عرش سے فرش پر آنے والے صاحب زائچہ کا ماجرا

ہم نے عام لوگوں کے برتھ چارٹ کی ریڈنگ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اکثر لوگوں نے اسے پسند کیا اور وہ لوگ جو علم نجوم سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اس علم کو سیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے خصوصی طور پر یہ بہت مفید ثابت ہورہا ہے، پیدائشی زائچے کی خوبیاں اور خامیاں زندگی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہےں، اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی انسان کہاں پیدا ہوا اور کس خاندان میں پیدا ہوا، پیدائش کے وقت اس کی خاندانی پوزیشن کیا تھی اور پھر اس کی خوبیوں اور خامیوں نے آئندہ زندگی میں اسے کس مقام تک پہنچایا۔
عام طور پر اکثر لوگ اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کے سرباندھتے ہیں یا مذہبی ذہن رکھنے والے افراد اپنی صلاحیتوں کے ساتھ اللہ کے کرم اور دین کی بات کرتے ہیں لیکن اپنی ناکامیوں ، تباہیوں اور بربادیوں کے حوالے سے قسمت کو دوش دیتے یا دوسروں پر الزام دھرتے نظر آتے ہیں، ایک اور بہانہ بہت عام ہے، وہ یہ کہ ہم پر یاہمارے گھرانے پر کسی نے سفلی جادو وغیرہ کرادیا ہے اور اس کا اثر ہماری تباہی کا باعث ہے، ایسے لوگوں کو ہم نے دیکھا کہ وہ ساری زندگی جعلی پیروں فقیروں اور عاملوں کے چکر میں خوار ہوتے نظر آتے ہیں، جادو ٹونے پر انھیں اتنا زیادہ یقین ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور بات سننے یا ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے،اس حوالے سے کم علم یا تعلیم یافتہ کی کوئی قید نہیں ہے،تقریباً سب ہی اس رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں اور خواتین تو خصوصی طور پر جب کچھ سمجھ میں نہ آئے تو سحر جادو ، آسیب و جنات کی کارفرمائی کا رونا روتی نظر آتی ہیں، اس حوالے سے انھیں صرف کوئی معمولی سا بہانہ درکار ہوتا ہے، مثلاً شادی میں تاخیر کے لیے سحرو جادو پر یقین کے لیے یہ بہانہ بھی کافی ہے کہ فلاں جگہ سے رشتہ آیا تھا تو ہم نے انکار کردیا تھا اور انھوں نے جواباً کہا تھا کہ اب ہم اس کی شادی اور کہیں ہونے نہیں دیں گے، چناں چہ اسی بات کو بنیاد بناکر سحرو جادوکا جواز پیدا کرلیا جاتا ہے، اس جواز کو مزید تقویت جعلی پیر فقیر ،مولوی یا عامل کامل ٹائپ لوگ دیتے ہیں بلکہ اس میں مزید کِلی پُھندنے ٹانک کر افسانے کو ایک نیا ہی رنگ دے دیتے ہیں۔
عزیزان من! اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہماری زندگی میں ہماری تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش نہایت اہمیت کے حامل ہیں،دوسرے نمبر پر ہماری شادی کی تاریخ بھی بہت اہم حیثیت رکھتی ہے، پروردگار کے قائم کردہ اس نظام عالم میں انسان ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہیں نکال سکتا، سب کچھ ایک حسابی اصول و قاعدے کے مطابق جاری و ساری ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی آخری کتاب میں فرمایا کہ سیارگان فلکی اپنے اپنے دائروں میں تیررہے ہیں اور کوئی کسی کو پکڑ نہیں سکتا اور اس نظام میں کبھی کوئی فرق واقع نہیں ہوسکتا تا وقت یہ کہ وہ خالق اعظم خود کوئی فرق نہ ڈالے اور وہ کبھی اس نظام میں کوئی مداخلت نہیں کرتا، خود فرماتا ہے کہ تم اپنے رب کی سنت کو کبھی بدلا ہوا نہیں پاو¿گے۔
اس نظام کائنات میں جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے، جب کوئی انسان اس عالم فانی میں پہلی سانس لیتا ہے ، اسی وقت سے اس کی زندگی کا ایک سائیکل شروع ہوجاتا ہے اور وہ پروردگار کے قائم کردہ اس سائیکل میں زندگی کے اونچے نیچے راستوں پر اپنا سفر شروع کردیتا ہے، اس سفر میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جو اس کے پیدائش کے وقت کی سیاروی پوزیشن کا نتیجہ ہوتا ہے،اچھائیاں برائیاں ، خوبیاں، خامیاں، کامیابیاں ، ناکامیاں اور یہ سب کچھ ایک مقررہ وقت کے مطابق انجام پاتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی دنیا سے رخصت کا وقت آجاتا ہے، یہی اس نظام عالم کا لگا بندھا دستور ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کی پیدائش کسی انتہائی ناموافق یا ناسازگار وقت میں ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں مشکلات، پریشانیاں، مصائب، ناکامیاں، محرومیاں حد سے زیادہ ہیں تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟
یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب دنیاوی علوم کے ذریعے نہیں دیا جاسکتا اور شاید یہی سوال بعض لوگوں کو الحاد، گمراہی اور تشکیک کی طرف لے جاتا ہے، ایسے سوالوں پر غورو فکر کرتے ہوئے وہ اکثر اللہ رب العزت سے بغاوت کا اظہار کرنے لگتے ہیں، اس کے منکر ہوجاتے ہیں، خصوصاً اکثر انٹی لیکچوئلز کو یہ مسائل درپیش ہوتے ہیں، ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے اور آج کے دور میں بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جن کی زندگی اسی پیچ و تاب میں گزرتی ہے، اس موضوع پر مزید گفتگو یہاں ضروری نہیں ہے۔

سونے کا چمچا منہ میں

اس نے دنیا میں آنکھ کھولی تو خاندان میں خوشیوں کی بہار آگئی، وہ ماں باپ کی پیلوٹھی کی اولاد تھا، والد ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے ، مزید یہ کہ گاو¿ں میں ذاتی حویلی اور زرعی زمینیں بھی موجود تھیں،قصہ مختصر یہ کہ وہ منہ میں سونے کا چمچا لے کر پیدا ہوا، تعلیمی سلسلے کی ابتدا ہوئی تو ابتدا سے کالج لائف تک اسے زیادہ پریشانی اس لیے نہ ہوئی کہ ایک صاحب حیثیت خاندان کا فرد تھا، کالج کے زمانے میں ہی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں خاصا متحرک رہا، والد صاحب کو بھی سیاست کا چسکا تھا چناں چہ وہ بھی طلبہ سیاست میں سرگرم رہا، ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے والد سیاست میں عملی طور پر شامل ہوگئے اور انھوں نے غیر معمولی ترقی حاصل کی ، قصہ مختصر یہ کہ بچپن اور جوانی دولت کی فراوانی ، بے فکری، ایک اعلیٰ خاندان میں شادی، زندگی میں کسی چیز کی کمی نہ تھی۔
شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے یہ مشہور محاورہ بولا جاتا ہے ”انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند“
اس نے جو مانگا اسے ملا، جو کاروبار کرنا چاہا، باپ نے اس کا انتظام کردیا، بڑے بڑے پروجیکٹ شروع کرادیے لیکن وہ خود کیا کر رہا تھا ؟
نہایت مذہبی گھرانہ ہوتے ہوئے بھی کالج لائف ہی میں مزاج کی رنگینیاں نمایاں ہوگئی تھیں، عورت اور شراب زندگی کا اہم جزو بن چکے تھے، شاید یہی دیکھتے ہوئے باپ نے جلد شادی بھی کردی تھی مگر انسان اپنی فطرت کے خلاف نہیں جاسکتا، نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ سب برباد ہوتا چلا گیا جو باپ نے بڑی محنت سے بنایا تھا یا خاندانی طور پر ورثے میں ملا تھا، آخری نوبت یہ آئی کہ کل تک جس کی ذاتی کوٹھی کی مثالیں دی جاتی تھیں اسے کرائے کے مکان میں پناہ لینا پڑی، ہم صاحب زائچہ کی زندگی کے واقعات پر زیادہ تفصیلی روشنی نہیں ڈالنا چاہتے، صرف زائچے کی روشنی میں ان کی خوبیوں اور خامیوں پر بات کریں گے اور نام کے علاوہ تاریخ پیدائش وغیرہ بھی صیغہ ءراز میں رہے گی، وہ لوگ جو ایسٹرولوجی سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور زائچے کے مزید رموز و نکات سمجھنا چاہتے ہیں، براہ راست رابطہ کرکے تاریخ پیدائش وغیرہ معلوم کرسکتے ہیں۔

زائچے کے پہلے گھر میں برج حمل کے ابتدائی درجے طلوع ہیں، طالع کا حاکم سیارہ مریخ چوتھے گھر میں اپنے برج ہبوط میں ہے اور راہو کیتو محور میں بری طرح پھنس کر متاثرہ ہے،یہی زائچے کی بنیادی خرابی ہے، ذاتی سیارہ برج ہبوط میں منفی خصوصیات اور رجحانات کو نمایاں کرتا ہے، مزید خرابی یہ کہ سیارہ مریخ راہو سے متاثر ہوکر بہت زیادہ شہوت پرستی کا رجحان لاتا ہے، عام طور پر ایسے لوگ ابتدائی زندگی میں ہی سیکس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، چوتھے گھر کا حاکم سیارہ قمر پانچویں گھر برج اسد میں اچھی جگہ ہے لیکن پانچویں گھر کا حاکم سیارہ شمس بھی اپنے برج ہبوط میں ہے گویا شعور اور دانش سے محرومی ظاہر ہوتی ہے، چھٹے گھر کا حاکم سیارہ عطارد اپنے گھر میں ہے اور شرف یافتہ ہے، چناں چہ اچھی صحت کی نشان دہی ہے، ساتویں گھر کا حاکم سیارہ زہرہ آٹھویں گھر برج عقرب میں ابتدائی درجات پر اور نہایت کمزور پوزیشن میں ہے جس کی وجہ سے شریک حیات کی زندگی میں مسائل کی نشان دہی ہوتی ہے،نویں گھر کا حاکم سیارہ مشتری برج دلو میں اچھی جگہ ہے جو بہتر کاروباری فوائد کی نشان دہی کرتا ہے، دسویں گیارھویں کا حاکم سیارہ زحل بھی دسویں گھر میں اچھی جگہ ہے اور روایتی طور پر ساسا یوگ بنارہا ہے لیکن راہو کیتو محور سے بری طرح متاثرہ ہے، ساتھ ہی طالع کے حاکم سیارہ مریخ سے ناظر ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ صاحب زائچہ کے ساتھ انا اور ذاتی عزت و وقار کے حوالے سے شدت پسندی نمایاں رہے گی، اس کے منصوبے اور مستقبل کے پروگرام بہت بلند و بالا ہوں گے لیکن راہو کیتو محور کی خرابی کے سبب وہ کسی بھی منصوبے یا پروگرام میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا، چناں چہ ایسا ہی ہوا۔
ساسا یوگ ”پنچم مہاپرش یوگ“ میں سے ایک ہے یعنی جب سیارہ زحل لگن سے یا قمر سے خانہ ہائے اوتاد (کیندر) میں ہو تو ساسا یوگ تشکیل پاتا ہے اس یوگ کے حامل افراد دنیا میں اعلیٰ مقام اور اقتدار حاصل کرتے ہیں لیکن اپنی جنسی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں۔
زائچے میں قمر برج اسد میں واقع ہے، یہ صورت حال بھی آزادانہ اور خود مختارانہ رجحانات کو جنم دیتی ہے، انا اور عزت نفس کے مسائل پیدا کرتی ہے، قمرکا نچھتر پرو پھالگنی ہے ، اس نچھتر پر سیارہ زہرہ حکمران ہے، شمس اور زہرہ کا اشتراک ایک شاندار ، بے فکر ، پرجوش یا سرکشی سے لبریز شخصیت سامنے لاتا ہے، انھیں زندگی سے بے حد رغبت ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہی لذت انگیزی ، شہوت انگیزی، سبقت لے جانے کا جذبہ بھی نمایاں ہوتا ہے، بے شک اس نچھتر کی مثبت خصوصیات اپنی جگہ ہیں یعنی ایسا شخص اپنی صلاحیتوں کے ذریعے مشہور و مقبول ہوتا ہے اور دولت حاصل کرتا ہے، مہربان اور رحم دل ہوتا ہے لیکن یاد رکھیں ہر نچھتر اپنے مثبت اثرات کے ساتھ منفی اثرات بھی رکھتا ہے،اگر زائچے کی مجموعی صورت حال منفی اثرات کی حامل ہو تو صاحب زائچہ اپنے نچھتر کے بھی منفی اثرات کا شکار ہوتا ہے، پروا پھالگنی کے زیر اثر ایسے لوگ بے جا فخر و ناز ، نرگسیت اور عیاشی کی جانب راغب ہوتے ہیں، غضب ناکی کی صورت میں سفاک فطرت کا مظاہرہ کرتے ہیں، آزادانہ جنسی میل جول کا رجحان پیدا ہوتا ہے، کوئی عادت پختہ ہوجاتی ہے، شو باز اور نمائش پسند شخصیت جو گھمنڈ اور تکبر کی عکاسی کرتی ہو ،نمود پاتی ہے، صاحب زائچہ ایسی ہی تمام منفی خصوصیات کا حامل رہا اور نتیجے کے طور پر سب کچھ گنوا بیٹھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے کبھی اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہوا یا کسی نے غلطیوں کی نشان دہی بھی کی جنہیں اس نے تسلیم بھی کیا تو بھی وہ خود کو بدلنے میں کامیاب نہ ہوسکا، چوں کہ ہمارا بہت قریبی تعلق صاحب زائچہ سے رہا ہے اور ہم نے اکثر و بیشتر دبے دبے یا نرم انداز میں ہمیشہ سمجھانے کی کوشش بھی کی اور انھوں نے ہم سے ہمیشہ وعدہ بھی کیا کہ وہ خود کو آئندہ بدل لےں گے مگر ایسا ہوا نہیں اور شاید ہوگا بھی نہیں کیوں کہ اب صورت حال کچھ ایسی ہے کہ بقول شاعر سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا۔
ایسے لوگ اپنی انا کا بری طرح شکار ہوتے ہیں اور دوسروں کے مشوروں کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دیتے، بہت زیادہ خود اعتمادی ان کا بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے،ہم نے نوٹ کیا کہ جب وہ اپنا کوئی پروگرام یا منصوبہ ہمیں بتارہے ہوتے تو نہایت پر اعتماد ہوتے، یقین کی حد تک انھیں بھروسا ہوتا تھا کہ بس اب یہ کام جو شروع کیا ہے تھوڑے ہی دن میں ان کا وقت بدل دے گا، جب کہ ہماری رائے اس سے مختلف ہوتی لیکن ہم کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرسکتے تھے کیوں کہ وہ بہت ہی زیادہ انا پرست تھے ، کسی بھی بات کا برا مان سکتے تھے ، اسی طرح کبھی کوئی ریمیڈی کرنے کے لیے بھی ایسے لوگ راضی نہیں ہوتے اور اگر بہت زور دے کر بات مان بھی لیں تو صرف چند دن کے لیے، ایک بار ہم نے بہت ضد کرکے مرجان کی انگوٹھی انھیں پہننے کے لیے دی مگر چند ماہ بعد جب ملاقات ہوئی تو وہ انگوٹھی ہاتھ میں نہیں تھی، پوچھا کہ انگوٹھی کہاں گئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ کھو گئی اور مزید انگوٹھی بنوانے کی انھوں نے زحمت نہیں کی گویا ہمارا دل رکھنے کے لیے اس وقت پہن لی تھی مگر خود ان کا دل اس کی افادیت کا قائل نہیں تھا۔
ان کے لیے انتہائی ضروری دوسرا اسٹون نیلم تھا جو اعلیٰ کوالٹی کا ہونا چاہیے تھا، اعلیٰ کوالٹی کا نیلم یقیناً مہنگا ہوتا ہے، ہم نے دیکھا کہ اپنی عیاشیوں میں ہزاروں لاکھوں خرچ کرنے والا کبھی ہمارے مشورے کے مطابق اعلیٰ درجے کا نیلم نہ پہن سکا، اکثر لوگ جو ہم سے رابطہ کرتے ہیں ان میں بھی یہ کمزوری ہم نے نوٹ کی ہے کہ وہ کسی ریمیڈی کے لیے پیسے خرچ کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں گویا انھیں یقین نہیں ہوتا کہ وہ ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی،اگر یقین ہو تو انسان کسی فائدہ مند چیز کو ہر قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ لوگ تو بہر حال قابل معافی ہیں جو کسی قیمتی اسٹون کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے لیکن جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں اور پھر بھی مشورے پر توجہ نہیں دیتے، ان کے بارے میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس قسم کے کسی علاج معالجے پر یقین نہیں رکھتے،بہر حال صاحب زائچہ ہمارے بہت ہی قریبی دوستوں میں سے ہیں اور ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم ان کے لیے کچھ نہیں کرسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں