سیارہ مشتری و زہرہ کے سعد اکبر قران کے لیے خصوصی عمل

قران السعدین

سیارہ مشتری اور زہرہ کو سعد اکبر تسلیم کیا جاتا ہے اور جب یہ دونوں سیارگان کسی برج کے ایک ہی درجے پر اکٹھا ہوتے ہیں تو اسے قران السعدین کہتے ہیں، وہ لوگ جو کسی ایسے وقت میں پیدا ہوتے ہیں ، انہیں ”صاحب قران“ کہا جاتا ہے، مثلاً امیر تیمور، ظہیر الدین بابر یا بعض دیگر حکمرانوں کے لیے یہ اصطلاح رائج رہی ہے۔
اس سال 24 نومبر کو سیارہ مشتری اور زہرہ کے درمیان قران کی نظر قائم ہوگی، اس نظر کی ابتدا 23 نومبر سے ہوگی اور 25 نومبر تک قائم رہے گی، یہ سعد و مبارک وقت سال میں یا دو سال میں ایک بار ملتا ہے، اس سال یہ قران برج قوس میں ہوگا جو سیارہ مشتری کا ذاتی برج ہے، اچھی بات یہ ہے کہ یونانی سسٹم اور ویدک سسٹم دونوں کے مطابق سیارہ مشتری اور زہرہ اس وقت برج قوس میں ہوںگے، جب کہ خراب بات یہ ہوگی کہ 24 نومبر کو صبح 10:58 am پر سیارہ قمر برج عقرب میں داخل ہوجائے گا، یاد رہے کہ اعمال جفری کی اثر پذیری کے لیے ضروری ہے کہ بوقتِ عمل سیارہ قمر نحس حالت میں نہ ہو، چناں چہ جفری عملیات کے لیے مناسب وقت وہی ہوگا جب قمر برج عقرب میں نہ ہو لہٰذا اس سے پہلے مشتری کی ساعات استخراج کرکے ان میں کام کیا جائے، اس موقع پر ہم ایک اہم اور مو¿ثر و مجرب طریقہ ءکار دے رہے ہیں، ضرورت مند اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، خیال رہے کہ اس موقع پر لوح مشتری نورانی جو حصول مال و دولت کے لیے ہے، تیار کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ لوح زہرہ نورانی بھی تیار کی جاسکتی ہے۔
ساعتِ مشتری
23 نومبر بروز ہفتہ سیارہ مشتری کی ساعات کی ہم کراچی ٹائم کے مطابق نشان دہی کر رہے ہیں، دیگر شہروں کے قارئین کراچی سے اپنے وقت کا فرق معلوم کرکے ان ساعتوں کو اپنے شہر کے وقت کے مطابق کرسکتے ہیں۔
مشتری کی پہلی ساعت 23 نومبر کو 07:46 am سے 08:40 am تک ہوگی۔
دوسری ساعت 02:06 pm سے 03:01 تک رہے گی جب کہ تیسری ساعت رات 09:01pm سے 10:07pm تک ہوگی اور چوتھی ساعت 24 نومبر کو قبل طلوع آفتاب 04:41 am سے 05:47 am تک رہے گی،یہی ساعتیں کام کی ہوں گی۔


مشتری انسانی زندگی کے اہم ترین معاملات و مسائل پر اثر انداز ہوتا ہے ، مثلاً اعلیٰ تعلیم کا حصول ، اچھی جاب ، معقول شوہر ، بیرون ملک سفر ، حج و عمرہ کی سعادت ، کاروباری معاملات میں وسعت و ترقی ، انعامی اسکیموں میں خوش بختی اور شادی میں رکاوٹ یا تاخیر کوختم کرنے میں بھی مشتری کی سعادت اہم حیثیت رکھتی ہے ، خاص طورپر لڑکیوں کے زائچے میں جدید علم نجوم کی تحقیقات کے مطابق مشتری ایک بہتر شوہر کے انتخاب میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔
اگر مشتری کی پوزیشن زائچہ پیدائش میں کم زور ہو اور وہ زائچے کے پہلے ، دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، آٹھویں یا بارھویں گھروں میں سے کسی گھر کا مالک ہو اور کم زور پوزیشن رکھتا ہو یا کسی منحوس ستارے سے متاثرہ ہو تو شادی میں تاخیر ، ناکارہ ، نکھٹو ، جاہل ، ظالم اور کنجوس شوہر ملتا ہے ۔
ایسی صورت میں منجم حضرات مشتری کا منسوبی پتھر پیلا پکھراج کسی اچھے وقت میں پہننے کا مشورہ دیتے ہیں (اچھے وقت سے مراد یہ ہے کہ اُس وقت مشتری باقوت ہو اور زائچے میں طالع کے درجات سے ناظر ہو) یا مشتری کا منسوبی نقش انگوٹھی پر کندہ کرکے دائیں ہاتھ کی پہلی انگلی یا رنگ فنگر میں پہنایا جاتا ہے ، ساتھ ہی مشتری کے مخصوص صدقات پابندی سے دینے کی ہدایت کی جاتی ہے تو تھوڑے ہی عرصے میں لڑکی کی نصیب کشائی کا سامان ہوجاتا ہے ۔
یہی صورت مرد حضرات کے ساتھ اس وقت پیش آتی ہے جب سیارہ مشتری زائچے کے پہلے ، دوسرے ، چوتھے ، پانچویں ، ساتویں ، نویں ، دسویں ، گیارھویں اور بارھویں گھر کا حاکم ہو اور زائچے میں کم زور پوزیشن رکھتا ہو ، منحوس گھروں میں ہو یا کسی منحوس کے ساتھ حالت قران میں ہو یا کسی منحوس کی نحس نظر کا شکار ہو۔
ایسی صورت میں ذاتی صلاحیتوں میں کمی ، ذہانت اور تعلیم سے محرومی ، خوش بختی اور عمدہ شعور کا فقدان ، جاہل اور نامعقول شریک حیات ، بیرون ملک سفر میں رکاوٹ یا بیرون ملک جانے کے بعد ناکامیاں ، کاروبار میں اور عزت و وقار میں نامرادی ، اولاد سے محرومی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں ، ایسی صورت میں بھی عام منجمین پیلا پکھراج پہننے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں مشتری کا پتھر استعمال کرنا نقصان دہ بھی ثابت ہوجاتا ہے ، وہ کچھ دوسری خرابیوں کا باعث بن سکتا ہے ، خاص طورپر جب مشتری زائچے کے چھٹے ، آٹھویں اور بارھویں گھر کا مالک بھی ہو اور ان گھروں پر برج قوس قابض ہو تو ایسی صورت میں مشتری کا منسوبی پتھر کچھ نئی خرابیاں اور مسائل پیدا کرتا ہے ، ایسی صورت میں بہترین بات یہی ہوتی ہے کہ مشتری کا نقش انگوٹھی پر کندہ کرکے خاص وقت پر پہنایا جائے ، قدیم زمانوں سے یہ طریقہ کار رائج ہے اور سات سیارگان کے ساتھ راس و ذنب کے نقش مثلث بھی اس حوالے سے مستعمل ہیں ۔
خاتم مشتری نہ صرف یہ کہ زائچہ پیدائش میں مشتری کی پیدائشی خرابیوں کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے بلکہ چوں کہ مشتری کا تعلق مال و دولت ، وسعت و ترقی اور فہم فراست سے ہے لہٰذا اس انگوٹھی کو پہننے والا جس کام میں بھی ہاتھ ڈالے ، کامیاب و کامران رہتا ہے ، اس کا ہاتھ روپے پیسے سے خالی نہیں رہتا ، انعامی اسکیموں میں شرکت فائدے کا باعث ہوتی ہے ، وہ اپنے کاموں میں معقول حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور ایسے راستوں سے بچتا ہے جو اسے نقصان یا کسی تباہی کی طرف لے جائیں ۔
اس حوالے سے حسبِ وعدہ ہم اپنا مخصوص طریقہ کار قارئین کی نذر کر رہے ہیں ، یہ سینے کے وہ راز ہیں جنہیں لوگ عام نہیںکرتے ، وما توفیقی اللہ باللہ
” نقش خاتم مشتری “ ابتدا میں دیا جارہا ہے ، اسے مشتری کے شرف ،اوج یا ایسے اوقات میں تیار کیا جاسکتا ہے جب مشتری باقوت اور نحوست سے پاک ہو، ساعت مشتری میں اس وقت کندہ کیا جائے یا ڈھال لیا جائے جب قمر بھی باقوت ہو اور موافق برج میں ہو ، مشتری سے قربت یا دوستانہ نظر رکھتا ہو، اس وقت سے فائدہ اٹھانے کے لےے مشتری کی سعد ساعت کا انتخاب کیا جائے اور پہلے سے تمام تیاری مکمل کرلی جائے ۔
مشتری کا بخور اور خوشبو استعمال کریں ،مشتری کے بخورات میں مشہور حب الغار ہے لیکن یہ آسانی سے دستیاب نہیں ہے لہٰذا صندل سُرخ ، لوبان، عود وغیرہ سے کام لیا جاسکتا ہے،اگر انگوٹھی پہلے سے تیار نہ ہو تو چاندی کے پترے پر نقش کندہ کرکے رکھ لیں اور بعد میں اس پترے کو چاندی کی انگوٹھی میں جڑوالیں ، یہ نقش کسی زرد یا سبز رنگ کے نگینے پر بھی لکھا جاسکتا ہے مگر ظاہر ہے یہ کام عام لوگوں کے بس کا نہیں ہے ، اس سلسلے میں ہم سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ہم چاندی کے علاوہ مشتری کے منسوبی پتھر پیلے جیڈ پر لوح مشتری نورانی اور خاتم مشتری تیار کرتے ہیں ،اس کے علاوہ گرین جیڈ پر لوحِ عطارد بھی تیار ہوگی، انشاءاللہ۔
اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نقش کا دائرہ اور اندرونی خانے ہر قسم کی خامی سے پاک ہوں ، کیوں کہ ان خانوں کے مخصوص زاویے بھی ایک طلسمی اثر رکھتے ہیں ، نقش کے درمیان میں مشتری کا طلسم ہے ، اسے بھی مکمل صفائی اور درستگی کے ساتھ بنانا ضروری ہوگا ۔
مخصوص ڈیزائن میں درحقیقت یہ 9 خانوں کا مثلث نقش ہے ، جس کی چال آتشی ہے ، یعنی پہلا خانہ عدد 5 کا ہے اور اس کے بعد بالترتیب 6 ، 7، 8، 9 ، 10 ، 11 ، 12 اور 13 عدد لکھے جائیں گے ، اگر کسی سانچے میں ڈھالنا مقصود ہو یا ڈائی بناکر ایک سے زیادہ نقوش مختصر وقت میں تیار کرنا ہوں تو لازم ہوگا کہ وہ نقش جو ڈائی بنانے کے لےے دیا جائے اسے عامل ساعت مشتری میں جمعرات کے روز اپنے ہاتھ سے چال کے مطابق پُِر کرے اور پھر اس کی ڈائی بنوالی جائے اور یہ کام بھی اسی دوران میں کرلیا جائے جب مشتری سعد اور باقوت ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں