دنیا بدل گئی، میری دنیا بدل گئی

کرونا وائرس کی وباءنے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے، یہ بحران ابھی جاری ہے مگر اسی دوران میں دنیاوی حالات و واقعات ایک نئی کروٹ لے رہے ہیں، پہلے سے موجود صف بندیاں بھی تبدیل ہورہی ہیں، چین ایک نئی سپر پاور کے طور پر نمایاں ہورہا ہے، امریکا کی بالادستی میں کمی آرہی ہے، مزید یہ کہ امریکا اور بھارت میں داخلی انتشار بھی بڑھ رہا ہے جو یقیناً صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ 2019 ءکے حوالے سے ہم نے لکھا تھا کہ یہ سال تیسری عالمی جنگ کے لیے گراو¿نڈ ہموار کرے گا اور ایسا ہی ہوا، سونے پر سہاگہ کرونا وائرس کی وباءثابت ہوئی جس کا آغاز تو چائنا سے ہوا لیکن اس وباءنے بالآخر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، لاکھوں افراد اس سے متاثر ہوئے اور اکثریت اپنی جان سے گئی، اس وباءنے ایک ایسے خوف کی فضا کو جنم دیا جو شاید آئندہ سالوں میں بھی قائم رہے گی، اب لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھیں گے، روز مرہ کی دلچسپیاں اور مصروفیات تبدیل ہوں گے، کلچرل سرگرمیاں کوئی نیا رخ اختیار کریں گی،دنیا ایک نیا ضابطہءعمرانیات طے کرے گی، معاشی کساد بازاری ملکوں اور قوموں کے درمیان ایک نئی کشاکش لائے گی۔

عالمی جنگ کے امکانات

ہمارے قارئین کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ہم گزشتہ دو تین سال سے اس بات کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ جب دنیا میں منفی سوچ کے حامل افراد اہم ملکوں کی سربراہی سنبھالتے ہیں تو دنیا شدید نوعیت کے اختلافات، تنازعات اور لڑائی جھگڑوں میں مبتلا ہوتی ہے، اس کی مثال ماضی میں دوسری عالمی جنگ ہے جب جرمنی کے ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر اور اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی ، روسی ڈکٹیٹر اسٹالین جیسے لوگ طاقت ور ملکوں کے سربراہ مقرر ہوئے، یہ نہایت انتہا پسندانہ نظریات کے حامل لوگ تھے جو دنیا کو دوسری عالمی جنگ کی طرف لے گئے، تازہ صورت حال میں بھی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ، شام کے صدر بشارالاسد، داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور کورین صدر کم جون جیسے لوگ برسراقتدار آئے تو دنیا میں ایک بار پھر انتہا پسندانہ سوچ پروان چڑھنے لگی، امریکا میں گوروں اور کالوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے، شام میں نصیری جو اب خود کو علوی کہتے ہیں زیادہ شدت پسندی اختیار کرنے لگے جس کے جواب میں داعش والے ان سے بھی بڑھ کر انتہا پسند ثابت ہوئے، ایران اور سعودیہ عربیہ کے درمیان بھی مسلکی بنیاد پر شدت پسندی دیکھنے میں آئی، بھارت میں نریندر مودی نے ہندوتوا کا نعرہ لگایا اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ابھارا جس کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہوئے، اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو صورت حال مزید گمبھیر نظر آتی ہے، مذہبی اور مسلکی تنافر اپنی جگہ ساتھ ہی لسانی اور صوبائی شدت پسندی بھی عروج پر نظر آتی ہے، انتہا یہ کہ کچھ لوگ راجا داہر جیسے غیر سندھی کشمیری کو سندھ کا ہیرو قرار دینے لگے! تفو بر تو اے چرخِ گردوں تفو۔
عزیزان من! دنیا بھر میں شدت پسندی اور انتشار کی یہ لہر گزشتہ سال 2019 ءمیں اپنی انتہا کو پہنچ گئی، آج 2020 ءمیں کرونا کی وباءنے جس نوعیت کا شدید معاشی بحران پیدا کیا ہے ، یہ آنے والے دنوں میں ملکوں ، قوموں کے درمیان ایک نئی معاشی رسہ کشی کا سبب بننے جارہا ہے، یاد رکھیں ایسا ہی معاشی بحران 1929 ءمیں پوری دنیا میں آیا تھا اور اس کے بعد ایک نئی معاشی رسہ کشی شروع ہوئی تھی اور بالآخر دوسری عالمی جنگ کا راستہ ہموار ہوگیا تھا۔

