دنیا آئندہ سالوں میں ایک نئے نظریاتی انقلاب کی طرف گامزن

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

آفات ارضی و سماوی اور اختلافات و جنگ و جدل کا سال 2019 ءرخصت ہورہا ہے، دنیا بھر میں جاری تبدیلی کی لہر بالآخر اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، اس سے پہلے کہ آنے والے سال 2020 ءکے امکانات پر بات کی جائے، آئیے موجودہ سال کے نمایاں واقعات پر ایک نظر ڈال لی جائے۔
گزشتہ سال 2019 ءمیں موجودہ سال کو تیسری عالمگیر جنگ کے آغاز کا سال قرار دیا گیا تھا، بے شک اس سال مختلف ممالک کے درمیان تنازعات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کوئی بھی نازک لمحہ تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا باعث ہوسکتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ایشیا پر نظر ڈالیں تو ہر طرف ایک جنگ و جدل کی صورت حال نظر آتی ہے، شام، لبنان، عراق، اسرائیل، یمن، سعودی عربیہ، افغانستان، پاکستان، بھارت ، چین، روس، ترکی، الغرض ایشیائی ممالک کی اکثریت کسی نہ کسی طور حالت جنگ میں ہے۔
ہم نے خاص طور پر دنیا کے جن ممالک کے بارے میں اندیشے اور خطرات ظاہر کیے تھے اور جن عالمی لیڈرز کی نشان دہی کی تھی ، تقریباً وہی اس سال نمایاں رہے، یورپی یونین کے حوالے سے برطانیہ کو سخت صورت حال کا سامنا رہا اور تاحال ہے، امریکہ ، چین ، روس ، ترکی ، ایران، یمن ، مڈل ایسٹ، چین ، بھارت ، پاکستان اور دیگر ممالک سارا سال غیر معمولی حالات و واقعات سے دوچار رہے، سارا سال جاری رہنے والے زحل اور کیتو قران کے نتیجے میں دنیا بھر میں حادثات و سانحات ، زلزلے ، سیلاب اور طوفانی بارشیں صورت حال کو بد سے بدترین بناتی رہیں، بھارت میں شدید طوفان کے باعث تقریباً سو ملین افراد متاثر ہوئے، ایران اور امریکا کے درمیان ٹینشن میں مزید اضافہ ہوا جب سعودی آئل ٹینکرز اور پائپ لائنیں ایک حملے میں تباہ ہوگئیں، سعودی اخبارات کے اداریوں نے اسے سرجیکل اسٹرائیک قرار دیا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی اشیا پر ڈیوٹی بڑھادی ، جواباً چین نے امریکی اشیا پر اس سے زیادہ ڈیوٹی میں اضافہ کردیا اور اس طرح عالمی کرائسز کو بڑھاوا ملا، شمالی کوریا نے مزید میزائل لانچ کیے، جواباً امریکا نے اس کے کارگو جہازوں کی نقل و حرکت روک دی، امریکا میں سفید فام انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوا اور بھارت میں مذہبی انتہا پسندی عروج پر پہنچ گئی جس کے نتیجے میں نریندر مودی کے کشمیر کے حوالے سے فیصلے اور اقدام بھارت اور پاکستان کو کسی بڑی جنگ کے قریب لے آئے ہیں، اسرائیل کے جارحانہ اقدام شام، لبنان ، عراق اور ایران کے لیے مزید تشویش کا باعث ہوچکے ہیں، 700 راکٹ غزہ کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے، ایسا ہی اسرائیل کی جانب سے بھی کیا گیا، پاک بھارت سرحد پر مستقل جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، کشمیر میں بھارتی فوجیں ظلم اور جبر کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں، پچاس سال بعد مسئلہ ءکشمیر پر اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کیا گیا۔
ہم نے نشان دہی کی تھی کہ اس سال 2 جون سے 17 اگست تک نہایت ہی حساس اور خطرناک وقت ہوگا، اس وقت میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے، اس وقت عالمی لیڈر صورت حال کو کس طرح کنٹرول کرتے ہیں اس پر مستقبل کے نئے منظر نامے کا انحصار ہوگا، کیا کوئی ہٹلر ٹائپ شخصیت جنگ کے شعلوں کو ہوا دے گی؟ ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ نریندر مودی ، ڈونالڈ ٹرمپ، کم جون آف کوریا ایسی نمایاں طور پر شخصیات ہوسکتی ہیں جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دےں۔
عزیزان من! بے شک موجودہ سال میں عالمی میدان جنگ سج چکا ہے، نئی صف بندیاں نمایاں ہوچکی ہیں اور مزید نمایاں ہورہی ہیں، سعودیہ میں آئل ریفائنری پر حملہ ہوا جس کی ذمے داری ایران پر ڈالی جارہی ہے اور اب ایران پر حملے کا جواز پیدا ہوگیا ہے،البتہ پاکستان کی پوزیشن ابھی تک واضح نہیں ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی صورت حال میں پاکستان نے گزشتہ تقریباً دس سالوں میں اپنا کوئی نمایاں مقام نہیں بنایا، اس اعتبار سے جمہوری دور پاکستان کے لیے زیادہ خوش کن نہیں رہے، داخلی اور خارجی معاملات میں پاکستان مسلسل انحطاط اور تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

