سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا؟

علم نجوم انسانی فطرت اور کردار کے مطالعے میں بے حد معاون مددگار ہے مگر افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ لوگ اس علم کے اس مفید ترین پہلو کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوتے اور اگر کسی حد تک اس حوالے سے دل چسپی لیتے بھی ہیں تو اس میں اُن کی ذاتی انا قدم قدم پر حارج ہوتی ہے۔ یعنی اپنی خوبیوں کو تو خوشی خوشی تسلیم کر لیتے ہیں مگر خامیوں سے نظر چراتے ہوئے علم نجوم کے بیان کردہ حقائق کو رد کر رہے ہوتے ہیں مثلاً برج حمل کے زیر اثر پیدا ہونے والے کسی عورت یا مرد کو یہ بتایا جائے کہ آپ بلاشبہ بہت نڈر اور بے باک، عملیت پسند، صاف گو، متحرک، انتھک کام کرنے والے اور دیگر فلاں فلاں خوبیوں کے حامل ہیں تووہ خوشی خوشی ان باتوں کو تسلیم کرلے گالیکن جب اس کی منفی خصوصیات پر بات کی جائے کہ جناب ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ آپ نہایت جارحانہ مزاج کے حامل، حاکمیت پسند، بے سوچے سمجھے خطرات میں کود جانے والے، ضدی، سرکش، منہ پھٹ، اپنی ذات میں مگن رہنے والے، ڈینگیں ہانکنے والے، بہت زیادہ خوش اُمید انسان ہیں تو وہ اچانک پہلو بدل کربائیں شائیں کرنا شروع کر دے گا اور ان تمام باتوں سے یکسر انکار کرتے ہوئے اپنے بہت سے غلط اقدام یا فیصلوں کا کوئی نہ کوئی جواز پیش کرنا شروع کر دے گا۔
بعض حملی افراد تو اپنی ذات کے معاملے میں اتنے انتہا پسند ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کو بولنے ہی نہیں دیتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بس انہیں سنیں، انہیں دیکھیں اور اگر بات بھی کریں تو صرف ان کے حوالے سے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسروں سے ان کے تعلقات میں وہ گہرائی پیدا ہونا مشکل ہو جاتی ہے جو کسی بھی محبت یا رفاقت کے لیے ضروری ہے۔ اگر وہ اپنی اس خامی پر کنٹرول کر لیں تو ان کی یہ شکایت ختم ہو سکتی ہے کہ”ہم دوسروں کے ساتھ اچھائی کرتے ہیں لیکن جواب میں ہمیں برائی ملتی ہے۔“
قصّہ مختصر یہ کہ علم نجوم کی مدد سے جب ہم اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جان لیتے ہیں تو ہمارے لیے اپنے مسائل کو سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔
ہماری معاشرتی زندگی کا ایک نہایت اہم ترین پہلو محبت، شادی اور ازدواجی زندگی ہے اور ان تینوں حوالوں سے حقیقی خوشیاں اس وقت تک میسر نہیں آسکتیں جب تک فریقین کے درمیان اعلیٰ درجے کی فطری اور مزاجی ہم آہنگی موجود نہ ہو کیوں کہ ہزارہا تجربات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ دنیاوی عیش و عشرت، مال ودولت، عروج وشہرت، کسی بھی ازداواجی رفاقت میں کامیابی کی ضامن ثابت نہیں ہوئی ہیں، اگر ایسا ہوتا تو پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا یا اور ایسی ہی دیگر مشہور شخصیات کی ازدواجی زندگی ناکامی سے دوچار نہ ہوتی۔ علم نجوم اس حوالے سے بھی ہماری سب سے زیادہ درست اور معقول رہنمائی کرتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں علیحدگی اور طلاق کی سب سے کم شرح انڈیا میں ہے کیوں کہ وہاں دو فریقین کے زائچوں کا باہمی موازنہ کیے بغیر رشتہ ہی طے نہیں ہو سکتا۔
عزیزانِ من! مندرجہ بالا مثال صرف اس لیے دی گئی ہے کہ علم نجوم کی افادیت کی ایک جھلک دکھائی جا سکے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی کا وہ کون سا شعبہ ہے جس میں علم نجوم ہماری مناسب رہنمائی نہیں کرتا۔ صحت، تعلیم و تربیت، کیرئیر، روزگار، محبت، پارٹنرشب، سفر، سماجیات، سیاسیات، فنونِ لطیفہ، روحانیات، عملیات الغرض ہر شعبہئ حیات کسی نہ کسی حوالے سے ایسٹرولوجی کے تعاون کا محتاج ہے۔
آئیے آج کی نشست میں ہم آپ کو آپ کے برج کے حوالے سے آپ کی مثبت و منفی خصوصیات کے اہم اور بنیادی نکات سے متعارف کرائیں۔ ان کا غور سے مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ کیا آپ ایسے ہی ہیں؟ اور مثبت یا منفی خصوصیات میں سے آپ کی شخصیت و کردار میں غالب خصوصیات کون سی ہیں؟ اگر مثبت خصوصیات کا غلبہ ہے تو یقیناًآپ اپنے برج کے اعلیٰ نمائندے ہیں۔ بصورتِ دیگر آپ کو اپنی اصلاح پر توجہ دینا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے آپ کی زندگی میں موجود بہت سے مسائل خود بخود ختم ہونے لگیں اور آپ ایک زیادہ خوشگوار اورکامیاب زندگی بسر کر سکیں۔
مختلف بروج کے حوالے سے ہم یہاں جو مثبت اور منفی خصوصیات پیش کر رہے ہیں ان میں کمی بیشی کا انحصار کسی فرد کے ذاتی، انفرادی زائچہ پر ہو سکتا ہے۔

بُرج حمل (سیّارہ مریخ)

اگر آپ کی تاریخ پیدائش 21 مارچ سے 20 اپریل تک ہے تو اپنی مثبت خصوصیات میں آپ پیدائشی طور پر عزم و ارادے کے پکے، مقصد کی لگن رکھنے والے ایک جنگ جو انسان ہیں۔صاف گوئی، ہمت و دانائی، سرگرمی و پھرتی، کشادہ ذہنی اور واضح ہدف رکھنا آپ کی مثبت خصوصیات میں شامل ہے۔
آپ کی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں جلد بازی، خود پسندی و غرور، حسد، خود غرضی اور دوسروں پر غلبہ رکھنے کی خواہش،بے احتیاطی، سخت مزاجی جو تلخ کلامی کی حد تک بڑھ سکتی ہے اور شدت پسندی نمایاں ہیں۔

بُرج ثور (سیّارہ زُہرہ)

اگر آپ کی تاریخ پیدائش 21 اپریل سے 21 مئی تک ہے تو آپ کا شمسی برج ثور ہے۔ آپ کی شخصیت کے مثبت پہلووٗں میں نرم دلی اور مہربانی، عمل پسندی اور استحکام، اعتماد و وفاداری، سخاوت اور فنکارانہ صلاحیتیں شامل ہیں۔
جبکہ منفی پہلوؤں میں ضد اور ہٹ دھرمی، غلبہ پسندی اور مادہ پرستی، سستی و کاہلی تنگ نظری، خود پرستی اور اکھڑ پن شامل ہے۔

بُرج جوزا (سیّارہ عطارد)

برج جوزا کا عرصہ ہرسال 22 مئی تا 21 جون ہے۔ اگر آپ اس عرصے میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کی شخصیت کے مثبت پہلو یہ ہیں، حاضر جوابی، خوش مزاجی، ہمہ گیریت، ذہانت، پرجوشی، مصلحت اندیشی، موقع شناسی اور زندہ دلی شامل ہیں۔
جب کہ شخصیت کے منفی پہلوؤں میں قوت فیصلہ کا فقدان، بے ڈھنگا پن، خودپسندی، بے پروائی اور بے تعلقی، فضول گوئی، آوارگی پسندی، ہرجائی پن یعنی جلد بدل جانا شامل ہیں۔

بُرج سرطان (سیّارہ قمر)

22 جون سے 22 جولائی تک کے عرصے پربرج سرطان محیط ہے اگر آپ اس دوران میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں مضبوطی اور استحکام، احساس اور تخیّل، ہم دردی اور اثرپذیری، وفاداری، اصول پسندی کے ساتھ پراسراریت نمایاں ہے۔
جب کہ منفی پہلوؤں میں من موجی پن، تذبذب اورڈھلمل یقینی، یاسیّت، احساس کمتری، زود رنجی (جلد ناراض ہونا یا صدمہ کرنا)اور معاف نہ کرنا شامل ہے۔

بُرج اسد (سیّارہ شمس)

22 جولائی سے 23 اگست تک کی مدت برج اسد کے لیے مخصوص ہے۔ اس عرصے میں پیدا ہونے والے مرد و خواتین کی مثبت خصوصیات میں فراخ دلی و سخاوت، گرم جوشی اور عاشق مزاجی، وفاداری اور خود شناسی، باوقار انداز، فنکارانہ صلاحیت، چُستی اور تحریک، ڈرامائی اور شاہانہ طور طریقے شامل ہیں۔
جب کہ ان کی منفی خصوصیات میں شیخی اور تکبر، ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی، خود پسندی اور تشدّد، بے صبرا پن اور موڈی ہونا شامل ہے۔

بُرج سنبلہ (سیّارہ عطارد)

اگر آپ 24 اگست تا 23 ستمبر کے درمیان کسی بھی تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو اپنی شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں سلیقہ مند، اصول وقواعد کے پابند، معقولیت پسند،جچے تُلے انداز میں کام کرنے والے، درستگی اور اصلاح پسندی پر مائل، منطقی، تجزیہ کرنے کے عادی، صاحبِ امتیاز، باشعور اور باطنی قوتوں کے حامل ہیں۔
آپ کی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں نکتہ چینی یا اعتراض، تنگ نظری یا محدودیت اور بے لچک رویہ، بناوٹی یا مصنوعی شرم و حیا، عیب جوئی کا شوق، کنجوسی اور جھگڑالوپن نمایاں ہیں۔

بُرج میزان (سیّارہ زُہرہ)

ہر سال 24 ستمبر سے 23 اکتوبر تک پیدا ہونے والے افراد برج میزان کے زیر اثر ہیں۔ دائرۃ البروج کے 12برجوں میں یہ واحد برج ہے جس کا علامتی نشان ایک بے جان ترازو ہے۔ ورنہ اگر پہلے برج سے نظر ڈالی جائے تو ہر برج کا علامتی نشان کسی نہ کسی جان دار کی نشان دہی کرتا ہے لیکن برج میزان کا نشان ایک بے جان ترازو ہے۔ دراصل یہ وہ واحد برج ہے جو 12بروج کی قطار میں عین درمیان میں واقع ہے۔ توازن اور ہم آہنگی اس کا بنیادی وصف ہے جو اسے عدل و انصاف کی اعلیٰ خصوصیت پر فائز کرتا ہے۔ خیال رہے کہ عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اُترنے کے لیے نہایت غیر جذباتی ہونا ضروری ہے۔ دوسرے معنوں میں ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ”بے جان“ ہونا ضروری ہے۔
اپنی مثبت خصوصیات میں ایک میزانی شخصیت منصف مزاج، سفارت کار، نفیس اور پرکشش، متوازن، ہر دل عزیز، دانش مند اور ہوشیار ہوتی ہے۔معتدل مزاجی کے ساتھ مصلحت اور مصالحت پسندی اس کا شعار ہے اور جمالیاتی ذوق کے ساتھ رومان سے رغبت رکھتی ہے۔
میزان شخصیت کے منفی پہلوؤں میں سستی اور سہل پسندی، تذبذب، خودغرضی، بے ثباتی، پس وپیش میں مبتلا ہونا، علیحدگی پسندی اور غیر مخلصی شامل ہے۔

بُرج عقرب (سیّارہ پلوٹو)

اس عجوبہئ روز گار برج کا عرصہ 24 اکتوبر سے 22 نومبر تک ہے۔ اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں مضبوط قوت ارادی، ہمت و حوصلہ،بے خوفی، ہوشیاری، مہارت، برداشت، بالغ نظری، فہم و فراست، محنت اور لگن شامل ہے۔
عقرب شخصیت کی منفی خصوصیات میں جوش و خروش اور جذباتی پن، زود رنجی و ذکی الحسی (شدید حساسیت)،حسد، فتنہ پر دازی، کینہ پروری، انتقام جوئی،غرورو تسلط پسندی، یا غلبہ پانے کا رجحان، طنزیہ رویہ اور تشدد شامل ہیں۔

بُرج قوس (سیّارہ مشتری)

23 نومبرسے21 دسمبر تک پیدا ہونے والے افراد برج وقوس کے زیر اثر ہیں۔ان کے مثبت پہلوؤں میں حکمت ودانائی، اصول پسندی، دیانت داری، سرگرمی و پرجوشی، صاف گوئی، کشادہ دلی، بے خوفی اور حوصلہ مندی، آزادرَوی اور فطرت پسندی، ذہانت و تجس، سخاوت و آرزومندی اور اسپورٹس مین شپ شامل ہیں۔
جبکہ منفی پہلوؤں میں شیخی، مبالغہ آرائی، ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی، بے اصولی، جارحیت، اکھڑپن، لاتعلقی، سرکشی و نافرمانی، احمقانہ باتیں اور احمقانہ حرکات نمایاں ہیں۔

بُرج جدّی (سیّارہ زحل)

عرصہ پیدائش 22 دسمبر تا 20 جنوری ہے۔ ایک جدی شخصیت اپنے مثبت پہلوؤں میں مستقل مزاج، عملی اور کارگزار، مضبوط، کم گو یا خاموش طبع، منطقی، نظم و ضبط کی پابند، تعاون کرنے والی ہوتی ہے۔
جدی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں شک اور بدظنی، سرد مزاجی، خودغرضی، خودسری یا ضدی پن، مزاحمت پسندی، زود رنجی اور یاسیت پسندی نمایاں ہیں۔

بُرج دلو (سیّارہ یورینس)

21 جنوری تا19 فروری انوکھے برج دلو کا عرصہ ہے جس کا بنیادی وصف ایجاد و اختراع اور سچائی کی طلب ہے۔
ایک دلو شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں ذمّے داری، روشن خیالی، سچائی پسندی، ہم دردی اور ہر دلعزیزی، خوش مزاجی، تخلیق و اختراع، وجدانی قوت اور غیر جانب داری شامل ہیں۔
جب کہ منفی پہلوؤں میں مُتَلوِّن مزاجی، ڈانواڈول ہونا، نااہلی، خبط اور وہم، غیرروایتی طور طریقے اور رویے، سرکشی اور بغاوت،تغیرپسندی اور ہرجائی پن نمایاں ہیں۔

بُرج حوت (سیّارہ نیپچون)

20 فروری تا 20 مارچ پر اسرار برج حوت کا عرصہ ہے۔ایک حوت شخصیت اپنے مثبت پہلوؤں میں پراسرار، تخیلاتی، ہم درد و مہربان، ضرورت سے زیادہ حساس اور فیاض، ترقی پسند و روشن خیال، نرم خو، متاثرکن اور فطرت پسند ہوتی ہے۔
جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں مبہم انداز، سست روی، بے پروائی، غیرعملی پن، اکثر موڈی،غیر متوازن سا طرز عمل، خود کو دوسروں کے لیے مشکل اور پے چیدہ بنائے رکھنا، غیر یقینی کیفیات اور انداز شامل ہیں۔
ہم نے برج حوت کو ”پراسرار برج“ لکھا ہے۔ اس کا حاکم سیارہ نیپچون پراسراریت یا دوسرے معنوں میں روحانیت سے متعلق ہے۔ حوت افراد کو ”مائع شخصیت“ بھی کہا جاتا ہے۔کیوں کہ ان کی شخصیت و کردار میں کسی سیال شے کے مانند بہاؤ اور پھیلاؤ موجود ہوتا ہے اور ایک خیالی پراسرریت ان کی شخصیت میں نظر آتی ہے اگر چہ اس کے ساتھ ہی ان کے اندر فنکارانہ نفاست بھی پائی جاتی ہے مگر حسن و خوبصورتی سے ان کی دل چسپی ایک انفرادی خصوصیت ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ دنیا کے سب سے عمدہ ”معمول“ (Medium)ہوتے ہیں اور کسی بھی نامناسب صورتِ حال میں ان کی سائیکی بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ یہ بھی درست ہے کہ دنیا بھر میں شاید سب سے زیادہ وجدانی، تخلیقی اور ارتکاز توجہ کی قوتیں، ان کے اندر موجو دہیں۔جن سے یہ اکثر بے خبر رہتے ہیں اور جن لوگوں نے اپنی ان قوتوں کو پالیا وہ آج تاریخ کے نامور افراد میں شامل ہیں مثلاًالبرٹ آئن اسٹائن، نوبل انعام یافتہ ادیب و شاعر وکٹرہیوگو، ٹیلی فون کا مؤجد گراہم بیل، اداکارہ ایلزبتھ ٹیلر، مشہورامریکی پیش گو ایڈگرکیسی وغیرہ۔ ان لوگوں کی نمایاں شناخت ان کی خواب ناک اور چہرے پرنمایاں محسوس ہوتی ہوئی آنکھیں ہیں۔اگر آپ کسی شخصیت کے چہرے پرنظر ڈالنے کے بعد اس کی آنکھوں کو فراموش نہ کرسکیں تو سمجھ لیں کہ وہ یقیناًکوئی حوت شخصیت ہے۔
اپنی پریکٹس کے دوران میں ہم برسوں سے جو مشاہدہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مخالف یا نامناسب بروج کے حامل افراد جب کسی بھی نوعیت کی باہمی شراکت قائم کرتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ نت نئے مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ باہمی شراکت کے بنیادی مقاصد بھی تبا ہ و برباد ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اسی نوعیت کی کاروباری شراکت چونکہ دونوں فریقین کو مالی اور کاروباری نقصانات و پریشانی میں مبتلا کرتی ہے اور بالآخر وہ علیحدگی اختیار کرکے نئے راستوں پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ جب کہ ایسے دو افراد ازدواجی بندھن میں بندھتے ہیں تو یہ صرف کوئی مالی یا کاروباری نفع یا نقصان کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ دو زندگیوں کا مسئلہ ہوتا ہے اور مزید آگے بڑھ کر نسل انسانی کے ارتقائی عمل کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر بنیاد ہی غلط رکھ دی جائے یعنی دو مختلف مزاج اور فطرت کے افراد کو شادی کے بندھن میں باندھ کر یکجا کر دیا جائے تو ان کے متضاد رویے اور مخالفانہ طرز عمل نہ صرف ان کی زندگی کو جہنم کا نمونہ بنا کر رکھ دیں گے بلکہ ان کی اولاد بھی ماں باپ کے باہمی تعلقات میں موجود تضادات کے خراب اثرات کا شکار ہوگی اور اُس کی تعلیم و تربیت ایسے منفی ماحول میں ہوگی جو آئندہ زندگی کے لیے مثبت اور مضبوط بنیادیں فراہم نہیں کر سکتا۔ ذرا ایک مثال ملاحظہ کیجیے جس سے ایک سر سری سا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ دو مخالف یا نامناسب برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی باہمی رفاقت کیا رنگ دکھاتی ہے۔
برج جوزا ایک دہری شخصیت رکھنے والا برج ہے جس کا عنصر ہوا ہے اور سیارہ عطارد ہے۔ برج جوزا والے ہوا میں اڑتے ہیں اور پل پل رنگ بدلتے ہیں۔ ان کے مزاجی تغیر کا کوئی ٹھکانانہیں، بیک وقت کئی سمتوں میں ان کا ذہن دوڑ رہا ہوتا ہے، نت نئی دلچسپیاں انہیں مستقل چاہئیں۔ زندگی میں یکسانیت ان کے لیے زہر قاتل ہے۔ چو ں کہ یہ خود بھی نہایت ذہین اور فطین ہوتے ہیں لہٰذا احمقانہ باتوں اور گاؤدی قسم کے لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔ حاضر جوابی، زبان درازی کے علاوہ بے پروائی اور اکثر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے کسی شخص کی شادی اگر کسی حوت عورت کے ساتھ ہوجائے تو کیا صورت حال سامنے آئے گی؟
برج حوت کا حاکم سیارہ نپچون اور عنصر اس کا پانی ہے۔ ہوا اور پانی میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ حوتی افراد نہایت حساس، گہری وابستگی رکھنے والے محبت اور نفرت، دونوں جذبوں میں انتہا پسند، محدود انداز میں زندگی گزارنے والے گویا اپنے کام سے کام رکھنے والے، جاگتی آنکھوں خواب دیکھنے والے، اپنے نظریات میں مستحکم، بے حد رقیبانہ فطرت کے ساتھ دوسروں کی خصوصی توجہ کے طالب، کسی قدر سست اور آرام طلب، دنیا کے پل پل بدلتے رنگوں سے بیزار، انتہائی زود رنج، ڈپریس اور یاسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ گویا برج جوزا کی ہوائی فطرت اور حوت کا آبی مزاج ایک دوسرے سے قطعاً متضاد ہیں۔
حوت عورت چاہے گی کہ اس کا جوزا شوہر اس کے علاوہ کسی کی طرف نہ دیکھے، ہروقت اس کے ہی معاملات میں دلچسپی لیتا رہے۔ اس کے گہرے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور جوابی طور پر ایسی ہی محبت اور توجہ دے جیسی کہ وہ کرتی ہے۔ اس کی نرمی اور مروت کا خیال کرے اور اس کے لاشعور میں جواندیشے یا وسوسے یا خوف موجود ہیں انہیں دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے لیکن ایک جوزا مرد کو ان سب باتوں سے کیا سروکار، وہ آندھی طوفان کی طرح گھر میں داخل ہوتا ہے اور جب تک گھر میں موجود رہتا ہے اپنی ہی کسی سوچ میں مگن یا کسی دلچسپی میں مصروف رہتا ہے جب تک اسے کوئی ضرورت پیش نہ آئے اسے یاد بھی نہیں آتا کہ گھر کے اندر ایک خاموش، سہما سہما، شرمیلا سا کوئی اور وجود بھی موجود ہے اور اس کی ایک نگاہِ کرم کا منتظر ہے۔ اس کے برعکس وہ یہ سوچتا ہے کہ یہ کس قسم کی بزدل، ڈرپوک، ہر وقت رونے دھونے والی اداس اداس، احمقانہ خوابوں میں کھوئی ہوئی عورت میرے پلّے پڑ گئی ہے جسے نہ ہنسی مذاق سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح کا کوئی خاص شوق ہے۔ اس کے علاوہ وہ چو ں کہ خود بہت تیز اور پھرتیلا ہے لہٰذا حوت عورت اس کو نہایت سست اور کاہل، اکثر و بیشتر ٹھنڈی آہیں بھرتی، منہ لٹکائے ساری دنیا سے بیزار نظر آتی ہے، لہٰذا وہ اسے پاگل و بیوقوف کے خطاب سے نوازتا ہوا گھر سے نکل جاتا ہے اور اپنا فالتو وقت کہیں اپنے دوستوں میں گزار کر خوش ہوتا ہے اور پھر اسے یہ بھی ہوش نہیں رہتا کہ اس کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی پر کیا گزر رہی ہوگی۔
حوت عورت اس کے اس رویے سے سخت کوفت اور مایوسی کا شکار ہوتی ہے۔ جلنا کڑھنا، چپکے چپکے آنسو بہانا اور پھر شوہر کا غصہ بچوں پر اتارنا شروع کر دیتی ہے۔ یہی روز و شب بالآخر دونوں کے درمیان ذہنی اور دلی معاملات میں ایک ایسی خلیج پیدا کر دیتے ہیں کہ آہستہ آہستہ دونوں ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے بھی روادار نہیں رہتے۔
جوزا مرد تو ایک اڑتا پنچھی ہے، آج اس ڈال پر تو کل کسی دوسری ڈال پر بیٹھا نظر آئے گا۔ نت نئی دلچسپیاں وہ اپنے لیے ڈھونڈ لیتا ہے اور اپنے سارے غم و فکر یار دوستوں میں ہنس بول کر ہوا میں اڑا دیتا ہے لیکن ”حوت بیگم“ اس ساری صورت حال میں اگر خود کوٹی بی کی مریضہ بنا لے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ان حالات میں ان کے بچے کیا محسوس کریں گے اور ان کے دل و دماغ پر کس قسم کے منفی اثرات پڑیں گے اس کا اندازہ ہر باشعور انسان کر سکتا ہے۔ ہمیں مزید کچھ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عزیزان من اس مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ علم نجوم سے ہمیں جو راہنمائی ملتی ہے وہ کس قدر اہم اور مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگر ہم دو افراد کو شادی کے بندھن میں باندھنے سے پہلے ان کے مزاج وفطرت اور کردار کو سمجھ لیں تو ہزاروں گھرانے شادی کے بعد تباہ و برباد ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ معاشرے میں خوشگوار اور محبت و خلوص سے بھرپور ازدواجی جوڑے بنائے جاسکتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ اپنی زندگی کوخوش و خرم انداز سے گزاریں گے بلکہ ان کی اولاد بھی ورثے میں بہتر ماحول پائے گی۔
ہم نے اوپر جو مثال دی ہے اس میں ایک جوزا مرد کے طور طریقے ممکن ہیں بعض لوگوں کی نظر میں قابل اعتراض ہوں اور اس طرح یہ تصور پیدا ہو کہ جوزا افراد برے ہوتے ہیں۔ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اگر جوزا مرد کی شادی کسی اسد دعورت یا میزان یا قوس یا دلو یا حمل عورت سے کردی جائے تو یہ صوتِ حال پیش نہیں آئے گی کیوں کہ یہ ایسے بروج ہیں جو برج جوزا کے مزاج و کردار کو سمجھ سکتے ہیں یا اگر مکمل طور پر سمجھ نہ سکیں تو کم ا ز کم زندگی کے ہر مرحلے میں اُس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ان میں جو خوبیاں اور خامیاں موجود ہیں وہ ایک جوزا شخص کے لیے قابل قبول ہوں گی اور جو خوبیاں اور خامیاں خود جوزا میں موجود ہیں وہ ان کے لیے قابل قبول ہوں گی۔ لہٰذا ازدواجی زندگی کی گاڑی بہت سے شور وہنگامے کے باوجود (جو اِن بروج کا خاصہ ہے)رواں دواں رہے گی۔
اسی طرح اگر ایک حوت عورت کی ازدواجی رفاقت ثور، سرطان، عقرب یا سنبلہ مرد سے قائم ہوتی ہے۔ تو وہ ایسی ناگوار صورتِ حال سے دو چار نہیں ہو گی جو جوزا مرد کے ساتھ پیش آ سکتی ہے بلکہ ایک مناسب رفاقت میں اس کی اپنی شخصیت و کردار کے مثبت پہلو نمایاں ہوں گے کیوں کہ مذکورہ بالا بروج، برج حوت سے ہم آہنگ اور ہم مزاج ہیں۔
یقیناًکچھ لوگ ایسی مثالیں بھی پیش کر سکتے ہیں جس میں دو ہم آہنگ اور ہم مزاج بروج کی شراکت یا رفاقت ناکام رہی ہے۔ خود ہمارے مشاہدے میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
پہلی شہرہ آفاق مثال تو پرنس چارلس اور شہزادی ڈیانا کی ہے۔ چارلس کا برج عقرب اور ڈیانا کا سرطان تھا۔ دونوں موافق اور ہم آہنگ برج ہیں۔ شاید اسی وجہ سے دونوں نے ابتدائی طور پر ایک دوسرے میں کشش بھی محسوس کی لیکن درحقیقت دونوں کے درمیان ایک تیسری شخصیت یعنی شہزادے کی موجودہ شریک حیات کمیلا پارکر ابتدا ہی سے موجود تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیلا پارکر کا بھی شمسی برج سرطان ہی ہے۔
بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے انفرادی زائچہ پیدائش میں صرف ایک شمسی برج ہی اس کی شخصیت و فطرت اور کردار میں کلیدی کردار ادا نہیں کر رہا ہوتا بلکہ قمری برج (Moon sign) اور پیدائشی برج (Rising sing)اور اس کے علاوہ دیگر سیارگان اپنے اپنے مقامات پر اپنا اثر ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ دو افراد کے درمیان دوستی اور رفاقت یا کسی بھی نوعیت کی شراکت کے مثبت اور منفی پہلو صرف اور صرف شمسی برج کی بنیاد پر حتمی تصور نہیں کیے جا سکتے دیگر عوامل ان میں فرق ڈال سکتے ہیں۔
شمسی برج ابتدائی سطح پر تو یقیناًہماری معقول رہنمائی کرتا ہے مگر ہمارے ہاں کی صورتِ حال اس کے بالکل بر عکس ہے ہم اس علم سے فائدہ اٹھانا ضروری ہی نہیں سمجھتے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہم شادی اور ازدواجی زندگی جیسے اہم اور بنیادی مسئلے میں کسی علم سے بھی فائدہ اُٹھانا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اس معاملے میں ہم اپنی ذاتی خواہشات، اپنے بنائے ہوئے نظریات، اپنے خاندان و برادری میں جاری رسم و روایات کے غلام ہیں۔ ذرا تصور کیجیے جہاں وٹّے سٹّے کی شادیاں عام تصور کی جاتی ہوں 7،8 سال کے لڑکے سے 18،19سال کی لڑکی کی شادی کر دی جاتی ہوجسے وہ بچپن سے آپا یا باجی وغیرہ کہتا آیا ہو۔ یا اس کے برعکس 16,15 سال کی لڑکی کا ہاتھ 40،50 برس کے پختہ عمر شخص کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہو وہاں معقولیت کی کوئی بات کون سنے گا؟ بلکہ ایسی باتوں کوفضول باتیں اور خرافات قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عزیزان من! حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں جن گوناگوں مسائل اور نو بہ نو مصائب کا شکار ہوتا ہے ان کی تہ میں کہیں نہ کہیں اس کی کوئی غفلت یا جہالت پوشیدہ ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے علوم و فنون کے فروغ ہی کو قوموں کی حقیقی ترقی کہا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں