زائچے کے خفیہ رازجن کا عموماً اظہار نہیں کیا جاتا
ایسی باتیں صاحب زائچہ کی موجودگی میں ہر گز نہیں ہوسکتیں
خبطی صدر
امریکی صدر مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ جب پہلی بار اقتدار میں آئے تو ہم نے ان کا برتھ چارٹ بنایا تھا اور ان کے حوالے سے جو کچھ لکھا تھا وہ ریکارڈ پر موجود ہے، دوسری بار بھی لکھا جو ماہنامہ آئینہ قسمت لاہور میں شائع ہوا اور ریکارڈ پر موجود ہے ۔
مسٹر ٹرمپ کی تاریخ پیدائش 14جون 1946 جمیکا صبح 10:54ہے۔
زائچے کا لگن 6 ڈگری 51 دقیقہ برج اسد ہے، برج اسد کو شاہانہ مزاج کہا جاتا ہے لیکن برج اسد کا حاکم شمس اگر نحس اثرات سے متاثرہ نہ ہو تو ایسے لوگ یقینا نہایت فیاض اور اعلیٰ خصوصیات کے مالک ہوتے ہیں مگر مسٹر ٹرمپ کے زائچے میں شمس، راہو کیتو محور میں پھنسا ہوا ہے۔
راہو کے چھل فریب اور منفی رجحانات زبان زد عام ہیں ، راہو ہی انھیں سیاست میں کھینچ لایا ۔شمس کی زائچے میں ڈگری 29:49ہے، گویا شمس ہی ان کا ” آتما کارک“ بھی ہے۔ گویا موصوف اپنے سوا کسی کو کچھ نہیں سمجھتے اور حقیقت میں فرعون ثانی ہیں ۔
ہمارے نزدیک زیادہ دلچسپ صورت حال موصوف کے قمرکی ہے جو برج عقرب کے اٹھائیس درجے پر جیشٹھ نچھتر میں موجود ہے، خیال رہے کہ موصوف کی پیدائش کے وقت گہن لگا ہوا تھا ۔
ہمارے مشاہدے کے مطابق قمری منزل جیشٹھ نہایت ہی عجیب صفات اور عادات و اطوار کی حامل ہے۔اس منزل میں غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک افراد پیدا ہوتے ہیں اور وہ دنیا میں غیر معمولی کارنامے انجام دیتے ہیں لیکن اگرپیدائش کے وقت نحس اثرات اس منزل میں پڑ رہے ہوں خصوصاً کیتو بھی یہاں براجمان ہو اور راہو کی نظر بھی اس منزل پر ہو تو صورت حال مختلف ہوجاتی ہے۔ غیر معمولی صلاحیتیں منفی رخ اختیار کرلیتی ہیں۔
ہم نے لکھا تھا کہ ماضی میں جہاز سازی کی صنعت کا کنگ امریکی صنعت کار ہاورڈ ہیوزچاند کی اسی منزل میں پیدا ہوا تھا اور اپنی عجیب و غریب عادت و اطوار کی بنیاد پر ”خبطی ارب پتی“ کے نام سے مشہور تھا جب کہ اس کے برعکس فلسفی نطشے، جرمن موسیقار موزارٹ اور بیتھون بھی اسی نچھتر میں پیدا ہوئے تھے لیکن اس وقت منزل نحس اثرات سے پاک تھی۔
اکثر غیر معمولی شخصیات اس منزل میں پیدا ہوئی ہیں ۔ مثلاً بدنام زمانہ لارنس آف عربیہ، بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی، اداکارہ سچترا سین، موسیقار خیام وغیرہ۔ہم نے اپنی قمری منازل کی کتاب” اک جہان حیرت“ میں ایک تفصیلی فہرست ایسے لوگوں کی دی ہے ۔
نحس اثرات کے باعث ایسے لوگوں کی غیر معمولی صلاحیتوں کا تاریک پہلو نہایت تشویش ناک ہوجاتا ہے، منفی اثرات کی وجہ سے عجیب و غریب عادتیں یا رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں جو ابتدائی زندگی سے ہی نمایاں ہونے لگتے ہیں، پیدائش اسی نچھتر کا چوتھا قدم ہے۔
اس قدم پر پیدا ہونے والے افراد ظالم اور جھگڑالو ہوتے ہیں، مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ان کا حلقہ احباب محدود ہوسکتا ہے یا وہ تنہائی پسند اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے لگتے ہیں۔ ایک گھنی یا منافقانہ فطرت کا مشاہدہ ایسے لوگوں کے کردار میں کیا جاسکتا ہے۔
ایک عجیب تضاد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سختی سے مذہب کی پیروی کرےںاور ساتھ ہی مادی آسائشوں کے متوالے بھی ہوں ، گھمنڈ، تکبر اور انانیت ان کے لیے بہت بڑا امتحان بن جاتی ہے، چناں چہ خطرہ ہے کہ ایران کے حوالے سے یہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کرلیں جس پر تاریخ انھیں کبھی معاف نہ کرسکے ۔
مسٹر ٹرمپ کے زائچے کی پوزیشن اقتدار میں آنے کے بعد مارچ 2025سے زیادہ بہتر نہیں ہے کیوں کہ آٹھویں گھر میں نیپچون براجمان ہے اور ساتویں گھر کا حاکم زحل بھی یہاں داخل ہوگیا تھا۔ زحل اور نیپچون کی قربت انسان کو فریب دیتی ہے اور خاص طور پر ان کے پارٹنر یا مشیر انھیں غلط مشورے دیتے ہیں۔
چناں چہ ہم نے دیکھا کہ انھوں نے اقتدار میں آتے ہی پوری دنیا میں اپنے اقدامات سے کھلبلی مچادی اور اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار بھی کھلے لفظوں میں کیا اور ابھی تک کر رہے ہیں، قریبی ممالک کینیڈا ، گرین لینڈ، کیوبا، وینزویلا پریشانی کا شکار ہیں اور کھلی غنڈہ گردی یہ ہوئی کہ وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرکے امریکا لایا گیا اور ذلیل کیا گیا۔ ان کے مشیروں میں نہایت اہم اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو ہیں، چناں چہ نیتن یاہو کی خواہش اور مشوروں کے مطابق انھوں کے اقوام متحدہ کو نظر انداز کرکے اپنا ایک بورڈ آف پیس بنالیا جس کی کارکردگی تاحال ناقابل یقین ہے۔ نیتن یاہو ہی کے دباو یا بعض لوگوں کے بقول کسی بلیک میلنگ کی وجہ سے وہ ایران پر حملہ آور ہوئے، اسی دوران میں ایپسٹن فائلز میں بھی موصوف کا نام نمایاں ہے، یہ بھی نیپچون کے آٹھویں گھر میں اثرات کا شاخسانہ ہے جو آگے چل کر بھی مسٹر ٹرمپ کے لیے کوئی بڑا پھندا بن سکتا ہے ۔
اسی ماہ میں 19مارچ کا نیو مون بھی آٹھویں گھر میں ہوگا، گویا شمس، قمر ، زہرہ وغیرہ بھی آٹھویں گھر میں موجود ہوں گے۔
زائچے میں مشتری کا دور اکبر جاری ہے اور مشتری بھی راہو کی نظر کا شکار ہے، ان کی فیملی سے متعلق کوئی بڑا اسکینڈل بھی آنے والے دنوں میں سامنے آسکتا ہے۔ مشتری کے مین پیریڈ میں زہرہ کا سب پیریڈ جاری ہے، زہرہ زائچے کے بارھویں گھر میں ہے اور تیسرے اور دسویں گھر کا حاکم ہے۔
موجودہ پیریڈ کسی طور بھی بہتر ثابت نہیں ہوگا اور شاید اسی دوران میں یعنی مئی تک انھیں مزید مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے جس میں مڈٹرم الیکشن سے متعلق کامیابی کے زیادہ امکانات نظر نہیں آتے، قصہ مختصر یہ کہ موجودہ سال ان کی کامیابیوں کا نہیں بلکہ زوال کی طرف پیش رفت کا سال ہے (واللہ اعلم بالصواب)
سوال و جواب
ایم، اے لکھتے ہیں ” آپ کا مضمون پڑھا جو میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں لیکن آج تک فائدہ نہ اٹھاسکا، میں نے تین دفعہ آپ سے ملاقات کی لیکن جواب میں مطمئن نہیں ہوا، آپ نے پہلی دفعہ ایک سادہ سا کاغذ میر ے ہاتھ میں تھمادیا کہ یہ زائچہ ہے جو میری سمجھ میں نہ آیا،دوسری دفعہ بھی ایک کمپیوٹر سے کاغذ نکال کر دے دیا،اس پر کوئی برج پہلے گھر سے بارہ گھروں کا کوئی ذکر نہیں تھا، اب ذرا مجھے تفصیل سے بتائیں کہ میرا مسئلہ کیا ہے؟
تقریباً 15,20 سال پہلے میں نے خواب میں کسی چیز کو دیکھا تھا جس کا ذکر میں نے ملاقات میں کیا تھا اور مجھے سردی لگنے لگ گئی تھی، علاج شروع ہوا اس کے بعد ایک دن بد بختی سے ایک پیر صاحب کے پاس جا نکلے، یہاں سے بربادی شروع ہوگئی، انہوں نے میرے کپڑے لیے اور کہا کہ کل آکر لے جانا، بس وہ دن اور آج کا دن روزانہ یہی حالت ہوتی ہے، سر پر بوجھ پڑ جاتا ہے اور گالیاں نکالنے لگ جاتا ہوں، سب کہتے ہیں یہ آسیب ہے، سوائے آپ کے۔ ہر کام میں بندش ہوتی ہے، خوف آتا ہے، شکل عجیب لگتی ہے اور روزانہ جب میں کھانا کھاتا ہوں، دونوں وقت اُلٹے ہاتھ کی انگلیاں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں اور بار بار ایک ہی فقرہ ”کتے کی بچی“ ادا کرتا ہوں، بار بار۔کوئی دم والی چیز یا نقش پہن لوں تو جسم میں آگ لگ جاتی ہے، غصہ آتا ہے۔
آپ کی بدوح والی انگوٹھی بھی ہے، وہ بھی پہن لوں تو اور طبیعت خراب ہوجاتی ہے، آج آپ کا مضمون پڑا تو سوچا میں بھی اپنا تجزیہ بھیجوں ، ذرا کھل کر صاف صاف بتائیں کہ آپ وہاں مجھ سے کیا چھپاتے تھے،یہ جو سارے ماہر، عامل رسائل کے ذریعے بنے ہوئے ہیں، تقریباً سب سے شرفِ علاج رہا ہے، باتیں بڑی بڑی،ذرا فائدہ نہ ہوا۔ جھوٹ نہیں باقاعدہ ثبوت ہیں، سب کی رائے یہی ہے کہ آسیب ہے، علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔
میرا تجربہ تو یہ ہے کہ آپ لوگ آسیب سے ڈرتے ہیں،ایسے ایسے جفر کے قاعدے رسالوں میں دیتے ہیں کہ کوئی سمجھ نہ سکے، ناراض نہ ہوں، ذرا مضمون تلخ ہوگیا ہے، جب سے یہ چھیڑ خانی یعنی علاج کرایا ہے، سب کاروبار ، ہر چیز برباد ہوگئی، اب 20 سال سے گھر بیٹھے ہیں، آپ اندازہ کرلیں، کیسے حالات ہوں گے، خیر اللہ کی مرضی۔
جواب: عزیزم! ہمارے پاس برسوں سے بے شمار لوگ آتے جاتے رہتے ہیں،یقیناً آپ بھی آئے ہوں گے لیکن اس طرح ہمیں ہر شخص کے بارے میں یاد نہیں رہتا کہ اُس کا کیا مسئلہ تھا، آپ نے جو صورتِ حال ہم سے ملاقات کی لکھی ہے اُس سے اتنا اندازہ ہورہا ہے کہ آپ سے زیادہ تفصیلی بات چیت نہ کرنے کی اور آپ کے کیس کی کھل کر تشریح نہ کرنے کی وجہ غالباً یہی رہی ہوگی کہ ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہوگا کہ بھینس کے آگے بین بجانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
مزید یہ کہ ہمیں یہ اندازہ بھی ہوگیا ہوگا کہ آپ سنجیدگی سے اپنا علاج نہیں کرائیں گے، آپ کے موجودہ خط سے بھی یہی اندازہ ہورہا ہے کہ آپ اپنے علاج کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہیں، صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے حالاں کہ آپ خود طے کیے بیٹھے ہیں کہ آپ پر کوئی آسیب مسلط ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ کے مسئلے پر آپ سے بات کرنا اول تو اس لیے ممکن نہیں ہے کہ آپ کے دماغ میں جو گرہ پڑی ہوئی ہے وہ جب تک نہیں کھلے گی، کوئی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی، دوم یہ کہ آپ کی اپنی علمی استعداد اور عقل و فہم بھی اتنی نہیں ہے کہ آپ اپنے مسئلے کے علمی نکات کو سمجھ سکیں، آپ کے دماغ کی سوئی تو جاہل پیروں اور نام نہاد عاملوں، کاملوں نے ایک ہی نکتہ پر اٹکا دی ہے کہ آپ پر آسیب ہے جب کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ آپ خود ایک آسیب ہیں جو اپنی پوری فیملی کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے۔
ہمارے نزدیک آپ کا مسئلہ نفسیاتی ہے یعنی آپ ایک کرانک قسم کے نفسیاتی مریض ہیں لیکن آپ کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کیوں کہ اس طرح آپ کی انا مجروح ہوتی ہے کہ آپ کو ایک ذہنی بیمار قرار دیا جارہا ہے۔
اپنی ذہنی بیماری کو آسیب کے پردے میں لپیٹ کر آپ نے گزشتہ 15,20 سال نہایت بے فکری اور بے عملی کے ساتھ گزار دیے جس کے نتیجے میں مالی اور کاروباری پریشانی و تباہی یقینی تھی اور ہے، ہمارے خیال میں اگر آپ کسی قابل ماہرِ نفسیات سے رجوع کرتے اور جم کر اپنا علاج کراتے تو کبھی کے ٹھیک ہوچکے ہوتے یا کم از کم آپ کی یہ حالت نہ ہوتی جو آج ہے یعنی مالی و کاروباری پریشانی۔
ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ جب نفسیاتی عوارض معقول علاج نہ ہونے کے سبب طول پکڑتے ہیں اور انسانی اعصاب کمزور پڑنے لگتے ہیں تو شیطانی مداخلت بھی شروع ہوجاتی ہے۔
اگر بندہ صفائی و طہارت، عبادت اور اللہ پر کامل ایمان کے معاملے میں غفلت و کمزوری کا شکار ہو تو خود شیطان بن جاتا ہے اور اس کے رابطے میں اگر کوئی شیطان آجائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی، آپ کے ساتھ بھی ایسا کچھ معاملہ ہوسکتا ہے۔
امید ہے کہ ہمارے کُھل کر بات نہ کرنے اور آپ کے زائچے پر کوئی واضح اظہارِ خیال نہ کرنے کی وجوہات اب آپ کی سمجھ میں آگئی ہوںگی، مندرجہ بالا حقائق اگر آپ کے سامنے بیان کیے جاتے تو کیا آپ انہیں تسلیم کرلیتے؟ یہ باتیں تو اب بھی آپ کے حلق سے نیچے نہیں اتریں گی،آپ کنویں کے مینڈک کی طرح اب بھی کسی ”کتے کی بچی“ کے چکر میں ہی رہیں گے۔

