارہا اس کے نہایت شاندار نتائج دیکھے ہیں اس سلسلے میں سانس کی مشقیں اور مراقبہ نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ہماری تجویز کردہ مشہور مشق، مشق تنفس تصور اس حوالے سے نہایت عمدہ اور لاثانی ہے جس کا طریقہ کار کئی بار ہم اپنے کالموں میں دے چکے ہیں۔ یہ مشق ہماری کتاب مظاہر نفس میں بھی موجود ہے اور ہماری ویب سائٹ پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

