تبدیلی اور نئے آغاز کا سال
سال2026 كی سیاروی گردش کسی انقلابی صورت حال کو جنم دے سکتی ہے
___کوئی بڑا عوامی طوفان انگڑائی لیتا نظر آتا ہے____
اماں کیسی کہ موج خوں ابھی سر سے نہیں گزری
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے
گزشتہ سال ہم نے کچھ اندیشے ظاہر کیے تھے کہ سال کے آخری تین مہینے اکتوبر، نومبر، دسمبر ہمیشہ اہم نوعیت کیء تبدیلیوں کے لیے خاص ہوتے ہیں، آج جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں ، ایک بار پھر نشان دہی کرنا ضروری ہے کہ 2025کے آخر تین مہینے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، خصوصاً آئین اور انتظامی نوعیت کے معاملات میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں اور یہ سلسلہ نئے سال 2026میں بھی جاری رہے گا جس پر تفصیلی گفتگو آگے چل کر ہوگی۔
سب سے پہلے جس اہم صورت حال پر گفتگو ضروری ہے وہ دنیا کے بدلتے ہوئے رنگ ڈھنگ ہیں۔ ہمارے قارئین کو شاید یاد ہو کہ فروری 2021 میں برج جدی میں سات سیارگان کا عظیم اجتماع ہوا تھا اور ایسے اہم اجتماعات ہر بیس سال بعد واقع ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ سال 2000 میں بھی ایسا ہی ایک بڑا اجتماع ہوا تھا جس کے بعد 2001میں نائن الیون ہوا اور دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔ امریکا بیس سال تک افغانستان میں اور عراق میں مصروف جنگ و جدل رہا۔
عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔ البتہ افغان مجاہدین کسی طور بھی امریکا کے قابو میں نہیں آئے اور بالآخر امریکا کو ہی میدان چھوڑنا پڑا، سات سیارگان کا ہر بیس سال بعد ہونے والا اجتماع دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں لاتا ہے۔
فروری 2021کے سیاروی اجتماع پر جو برج جدی میں ہوا (برج جدی ایک خاکی برج ہے) اس کے بارے میں ہمارا تجزیہ یہ تھا کہ دنیا اب مادیت کی طرف جائے گی۔ نفسا نفسی کا عالم بڑھے گا، سائنس کے میدان میں دنیا بہت آگے جائے گی، مذاہب اور عقائد شدید تنقید کی زد میں آئیں گے۔ لوگ ایسے عقائد کو تسلیم نہیں کریں گے جن کا سائنسی طور پر تسلی بخش جواب نہ مل سکے ، معجزات کا انکار ہوگا اور مذہبی کتابوں پر بھی اعتراضات کیے جائیں گے، لوگوں میں خود غرضی اور مفاد پرستی بڑھ جائے گی۔
عزیزم! آج پانچ سال بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا آہستہ آہستہ ایسی ہی صورت حال کی طرف بڑھ رہی ہے، الحاد کی طرف موجودہ نئی نسل کا رجحان زیادہ ہے، وہ ایسی کسی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کا تعلق معجزے یا کرامت سے ہو بلکہ خدا کا وجود تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
2025 کا مفرد عدد 9تھا جو سیارہ مریخ کا عدد ہے اور اس سال مریخ زیادہ عرصے تک اپنے برج ہبوط میں رہا گویا اس کی منفی انرجی عروج پر رہی جس کے نتیجے میں پاک بھارت جھڑپ بھی ہم نے دیکھ لی کیوں کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے زائچوں میں سیارہ مریخ تیسرے گھر میں رہااور ایران پر اسرائیل کا حملہ بھی اسی سال ہوا۔نئے سال 2026کا مفرد عدد 1ہے جو مرکب عدد 10سے حاصل ہوتا ہے۔ 2+2+6=10=1
ایک نمبر کسی نئے آغاز کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا اس سال میں پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوگا جو مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی کیوں کہ عدد 1 ، 10نمبر سے حاصل ہوا ہے اور دس نمبر قدیم مخطوطات کے مطابق قسمت کا چکر کہلاتا ہے۔
دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ چکر سیدھا چلے گا یا الٹا، اگر ملک کے مقتدر حلقے اور اہل سیاست خصوصاً ہماری اشرافیہ ملک اور عوام کی بھلائی کے لیے مخلص ہوکر کوشش کریں تو یقینا یہ ملک اور عوام کی بہتری کا سال ہوسکتا ہے لیکن اس کے برعکس صورت حال میں اہل سیاست اور اشرافیہ کو خراب نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ اس سال کا پہلا سورج گہن جو برج دلو کے ابتدائی درجات پر لگے گا اور پاکستان اور بھارت دونوں کے زائچے میں حساس مقامات پر ہوگا جب کہ گہن کے فوراً بعد سیارہ مریخ بھی فروری کے آخر تک گہن کے درجات سے قران کرے گا۔ یہ صورت حال دونوں ملکوں میں حکومت کی زبوں حالی کی نشان دہی کرتی ہے ۔ کوئی بڑی تبدیلی حکومتی امور میں دیکھنے میں آسکتی ہے۔
جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی تھی کہ 2025کے آخر تین ماہ خاصے اہم اور سنگین نوعیت کے حالات و واقعات کو جنم دے سکتے ہیں اور یہ سلسلہ جنوری تک جاری رہے گا۔ امکان ہے کہ اس عرصے میں نئے سال کی آمد سے پہلے بھی ایسے حالات پیدا ہوجائیں جو آنے والے سال کی اہم تبدیلیوں کی نشان دہی کردیں۔
پاکستان یقینا گزشتہ تین سال سے نہایت سخت اور مشکل ترین وقت سے گزر رہا ہے لیکن گزشتہ سال دسمبر کے بعد سے دور زحل کی ابتدا ہوئی ، چناں چہ ہم زحل کے دور اکبر اور دور اصغر سے گزر رہے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا اور پاکستان کی مسلح افواج کو مئی کے معرکے میں سرخ روئی حاصل ہوئی جب کہ اس کے برعکس بھارت اور نریندر مودی کو نہ صرف شرمندگی اٹھانا پڑی بلکہ بھارت میں مودی کی حکومت کے لیے نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں ۔ ستمبر 2025سے بھارت کے زائچے میں بارھویں گھر کے حاکم سیارہ مریخ کا سات سالہ دور اکبر شروع ہورہا ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ بھارت کا ایک سپر پاور بننے کا خواب آنے والے سات سالوں میں چکنا چور ہوجائے گا اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے بھارت آہستہ آہستہ کمزور ہوتا جائے گا۔
نریندر مودی کی بھی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور امکان ہے کہ نئے سال 2026میں ان کی حکومت کے لیے نئے چیلنج پیدا ہوجائیں لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مودی سرکار اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے دوبارہ کوئی ایسی ہی غلطی دہرائے جیسی 2025کے مئی میں کی تھی۔ اس صورت میں بھی اسے منہ کی کھانا پڑے گی، اس حوالے سے دوبارہ مئی جون اور اکتوبر نومبر کے مہینے اہم ہوسکتے ہیں۔
پاکستان 2024سے شدید نوعیت کے آئینی بحران کا شکار ہے اور یہ بحران مزید بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے، معاشی صورت حال بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ مہنگائی نے عوام کی حالت خراب کردی ہے، جو رہی سہی کسر تھی وہ بارشوں اور سیلاب نے پوری کردی ہے۔
2025-26 ایسے سال ہیں جو رفتہ رفتہ ملک کو کسی نئے سسٹم یا نئے ماحول کی طرف لے جارہے ہیں ، اس کی ابتدا 2025کے آخری مہینوں سے ہوگی اور انتہا 2026 کے آخری مہینوں میں ، خیال رہے کہ عوامی حلقے حکومت اور موجودہ سسٹم سے بے زار ہیں، ان کے لیے نارمل انداز میں زندہ رہنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
ملک کے تمام محکمے اپنی ذمے داریاں احسن طور پر ادا کرنے سے قاصر ہوچکے ہیں ۔ جرائم کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے، یہ وہ صورت حال ہے جو عوام میں بے چینی اور اضطراب کو مسلسل بڑھا رہی ہے ، کیا ہم بھی سری لنکا، بنگلا دیش یا نیپال کی انارکی کی جانب بڑھ رہے ہیں؟ ملک کے ارباب حل و عقد کو اس حوالے سے ضرور سوچنا چاہیے ۔
ملک میں نئے سسٹم کے حوالے سے نئی خبریں اور نئی بحثیں شروع ہوچکی ہیں۔ کچھ دانش ور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمانی نظام بالآخر ناکام ہوگیا ہے ۔ آج تک کوئی وزیراعظم ملک میں سیاسی استحکا م نہیں لاسکا اور نہ ہی اپنی مدت پوری کرسکا، ملک میں صدارتی نظام ہونا چاہیے ۔
ایسی آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ ملک میں نئے صوبے بنادیے جائیں۔ سیاروی گردش بھی نظام کی تبدیلی پر زور دیتی نظر آتی ہے، مشتری اس سال اکتوبر نومبر میں برج سرطان میں ہوگا۔ ان دو مہینوں میں کوئی نئی آئینی ترمیم سسٹم کی تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد آئندہ سال مشتری جون سے دوبارہ برج سرطان میں داخل ہوگا تو وہ بھی ایسا وقت ہوگا جس میں آئین کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے ۔ بہر حال صورت حال جو بھی ہو ملک کی بقا اور عوام کی بہتری ضروری ہے۔ عوام کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ ملک میں کون سا نظام ہونا چاہیے۔ انھیں دو وقت کی روٹی اور روٹی کے لیے روزگار چاہیے ۔
پہلی سہ ماہی 2026
جنوری کے پہلے پندرہ دن خاصے ہنگامہ خیز ہوسکتے ہیں اور اس ہنگامہ خیزی کا تعلق گزشتہ سال کے آخری تین مہینوں سے جڑا ہوگا۔ شمال اور جنوب مغرب کی سمت سے دہشت گردی کے واقعات سامنے آسکتے ہیں، پاکستان کے دو صوبے کے پی کے اور بلوچستان مستقل دہشت گردی کی زد میں ہیں اور پاکستان کی پولیس کے ساتھ مسلح افواج بھی اس دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے۔
جنوری اور فروری میں صاحب اختیار افراد پر بھی ضرب لگے گی۔ بعض اعلیٰ عہدے دار اپنے عہدے کھو بیٹھیں گے ، شروع میں ملٹری، بیوروکریسی میں بھی اکھاڑ پچھاڑ کا امکان ہے۔ عوامی مسائل میں کسی کمی کا امکان نظر نہیں آتا، ملک میں جرائم کی شرح بدستور بڑھتی رہے گی، گویا جنوری کے مہینے کو ایک اطمینان بخش، پر امن اور پرسکون مہینہ نہیں کہا جاسکتا۔
فروری کا مہینہ آئینی اور وزارتی امور میں سرگرمی لائے گا، اس کے علاوہ خارجہ امور میں بھی اہم حالات و واقعات سامنے آئیں گے۔ اس مہینے میں چوں کہ سیارہ مریخ زائچے کے نویں گھر میں شرف یافتہ ہوگا لہٰذا خاص طور پر فوجی نوعیت کے معاملات اہمیت اختیار کریں گے اور فوج کی اہم ضروریات پر توجہ دی جائے گی لیکن حکومت کے لیے مسائل میں اضافہ ہوگا۔
سال کا پہلا سورج گہن فروری 2026 میں واقع ہوگا جو زائچے کے دسویں گھر میں لگے گا، یہ صورت حال حکومت کے لیے کسی صورت بھی بہتر نہیں ہوگی اور حکومت کی عوامی مقبولیت میں کمی واقع ہوگی۔ وزیراعظم اور کابینہ کے حوالے سے کوئی اسکینڈل بھی سامنے آسکتا ہے اور یہ سلسلہ مارچ کے پہلے پندرہ دن تک حالات و واقعات میں تبدیلیوں کی نشان دہی کرتا ہے، اگرچہ جنوری سے مارچ تک صورت حال کسی طور بھی ایسی نظر نہیں آتی جس میں حکومت اور دیگر اداروں کو نت نئے چیلنجز کا سامنا نہ ہو لیکن افسوس کہ نیا سال شاید کچھ نیا ہی کھیل شروع کرے گا ۔
دوسری سہ ماہی
15اپریل سے سیاروی گردش زائچے کے بارھویں گھر میں شروع ہوتی ہے۔ گویا یہ ایسا وقت بھی ہوتا ہے جس میں نقصانات کا اندیشہ مستقل رہتا ہے، خصوصاً 15مئی تک ۔پاکستان پر بھارت کی جارحانہ کارروائی بھی مئی میں ہوئی تھی، اس سال بھی ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، خصوصاً بارہ مئی کے بعد بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہوگی کیوں کہ اس سال سیارہ مریخ بھی بارھویں گھر میں ہوگا۔
بارھواں گھر نقصانات وغیرہ کے علاوہ بیرونی مداخلت کے لیے بھی مختص ہے اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ بلوچستان اور کے پی کے میں جو بھی صورت حال ہے اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ موجود ہیں ۔
جون کا مہینہ اس اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ سیارہ مشتری زائچے کے تیسرے گھر برج سرطان میں داخل ہوگا چناں چہ تیسرے، ساتویں ، نویں اور گیارھویں گھر سے ناظر ہوگا۔ خیال رہے کہ پیدائشی زائچے کے گیارھویں گھر میں سیارہ مریخ بھی اسی درجے پر واقع ہے اور نویں گھر میں قمر اور زہرہ بھی ابتدائی درجات پر ہیں اور 22جون کو سیارہ مریخ بھی زائچے کے پہلے گھر میں داخل ہوگا کہ جون کے مہینے کو سب سے زیادہ چیلنجنگ مہینہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔
خصوصاً عدلیہ کے حوالے سے شدید بے چینی اور اضطراب جنم لے گا ، وکلاء برادری احتجاج پر آمادہ ہوسکتی ہے ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی اضطراب بڑھ سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ خارجی تعلقات کے حوالے سے بھی نئے چیلنج پیدا ہوسکتے ہیں ، گویا سال کی یہ سہ ماہی بھی عوام کے لیے کوئی خوش خبری نہیں سنا رہی جب کہ ان مہینوں میں بارشوں وغیرہ کا بھی امکان پیدا ہوجاتا ہے۔
تیسری سہ ماہی
جیسا کہ پہلے نشان دہی کی ہے کہ مشتری کی زائچے کے تیسرے گھر میں نئی پوزیشن آئینی ، قانونی اور بیرون ملک خارجہ پالیسی سے متعلق امور وغیرہ کے مسائل کو ہوا دے گی جس کی وجہ یہ ہے کہ مشتری پاکستان کے زائچے کا سب سے زیادہ منحوس اثر رکھنے والا سیارہ ہے اور خاص طور پر جب یہ زائچے کے حساس مقامات پر حرکت کر رہا ہو۔ اس حوالے سے 10جولائی تک کا وقت خاصا اہم ہوگا۔
راہو کیتو بھی زائچے کے حساس مقامات اور دوسرے، چوتھے ، چھٹے، آٹھویں، دسویں اور بارھویں گھر کو ناظر ہوچکے ہوں گے۔ چناں چہ امکان یہ ہے کہ جولائی سے ملکی ، سیاسی اور سرحدی صورت حال میں نئی سرگرمیاں شروع ہوسکتی ہیں جو بہر حال موجودہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوں گی، البتہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہماری محب وطن مسلح افواج ہی کو حرکت میں آنا پڑے گا۔
سیارہ مشتری کی تیسرے گھر میں آمد اگر بعض نئے مسائل پیدا کرے گی تو بعض فوائد کا باعث بھی ہوگی، خصوصاً معیشت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور خارجہ پالیسی کے سبب جو نئے مسائل سامنے آئیں گے ان سے بھی نمٹا جاسکے گا، یہ ہمارے ارباب حل و عقد کی عقل و دانش پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح بین الاقوامی پل پل رنگ بدلتے معاملات میں خود کو ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔ اب تک پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اس عالمی منظر نامے میں نہایت حکمت و دانش کے ساتھ سرخرو رہے ہیں ۔ امید ہے کہ آئندہ بھی وہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
عزیزان من! پاکستان کی تیسری سہ ماہی اس حوالے سے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہے کہ ہمارے بعض سابق اور حالیہ اہم عہدہ دار ہمارا ساتھ چھوڑ جائیں۔ سیارہ شمس زائچے میں معزز و بااثر افراد کی نمائندگی کرتا ہے ۔ سال کے آخری مہینوں میں کیتو جیسا ظالم و سفاک سیارہ شمس پر مسلسل نظر رکھتا نظر آرہا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک کی اہم شخصیات کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
جولائی اور اگست نہایت اہم مہینے ہیں، اگست میں ہمارا یوم آزادی بھی ہے اور ساتھ ہی سورج اور چاند گہن بھی اسی مہینے میں واقع ہوں گے۔ بارہ اگست کو سورج گہن زائچے کے تیسرے گھرمیں لگے گا، یہ بھی ملک میں نئی تبدیلیوں کو جنم دے گااور عوامی غم و غصے کو ہوا دے گااور 27اگست کو چاند گہن زائچے کے دسویں گھر میں لگے گا۔ دونوں گہن ایک ہی مہینے میں واقع ہوں گے، چاند گہن دونوں بار اس سال دسویں گھر میں لگے گا۔ گویا یہ بھی اس بات کی نشان دہی ہے کہ اس سال سسٹم میں کوئی بڑی غیر معمولی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
چوتھی سہ ماہی
ستمبر کو ہمیشہ ستم گر ہی کہا جاتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ستمبر کا مہینہ خصوصی طور پر ہماری مسلح افواج سے منسوب ہے ۔ 6ستمبر کو ہم یوم دفاع مناتے ہیں، اس سال اس حوالے سے بھی کچھ غیر معمولی سیاروی گردش نظر آتی ہے۔
زائچے کے مطابق سیارہ زہرہ چھٹے گھر کا حاکم ہونے کی وجہ سے سول و ملٹری بیوروکریسی کی نمائندگی کرتا ہے۔ سیارہ زہرہ اس سال پہلی مرتبہ 3ستمبر کو زائچے کے چھٹے گھر برج میزان میں داخل ہوگا۔ اس کے بعد اسے رجعت ہوگی اور دوبارہ برج میزان کے ابتدائی درجات سے گزر کر برج سنبلہ میں واپس چلا جائے گا اور پھر تیسری بار 2نومبر کو دوبارہ برج میزان کے ابتدائی درجوں پر ہوگا۔
یہ ایک نہایت غیر معمولی اور ایسی صورت حال ہے جو برس ہا برس میں کبھی دیکھنے میں آتی ہے، گویا اس سال ستمبر، اکتوبر اور نومبر سول و ملٹری بیوروکریسی میں نئی اصلاح اور در و بست کا امکان موجود ہے۔ ان مہینوں میں دیگر سیارگان شمس ، عطارد وغیرہ بھی زائچے کے چھٹے گھر سے گزرتے ہیں ۔ زہرہ کا یہاں طویل قیام خاصی اہمیت کا حامل رہے گا اور یقینا اصلاحی اور اصولی معاملات پر توجہ دی جائے گی ، ممکن ہے اس حوالے سے بعض غیر ذمے دار اور کرپٹ افسران کو بھی گرفت میں لیا جائے ۔
عزیزان من! خیال رہے کہ چھٹے گھر کی سیاروی گردش کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اس عرصے میں راہو کیتو مسلسل زائچے کے دوسرے، چوتھے، چھٹے، آٹھویں، دسویں اور بارھویں گھروں پر مستقل نظریں جمائے بیٹھے نظر آتے ہیں، چناں چہ موجودہ سیاروی گردش اور بھی معنی خیز ہوجاتی ہے۔
اس ساری صورت حال میں ایک نیا موڑ یکم نومبر سے شروع ہوگا، سیارہ مشتری برج اسد میں داخل ہوگاجو زائچے کا چوتھا گھر ہے اور اس کا تعلق عوام اور اپوزیشن سے ہے، مزید طرفہ تماشا یہ کہ سیارہ مریخ بھی چوتھے گھر برج اسد میں داخل ہوجائے گا اور یہاں دو نحسین باہم گلے ملیں گے، راہو، کیتو اس قران میں ان کے شریک ہوں گے گویا نومبر میں زائچہ پاکستان کی سیاروی گردش کسی طور بھی اطمینان بخش نظر نہیں آتی۔
یہ ایسا وقت ہے جس میں کوئی بھی بیرونی یا عوامی طوفان انگڑائی لے سکتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ جب عوام سڑکوں پر آجائیں تو انھیں روکنا آسان نہیں ہوتا ،ایسے موقعوں پر ارباب حل و عقد کو بہت ہی صبروتحمل اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ حالات و واقعات کا جائزہ لے کر فیصلے اور اقدام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس اہم سیاروی گردش کے موقع پر یقینا مثبت طرز فکر اختیار کی جائے گی۔
ہم پہلے نشان دہی کرچکے ہیں کہ بیرونی خطرات جو پڑوسی ممالک کی جانب سے ہوسکتے ہیں ، وہ مئی جون کے علاوہ اکتوبر یا نومبر میں بھی متوقع ہیں ۔ باقی دیکھیے یہ سال مزید کیا دکھاتا ہے ، ہم دیکھیں گے ، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔

