دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

ظلم و سفاکی کا ایک عبرت ناک نظارہ، عبرت سزائے دہر ہے

کبھی کبھی ایسے خطوط موصول ہوتے ہیں جنہیں پڑھ کر کسی کہانی کا گمان ہو اور کہانی بھی ایسی کہ جس پر یقین نہ آئے۔ ہم انسان جنہیں اشرف المخلوق ہونے کا شرف حاصل ہے۔ کیا درندوں سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں؟
یقینا ہوسکتے ہیں۔ اکثر اخباروں میں انسانی درندگی کے ایسے ایسے مظاہرے سامنے آتے ہیں کہ دل کانپ کانپ جاتا ہے۔ مثلاًیہ بھی خبر اخبار میں نظر سے گزری تھی کہ ایک شخص نے اپنی تین معصوم بچیوں کی جان لے لی اور نہایت سفاکی کے ساتھ تھانے میں حاضر ہوگیا۔ تھانے کے سپاہی سے اس شخص کی سفاکی برداشت نہ ہوسکی۔ اس نے ہر قانون کو بالائے طاق رکھ کر بندوق اٹھائی اور قاتل کو واصل جہنم کردیا۔
ظلم کی ایک بھیانک مثال انسان کے خون سے ہاتھ رنگنا ہے مگر اس کے علاوہ بھی ایسی ایسی بھیانک شکلیں ہمیں معاشرے میں نظر آتی ہیں جن پر دل خون کے آنسو روتا ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہی جیسے بہت سے افراد کھلی آنکھوں اور کھلے کانوں سے ایسی ظالمانہ کارروائیاں دیکھ بھی رہے ہیں اور سن بھی رہے ہیں مگر کوئی ظالم کا ہاتھ پکڑنے کے لیے آگے قدم نہیں بڑھاتا بلکہ سارے دیکھنے والے خاموش تماشائی بنے صرف اظہار افسوس کرتے رہتے ہیں۔
آج کی نشست میں ہم ایک ایسا ہی ظالمانہ واقعہ آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ پڑھیے اور سوچیے کہ کیا آپ کے ارد گرد، محلے یا پڑوس میں کوئی ایسا ہی واقعہ تو رونما نہیں ہورہا۔ مظلومہ کا نام اور پتا یہاں لکھنے کی ہم ضرورت نہیں سمجھتے ۔ وہ لکھتی ہیں۔
محترم! “جب سے شادی ہوئی بس عجیب ہی مشکل میں ہوں۔ شادی کے تھوڑے ہی دن بعد شوہر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ الزام مجھ پر آیا کہ میں منحوس ہوں۔آخر گیارہ سال سے گاڑی چلا رہا ہوں، کبھی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا، اب کیوں ہوا؟ وجہ ظاہر ہے کہ ایک منحوس گھر میں آگئی ہے۔
شادی کے سات ماہ بعد میرا تمام زیور بیچ دیا کہ میرے بھائی کو باہر جانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہے۔ اگر زیور نہیں دے گی تو فیصلہ طلاق پر ہوگا۔ بہر حال زیور بک گیا۔ اس کے بعد گاڑی چلانی چھوڑ دی کہ مجھ منحوس کی وجہ سے پھر ایکسیڈنٹ نہ ہوجائے۔ بس پھر جو لڑائی جھگڑے شروع ہوئے ہیں تو پھر خدا کی پناہ!
ذرا ذرا سی بات پر گھر سے نکال دیتے۔ رات کو دو تین بجے بھی گھر سے نکالا۔ ایک دو ماہ سکون سے گزرتے پھر دورہ پڑجاتا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ میرا زیور بیچ کر بھائی کو پیسے اس شرط پر دیے تھے کہ وہ ایک مقررہ رقم ہر ماہ پابندی سے انھیں بھیجے گا اور گاڑی بھی اس لیے چلانا چھوڑی تھی کہ اب باہر سے پیسے آئیں گے اور ہم آرام سے بیٹھ کر کھائیں گے لیکن بھائی نے باہر جاکر ٹھینگا دکھا دیا۔ اس کا غصہ بھی مجھ پر اترنا شروع ہوگیا کہ اس منحوس کی وجہ سے ہر کام خراب ہوجاتا ہے۔ بار بار یہ طعنہ کہ پیسہ تو بیوی کی قسمت سے ہوتا ہے تو جب سے آئی روزگار بھی بند ہوگیا ہے۔
اس دوران کئی بار گھر سے نکالنے پر میکے چلی گئی تو پھر کبھی پلٹ کر پوچھا بھی نہیں۔ تھک ہار کر اور بے غیرت بن کر خود ہی واپس آجاتی تھی۔
والد زندہ تھے تو انھوں نے بہت زور دیا کہ طلاق لے لو مگر میں نے یہ گوارانہ کیا۔ والدہ بھی طلاق کی مخالفت کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اولاد ہوگی تو سدھر جائے گا۔ میں بھی یہی سوچتی تھی کہ شاید بچوں کی محبت اس شخص کا دل نرم کردے۔ پہلے والد کا انتقال ہوا اور اس کے دو سال بعد والدہ کا۔ میرے ہاں سات سال تک اولاد کی خوشخبری نہیں آئی۔ یہ بات بھی میری نحوست کی دلیل تھی۔ اس کے طعنے علیحدہ ملتے۔ آخر سات سال کے بعد خدا نے میری سن لی۔
پانچواں مہینہ تھا کہ نیا فساد کھڑا کردیا کہ چھلہ میکے جاکے کر۔ میکے میں اب نہ باپ نہ ماں۔ بھابھی پہلے ہی میری صورت سے بیزار تھی۔ میں نے پیغام بھیجا کہ بھائی آکر مجھے لے جائیں تو وہاں سے جواب آیا کہ یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے جو بھی کرنا ہے اپنے شوہر کے گھر میں کرو، ہم لوگ پہلے ہی بہت پریشان ہیں۔ اس پر بھی صبح شام ہنگامہ ہوتا رہا۔ حد یہ کہ دودھ والے کو منع کردیا کہ دودھ نہ دینا۔
ہر دکان دار کو منع کردیا کہ کوئی بھی چیز لینے جاوں تو نہ دیں۔ ورنہ میں پیسے نہ دوں گا۔ آس پڑوس والے ترس کھاکر کھانے کی چیزیں دے جاتے تھے۔ بہت شرم آتی تھی لیتے ہوئے مگر کیا کرتی روز بہ روز کمزور ہوتی چلی گئی۔ رو رو کر بھائی کو فون کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں مجبور ہوں۔ میری بیوی نہیں مانتی۔ تم آئوگی تو وہ گھر چھوڑ کر چلی جائے گی۔
محترم! میں اپنے والد کی بہت لاڈلی بیٹی تھی۔ بہت عیش و آرام کی زندگی والد کے زمانے میں گزاری۔ جب تک وہ زندہ رہے۔ میری مدد کرتے رہے۔ بہر حال اس صورت حال میں، میں نے سلائی کڑھائی کا کام شروع کردیا۔ اس طرح کچھ پیسے ملنے لگے۔ ساتویں مہینے میں خوراک نہ ملنے سے خون کی کمی کا شکار ہوگئی اور آخر ایک دن چکر آئے اور گر پڑی۔
نتیجے کے طور پر میری بہت حالت خراب ہوگئی۔ مکان مالک کی بیوی شور سن کر فوراً آگئیں، انھوں نے کسی کو بھیج کر میرے شوہر کو بلوالیا اور کہا کہ دیکھو کتنی حالت خراب ہے، فوراً اسے اسپتال لے جاو، کہنے لگے بے شک مرتی ہے تو مرے۔ مجھے کوئی پروا نہیں۔
بہر حال وہ بے چاری اپنے بیٹے کے ساتھ اسپتال لے کر گئیں اور آخر میرے آپریشن سے بچی پیدا ہوئی۔ یہ شخص ایک دن بھی اسپتال نہیں آیا کہ بچی کو دیکھ آوں۔ قرضہ لے کر اسپتال کے اخراجات ادا کیے اور بے غیرت بن کر پھر گھر آگئی۔ آخر کہاں جاتی، خدا کا واسطہ دے کر بچی کو باپ کی گود میں دیا۔ وہ بہت کمزور پیدا ہوئی تھی، زندگی تھی تو بچ گئی، اس کے بعد اتنا ضرور ہوا کہ اب گھر سے نہیں نکالتے۔
دن رات میں سلائی کڑھائی کرتی ہوں، اپنے اور بچی کے اخراجات پورے کرتی ہوں، وہ خود باہر جاکر کیا کرتے ہیں مجھے نہیں معلوم، میرے ہاتھ پر اپنی کمائی کا ایک پیسہ نہیں رکھا۔ اول تو کماتا ہی نہیں، کبھی کبھار مہینہ پندرہ دن کے لیے گاڑی چلالی اور پھر فارغ۔ کام کے لیے کہو یا پیسے مانگو تو گالیاں اور مارپیٹ۔
آج کل بہت بیمار ہیں۔ ایک سال پہلے پتا نہیں کس طرح گردن کا مہرہ گھس گیا۔ پورے جسم میں کھنچائو شروع ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ایکسیڈنٹ سے جو چوٹیں آئی تھیں ان کا اثر ریڑھ کی ہڈی پر ہوا ہے۔ سارے جسم میں کھنچاوکے ساتھ ایسا درد ہوتا ہے کہ رات تڑپ تڑپ کر گزارتے ہیں۔ بہت علاج کروایا، کبھی بھی فرق نہیں پڑا۔ محلے دار کہتے ہیں کہ تمہارے صبر کا نتیجہ ہے۔
بہت دفعہ سوچا کا طلاق لے لوں مگر یہ سوچتی ہوں کہ طلاق لے کر جاوں کہاں؟ اس حالت میں بھی گندی زبان کا استعمال جاری ہے اور اپنی ہر تکلیف یا بیماری کی وجہ میری نحوست بتاتے ہیں۔ جب لڑتے ہیں اور مار پیٹ کرتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ دوں۔
پہلے تو اپنا اور اپنی بچی کا پیٹ بھرنے کی فکر تھی، اب ان دواوں کا خرچ بھی میرے سر ہے، مالک مکان بہت شریف اور نیک دل ہیں، ان کا قرضہ بھی چڑھا ہوا ہے مگر کبھی انھوں نے سختی سے بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی گھر خالی کرنے کی بات کی۔
اس حوالے سے بھی میں ہی بری ہوں۔ مجھ پر شک کرتے ہیں لیکن اس شک کا اظہار کھل کر نہیں کرتے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ مالک مکان اور اس کے بیٹوں سے ڈرتے ہیں کیوں کہ اکثر مار پیٹ کے دوران آخر ان ہی کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
آپ کا پتا بھی ان کے ذریعے ہی معلوم ہوا، خدا کے لیے کچھ ایسا بتائیں کہ یہ شخص انسان بن جائے اور اس کی صحت بھی ٹھیک ہوجائے۔ پتا نہیں کیسی بیماری اسے لگی کہ اتنا علاج کرنے پر بھی کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ میں زندگی بھر آپ کا احسان نہیں بھولوں گی”۔
جواب: عزیزم ! تمہارے خط کا ہم کیا جواب دیں، تمہارے مسئلے کا کیا حل پیش کیا جائے؟ کیوں کہ ایسے مسئلے جو خود پیدا کیے گئے ہوں لا علاج ہوتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ کہ تمہارے والدین نے بہر حال تمہارے لیے ایک غلط شخص کا انتخاب کرلیا تھا، ان کی اس غلطی کو نادانستگی اور کم علمی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے وہ شادی سے پہلے اپنے ہونے والے داماد کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے لیکن اگر چاہتے تو جان سکتے تھے۔ اس کے اور اس کے خاندان کے بارے میں اچھی طرح معلومات حاصل کرنا چاہیے تھیں۔ ظاہر ہے نہ کی گئیں، پھر شادی کے بعد اس کے طور طریقے دیکھ کر تمہارے والد تمہیں علیحدگی کا مشورہ دیتے رہے جو تمہارے اور تمہاری والدہ کے لیے قابل قبول نہ تھا۔ سو یہ تمہاری غلطی تھی کیوں کہ جو حالات تم نے لکھے ہیں اس کے بعد بھی تمہاری آنکھیں نہ کھلنا ایک ظالم و سفاک شخص سے جڑے رہنا تمہاری غلطی ہے۔
یہ سوچ اور خیال غلط ہے کہ اس کے بعد میں کہاں جاتی اور کیا کرتی۔ اس سوچ کا مطلب تو یہی ہے کہ انسان اللہ کو بھول بیٹھا ہے۔
آخر جب اس نے تمہارا مکمل خرچ بند کردیا تو پھر اللہ ہی نے سلائی کڑھائی کے ذریعے تمہارے لیے رزق کا ایک نیا دروازہ کھول دیا۔ حد یہ ہے کہ تمہیں فرشتہ صفت مالک مکان بھی دیے، تو اگر غور کیا جائے کہ جس سہارے کو تم چھوڑنے سے گریز کرتی رہیں وہ تو کبھی سہارا نہیں بنا۔ کچھ دوسرے ہی سہارے اللہ نے بروقت مہیا کردیے۔
تمہیں اسپتال لے جانے والا بھی تمہارا شوہر نہ تھا تو پھر آخر کس بنیاد پر تم ایک ظالم شخص سے منسلک رہیں اور ابھی تک ہو اور اب بھی یہ چاہتی ہو کہ وہ سدھر جائے اور صحت مند ہوجائے۔تمہارے خط سے یہ بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ تمہیں اس سے محبت ہے بلکہ جگہ جگہ شدید نفرت کا اظہار ہوتا ہے لہٰذا ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ طلاق نہ لینے کے معاملے میں تم غلطی پر تھیں۔
فطرت کا قانون یہ ہے کہ ظالم کو اس وقت تک معافی نہیں مل سکتی جب تک وہ اپنے ظلم پر نادم و پشیماں ہو کر توبہ نہ کرلے اور اپنے کیے ہوئے مظالم کا ازالہ نہ کرے۔
جب کوئی انسان ظلم کے راستے پر چلتا ہے تو قدرت اسے موقع دیتی ہے کہ وہ راہ راست پر آجائے لیکن جو ان موقعوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور اپنی مرضی اور پسند کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو نتیجے کے طور پر وہ گھڑی آجاتی ہے جب عذاب الٰہی اسے آن پکڑتا ہے پھر توبہ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور سزا کا عمل شروع ہوجاتا ہے پھر نہ کوئی دوا کام آتی ہے اور نہ دعا۔ اور بالآخر ظالم اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔
وہ لوگ جو اپنی عاقبت نا اندیشی کے سبب ظالم سے وابستہ رہتے ہیں براہ راست تو عذاب الٰہی کا شکار نہیں ہوتے لیکن اس کا ساتھ دینے کی پاداش میں ضرور مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں اور تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے اور ہورہا ہے۔
ہمارے نزدیک تو وہ شخص تمہارا ہی نہیں اپنی بیٹی کا بھی مجرم ہے۔
اس کو جو بیماری شروع ہوچکی ہے ہمارے نزدیک تو عذاب الٰہی کی نشانی ہے۔ اگر اب بھی وہ توبہ کا راستہ اختیار کرے تو عذاب الٰہی میں کمی آجائے اور ایک طویل عرصے کے توبہ و استغفار کے بعد وہ اپنی مصیبتوں سے نجات پاجائے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت ہمیں نظر نہیں آتی۔ باقی یہ کہ تمہیں اب کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟ اس کا فیصلہ بھی تم ہی کو کرنا ہے۔
ہم نے تمہیں تصویر کا درست زاویہ دکھا دیا ہے۔ اپنی اور اپنی بچی کی فکر کرو اور اپنے ساس سسر سے کہو کہ آکر اپنے بیٹے کا علاج معالجہ کروائیں اور یہ نہ سوچوکہ دنیا کیا کہے گی، صرف اس بات پر نظر رکھو کہ تمہارے لیے درست راستہ کون سا ہے۔
فوری دولت کا حصول
ایم محبوب، نامعلوم جگہ سے لکھتے ہیں “میرے ایک عزیز برسوں سے مالی مشکلات کا شکار ہیں، تقریبا پندرہ بیس سال سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، فوری دولت کے حصول کے لیے انھوں نے ہر طریقہ آزما یالیکن کامیابی نہ ہوئی۔
مختصراً آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کے جواب مطلوب ہیں، زائچے کی روشنی میں بتائیے کہ درج ذیل صورت حال کب تک رہے گی، اس صورت حال میں بہترین اقدامات کون سے ہوسکتے ؟ وہ جس جگہ کام کرتے ہیں وہاں ترقی کے مواقع بھی نہیں ہیں”۔
جواب: اصولاً تو ان سوالوں کے جواب کے لیے زائچہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، فوری دولت کے حصول کے لیے نت نئے طریقے آزمانے والے ہمیشہ منفی راستوں پر قدم رکھتے ہیں اور نتیجے کے طور پر مزید مالی نقصانات اٹھاتے ہیں خصوصاً انعامی اسکیموں میں قسمت آزمائی کرنے والے اکثر اپنا گھر بار بھی لٹا بیٹھتے ہیں، بلکہ مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
آپ کے عزیز نے یقینا سہل پسندی کا راستہ اپنایا ہوگا۔ اگر وہ اس کے بجائے قناعت اختیار کرتے ہوئے قرض کی لعنت سے بچنے کی کوشش کرتے اور ساتھ ہی اپنی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے جدوجہد کرتے تو یقینا آج زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوتے جس جگہ وہ کام کرتے ہیں وہاں ترقی کے مواقع اگر نہیں ہیں تو انھوں نے اب تک اس جگہ کو بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ یا پھر خود ان کی صلاحیتیں ہی محدود ہیں جو انہیں ترقی کی شاہراہ پر زیادہ آگے نہیں لے جاسکتیں۔
ایک باصلاحیت شخص ایسی جگہ زیادہ عرصے نہیں ٹک سکتا جہاں اس کے لیے مواقع محدود ہوں، عموماًنالائق اور کم ہمت لوگ ہی راتوں رات دولت مند بننے کے چکر میں غلط راستے اختیار کرتے ہیں۔
ہم نے دیکھا ہے کہ بعض نا اہل، نالائق یا نکمے اور کام چور افراد کسی محکمے میں کلرک بھرتی ہوکر پچاس سال کے بعد کلرک ہی کی حیثیت سے ریٹائر ہوتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ ہیڈ کلرک بن جاتے ہیں جب کہ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کلرک بھرتی ہونے والے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کسی بینک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچ گئے۔
آخری بات یہ ہے کہ انھیں فوری دولت کے حصول کی کوشش سے دست بردار ہوکر کوئی معقول کام کرنا چاہیے، وہ کوئی چھوٹا موٹا ذاتی کاروبار شروع کریں تو جلد نہ سہی چند سال بعد ضرور کوئی مضبوط پوزیشن حاصل کرلیں گے، ان کے زائچے کے حوالے سے بھی دو چار باتیں عرض کرتے چلیں، ان کا ستارہ قمر اوربرج سرطان ہے۔
یہ لوگ سہل پسند اور جذباتی ہوتے ہیں، اگر اعلیٰ تعلیم یا کوئی اچھا ہنر نہ سیکھیں تو پھر ترقی کے شارٹ کٹ راستے ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں ۔ البتہ اپنا ذاتی کام کریں تو ترقی کرجاتے ہیں، زائچے میں خرابی یہ ہے کہ ان کا ذاتی سیارہ قمر راہو کے ساتھ حالت قران میں ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ غلط راستوں پر چل رہے ہیں ۔
روحانی تدبیر کے طور پر ہفتہ کے روز اپنا صدقہ دیا کریں، چیل کووں کو خوراک ڈالا کریں اور بہر حال چھوٹا موٹا ہی سہی پارٹ ٹائم کے طور پر کوئی اپنا کام شروع کریں، مثلاً شام کے اوقات میں کوئی چھوٹی موٹی دکان لے کر کوئی بھی ایسا کام شروع کریں جو آسانی سے شروع ہوسکتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ترقی کرے گا، بس یہ خیال رکھیں کہ جب بھی کام شروع کریں تو چاند کی ابتدائی تاریخوں میں شروع کریں۔

ہر ہفتے نئے آرٹیکل کی اپ ڈیٹ اپنے ای میل پر حاصل کرنے کے لیے ہمارے سبزکرائبر بنیں

یاد رہے کہ سبزکرپشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے اپنا ای میل ان باکس یا اسپیم فولڈر ضرور چیک کریں

ہم اسپیم ای میل نہیں بھیجتے۔ مزید معلومات کے لیے ہماری پرائیوسی پالیسی پڑھیں۔