سندھ، بلوچستان میں انارکی اور انتشار کے خدشات
راہو کی قمری منزل ست بھیشا میں آمد کے اثرات
منزل ست بھیشا کے منفی اور مثبت اثرات کی نشان دہی
پاکستان اپنے قیام کے بعد ہی سے سال بہ سال نت نئے حادثات اور سانحات سے دوچار ہوتا رہا ہے، قیام پاکستان 1947 کے ایک سال بعد ہی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ستمبر 1948میں ایک ایسے وقت میں دنیا سے رخصت ہوئے جب ابھی ملک میں آئین بھی نہیں تھا، اس کے بعد 1951میں تحریک پاکستان کے نمایاں رہنما اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان راولپنڈی لیاقت باغ میں شہید کردیے گئے ، جیسے تیسے 1956میں آئین سازی مکمل ہوئی لیکن 1958میں ملک میں مارشل لا لگادیا گیا اور آئین معطل ہوگیا۔
مارشل لا کے بعد ملک میں ایک نئے جرنیلی دور کا آغاز ہوا، فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے ملک کو اپنی مرضی کا ایک نیا آئین دیا اور اس طرح ایک آمر مطلق کے طور پر تقریباً گیارہ سال حکومت کی لیکن مارچ 1969 کو جنرل یحیٰ خان نے پھر مارشل لگادیا اور جنرل ایوب کی چھٹی ہوگئی۔
جنرل ایوب خان نے اپنے دور اقتدار میں ملک کو دو صوبوں میں تقسیم کردیا تھا یعنی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان، انھوں نے ون یونٹ کا قانون بناکر یہ تقسیم کی تھی لیکن یحیٰ خان نے برسر اقتدار آنے کے بعد ون یونٹ کو ختم کردیا اور اس طرح یکم جولائی 1970 میں مغربی پاکستان کو چار صوبوں میں تقسیم کردیا گیا اور اس طرح کراچی سندھ کا، لاہور پنجاب کا، پشاور سرحد کا اور کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت مقرر ہوا۔ پنجاب ، سندھ، سرحد اور بلوچستان، ا گرچہ یہ تقسیم تاحال قائم ہے لیکن اکثر و بیشتر ہمارے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی صدا بلند ہوتی رہتی ہے اور اس سال یعنی 2025میں یہ آواز پورے پاکستان میں نہایت زور و شور سے گونج رہی ہے لیکن سیاسی پارٹیاں اس حوالے سے خاموش ہیں، بعض غیر سیاسی اہم شخصیات نئے نئے فارمولے پیش کر رہی ہیں، کچھ کا خیال ہے کہ ملک میں بارہ صوبے بنادیے جائیں اور بعض کا ایجنڈا 32یا33 صوبے نئے تشکیل دینے کا ہے ۔
سیاسی پارٹیوں میں اگرچہ کسی حد تک خاموشی ہے لیکن ڈھکے چھپے لفظوں میں مخالفت کی جھلک بھی موجود ہے،خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ کے نیشلسٹ حلقے ایسے کسی بھی اقدام کے مخالف ہیں۔
عزیزان من! غالباً 2011-12میں ہم نے پاکستان میں پہلی مرتبہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے زائچے پیش کیے تھے اور اس حوالے سے ان زائچوں کی خوبیوں اور خامیوں پر بھی روشنی ڈالی تھی، یکم جولائی 1970 شب صفر بج کر صفر منٹ کراچی کے مطابق صوبہ سندھ کا طالع پیدائش یا لگن 7درجہ 12دقیقہ برج حوت سامنے آتا ہے جب کہ صوبہ بلوچستان دارالحکومت کوئٹہ کے مطابق زائچے کے پہلے گھر میں اور دیگر لاہور اور پشاور کے زائچوں میں بھی برج حوت ہی طالع پیدائش ہے۔
البتہ طالع کی ڈگریز ضرور مختلف ہیں جس کی وجہ سے چاروں صوبوں میں حالات و واقعات کے ظہور پذیر ہونے میں نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ فی الحال ہمارے پیش نظر صوبہ سندھ اور بلوچستان ہیں، دونوں کے زائچوں میں مماثلت یہ ہے کہ دونوں کے لگن کے درجات قریب قریب ہی ہیں ۔
طالع حوت کے اس زائچے میں طالع اور دسویں گھر کا حاکم سیارہ مشتری ہے جو زائچے کے آٹھویں گھر میں کمزور حالت میں موجود ہے اور یہ کمزوری تقریباً چاروں صوبوں کے زائچے میں مشترک ہے، طالع کی حاکم کی آٹھویں گھر میں نشست کسی طور بھی مناسب نہیں ہے، زائچے کے گیارھویں اور بارھویں گھر کا حاکم سیارہ زحل دوسرے گھر برج حمل میں ہبوط زدہ ہے، البتہ سیارہ قمر دوسرے گھر میں شرف یافتہ ہے جب کہ چوتھا گھر بھی نہایت اہم ہے جہاں عطارد ، شمس اور مریخ براجمان ہے۔
شمس کی قربت کے سبب دونوں اہم سیارے غروب ہیں، تیسرے اور آٹھویں گھر کا حاکم سیارہ زہرہ پانچویں گھر میں جب کہ راہو اور کیتو زائچے کے بارھویں اور چھٹے گھر میں بیٹھے ہیں، پلوٹو اور یورینس ساتویں جب کہ نیپچون 6ڈگری پر نویں گھر میں ہے، گویا زائچے کے حساس پوائنٹس کو متاثر کر رہا ہے، نیپچون کی پراسراریت ایسا فریب لاتی ہے جو دکھائی نہیں دیتا، یہ زائچے کے پہلے، پانچویں اور نویں گھر کو متاثر کر رہا ہے، گویا ہم صوبے کے کسی بھی گورنر یا وزیراعلیٰ کے کردار اور سوچ پر بھروسا نہیں کرسکتے۔صوبے میں ہونے والی آئین سازی عوامی مفاد کے بجائے مخصوص مفادات کو مدنظر رکھ کر ہوگی، مستقبل کے منصوبے ایک بار شروع ہوجائیں تو پھر انجام تک پہنچتے نظر نہیں آتے، صوبے میں میڈیا اور دیگر دانش ور طبقوں کی صدائے احتجاج بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے۔ یہ چاروں صوبوں کے زائچوں کی بنیادی خرابی ہے جو ہم نے 1970سے آج تک مشاہدہ کی ہے ۔
عزیزان من! لگن حوت کے لیے سیارہ زحل ، شمس ، زہرہ اور راہو کیتو فعلی منحوس سیارے ہیں لہٰذا زائچے میں ان کی حرکات و سکنات نقصان دہ عوامل و اثرات کا سبب ہوتی ہے۔ سیارہ قمر ، مریخ مشتری اور عطارد زائچے کے فعلی سعد سیارے ہیں، گویا لگن حوت کو ایک ایسا لگن سمجھا جاتا ہے جسے زندگی میں بہت زیادہ محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، مشکلات اور الجھنیں قدم قدم ان کے ساتھ چلتی ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ صوبوں کے سسٹم کو چلانے والے افراد کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اگر یہ افراد عوام سے مخلص اور ایماندار ہوں تو ہر قسم کی مشکلات اور الجھنوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ایک حقیقی جمہوری نظام اس قسم کی دشواریوں کو کنٹرول کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
عزیزان من! 31اکتوبر 2019سے تینوں صوبوں کے برتھ چارٹ کے مطابق زائچے کے فعلی منحوس گیارھویں، بارھویں گھر کے حاکم سیارہ زحل کا دور اکبر شروع ہوا اور تین نومبر2022 تک زحل ہی کا دور اصغر بھی جاری رہا، اب 13جولائی 2025 سے زحل کے دور اکبر میں چھٹے گھر میں قابض کیتو کا دور اصغر جاری ہے اور اس پر طرفہ تماشا سیارہ زحل کا پہلے گھر برج حوت میں قیام ہے۔
سیارہ زحل 30مارچ 2025کوبرج حوت میں داخل ہوا اور اپریل کے سیکنڈ ہاف سے زائچے کے حساس مقامات پر اثر انداز ہونا شروع ہوا، یہ چوں کہ بارھویں نحس گھر کا حاکم ہے اورجرائم یا لاقانونیت کو ہوا دیتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس سال سندھ اور بلوچستان دونوں صوبوں میں بد امنی ، لاقانونیت اور جرائم کی شرح کا گراف بہت تیزی سے بڑھابعد ازاں زحل کو رجعت ہوئی اور نومبر دسمبر میں یہ زائچے کے حساس مقامات سے دور ہوگیا لیکن جنوری 2026سے یہ دوبارہ حساس مقامات کو متاثر کرے گا اور یہ سلسلہ تقریباً اپریل تک جاری رہے گا، گویا زائچے کا پہلا گھر، تیسرا گھر، ساتواں گھر اور دسواں گھر اس کی زد میں ہوں گے۔
پہلے گھر کا تعلق صوبے کی مجموعی صورت حال سے ہے جب کہ تیسرے گھر کا تعلق صوبے میں ہونے والے فیصلوں اور اقدام سے ہے اور ساتویں گھر کا تعلق صوبے کے عوام کے باہمی تعلقات سے ہے اور دسویں گھر کا تعلق حکومت اور کابینہ سے ہے گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ سندھ اور بلوچستان میں بے چینی اور اضطراب کی ایک شدید لہر جنوری تا اپریل سامنے آسکتی ہے جس کے نتیجے میں انتشار اور انار کی پیدا ہوسکتی ہے ۔
سال 2026کا پہلا جزوی سورج گہن 17فروری کو زائچے کے بارھویں گھر میں لگے گا، یہ بھی ایک اشارہ ہے کہ فروری کے بعد صورت حال زیادہ سنگین رخ اختیار کرجائے اور معاملات کو سنبھالنے کے لیے فوج یا رینجرز کی ضرورت پیش آجائے ۔
سندھ خصوصاً کراچی کی صورت حال کے بارے میں میڈیا اور سوشل میڈیا تقریباً روزانہ ایسی خبریں دیتے رہتے ہیں جو لاقانونیت ، جرائم میں اضافے کے ساتھ حکومت کی غفلت اور نا اہلی کی نشان دہی کرتی ہیں، کہا جاتا ہے کہ کراچی کھنڈر بن چکا ہے۔
اعلیٰ سطح پر کرپشن کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں، اس صورت حال پر نئے صوبوں کی تشکیل کا شوشاگویا سیاسی اشرافیہ کے لیے جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ کہا جارہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم جس میں شاید صوبوں کے حوالے سے بھی کوئی نئی ترمیم زیر غور ہے ، فروری تک اسمبلی میں پیش ہوسکتی ہے لیکن کیا ایسی کوئی ترمیم قومی اسمبلی سے منظور ہوسکتی ہے؟
اس سوال کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے لیکن سندھ اور بلوچستان کے زائچوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ترمیم منظور ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں بلوچستان کے بعد سندھ بھی ایک نیا مزاحمتی رویہ اختیار کرسکتا ہے ۔
سیاروی گردش اور زائچے میں جاری دور اکبر زحل اور دور اصغر کیتو حالات کو کس رخ پر لے جائیں گے، یہ وقت آنے پر ہی معلوم ہوگا فی الحال ہم سیاروی گردش کے اشاروں سے یہی مطلب اخذ کرسکتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہوگا اس کے مستقبل میں بہر حال بہتر نتائج ہی برآمد ہوں گے۔بہ ظاہر نظر آنے والی برائیاں اکثر اپنے باطن میں کچھ اچھائیاں بھی رکھتی ہیں۔
معاشرے جب انحطاط کے آخری درجوں پر پہنچ جائیں تو پھر قدرت کا نظام انصاف حرکت میں آجاتا ہے اور بہت کچھ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے جس کی کبھی توقع بھی نہ کی ہو، اس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ ہو ۔ علم نجوم میں ہم جن سیاروی اثرات کو نحس اور ناگوار سمجھتے ہیں وہ درحقیقت نحس نہیں ہوتے، وہ یقینا کسی اصلاحی عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔
راہو در قمری منزل ست بھیشا
پاکستان اور بھارت میں راہو کے حوالے سے اکثر منجمین راہو کے ست بھیشا نچھتر میں داخلے پر اظہار خیال کر رہے ہیں اور جتنے منہ اتنی باتیں، بلاشبہ ست بھیشا نچھتر میں راہو کا یہ ٹرانزٹ نہایت اہمیت کا حامل ہے، ہم اسے صرف پاکستان کے حوالے سے دیکھیں گے اور یہ بھی دیکھیں گے ماضی میں جب راہو نے ست بھیشا نچھتر میں ٹرانزٹ کیا ہے تو ملک میں کس قسم کی صورت حال سامنے آئی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ 20جون 1951کو راہو اس نچھتر میں داخل ہوا اور 30مارچ 1952تک اسی نچھتر میں حرکت کرتا رہا، خیال رہے کہ راہو اس نچھتر کا حاکم بھی ہے ۔ست بھیشا ایک بہت عجیب نچھتر ہے ، یہ برج دلو کے 6درجہ چالیس دقیقہ سے 20درجہ دلو تک واقع ہے، اسے سو معالج یا سو مسیحا کہا جاتا ہے۔
انسانیت کے لیے شفا بخشی کا عمل اس نچھتر سے منسوب ہے ، اسے سو ستارے بھی کہا جاتا ہے ۔ اس قمری منزل میں شاہانہ خوبی کی عکاسی ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کا خوش قسمت ستارہ ہے، اس قمری منزل میں پیدا ہونے والے لوگ زبردست قوت حیات اور جرات کے مالک ہوتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو شکست دے کر فتح یاب ہوتے ہیں ۔ راہو اس نچھتر پر حکمران ہے ، اس کا بنیادی محرک راست بازی اور علامت ایک خالی دائرہ، سو معالج ، ستارے یا پھول ہے ۔ اپنی فطرت میں آسیبی (راکھ شس) اس کی حیوانی علامت مادہ گھوڑا (گھوڑی) اور سمت جنوب ہے ، نامناسب نہ ہوگا اگر یہاں چند ان مشہور شخصیات کی نشان دہی کردی جائے جو اس قمری منزل میں پیدا ہوئے ۔
سینٹ جون آف آرک، بینجمین فرینکلن، مائیکل انجیلیو، شاعر گوئتے، اداکار پال نیومن، گلوکار ایلوس پریسلے ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، حنا ربانی کھر، اداکار گورو دت، شمی کپور، ہدایت کار ستیا جیت رے، دادا صاحب پھالکے ، آغا حشرکاشمیری، اداکارہ نرگس، وحیدہ رحمن، کترینہ کیف اور وینا ملک شامل ہیں۔
جیسا کہ ابتدا میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پہلی مرتبہ راہو اس قمری منزل میں 20جون 1951کو داخل ہوا اور 3مارچ 1952تک مقیم رہا، اسی دوران میں پہلے وزیراعظم پاکستان اکتوبر 51میں شہید ہوئے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے ، کس طرح نظام حکومت جمہوریت سے مارشل لا کی سمت چلا گیا۔
دوسری بار 8جنوری 1970کوراہو قمری منزل ست بھیشا میں داخل ہوا اور دسمبر 1970تک اسی منزل میں حرکت کرتا رہا، یہ جنرل یحییٰ کے مارشل لا کادور تھا، اسی زمانے میں ون یونٹ ختم کیا گیا اور صوبوں کی نئی تقسیم عمل میں آئی ، دسمبر میں پورے ملک میں انتخابات ہوئے اور اس کے نتیجے میں صورت حال پیدا ہوئی وہ نہایت انتشار اور انارکی کی جانب لے گئی، 1971میں بالآخر ملک دولخت ہوگیا ، گویا وہ پاکستان ہی ختم ہوگیا جو اگست 1947میں وجود میں آیا تھا ، 20دسمبر 1971کو ٹرانسفر آف پاور کے نتیجے میں ایک نیا پاکستان وجود میں آیا جس کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو تھے ، اگر موجودہ پاکستان کا بانی انھیں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
تیسری بار 13اکتوبر 1988 کو راہو نچھتر ست بھیشا میں داخل ہوا اور 19مئی 1989تک ست بھیشا میں رہا، ہم دیکھتے ہیں کہ اسی سال اگست میں صدر جنرل ضیاءالحق اور دیگر اہم افراد ایک ہوائی حادثے میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور پھر ملک میں ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہوا جو تقریباًدس سال جاری رہا۔ بعد ازاں ایک بار پھر مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا۔
چوتھی بار 7مئی 2007 کو راہو ست بھیشا میں داخل ہوا اور دسمبر 2007تک اسی نچھتر میں حرکت کرتا رہا، سال 2007 پاکستان کی تاریخ کا ایک غیر معمولی سال ہے جب جنرل پرویز مشرف کے خلاف وکلاتحریک چلی اور اسی سال دسمبر میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کردیا گیا، اس کے بعد ملک میں پھر جمہوری دور کا آغاز ہوا جو کسی نہ کسی شکل میں آج تک جاری ہے۔
پانچویں بار 4نومبر 2025 سے راہو ایک بار پھر نچھتر ست بھیشا میں داخل ہوچکا ہے اور6جون 2026تک اسی نچھتر میں حرکت کرے گا، اسی تاریخ کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے فیلڈ مارشل عاصم منیر پانچ سال کے لیے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر ہوئے ہیں ، ملک میں ایک ہائبرڈ نظام جاری ہے۔
جنرل عاصم منیر ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ کوششوں پر یقین رکھتے ہیں، حافظ قرآن ہیں اور اسلامی اقدار کو اہمیت دیتے ہیں۔ ملک میں انقلابی نوعیت کی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں، ہمیں دعا کرنا چاہیے کہ وہ اپنے نیک ارادوں میں کامیاب و کامران رہیں۔
عزیزان من! ماضی کی مثالیں اور اس قمری منزل ست بھیشا کے اثرات ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ، اسے سو مسیحا کہا جاتا ہے ، اس مسیحائی کا انحصار حق و انصاف کے نظام پر ہے ، جب بھی حق و انصاف سے روگردانی کی گئی تو نتائج منفی ظاہر ہوئے جیسا کہ 1951کے بعد ہوا یا 1970کے الیکشن کے بعد ہوا، 1988میں ملک جمہوریت کی پٹری پر چڑھ گیا تھا لیکن بے جا مداخلتوں نے جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا اور بالآخر 1999میں ایک بار پھر جمہوری بساط لپیٹ دی گئی لیکن ایک بار پھر 2008کے الیکشن سے جمہوریت کا آغاز ہوا، 18ویں آئینی ترمیم سے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آئین ایک مرتبہ پھر من پسند ترامیم کی زد میں ہے۔ملک کا دانش ور طبقہ اس بات پر متفق ہے کہ 1973کے متفقہ آئین کے مطابق ملک کو چلایا جائے تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
قمری منزل ست بھیشا کی بنیادی خصوصیات سے روگردانی کی گئی تو نتائج بھی منفی ہی ظاہر ہوں گے بہ صورت دیگر اس نچھتر میں راہو کی موجودگی مثبت اثر کی حامل ہوگی ۔وما علینا الالبلاغ۔