امریکا اپنے زائچے کی روشنی میں

اکثر ماہرین نجوم طالع سرطان 20 درجہ کے مطابق امریکا کا زائچہ درست مانتے ہیں، اس زائچے کے مطابق سیارہ شمس کا دور اکبر جاری ہے، جب کہ دور اصغر سیارہ عطارد کا جنوری 2020 ءسے شروع ہوا اور اس کا خاتمہ 2 دسمبر 2020 ءمیں ہوگا، اس کے بعد غضب ناک کیتو کا دور اصغر شروع ہوگا جو تقریباً 18 درجہ برج میزان میں ہے اور زائچے کے چوتھے، آٹھویں، دسویں اور بارھویں گھر کو قریبی نظر سے متاثر کر رہا ہے، گویا داخلی انتشار ، حادثات و سانحات، حکومت سے عوامی شکایات اور حکومت کی جارحانہ پالیسیاں، نقصانات اور تنازعات میں اضافہ ہوگا۔
امریکی قوم اپنے مزاج اور فطرت میں جنگ جویانہ رجحانات رکھتی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ امریکا ہمیشہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جنگ و جدول میں یا تنازع میں الجھا نظر آتا ہے، گزشتہ بیس سال افغانستان میں اور عراق میں اس کی معرکہ آرائیاں رہیں، پھر مسٹر ٹرمپ کی آمد کے بعد ایران سے بھی معرکہ آرائی جاری ہے، دنیا کے اکثر ممالک اس کے اتحادی ہیں لیکن اب حیرت انگیز طور پر صورت حال تبدیل ہورہی ہے، اس کی جگہ چین لے رہا ہے،مڈل ایسٹ، یورپ کے علاوہ حیرت انگیز طور پر اسرائیل بھی اس کے حلقہ ءاثر سے نکل رہا ہے اور چین سے تعلقات بڑھا رہا ہے، امریکا کی اہمیت جو کبھی سب سے زیادہ تھی، اب کم ہورہی ہے، یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔
امریکا کے زائچے میں اس سال جنوری سے زائچے کا سب سے منحوس سیارہ زحل اپنے ذیلی برج جدی میں داخل ہوا، یہ زائچے کا ساتواں گھر ہے، اپریل سے سیارہ مشتری بھی ساتویں گھر میں داخل ہوا اور سیارہ زحل سے قریبی قران کی حالت میں ہے،یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ ساتواں گھر جس کا تعلق باہمی تعلقات سے ہے اوردیگر ممالک سے ہے، مشتری اور زحل کے قران کے نتیجے میں امریکا اور دیگر ممالک کے درمیان اختلافات کا باعث بن رہا ہے، مشتری یکم جولائی سے واپس اپنے ذاتی گھر برج قوس میں آجائے گا لیکن دوبارہ نومبر 2020 ءمیں ایک لمبے عرصے کے لیے برج جدی میں دوبارہ داخل ہوگا اور پھر ایک بھرپور قران سیارہ زحل سے کرے گا، اسی عرصے میں راہو کیتو برج ثور اور عقرب میں تقریباً 25 درجے پر مستقیم پوزیشن میں رہتے ہوئے آٹھویں گھر کے حاکم سیارہ زحل کو بری طرح متاثر کریں گے جس کے نتیجے میں امریکا کو زبردست نوعیت کے نئے چیلنج درپیش ہوسکتے ہیں،حادثات ارضی و سماوی کے علاوہ امریکا کسی بڑی جنگی مہم جوئی سے بھی دو چار ہوسکتا ہے۔
امریکا میں جاری تازہ داخلی انتشار جس کا سبب ایک بلیک مین کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت ہے، فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آتا، دوسری طرف اس سال امریکا میں 4 نومبر کو نئے انتخابات بھی ہورہے ہیں، ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے اور ان کے اپنے زائچے کی پوزیشن بھی فی الحال بہت اچھی نہیں ہے،ان کے مخالف امیدوار جیو بائیڈن کا زائچہ تاحال مستند نہیں ہے لہٰذا دونوں فریق کے درمیان مقابلے پر کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی ساکھ ان کی کامیابی کو مشکوک بنارہی ہے۔
بہر حال امریکی زائچے کی پوزیشن بہتر نہیں ہے، وہ اپنی حیثیت کھورہا ہے لیکن بہت بڑا ملک ہے اور بڑے وسائل رکھتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ امریکا مکمل طور پر تباہ ہونے جارہا ہے،یہ ضرور ہے کہ اس کی حیثیت اب روز بہ روز متنازع اور کم ہورہی ہے، امریکا کا واحد اسٹریٹجک پارٹنر بھارت ہے جس کی اپنی حالت خاصی خراب ہے۔

بھارت اپنے زائچے کی روشنی میں

بھارت کا برتھ سائن 7 درجہ ثور ہے، راہو کیتو یہاں اپنے شرف کے گھر میں ہیں اور طالع کے درجات سے قریبی قران رکھتے ہیں، سیارہ مریخ دوسرے گھر میں اور قمر ، عطارد ،زہرہ، شمس اور زحل یعنی 5 سیارے تیسرے گھر سرطان میں ہیں، سیارہ مشتری چھٹے گھر میں ہے، کیتو کی نظر سیارہ قمر پر ہے، زائچے میں سیارہ قمر کا دور اکبر (main period) ستمبر 2015 ءسے جاری ہے اور قمر پر غضب ناک کیتو کی نظر ملک میں مذہبی شدت پسندی کی لہر کا باعث بنی ہے جو اپنے عروج پر اگست 2018 ءسے دسمبر 2019 ءتک پہنچ گئی کیوں کہ قمر کے مین پیریڈ میں سیارہ مشتری کا دور اصغر جاری رہا جو زائچے کا سب سے منحوس اثر سیارہ ہے۔
فی الحال زائچے میں قمر کے دور اکبر میں سیارہ زحل کا دور اصغر جاری ہے جو زائچے میں غروب ہے یعنی کمزور ہے، اس کا تعلق حکومت سے ہے اور حکومتی فیصلوں اور اقدام سے ہے،نریندر مودی کا انتہا پسندانہ فیصلہ کشمیر کے حوالے سے گزشتہ سال قمر اور مشتری کے دور میں سامنے آیا، مشتری زائچے کا سب سے منحوس سیارہ ہے، اس خراب وقت میں نریندر مودی کا یہ اقدام بھارت کے لیے بہت سے نئے چیلنج سامنے لے آیا، کشمیر کے علاوہ بھی بھارت کی بہت سی ریاستیں علیحدگی کے راستے پر چل پڑی ہیں، داخلی معاملات میں بھی شدید انتشار، اختلافات اور تنازعات بڑھ رہے ہیں، بھارتی عوام جو گزشتہ 70 سال سے سیکولر مزاج اور رواج کے عادی رہے ہیں، ہندوتوا جیسے فلسفے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن ہندو مذہبی نظریات اکثریت پر فی الحال غالب ہےں جس کی وجہ قمر کا مین پیریڈ ہے، کیسی دلچسپ صورت حال ہے کہ آج بھارت میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور دیگر کانگریسی رہنماو¿ں کو گالیاں دی جارہی ہیں اور قوم کا ہیرو مہاتما گاندھی کے قاتل کو سمجھا جارہا ہے۔
اس سال اپریل سے جون تک دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل اگرچہ زائچے میں اچھی پوزیشن میں آچکا ہے مگر سات درجے پر مستقیم پوزیشن اور پیدائشی راہو کی نظر مزید سیارہ مریخ سے قران کی نظر اسے متاثر کر رہی جس کے سبب حکومت اور وزیراعظم کی کارکردگی بہتر نہیں رہی،مزید یہ کہ انڈین انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہوئی، گورنمنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور مزید پہنچے گا۔
4 جون سے راہو کیتو ایسی پوزیشن پر ہیں جو زائچے کے دوسرے ، چوتھے، ساتویں، آٹھویں، دسویں اور بارھویں گھروں کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں، یہ صورت حال انڈیا میں معاشی بحران کے علاوہ داخلی انتشار میں بھی اضافہ کرے گی، عوامی احتجاج بڑھے گا، فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، مختلف شعبوں میں حادثات و سانحات کا امکان رہے گا، حکومت اور وزیراعظم کی ساکھ مزید متاثر ہوگی، یہ صورت حال تقریباً اگست کے پہلے ہفتے تک جاری رہے گی لیکن اس کے بعد ایک اور بدترین سیاروی پوزیشن بھارت کے زائچے میں بن رہی ہے۔
