نقش کی مختلف اقسام اور بنیادی اصول و قواعد سے واقفیت ضروری ہے

پاکستانی سیاست کے اکھاڑے میں سیاسی گرم بازاری عروج پر ہے،پاناما لیکس سے اٹھنے والا طوفان بے شک حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے لیکن جیسا کہ ہم نے کچھ عرصہ پہلے عرض کیا تھا کہ حکومت کسی نہ کسی طور اس صورت حال سے نمٹ ہی لے گی کیوں کہ ماضی کی طرح حکومت کو اپنے اتحادیوں کی بھرپور مدد و حمایت حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ حکومت آنے والے مہینوں میں چین کی بانسری بجائے گی، ہوا کا رُخ پلٹتے دیر نہیں لگتی، جون کا مہینہ بھی پاکستان اور حکومت پاکستان دونوں کے لیے نئے چیلنج لارہا ہے،سیاسی میدان میں بھی نئے رنگ اور نیا آہنگ جون سے ہی نظر آئے گا، جون میں رمضان المبارک کا آغاز بھی ہورہا ہے لہٰذا رمضان اور عید تک اگرچہ تمام سیاسی کھلاڑی ہاتھ میں تسبیح اور سر پر ٹوپی کے ساتھ اللہ اللہ کرتے نظر آتے ہیں،افطار پارٹیوں کا آغاز ہوتا ہے جن میں نئے سیاسی منصوبوں پر تبادلہ ءخیال کیا جاتا ہے،عید کے بعد کی نئی محاذ آرائیوں کا اعلان کیا جاتا ہے،چناں چہ یہی سب کچھ دیکھنے میں آئے گا، اس سال کا اصل اور فائنل سیاسی راونڈ اگست سے شروع ہوگا اور اکتوبر تک جاری رہے گا، محاذ آرائی کے اصل فریق اسی عرصے میں بھرپور فعالیت کا مظاہرہ کریں گے جو غلطی کرے گا، وہ آوٹ ہوگا۔
اب تک وزیراعظم نواز شریف بہت احتیاط اور ماہرانہ انداز میں بیٹنگ کر رہے ہیں،ان کے واحد حریف عمران خان ابھی تک انہیں کوئی موثر یارکر نہیں کراسکے،پاناما لیکس کا ایک قدرتی موقع سامنے آیا تھا تو اپوزیشن خاص طور پر پیپلز پارٹی کی شراکت سے وہ بھی ضائع ہوتا نظر آرہا ہے،عمران خان کو اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں پر ضرور نظر رکھنی چاہیے،ایک قومی لیڈر کو صاحب بصیرت ہونا چاہیے اور صاحب بصیرت کبھی بھی عارضی مصلحتوں کا شکار نہیں ہوتا،طالع برج میزان کی کمزوری یہی ہے کہ یہ لوگ فطری طور پر مصلحت اور مصالحت پسند ہوتے ہیں، بروقت فیصلہ کرنے میں خاصا وقت لیتے ہیں، دوسروں کے مشوروں پر اگرچہ مکمل طور پر انحصار نہیں کرتے لیکن بہر حال کوئی مناسب فیصلہ کرنے میں دیر کردیتے ہیں۔
ملکی صورت حال پر اس مختصر گفتگو کے بعد آئیے اصل موضوع کی طرف جو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے، اپنے قارئین کی پرزور فرمائش پر ہم یہ سلسلہ ءمضامین لکھ رہے ہیں۔

طریقہ ءتاثیر

اب تک علم جفر و نجوم سے متعلق بنیادی اصول و قواعد بیان کیے جاچکے ہیں،اسی ذیل میں علم النقوش یا طلسم کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے،آج کی نشست میں اسی پر گفتگو ہوگی۔
علم جفر میں حروف اور اعداد سے کام لیا جاتا ہے،اس کے دو طریقے عام ہیں، اول یہ کہ حروف و اعداد سے کوئی طلسم ترتیب دیا جائے اور اُسے کسی مناسب وقت پر لکھ کر قواعد کے مطابق استعمال میں لایا جائے، دوسرا اور زیادہ استعمال میں آنے والا طریقہ نقش کا ہے،حروف یا اعداد کی مدد سے کوئی نقش ترتیب دیا جائے اور اُسے مناسب وقت پر تمام قواعد کی پابندی کرتے ہوئے لکھ کر استعمال میں لایا جائے، عام لوگ نقش کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے، وہ یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ چند خانوں میں کچھ اعداد یا حروف لکھ دیے جاتے ہیں جسے نقش یا لوح کا نام دیا جاتا ہے،وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ آخر چند خانوں میں لکھے ہوئے اعداد یا حروف میں تاثیر کیسے پیدا ہوتی ہے اور یہ کس طرح مقصد کے مطابق کام کرتے ہیں،یاد رکھنا چاہیے کہ نقش یا طلسم کسی ماہر جفار کا حروف و اعداد کی مدد سے مرتب کیا ہوا ایک ایسا نسخہ ہے جیسا کسی بیماری کے علاج کے لیے کوئی قابل حکیم مختلف جڑی بوٹیوں کے ذریعے مرتب کرتا ہے اور پھر اُسے استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتاتا ہے،بہر حال یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے سمجھنے کے لیے توفیق الٰہی کی ضرورت ہے، عام طور پر لوگ کتابوں اور رسالوں میں لکھے ہوئے نقوش کی نقل کرلینا کافی سمجھتے ہیں اور اکثر کتابت کی غلطیوں کی وجہ سے غلط نقش نقل کرلیتے ہیں کیوں کہ ان میں کسی بھی نقش کو پرکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
اکثر عملیات میں بتایا جاتا ہے کہ عمل ترتیب دینے کے بعد اس کا نقش مثلث یا مربع تیار کرلیا جائے لیکن عام آدمی کو نہیں معلوم کہ نقش مثلث کیا ہے اور مربع کسے کہتے ہیں، پھر یہ کہ اسے کیسے تیار کیا جاتا ہے،اسی ضرورت کے پیش نظر ہم یہاں مختصراً مختلف نقوش کا تعارف اور نقش بنانے کا طریقہ درج کر رہے ہیں، اگرچہ اس کی کوئی خاص ضرورت اُس صورت میں نہیں ہے جب علم نقش سے دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات کے پاس علم النقوش کی کوئی بھی مستند کتاب موجود ہو، جیسا کہ حضرت کاش البرنیؒ کی کتاب ”عامل کامل حصہ دوم“ اگر یہ کتاب آپ کے پاس موجود ہے تو آپ کے لیے کسی بھی قسم کا کوئی بھی نقش تیار کرنا مشکل کام نہیں ہوگا لیکن عموماً عام لوگ ایسی کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتے لہٰذا ہر نقش کے بارے میں ابتدائی نوعیت کی معلومات ہم دے رہے ہیں۔

علم النقوش

اگرچہ مختلف قسم کے نقوش کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن یہاں صرف چند نقوش کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے جو عام طور پر استعمال میں آتے ہیں۔
مثلث
9 خانوں کے نقش کو مثلث کہا جاتا ہے،یہ سیارہ قمر سے منسوب ہے، دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے اس کے ہر تین خانوں کی میزان 15 ہوتی ہے،اس اعتبار سے اسے 15 کا نقش بھی کہا جاتا ہے،پورے نقش کی میزان 45 ہوتی ہے،واضح رہے کہ 45 عدد آدم کے ہیں اور 15 حوا کے،لہٰذا اسے آدم و حوا کا نقش بھی کہا جاتا ہے۔

 

قاعدہ اور چال

نقش مثلث 9 خانوں میں اپنی اصل یعنی طبعی حالت میں یہاں دیا جارہا ہے،اس کی چاروں عنصری چالیں بھی دی جارہی ہیں یعنی آتشی ، بادی، آبی اور خاکی، اگر نقش مثلث میں کسی خاص اسم یا آیت یا کسی عمل کا نقش تیار کرنا ہو تو قاعدہ یہ ہے کہ کل اعداد میں سے 12 عدد کم کریں اور اسے تین پر تقسیم کریں، اگر پورا تقسیم ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے، اگر کچھ باقی بچے تو اُسے کسر کہا جاتا ہے،کسر کو نقش بھرتے وقت مخصوص خانوں میں استعمال کیا جاتا ہے،اگر ایک بچے تو ساتویں خانے میں ایک عدد کا اضافہ کیا جاتا ہے اور دو بچیں تو چوتھے خانے میں ایک عدد کا اضافہ کردیا جائے گا، تقسیم کرنے سے جو خارج قسمت حاصل ہوگا، اُسے نقش کے خانہ ءاول میں رکھ کر ایک ایک عدد کے اضافے سے پورا نقش مکمل کیا جائے گا، اگر کسر کا مسئلہ ہوگا تو مطلوبہ خانے میں ایک عدد کا اضافہ کردیا جائے گا۔
ہر نقش میں ایک سے 9 تک اعداد ہیں، پہلا خانہ وہی تصور ہوگا جس میں عدد ایک لکھا گیا ہے لہٰذا کوئی بھی وضعی نقش کسی بھی چال سے مرتب کیا جائے گا تو خانہ ءاول سے جس میں عدد 1 ہے، شروع کیا جائے گا اور آخری خانے تک جس میں عدد 9 ہے، نقش مکمل ہوجائے گا، ایک مثال کے ذریعے مزید وضاحت کی جارہی ہے مثلاً آپ اسم الٰہی باسط کا نقش مثلث میں تیار کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اسم باسط کے اعداد معلوم کریں، ابجد قمری سے ب، ا، س اور ط کے اعداد معلوم کیے تو یہ ہوئے، 2+1+60+9=72۔اب 72 میں سے قانون کے مطابق 12 عدد کم کیے تو باقی 60 بچے، 60 کو 3 پر تقسیم کیا تو جواب 20 آیا اور باقی کچھ نہیں بچا، گویا اس نقش میں کوئی کسر نہیں آئے گی، 20 کو خانہ ءاول میں رکھ کر ایک ایک عدد کے اضافے سے نقش میں مندرجہ بالا آتشی چال کے مطابق پُر کیا تو آخری خانہ ءنو میں 28 کا عدد آئے گا اور نقش مکمل ہوجائے گا، نقش کے دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے ہر تین خانوں کی میزان 72 ہوگی،مثالی نقش درج ذیل ہے۔

یا باسطُ

 

 

امید ہے کہ مثلث نقش طبعی اور وضعی کی تیاری کا طریقہ سمجھ میں آگیا ہوگا، اسی نقش کو آتشی چال کے بجائے کسی بھی دوسری عنصری چال کے مطابق بھی بھرا جاسکتا ہے۔

مربع

یہ 16 خانوں کا نقش ہے، اس کے اوپر سے نیچے یا دائیں سے بائیں چار خانوں کی میزان 34 اور کل خانوں کی میزان 136 ہوگی، اسے سیارہ عطارد سے منسوب کیا گیا ہے، عام طور پر مثلث اور مربع نقوش زیادہ استعمال میں آتے ہیں،اس لیے فی الحال انہی دونوں نقوش کی چال اور مثال پیش کی جارہی ہے۔
مربع نقش بھی طبعی اور عنصری چال کے مطابق دیے جارہے ہیں، اگر کسی مخصوص عمل کے لیے نقش تیار کرنا ہو تو کل اعداد میں سے 30 عدد کم کرکے چار پر تقسیم کریں اور خارج قسمت کو خانہ ءاول میں رکھ کر چال کے مطابق تمام خانے بھر لیے جائیں گے، چار پر تقسیم کرنے سے اگر ایک باقی بچے تو خانہ نمبر 13 میں ایک عدد کا اضافہ کریں گے، اگر 2 باقی بچیں تو خانہ نمبر 9 میں ایک عدد کا اضافہ ہوگا اور تین باقی بچیں تو پانچویں خانے میں ایک عدد کا اضافہ کیا جائے گا۔

 

 

مخمس: اس میں 25 خانے ہوتے ہیں اور 5 خانوں کی میزان 65 جب کہ کل اعداد کی میزان 325 ہوگی، اسے سیارہ زہرہ سے منسوب کیا گیا ہے، اس کی عنصری چالیں اور قواعد نقش یہاں نہیں دیے جارہے کہ یہ زیادہ مستعمل نہیں ہیں۔
مسدس: مسدس میں 36 خانے ہوتے ہیں اور ہر 6 خانوں کی دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے میزان 111 ہوتی ہے، تمام خانوں کی میزان 666 ہوگی، یہ شمس سے منسوب ہے۔
مسبع: 7×7 یعنی 49 خانوں کا نقش مسبع کہلاتا ہے،اس کے دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے سات خانوں کی میزان 175 ہوتی ہے،نقش کے کل اعداد کا مجموعہ 1225 ہوگا، اسے سیارہ مریخ سے منسوب کیا گیا ہے۔
ثمّن: 8×8 یعنی 64 خانوں پر مشتمل اس نقش کے ہر ضلعے کی میزان 960 ہوگی، مکمل نقش کے کل اعداد کا مجموعہ 2080 ہوگا، اسے سیارہ مشتری سے منسوب کیا گیا ہے۔
متع: 9×9 یعنی 81 خانوں کا نقش متع کہلاتا ہے،اس کے 8 خانوں کی میزان 369 ہوگی، جب کہ کل خانوں کے اعداد کا مجموعہ 3321 ہوتا ہے،اسے سیارہ زحل سے منسوب کیا گیا ہے۔

اختلاف رائے

علم نقوش کے ماہرین کے درمیان نقوش کی منسوبات میں اختلافات بھی موجود ہیں،اس حوالے سے دو نمایاں گروپ مشہور ہیں،مشرقی اور مغربی ، دونوں اپنے اپنے نظریات کے پابند ہیں، مثلاً نقش مثلث کو مشرقی گروپ والے سیارہ قمر سے منسوب کرتے ہیں اور مغرب والے سیارہ زحل سے، مربع نقش مشرق میں عطارد سے منسوب ہے تو مغرب میں مشتری سے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت کاش البرنیؒ جو علمائے مشرق کے پیروکار تھے، انہوں نے جب لوح مشتری وضع کی تو مربع کا انتخاب کیا، ثمن یعنی 8×8 سے گریز کیا ، مخمس کو سیارہ مریخ سے ، مسدس کو شمس سے یہاں دونوں گروپس میں اتفاق پایا جاتا ہے، 7×7 مسبع کو سیارہ زہرہ سے اور 8×8 ثمّن کو سیارہ عطارد سے اور 9×9 متع کو سیارہ قمر سے منسوب کیا گیا ہے،عام معلومات کی خاطر یہ اختلاف رائے ظاہر کیا جارہا ہے لیکن عام لوگوں کو اس اختلافی مسئلے میں الجھنا نہیں چاہیے۔
امید ہے کہ ہمارے عام قارئین جن کی نظروں سے اکثر نقش و تعویذات وغیرہ گزرتے رہتے ہیں،بنیادی قواعد سے واقفیت کے بعد باآسانی کسی نقش کے بارے میں جان سکیں گے کہ وہ درست ہے یا غلط اور خود بھی کوئی نقش تیار کرنے میں انہیں کوئی دقت نہیں ہوگی۔