اوقات شرفِ شمس اور لوح شمس نورانی کی تیاری کا طریقہ
عروج و ترقی، عزت و مرتبہ، صحت و سلامتی کے لیے تحفہ ء خاص
شمس اپنے درجہ شرف پر ہر سال آتا ہے اور ماہرین علم جفراس وقت کا نہایت شدت سے انتظار کرتے ہیں کیوں کہ شمس کا تعلق توانائی، اقتدار اور عزت و مرتبہ سے ہے۔
سرکاری محکمہ اور تمام کارِ سرکار سیارہ شمس کے زیراثر ہیں، صحت اور توانائی کے حصول کے لیے بھی اس وقت کو موثر اور فائدہ بخش تسلیم کیا جاتا ہے،چناں چہ اس وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سال بھر انتظار کیا جاتا ہے۔
اس وقت لوحِ اسم اعظم یا خاتم اسمِ اعظم اور لوح شمس وغیرہ تیار کی جاتی ہیں جو زندگی میں عروج و کامیابی، اعلیٰ پوزیشن کے حصول، اعلیٰ حکام یا مالکان کے روبرو عزت و وقار اور مرتبے میں اضافے کے لیے موثر ہوتی ہے۔
لوح شمس ان لوگوں کے لیے بھی فائدہ بخش ثابت ہوتی ہے جن کا طالع برج اسد ہو یا برج اسد زائچے کے کسی اہم اور سعد مقام پر قابض ہو مثلاً دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں، ساتویں، نویں، دسویں یا گیارھویں گھر پر زائچہ ء پیدائش میں برج اسد موجود ہو اور شمس زائچے میں کمزور ہو یا راہو کیتو کسی نحس سیارے کی بد نظر کا شکار ہو۔
ایسی صورت میں مندرجہ بالا الواح و خاتم استعمال کرنا نہایت مفید نتائج کا حامل ہوتا ہے، انسان کی قسمت بدل جاتی ہے۔
اس سال سیارہ شمس اپنے درجہ ءشرف پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق بہ حساب یونانی سسٹم 7 اپریل بہ روز پیر شام 06:57 سے 8 اپریل کی شب 07:22 تک رہے گا۔ جب کہ اپنے شرف کے برج حمل میں 20 اپریل تک شرف یاب رہے گا۔
بہ حساب ویدک سسٹم درجہ ءشرف پر 2مئی بہ روز جمعہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق دوپہر 01:54 سے 3 مئی دوپہر 02:39 تک ہوگا۔
اس دوران میں شمس کی ساعتیں کارآمد ہوں گی، اس وقت میں لوح ”اسم اعظم“یعنی اسم ذات اﷲ کی کثیر الفوائد لوح سونے یا چاندی کی تختی پر تمام شرائط وقواعد کے مطابق کندہ کریں تو یہ ایک عظیم تحفہ ہوگا۔
اگر سونے یا چاندی پر کندہ کرنا ممکن نہ ہو تو ہرن کی جھلی پر زعفران و مشک و عنبر اور عرق گلاب کی روشنائی بناکر لکھیں ۔
یاد رہے کہ اسم اعظم ”اللہ“ ہے لیکن اسمائے الٰہی یا حی یا قیوم کو بھی اسم اعظم کا درجہ حاصل ہے۔
ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ اوقات شرف و اوج یونانی یعنی مغربی سسٹم کے مطابق زیادہ درست اور موثر ہیں یا مشرقی ویدک سسٹم کے مطابق درست اور موثر ہیں۔
ہمارے نزدیک اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی سیارہ شرف میں ہو یا اوج کی حالت میں اس وقت باقوت ہو اورراہو کیتو یا کسی دیگر نحس سیارے کی نظر بد سے پاک ہو، ساتھ ہی قمر بھی ہر قسم کی نحوست سے پاک اور طاقت ور ہو تب ہی الواح و نقوش میں تاثیر پیدا ہوسکتی ہے، چناں چہ ہم اسی مناسبت سے اوقات کا تعین کرتے ہیں۔
ہم یہاں ایک ایسی جامع چیز پیش کر رہے ہیں جسے تیار کرنے والا بے شمار مقاصد و فوائد حاصل کرسکتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ لوح مبارک اوپر بیان کیے گئے فوائد کے ساتھ ہر قسم کے سحروجادو اور دشمنوں کی کارروائی سے محفوظ رکھنے کا بھی موثر اور طاقت ور ذریعہ ہوگا۔
اسمائے الٰہی میں” الحیّ“ اور ”القیوم“ کو اسم اعظم کہا گیا ہے، یہ اسمائے الٰہی آیت الکرسی میں ابتدا ہی میں موجود ہیں۔ بعض روحانی سلاسل میں ان کا ورد بطور اسم اعظم مروج ہے۔
الحّی ہمیشہ زندہ رہنے والا اور القیوم ہمیشہ قائم رہنے والا، صفاتی اسما میں یہ دونوں اسم مبارک جن صفات کا اظہار کر رہے ہیں، یہ بہت ہی بزرگ و برتر صفات ہیں اور کائنات میں اللہ رب العزت کے سوا کوئی دوسرا فرد یا کوئی دوسری شے ان صفات کے ہر گز لائق نہیں ہے۔ پہاڑ، دریا ، سمندر، زمین، سیارے، آسمان اور کہکشائیں سب ایک روز فنا ہوجائیں گے۔
.خدا معلوم کس شاعر نے اتنی سادگی سے اس قدر سچی بات کہہ دی
بس ہمیشہ رہنے والی وہ خدا کی ذات ہے۔
قصہ مختصریہ کہ جس طرح سیارگان کے درمیان شمس بادشاہ کا درجہ رکھتا ہے، اسی طرح اسم ذات اللہ کے بعد اسمائے صفات میں یا حی یا قیوم کی نورانیت میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔
شرف شمس کے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہم نے یہی دو اسمائے الٰہی منتخب کیے ہیں، جفرونجوم کے ماہرین سیارہ شمس سے انہی اسمائے الٰہی کو منسوب کرتے ہیں، دونوں اسما کے اعداد کا مجموعہ 174 ہے۔
اب اگر عام قواعد کے مطابق ان اسما کا نقش تیار کیا جائے تو نقش کی مخصوص چال کی پابندی ضروری ہوگی، شمس کا نقش مسدس ہے یعنی 36 خانوں کا چھ در چھ کا نقش۔
اس کی مخصوص چال کے مطابق نقش تیار کرنا عام آدمی کا کام نہیں ہے، چناں چہ ہم نے مفاد عامہ کی خاطر اس کی ایسی لوح ترتیب دے دی ہے جس میں مشکل چال سے نجات مل جائے گی اور اثر پذیری برقرار رہے گی، وہ لوح یہ ہے۔
شمس کی ساعت میں اس لوح کو سونے، چاندی یا ہرن کی جھلی پر لکھیں، اس طرح کہ پہلے چھ در چھ خانوں کا ایک نقش تیار کریں پھر پہلے 786 لکھ کر یاحیّ یاقیوم کے حروف اسی ترتیب سے لکھتے جائیں جس طرح ہم نے لکھے ہیں۔ یعنی پہلے خانے میں ”ح“ لکھیں پھر اس کے نیچے دو خانوں میں ”ی“ لکھیں پھر نیچے کے تین خانے ”ق“ لکھ کر بھردیں پھر اسی طرح”و“ اور ”م“ تک خانے بھردیں پھر اسی طرح خانے بھرتے ہوئے نیچے کی طرف اترتے چلے جائیں اور آخر میں سب سے نیچے کے خانے میں ”ح“ لکھ کر نقش پورا کرلیں۔
نقش بھرنے سے پہلے جب نقش کے خانے بنالیں تو نقش کے چاروں کونوں پر یہ چار لفظ لکھ دیں، پہلے کونے پر ”قولہ“ اور دوسرے پر ”الحق“ تیسرے پر ”ولہ“ پھر چوتھے پر ”الملک“، اسی طرح چاروں ملائکہ کے نام بھی ارد گرد لکھ دیں، پہلے جبرائیل پھر عزرائیل پھر میکائیل پھر اسرافیل۔
جب نقش مکمل ہوجائے تو اس کی پشت پر شمس کے موکلات اور طلسم لکھ دیں جو یہ ہیں” یاروقیائیل ابو عبداللہ المذہب“ اس کے ساتھ ہی اسمائے شمس بھی لکھے جائیں گے جو یہ ہیں ”ابرصا صبر صا صورصا صارصا“
طلسم کی شکل یہ ہے
اب 174 مرتبہ یا حیّ یا قیوم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر نقش پر دم کردیں،کچھ زرد رنگ کی مٹھائی پر فاتحہ دیں اور لوح کو موم جامہ ، پلاسٹک کوٹڈ یالیمی نیشن کرکے اپنے پاس رکھیں۔
خیال رہے کہ موم جامہ خاصی پرانی روایت ہے، بہت سے لوگ تو اب جانتے ہی نہیں کہ موم جامہ کیا ہوتا ہے، جدید طریقہ پلاسٹک کوٹڈ یا لیمی نیشن ہے۔
لوح کی تیاری کے بعد نوچندے اتوار کو صبح سورج نکلنے کے فوری بعد اسے اپنے پاس رکھنا یا پہننا افضل ہے۔
اس وقت سورج نکلنے سے کچھ منٹ پہلے کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں جہاں سے سورج کے طلوع ہونے کا نظارہ کرسکیں ۔جب تک سورج طلوع نہ ہو اسمائے الٰہی یا حی یا قیوم کا ورد کرتے رہیں ۔ جیسے ہی سورج طلوع ہو، اللہ سے دعا کریں کہ اے پروردگار تو نے جس طرح سورج کو پوری دنیا میں عروج و افضل رکھا ہے اسی طرح اپنے اسمائے الٰہی کی برکت و سعادت کے سبب مجھے بھی دنیا میں عروج و فضیلت عطا فرما۔
دعا مانگنے کے بعد نقش اپنے پاس رکھیں اور اسی روز زرد میٹھے چاول پکاکر غریبوں میں تقسیم کردیں یا ممکن نہ ہوسکے تو زرد رنگ کی کوئی مٹھائی بھی تقسیم کی جاسکتی ہے۔
سمجھ لیں کہ آپ کے پاس ایک ایسی قوت آگئی ہے جو سحروجادو، آسیب و جنات اور دیگر بیماریوں کے خلاف جنگ میں مددگار ہوگی، اگر آپ کی ترقی رکی ہوئی ہے تو اعلیٰ افسران و حکام بالا آپ کی بات نہیں ٹال سکیں گے، عزت و مرتبہ میں اضافہ ہوگا، مقدمات میں کامیابی ملے گی۔
اگر کسی پر آسیب وغیرہ ہے یا سحروجادو کا اثر ہے تو اس لوح کو اس کے بازو پر باندھ دیں اور 174مرتبہ یا حیّ یا قیوم پڑھ کر اس کے دونوں کانوں میں دم کریں، ان شاءاللہ ٹھیک ہوجائے گا۔
لوح کو پانی میں ڈال کر اس کا پانی پلانے سے بھی بیماریوں میں شفا ہوگی، غرض اس کے بے شمار فوائد ہیں جس کے پاس یہ لوح ہوگی ، لوگوں پر اس کا رعب و دبدبہ رہے گا، عزت و احترام سے پیش آئیں گے۔
اس نقش معظم کو اگر گولڈن کاغذ پر مشک زعفران اور عرق گلاب سے لکھ کر فریم کرالیں اور گھر میں مشرق کی سمت لگادیں تو گھر تمام بلاوں سے محفوظ رہے گا۔
آخری بات یہ کہ جو لوگ علم النقوش سے واقفیت رکھتے ہیں اور مسدس نقش کی چال سمجھتے ہیں وہ اس چال کے مطابق تیار کریں، کسی مجبوری کے تحت اگر خود تیار نہ کرسکتے ہوں تو وقت سے پہلے ہم سے رابطہ کریں۔
وہ لوگ جن کا برج اسد ،ستارہ شمس ہے ان کے لیے یہ لوح عروج و ترقی ہے،اس لوح کو پاس رکھنے والا کبھی بھی زوال کا شکار نہیں ہوتا، زندگی کے اونچے نیچے راستوں پر اسے قدم قدم پر اللہ کے ان مقدس ناموں کی مدد حاصل رہتی ہے۔
بہترین بات یہ ہوگی کہ دونوں اسمائے الٰہی یا حیّ یا قیوم روزانہ صبح سورج نکلنے کے وقت 174 مرتبہ ضرور پڑھ لیا کریں تاکہ اس لوح کے موکلات ہمہ وقت آپ کے معاون و مددگار رہیں۔