مختلف ملکوں کے زائچوں کے حوالے سے ایک تحقیقی مضمون

دنیاوی علم نجوم (Munden Astrology) دنیا بھر میں مقبول ہے لیکن اس حوالے سے دنیا بھر کے ماہرین نجوم اپنا اپنا علیحدہ زاویہ ءنظر رکھتے ہیں، دنیا کے مختلف ممالک کے زائچوں (Birth chart) پر اکثر اختلاف دیکھنے میں آتا ہے، چناں چہ ایک ہی ملک کے کئی زائچے زیر بحث رہتے ہیں، اس طرح عام لوگوں کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس زائچے کو زیادہ اہمیت دیں، بہترین بات یہی ہے کہ مسلسل پریکٹس اور حالات و واقعات پر گہری نظر کے بعد کسی ملک کے زائچے پر اعتماد قائم ہوتا ہے۔
امریکا ، فرانس، چین، شمالی کوریا، عراق، شام، اسرائیل، میکسیکو، سعودیہ عربیہ، مصر، پاکستان، روس، ترکی، جرمنی وغیرہ کے ایک سے زائد زائچے موجود ہیں، ہم بھی بعض زائچوں سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے یہ تمام ممالک خاصے قدیم بلکہ بعض تو بہت زیادہ قدیم ہیں، مثلاً ایران، سعودیہ عربیہ، عراق، شام، ترکی، فرانس، مصر ، بھارت وغیرہ، کسی بھی ملک میں جب بنیادی نوعیت کی غیر معمولی تبدیلیاں آتی ہیں تو اس کا زائچہ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مثلاً سابق سویت یونین 1990 ءکی دہائی میں ایک بڑے بحران سے دوچار ہوا اور اس کے نتیجے میں کئی حصوں میں تقسیم ہوگیا، ترک سلطنت جو خلافت عثمانیہ کہلاتی تھی ، پہلی عالمی جنگ کے بعد ختم ہوگئی اور دنیا کے تین براعظموں پر پھیلی ہوئی خلافت عثمانیہ کئی حصوں میںتقسیم ہوگئی، اس کے وجود سے کئی نئے ممالک نے جنم لیا، سعودیہ عربیہ، شام، عراق، اسرائیل، فلسطین، مصر وغیرہ، پاکستان 1947 ءمیں آزاد ہوا اور یہ دو حصوں پر مشتمل تھا، مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان، 1971 ءمیں باہمی اختلافات کے باعث یہ دونوں حصے علیحدہ ہوگئے اور اس طرح دو نئی مملکتیں وجود میں آگئیں، اول پاکستان اور دوم بنگلہ دیش، ایسی ہی صورت حال مختلف ممالک کی ہے جس کی بنیاد پر ان کے زائچے بھی بدلتے رہتے ہیں، بہت کم ممالک ایسے ہیں جن کے زائچے خاصے قدیم ہیں کیوں کہ ان کے حالات و واقعات میں بنیادی نوعیت کی اہم تبدیلیاں واقع نہیں ہوئیں۔
گزشتہ دنوں ہم نے عالمی بحرانوں اور تیسری عالمی جنگ کے حوالے سے بعض ملکوں کے زائچوں پر اظہار خیال کیا تھا، اس حوالے سے سعودیہ عرب کا زائچہ بھی زیر غور رہا جو مسلمانوں کے لیے ایک اہم ملک ہے،عام طور پر دنیا بھر میں سعودیہ عرب کا زائچہ 22 ستمبر 1932 ءکے مطابق بنایا جاتا ہے کیوں کہ اس تاریخ کو مملکت کا نام سعودیہ عربیہ رکھا گیا تھا جس سے ہم کبھی مطمئن نہیں ہوئے ، ہم بھی اسی زائچے کو استعمال کرتے رہے ہیں، اپنے عدم اطمینان کے پیش نظر ہم نے اس سلسلے میں کچھ تحقیقی کام کیا اور آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ سعودیہ عربیہ کا درست زائچہ 20 مئی 1927ءتقریباً 12:10 pm بمقام جدہ زیادہ درست اور مناسب نظر آتا ہے کیوں کہ عربوں نے جب خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی جس کے پیچھے برطانیہ کا ہاتھ تھا تو اربوں کی باہمی چپقلش بھی عروج پر تھی ، شاہ حسین جنہیں شریف مکہ کہا جاتا ہے سب سے پہلے خلافت عثمانیہ سے الگ ہوئے اور انھوں نے حجاز میں اپنی بادشاہت قائم کرلی، ان کے اختلافات نجد کے شاہ عبدالعزیز سے تھے، شاہ حسین کو انگریزوں نے دھوکا دیا اور جب شاہ عبدالعزیز نے حجاز پر حملہ کیا تو شاہ حسین کا ساتھ نہیں دیا، دوسرے معنوں میں پورے عالم عرب میں برطانیہ اپنا مکمل اثرورسوخ اور اقتدار حاصل کرچکا تھا اور اپنے مفادات کے تحت عربوں کو بھی آپس بھی لڑوارہا تھا، بالآخر شاہ عبدالعزیز نے مکمل طور سے حجاز پر قبضہ کرلیا اور مکہ فتح کرکے شاہ حسین کو جلاوطنی پر مجبور کردیا لیکن وہ بھی انگریزوں کے اثرورسوخ سے پوری طرح آزاد نہیں تھے، آخرکار 20 مئی 1927ءکو برطانیہ اور شاہ عبدالعزیز کے درمیان جدہ میں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت انھیں مکمل خود مختاری حاصل ہوگئی، ہمارے خیال میں درحقیقت یہی تاریخ سعودیہ عربیہ کے قیام کی درست تاریخ ہے، اس کے مطابق جو زائچہ ترتیب پاتا ہے وہ کافی حد تک سعودیہ عربیہ کے حالات و واقعات پر پورا اترتا ہے، بے شک اس زائچے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ اس نوعیت کے سنجیدہ تحقیقی کام میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے، چناں چہ کوئی علمی ڈائیلاگ نہیں ہوتا اور زائچے کے مختلف پہلوو¿ں پر آزادانہ تبصرہ بھی نہیں ہوتا، اس قحط الرجال میں ہمارے محترم برادر سید انتظار حسین شاہ زنجانی کا دم غنیمت ہے، شاہ جی سے ہماری محبتوں کا سلسلہ بڑا گہرا ہے، ہم اکثر ان سنجیدہ موضوعات پر ان سے بھرپور گفتگو کرتے رہتے ہیں، اس طرح تحقیق کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، شاہ جی کا ایک بڑا کمال یہ بھی ہے کہ وہ ہر نئی اور جدید تحقیق کو آنکھ بند کرکے رد نہیں کرتے بلکہ اس پر کھل کر گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں، اختلاف کرتے ہیں ، اتفاق کرتے ہیں، الغرض ان سے بات چیت ہماری حوصلہ افزائی کا باعث ہوتی ہے ورنہ تو ایسٹرولوجی کے حوالے سے اس ملک میں ایک عجب طرح کا سناٹا طاری ہے، گویا چہار جانب اُلّو بول رہے ہیں۔
20 مئی 1927 ءبمقام جدہ 12:10 pm کے مطابق طالع اسد 9 درجہ14 دقیقہ افق پر طلوع ہے، طالع کا حاکم سیارہ شمس نہایت طاقت ور پوزیشن میں دسویں گھر میں قابض ہے اور سیارہ عطارد کے ساتھ حالات قران میں ہے،طالع اسد اور شمس کا مزاج شاہانہ ہے، چناں چہ ابتدا ہی سے بادشاہت کا نظام سعودیہ عرب میں جاری و ساری ہے،دوسرے گھر کا حاکم سیارہ عطارد زائچے میں سیارہ شمس کے ساتھ دسویں گھر میں غروب ہے، تیسرے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ گیارھویں گھر میں اچھی جگہ ہے لیکن بارھویں گھر کے حاکم قمر سے متاثرہ (Afflicted) ہے، پانچویں گھر کا حاکم سیارہ مشتری آٹھویں گھر میں مصیبت زدہ ہے، ساتویں گھر کا حاکم سیارہ زحل زائچے کا سب سے زیادہ اہم سیارہ ہے کیوں کہ چوتھے گھرمیں نہایت طاقت ور پوزیشن میں ہے اور زائچے کے پہلے ، چوتھے ، چھٹے اور دسویںگھر سے ناظر ہے، سیارہ زحل کی یہی پوزیشن ملک میں تیل کے ذخائر کی دریافت ظاہر کرتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی مضبوط معاشی پوزیشن کا باعث ہے،تیل کی دولت مارچ 1938 ءمیں سعودیہ عربیہ کو حاصل ہوئی۔
عطارد کا غروب اور سیارہ زہرہ کا جو تیسرے گھر کا حاکم ہے متاثر ہونا ملک میں کمیونیکیشن اور فنون لطیفہ کی ترقی میں رکاوٹ کا باعث رہا، اس نوعیت کے مسائل ابتدا ہی سے رہے ہیں، ایک طویل عرصے تک اور کسی حد تک آج بھی سعودیہ عربیہ میں میڈیا آزاد نہیں ہے، مشتری کی کمزور پوزیشن شعور و دانش،جدید اعلیٰ تعلیم اور سائنسی ترقی میں رکاوٹ کا باعث ہے، قصہ مختصر یہ کہ تیل کی دولت ہی پر پورے ملک کی خوش حالی اور ترقی کا دارومدار ہے۔
نویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ زائچے کے گیارھویں گھر میں آخری درجات پر ہونے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہے، چناں چہ ملک میں آئینی ، قانونی اور مذہبی نوعیت کی صورت حال حکمرانوں کی ہی صوابدید کے مطابق ہوگی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے، مزید یہ کہ فوجی قوت کے اعتبار سے بھی اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے بھی کوئی خاطر خواہ کوشش دیکھنے میں نہیں آتی، اس معاملے میں سعودیہ عربیہ دوسرے ملکوں پر انحصار کرتا ہے۔
ابتدا میں سیارہ زہرہ کا دور اکبر جاری تھا، اسی طویل دور میں جب سیارہ زحل کا دور اصغر (Sub period) 4 نومبر 1933 ءسے شروع ہوا تو نہ صرف یہ کہ سعودیہ حکومت نے یمن اور کویت سے اہم معاہدات کیے بلکہ تیل کی تلاش کا بھی اسی دور میں آغاز ہوا۔
4 جنوری 1941 ءسے زائچے میں 6 سالہ باقوت سیارہ شمس کا دور اکبر جاری رہا تو یقیناًملکی ترقی اور عوامی خوش حالی کے لیے بہتر دور تھا، البتہ 4 جنوری 1947 ءسے دس سالہ قمر کا دور اکبر خاصا نحوست اثر اور نت نئے مسائل لانے والا دور تھا کیوں کہ اسی دوران میں اسرائیل کا قیام وجود میں آیا اور عالم عرب ایک نئے بحران کا شکار ہوا، قمر کا دور اکبر 4 جنوری 1957 ءتک جاری رہا، اسی دور میں مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کا بھی انتقال ہوا، ان کے بڑے بیٹے سعود بن عبدالعزیز بادشاہ بنے اور بہت جلد اپنی مقبولیت کھو بیٹھے،چناں چہ مارچ 1958ءمیں اعلیٰ اختیارات فیصل بن عبدالعزیز کو منتقل کیے گئے اور بعد ازاں 29 اکتوبر 1964 ءکو شاہ سعود کو اقتدار سے محروم کرکے فیصل بن عبدالعزیز کو بادشاہ بنادیا گیا جو زیادہ ذہین اور متحرک انسان تھے، 4 جنوری 1957 ءسے مریخ کا دور اکبر 5 جنوری1964 ءتک جاری رہا، اس کے بعد راہو کا طویل دور شروع ہوا جو بلامبالغہ مسائل اور پیچیدگیوں کا دور تھا، سعودیہ عربیہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے فریب کا شکار ہوا، اسی دور میں 25 مارچ 1975 ءکو شاہ فیصل بن عبدالعزیز کو قتل کردیا گیا اور ان کی جگہ ان کے بھائی خالد بن عبدالعزیز نے لی، اس وقت راہو کے دور اکبر میں کیتو کا دور اصغر جاری تھا، اس وقت کی ٹرانزٹ پوزیشن موجودہ چارٹ کو کنفرم کرنے میں مددگار ہے، یہاں ہم صرف ایک بڑے اور اہم واقع سے موجودہ چارٹ کی تصدیق کریں گے۔

خانہ ءکعبہ پر قبضہ

20 نومبر1979 ءمیں بعض حکومت مخالف عناصر نے اسلحے کے زور پر خانہ ءکعبہ پر قبضہ کرلیا تھا جسے طاقت ہی کے استعمال سے 4 دسمبر 1979 ءکو ختم کرایا گیا۔
عزیزان من! 20 نومبر 1979 ءکی سیاروی گردش کا مطالعہ نہایت دلچسپ ہے، پہلے گھر برج اسد میں راہو تقریباً دس درجے پر ہےں اور کیتو ساتویں گھر میں، گویا پہلے ، تیسرے، پانچویں، ساتویں، نویں اور گیارھویں گھر کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، برج اسد میں یعنی پہلے گھر میں سیارہ مریخ اور مشتری راہو کیتو کے ساتھ بری طرح متاثرہ ہے،سیارہ زحل زائچے کے دوسرے گھر میں ہے اور چوتھے گھر میں شمس و قمر اور عطارد باہم حالت قران میں ہیں، قمر زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ایک فعلی منحوس سیارہ ہے جو چوتھے اور بارھویں گھر کو متاثر کر رہا ہے اور ساتھ ہی شمس و عطارد کو بھی بلاشبہ یہ ایسی صورت حال ہے جو پورے ملک کو اور ملک کی حکمران جماعت کے لیے کسی المیے سے کم نہیں، گویا ان کا اقتدار ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی،چار دسمبر تک یہ سیاروی پوزیشن آہستہ آہستہ تبدیل ہوئی اور بالآخر سعودی حکومت نے صورت حال پر قابو پالیا۔
اس کے علاوہ بھی بعض دیگر اہم حادثات و واقعات اور تبدیلیوں کی اس برتھ چارٹ سے تصدیق ہوتی ہے،دیگر اہل علم اس پر رائے دے سکتے ہیں اور مزید پہلوو¿ں پر بات کرسکتے ہیں، صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے، بہر حال ہم مملکت سعودیہ عربیہ کے لیے اس زائچے سے مطمئن ہیں۔

سعودیہ عربیہ اور 2020ئ

گزشتہ سال سیارہ زحل کیتو کے ہمراہ پانچویں گھر برج قوس میں مسلسل حالت قران میں رہا، یہ صورت حال گویا روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک نئی کشمکش کی نشان دہی کرتی ہے،سال 2019ءکے آخر میں ایک بڑا سیاروی اجتماع زائچے کے پانچویں گھر برج قوس میں ہوا اور 2021 ءکی ابتدا میں بھی ایک ایسا ہی سیاروی اجتماع چھٹے گھر برج جدی میں ہوگا جس کے نتیجے میں حکومت کو بہت سے نئے چیلنجز درپیش ہوںگے، اس کا بھی امکان موجود ہے کہ سعودیہ عربیہ کسی نئی جنگ کا حصہ بنے، حالاں کہ حالت جنگ میں وہ گزشتہ چند سال سے ہیں، یمن سے عملی طور پر جنگ جاری ہے اور ایران سے ایک سرد جنگ کا معاملہ ہے۔
اس سال سیارہ زحل جو ساتویں گھر کا حاکم ہے، چھٹے گھر میں طویل قیام کے لیے داخل ہوا ہے، اپریل سے سیارہ مشتری جو پانچویں گھر کا حاکم ہے، جون تک برج جدی میں رہا، بلاشبہ یہ تین مہینے سعودیہ عربیہ کے لیے نہایت مشکل اور چیلنجنگ تھے ، بہر حال اب مشتری واپس برج قوس میں آچکا ہے ، حالات کو کنٹرول کرنے میں بڑی مدد ملے گی،اسی عرصے میں پٹرول کی قیمت انتہائی نچلی سطح پر آگئی تھی، مشتری کی بیس نومبر تک پانچویں گھر میں موجودگی حکومت کو دانش مندانہ فیصلوں اور اقدام کی طرف لے جائے گی لیکن 20 نومبر کے بعد مشتری دوبارہ اپنے برج ہبوط جدی میں داخل ہوگا اور آئندہ سال 2021 ءکے ابتدائی مہینوں تک سیارہ زحل سے حالت قران میں ہوگا لہٰذا ایک بار پھر سعودیہ کے لیے مشکل وقت کا آغاز ہوگا، اس سال جون سے راہو کیتو کی پوزیشن بھی زائچے میں اچھی نہیں ہے، ستمبر میں راہو کیتو برج تبدیل کریں گے اور یہ تبدیلی 2021 ءمیں مزید مشکلات اور کوئی بڑا حادثہ لاسکتی ہے۔
اس وقت زائچے میں سیارہ عطارد کا دور اکبر جاری ہے اور 30مئی 2020ءسے سیارہ زہرہ کا دور اصغر 31 مارچ 2023 ءتک جاری رہے گا، چناں چہ یہ تمام عرصہ سعودیہ عربیہ اور اس کے حکمرانوں کے لیے ایک سخت چیلنجنگ وقت ہوگا، وہ اس صورت حال سے کس طرح عہدہ برآ ہوں گے، فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
جون سے اگست تک راہو کیتو زائچے کے پہلے، تیسرے، پانچویں، ساتویں، نویں اور گیارھویں گھر کو متاثر کر رہے ہیں، اسی عرصے میں سیارہ شمس ، عطارد اور زہرہ بھی راہو کیتو محور سے متاثر ہوں گے، یہ صورت حال سربراہ مملکت کے لیے خاصی تشویش ناک ہے،حال ہی میں خبر آئی ہے کہ شاہ سلمان کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے انھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے،ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و تندرستی عطا فرمائے، اگست کا مہینہ کوئی بڑی چونکا دینے والی خبر لاسکتا ہے جس میں سعودیہ عربیہ میں کوئی نمایاں نوعیت کی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں (واللہ اعلم بالصواب)

اپنا تبصرہ بھیجیں