2020 ءکا آغاز

نئے سال 2020 ءسے پہلے ہی 26 دسمبر 2019 ءکا سورج گہن کئی اعتبار سے نمایاں خصوصیات اور طویل المدت اثرات کا حامل نظر آتا ہے کیوں کہ اس گہن کے ساتھ ہی سیارگان کی اکثریت ایک ہی برج قوس میں اکٹھا ہورہی ہے، فطری زائچے کے مطابق یہ گہن نویں گھرمیں لگے گا جو مذہب، آئین و قانون اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا گھر کہا جاتا ہے، بین الاقوامی زائچے میں یہ سیاروی اجتماع چوتھے گھر میں ہوگا، واضح رہے کہ ایسے عظیم اجتماعات جنہیں قران کہا جاتا ہے، سالوں میں ہوتے ہیں، ماضی میں سال 2000 ءمیں بھی ایسا ہی عظیم اجتماع ہوا تھا، سیارہ قمر ، عطارد، زہرہ ، شمس ، مشتری اور زحل ایک ہی برج حمل میں جمع ہوئے تھے،برج حمل آتشی اور منقلب برج ہے، اس کو ہم ایکشن کا برج کہتے ہیں کیوں کہ انرجی کا نمائندہ سیارہ مریخ اس کا حاکم ہے، طاقت اور جنگ و جدل کا سیارہ ہے، چناں چہ اس عظیم سیاروی اجتماع کے بعد ہم نے دیکھا کہ دنیا بہت تیزی سے طاقت کے اظہار اور جنگ و جدل کی جانب بڑھی ، نائن الیون ہوا اور پھر امریکا افغانستان اور عراق پر حملہ آور ہوا، افغان امریکا جنگ ابھی تک جاری ہے، عراق کی دنیا بدل چکی ہے، روس اور یوکرائین میں تصادم ہوا، مراکش سے یمن تک ایک انقلابی لہر اٹھی جس میں بڑے بڑے برج الٹ گئے، گزشتہ 18,19 سال میں ملکوں ، قوموں اور دیگر گروہوں کے درمیان تناو¿ اور باہمی اختلافات میں اضافہ ہوا ہے اور آج جب تقریباً بیس سال بعد دوبارہ یہ سیاروی اجتماع ہورہا ہے تو دنیا ایک عالم گیر جنگ کے دہانے پر آچکی ہے۔
نئے سال کے آغاز سے چند ہی روز پہلے ہونے والے اس غیر معمولی آسمانی کونسل کے اجلاس میں سیارہ قمر ، عطارد، شمس، مشتری ، زحل، پلوٹو اور کیتو بھی اس میں شامل ہے، گویا راہو کیتو محور سیارہ شمس اور مشتری کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں، جب کہ شمس کی قربت سے تین سیارگان قمر ، عطارد اور مشتری غروب ہیں، اپنی حیثیت کھوچکے ہیں، سیارہ زحل بہر حال اس اجتماع میں موجود ہوتے ہوئے بھی اپنا دامن بچاگیا ہے مگر پلوٹو کے ساتھ قریبی قران رکھتا ہے۔

فطری عالمی زائچہ

فطری زائچے کے مطابق یہ قران اگر ایک طرف دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی ، آئین و قانون سے ماورا فیصلے و اقدام اور معاشی بحران لائے گا تو دوسری طرف عالمی زائچے کے مطابق قوموں اور ملکوں کی نئی حد بندیوں اور اندرونی انتشار کا باعث ہوگا، برج قوس کا حاکم سیارہ خود غروب ہوگا اور راہو کیتو سے بھی متاثر ہوگا، یہ صورت حال مثبت مذہبی یا آئینی و قانونی رجحانات کے لیے موافق نہ ہوگی، منفی رجحانات کی شدت پسندی ایک مادر پدر آزاد معاشرے کو جنم دیتی ہے، گویا آنے والے دور میں انسان اپنی خواہشات کا غلام اور اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنے کے خبط میں مبتلا ہوگا۔

عالمی سالانہ زائچہ

عالمی زائچے میں چوں کہ چوتھا گھر اس اجتماع کا مرکز ہے جسے پناہ گاہ کہا گیا ہے، گھر کی چار دیواری اور خاندانی رسم و روایات ، نسلی ارتقاءبھی اسی گھر سے وابستہ ہیں، چناں چہ یہ سیاروی اجتماع اس حوالے سے بھی پرانے طور طریقوں اور رسم و رواج کو یکسر تبدیل کردے گا جس کے نتیجے میں بعض ممالک کی سرحدیں اور بعض ممالک کے داخلی ڈھانچے تبدیل ہوں گے، اس عظیم اجتماع کے اثرات ماضی کی طرح تقریباً بیس سال کی مدت پر محیط ہوسکتے ہیں محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔
عظیم سیاروی قران کے حتمی اور قریبی نتائج کا مطالعہ کرنے کے لیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مذکورہ قران کسی ملک کے ذاتی زائچے میں کہاں واقع ہورہا ہے۔

ثوری ممالک

برج ثور سے متعلق ممالک پاکستان ، بھارت ، مصر، میکسیکو اور بحرین ہےں، یہ غیر معمولی سیاروی اجتماع ان ملکوں کے ذاتی زائچوں میں آٹھویں گھر میں ہوگا، آٹھواں گھر خانہ ءحادثات و موت اور کایا پلٹ کا گھر ہے، ایک زندگی کے خاتمے کے بعد نئی زندگی کے وجود میں آنے کا گھر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے زمانوں میں ان ممالک کی کایا پلٹ کا امکان موجود ہے، یعنی یہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ایک نئے رنگ و روپ میں دنیا کے سامنے آئیں گے،بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں اقلیتیں نت نئے مسائل کا شکار ہیں، بھارت میں انتہا پسند قیادت کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہے اور وہ مسلسل ایسے فیصلے و اقدام کر رہی ہے جن کا نتیجہ ملک بھر میں شدید انتشار کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے،پاکستان بھی مسلسل انتشار ، بدامنی اور تنازعات کا شکار ہے،تقریباً ایسی ہی صورت حال دیگر ثوری ممالک کی بھی ہے۔

سرطانی ممالک

برج سرطان سے متعلق ممالک امریکا ، روس ، ایران ، ترکی اور فرانس ہیں، موجودہ قران ان ملکوں کے چھٹے گھر میں ہوگا، چھٹا گھر سول و ملٹری سروسز ، عدالتی اور انتخابی عمل ، اختلافات اور تنازعات کا ہے، ان ملکوں کو اندرونی اور بیرونی طور پر جاری اختلافات اور تنازعات کا سامنا رہے گا، ملک کے اندر عدلیہ اور خارجی محاذ پر فوج کو مسلسل مصروف عمل رہنا ہوگا، مزید یہ کہ حد سے بڑھے ہوئے اخراجات انھیں معاشی بحرانوں سے دوچار کریں گے جس کے نتیجے میں عوام میں بے چینی اور عدم اطمینان پیدا ہوگا، لوگ احتجاج پر آمادہ ہوں گے۔

سنبلہ ممالک

برج سنبلہ کے تحت انگلینڈ ، جرمنی، کینیڈا، برما ، لبنان اور افغانستان ہیں، موجودہ سیاروی اجتماع زائچے کے چوتھے گھر میں ہوگا اور چوتھے گھر سے متعلق اثرات کی نشان دہی ہم پہلے کرچکے ہیں، ان ممالک میں داخلی طور پر شدید نوعیت کی بحرانی صورت حال جنم لے گی، سابقہ رسم و روایات تبدیل ہوجائیں گی۔

عقربی ممالک

برج عقرب کے تحت شام ، شمالی کوریا اور لیبیا ہیں، موجودہ قران زائچے کے دوسرے گھر میں ہوگا جس کا تعلق معیشت اور اسٹیٹس سے ہے، شام اور لیبیا پہلے ہی معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہیں اور اپنا اسٹیٹس بھی کھوچکے ہیں، کوریا کی پوزیشن بہتر ہے لیکن امریکا سے محاذ آرائی کے نتیجے میں وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں مصروف ہے، یہ صورت حال مستقبل میں معاشی بحران کا باعث ہوگی اور ان ملکوں میں فیملی سسٹم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا۔

قوسی ممالک

برج قوس کے زیر اثر سعودیہ عربیہ ہے، موجودہ قران زائچے کے پہلے گھر میں ہوگا،گویا سعودیہ میں شہنشاہی نظام کے خاتمے کی ابتدا ہوسکتی ہے، موجودہ طرز حکومت میں تبدیلی آسکتی ہے، ممکن ہے آئندہ بیس سالوں میں ہم سعودیہ میں جمہوری نظام کو پھلتا پھولتا دیکھ سکیں، مزید یہ کہ دیگر ملکوں سے محاذ آرائی میں اضافہ ہوگا۔

جدی ممالک

برج جدی کے تحت چین، اسرائیل، جاپان اور یوکرائن ہیں، موجودہ قران زائچے کے بارھویں گھر میں ہوگا جس کا تعلق خوف ، نقصانات اور بے راہ روی سے ہے، یہ ممالک پہلے ہی سے کسی نہ کسی خوف میں مبتلا ہیں، چین اور جاپان کو امریکاسے خطرات لاحق ہیں، اسرائیل کی محاذ آرائی اسلامی بلاک سے ہے اور یوکرائن کی روس سے، ان کے دشمنوں اور مخالفین میں مزید اضافہ ہوگا اور اپنے تحفظ کے لیے ان ملکوں کو مزید حفاظتی اقدام کرنا پڑیں گے جس کے نتیجے میں غلط یا صحیح فیصلے ہوسکتے ہیں، کامیابیاں اور ناکامیاں ساتھ ساتھ رہیں گی، بیرونی خطرات بڑھ جائیں گے۔

دلو ممالک

متحدہ عرب امارات برج دلو کے تحت ہے، موجودہ قران زائچے کے گیارھویں گھر میں ہوگا جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ یو اے ای کی موجودہ تجارتی پوزیشن کمزور ہوتی چلی جائے گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاشی طور پر متحدہ عرب امارات کی حیثیت متاثر ہوگی، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ چند ریاستوں کا یہ اتحاد آگے چل کر اتحاد نہ رہے اور باہمی اختلافات کے سبب تمام ریاستیں علیحدہ علیحدہ اپنی پالیسیاں بنائیں، جیسا کہ حال ہی میں یورپی یونین کا حال ہوا ہے۔
عزیزان من! نہایت اختصار کے ساتھ دنیا کے نمایاں اور چنیدہ ممالک اور موجودہ سیاروی اجتماع کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کی گئی ہے، ہمارے سامنے گزشتہ اجتماع سیارگان کی مثال موجود ہے جو سال 2000 ءمیں ہوا تھا، اس حوالے سے بعض دیگر ایسے پہلو بھی ہوسکتے ہیں جن پر ممکن ہے ہماری نظر نہ گئی ہو تو یقیناً اہل علم حضرات ان کی نشان دہی کرسکتے ہیں۔