سیارہ مریخ اس سال 17 اگست کو اپنے ذاتی برج حمل میں داخل ہوگا اور 30 اگست سے مستقیم پوزیشن پر تقریباً 22 ستمبر تک رہے گا،گویا پیدائشی قمر پر اس کی نظر ہوگی، زائچے کے چھٹے گھر پر اور ساتویں گھر پر بھی نظر ہوگی، یہ صورت حال کسی انتہا درجے کی شدت پسندانہ کارروائی کو ظاہر کرتی ہے،پاکستان پر حملے کا امکان ، داخلی طور پر ہندو مسلم فساد اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندانہ کارروائیاں ، دوسری طرف چین اور نیپال وغیرہ سے بھی محاذ آرائی کا خطرہ ظاہر کر رہی ہے،فضائی حادثات اور نریندر مودی حکومت کے مزید انتہا پسندانہ فیصلے سامنے آئیں گے، خیال رہے کہ پاکستان کا برتھ سائن بھی چوں کہ برج ثور ہے لہٰذا سیارہ مریخ کی یہ پوزیشن پاکستان کے زائچے میں بھی کچھ ایسی ہی ہوگی، چناں چہ اس موقع پر پاکستان کو انڈیا سے محتاط رہنے کی سخت ضرورت ہوگی۔
بھارت کے زائچے میں کیتو ساتویں گھر میں تقریباً پانچ ڈگری پر ہے ، مریخ کی نظر ساتویں گھر پر اور کیتو پر بھی ہوگی جو یقیناً کوئی دھماکا خیز واقعہ سامنے لاسکتی ہے، گویا مریخ اور کیتو کی نظر بھس میں چنگاری ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان ، نیپال یا چائنا سے تصادم کوئی خطرناک رخ اختیار کرسکتا ہے۔
یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ بھارت کو امریکا اور خاص طور پر مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کی خصوصی آشیرواد حاصل رہی ہے، دونوں ایک دوسرے کے اسٹریٹجک پارٹنر ہیں، مسٹر مودی ڈونالڈ ٹرمپ کی کوئی بات ٹال نہیں سکتے لیکن تازہ صورت حال میں جب سیارہ مریخ ٹرانزٹ میں زائچے کے دسویں گھر سے گزر رہا ہے تو مسٹر مودی کی حکومت کو ایک نیا صدمہ چین کے تازہ اقدام سے پہنچا ہے، چین لداخ میں اپنی فوجیں داخل کرچکا ہے اور بھارت ابھی تک محض تماشائی ہے، دوسری طرف نیپال نے بھی بھارتی سرحد پر فوج کھڑی کردی ہے،بھارت سے نیپال جانے والے یاتریوں پر فائرنگ کا واقعہ بھی سامن آچکا ہے،قصہ مختصر یہ کہ بھارت اور امریکا دونوں اس وقت نہایت سخت اور بدترین صورت حال سے دوچار ہیں، ایسی صورت میں وہ کوئی نیامحاذ کھول کر اپنے عوام کو کسی نئی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاسکتے ہیں جس کا امکان اگست ستمبر میں نظر آتا ہے لیکن یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہوگا، اگر بھارتی قیادت یہ غلطی کرے گی، تو اسے اس کا بہت بڑا خمیازہ بھگتنا ہوگا، اس صورت میں امریکا بھی شاید بھارت کی مدد نہ کرسکے کیوں کہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ خود امریکی بحران اور اپنی الیکشن مہم میں الجھے ہوئے ہوں گے۔
عزیزان من! ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہو جیسا کہ بھارتی زائچے میں سیارے اشارے دے رہے ہیں اور وزیراعظم اور ان کے انتہا پسند ساتھی ایسی کسی حماقت سے باز رہیں یا دیگر بین الاقوامی طاقتیں انھیں ایسی کسی حماقت سے روک دیں لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس سال 20 نومبر سے جب سیارہ مشتری زائچے کے نویں گھرمیں داخل ہوگا اور سیارہ زحل سے ایک طویل قران کرے گا تو ایسے کسی تصادم کا خطرہ دوبارہ پیدا ہوگا، سال 2021 ءبھی بھارت کے لیے بہت مشکل اور سخت سال ہے جس میں اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ دوتہائی اکثریت کی حامل جنتا پارٹی کی حکومت اپنی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے شدید نوعیت کے عوامی غیض و غضب کا شکار ہوجائے۔(جاری ہے، دوسرا حصہ اگلے ہفتے ملاحظہ کیجیے)

اپنا تبصرہ بھیجیں