ملکی ، سیاسی اور عوامی معاملات پر ایک تجزیاتی نظر، نومبر کے امکانات

گزشتہ ماہ اکتوبر کے حوالے سے ملک کی سیاسی صورت حال میں جن اندیشوں کا اظہار کیا گیا تھا، صورت حال اسی جانب بڑھ رہی ہے، وزیراعظم عمران خان بھی اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں،یہی صورت سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بھی نظر آتی ہے، دوسری طرف اپوزیشن بھی بھرپور محاذ آرائی پر آمادہ ہے، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں،ان کی تیاریاں توجہ طلب ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر صورت میں حکومت کی تبدیلی اور نئے الیکشن چاہتے ہیں۔
فلکیاتی صورت حال بھی ناموافق ہے، اقتدار کا ستارہ شمس کمزور پوزیشن میں ہے، اس ماہ 6 نومبر کو سیارہ مشتری پاکستان کے زائچے کے آٹھویں گھرمیں داخل ہوگا تو ملک کے داخلی معاملات میں غیر ملکی قوتوں کی سرگرمیاں بڑھنے کا امکان موجود ہے، نئے حادثات و سانحات جنم لے سکتے ہیں، معاشی صورت حال بھی مزید خرابی کی طرف جائے گی، حکومت کے لیے نئے چیلنج اور سنجیدہ نوعیت کی پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں، البتہ نئی تبدیلیاں بہتر نتائج لائیں گی، وزیروں اور مشیروں کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
اس مہینے میں 10 نومبر سے 25 نومبر تک کا وقت خاصا تشویش ناک نظر آتا ہے کیوں کہ سیارہ مریخ زائچے کے چھٹے گھر میں داخل ہوجائے گا،اس دوران میں ملک میں کسی ایمرجنسی جیسی صورت حال کے پیدا ہونے کا اندیشہ موجود ہے اور اس کے نتیجے میں سخت قسم کے آئینی یا غیر آئینی اقدام و فیصلے ہوسکتے ہیں، مزید یہ کہ غیر ملکی قوتیں بھی بھرپور طریقے سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتی ہیں، چناں چہ حکومت اور وزیراعظم کی بہتر صلاحیتوں کا امتحان ہوگا کہ وہ کس طرح اس صورت حال سے عہدہ برآ ہوتے ہیں، امکان یہی ہے کہ 16 نومبر کے بعد صورت حال میں بہتری کے آثار نمودار ہوں گے اور بالآخر بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے میں آسانی ہوسکے گی (واللہ اعلم بالصواب)
اس موقع پر فیض صاحب کا مشہور یاد آرہا ہے

اس جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجیے
جو راہ اُدھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے

نومبر کے ستارے

گردش سیارگان ہمارے نظام شمسی کی ایک اٹل حقیقت ہے، مختلف سیارگان مسلسل حرکت میں رہتے ہوئے دائرئہ بروج میں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور اس طرح ان کے اثرات ہماری زمین کو متاثر کرتے ہیں، روز و شب کی تبدیلی ، موسموں کی تبدیلی اور زمانوں کی تبدیلی ہمارے مشاہدے میں آتی رہتی ہے، انسانی زندگی بھی سیاروی گردش سے متاثر ہوتی ہے، یہ اثرات قوت بخش اور فائدہ مند بھی ہوتے ہیں جب کہ بعض صورتوں میں نقصان دہ اور کمزوریاں لانے والی بھی ثابت ہوتے ہیں، اللہ کے قائم کردہ نظام میں فلکیاتی مشاہدات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
نومبر کا آغاز ہونے والا ہے، اس ماہ اقتدار کا سیارہ شمس برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے، 22 نومبر کو برج قوس میں داخل ہوگا اور اس ماہ کے آخر تک اسی برج میں رہے گا، ذرائع ابلاغ اور پیغام رسانی کا سیارہ عطارد بحالت رجعت برج عقرب میں ہے، پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا اور 21 نومبر کو مستقیم ہوکر اپنی سیدھی چال پر آجائے گا، خیال رہے کہ عطارد کی الٹی چال میڈیا ، سفری امور اور ضروری معلومات کے حصول میں رکاوٹ ، التوا اور گفت و شنید میں مسائل کا باعث ہوتی ہے، اس عرصے میں نئے کاموں کا آغاز نہیں کرنا چاہیے۔
توازن اور ہم آہنگی کا سیارہ زہرہ برج عقرب میں ہے اور 2 نومبر کو برج قوس میں داخل ہوگا، یہاں اس کی پوزیشن بہتر ہوگی، توانائی اور محاذ آرائی کا سیارہ مریخ برج میزان میں حرکت کر رہا ہے، اس برج میں اس کی شدت پسندی کم ہوتی ہے،19 نومبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا، اس وقت یہ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوگا، ترقی اور وسعت کا سیارہ مشتری اپنے ذاتی برج قوس میں حرکت کر رہا ہے اور اچھی پوزیشن رکھتا ہے، محنت اور کام سے متعلق سیارہ زحل اپنے ذاتی برج جدی میں ہے اور بہتر پوزیشن رکھتا ہے، ایجاد و اختراع کا سیارہ یورینس بحالت رجعت برج ثور میں حرکت کر رہا ہے،پراسرار نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں ہے اور 27 نومبر کو مستقیم ہوگا، کایا کلپ کا سیارہ پلوٹو برج جدی میں حرکت کرے گا جب کہ راس اور ذنب بالترتیب برج سرطان اور جدی میں حرکت کریں گے،یہ سیاروی پوزیشن یونانی سسٹم کے مطابق ہے۔

اثرات و نظراتِ سیارگان

عزیزان من! ہماری کہکشاں میں ، اپنے اپنے دائروں نے تیرتے ہوئے سیارے مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کے جیومیٹریکل زاویے باہمی طور پر تشکیل دیتے ہیں، ان زاویوں کی علم فلکیات میں بڑی اہمیت ہے، سالہا سال کے مشاہدات اور تجربات سے ان زاویوں کے اثرات ریکارڈ کیے گئے ہیں، اصطلاحی طور پر ان زاویوں کو ”نظرات“ کہا جاتا ہے، نومبر کے مہینے میں اہم سیارگان باہمی طور پر تثلیث کے چار سعد زاویے تشکیل دیں گے اور تسدیس کے سات زاویے بنیں گے، یہ بھی سعد اثر رکھتے ہیں جب کہ اسکوائر کے دو زاویے ہوں گے اور مقابلے کا ایک زاویہ اس کا اثر نحس یا ناموافق ہوتا ہے، دو سیارے جب باہم ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں تو اسے مقابلے کی نظر کہا جاتا ہے، اس ماہ مقابلے کا ایک زاویہ بنے گا، جب دونوں ایک ہی برج میں ایک ہی درجے پر اکٹھا ہوں تو اسے ”قران“ کہتے ہیں، اس ماہ دو قرانات بھی ہوں گے، مختلف سیاروں کے اس ماہ تشکیل پانے والے زاویوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
5 نومبر: سیارہ مریخ اور پلوٹو کے درمیان اسکوائر کا نحس زاویہ تشکیل پائے گا، دونوں سیارے طاقت اور توانائی کا اظہار کرتے ہیں، جارحانہ صورت حال پیدا ہوتی ہے، اس وقت میں تنازعات بڑھتے ہیں اور اکثر حادثات و سانحات یا جنگ و جدل کی صورت حال کا اندیشہ رہتا ہے، ملکی اور بین الاقوامی صورت حال میں پاور پلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عام آدمی اس زاویے سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا، واضح رہے کہ ایسے زاویے بہت پہلے سے اپنا اثر شروع کرتے ہیں اور بہت بعد تک یہ اثرات جاری رہتے ہیں۔
8 نومبر: سیارہ شمس اور زحل کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ اور ساتھ ہی سیارہ شمس اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہورہا ہے، یہ صورت حال حکومت کے لیے معاون و مددگار ہوگی، انھیں اپنے مسائل یا مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی، عام افراد کے لیے یہ وقت موافق ہوگا جس میں سرکاری ملازمین کو بہتر مواقع مل سکتے ہیں، غیر سرکاری افراد ایسے کاموں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں جن کا تعلق گورنمنٹ سے ہو، اس وقت علاج معالجہ بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
9 نومبر: سیارہ زحل اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ فوری نوعیت کے اثرات ظاہر نہیں کرتا، ایسے زاویے مستقبل میں غیر معمولی تبدیلیوں کی نشان دہی کرتے ہیں، کان کنی اور دیگر زمین سے متعلق کاموں مثلاً زراعت وغیرہ میں نئے رجحانات اور امکانات کو فروغ ملتا ہے۔
10 نومبر: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ میڈیا کی فعالیت اور جارحانہ کارکردگی ظاہر کرتا ہے، عام افراد اس وقت بات چیت اور گفت و شنید میں بھی اپنی بات پر زور دیتے اور اپنی بات منوانے کے لیے دباو¿ ڈالتے نظر آتے ہیں۔
11 نومبر: شمس اور عطارد کا قران مختلف لوگوں کے لیے مختلف اثرات کا حامل ہوتا ہے لیکن مجموعی طور پر نحس اثرات رکھتا ہے، یہ وقت سفر میں رکاوٹ یا التوا لاتا ہے، کسی بھی نوعیت کی بات چیت یا مذاکرات کے لیے مثبت اثر نہیں رکھتا، اس وقت کسی نئی پیش رفت سے باز رہنے کی ضرورت ہوگی۔
12 نومبر: مریخ و مشتری کے درمیان تسدیس کی نظر سعد اثر رکھتی ہے،مشینری اور ٹیکنیکل نوعیت کے معاملات میں بہتری آتی ہے، البتہ ملک میں یہ زاویہ نئے آئینی تنازعات لاسکتا ہے، بیرونی دشمن زیادہ فعال ہوں گے، عام افراد کو مالی اور دیگر ترقیاتی کاموں میں فائدہ ہوگا۔
13 نومبر: سیارہ عطارد و زحل کے درمیان تسدیس کا زاویہ اور شمش و پلوٹو کے درمیان بھی تسدیس کا زاویہ قائم ہوگا، عوامی بہتری سے متعلق فیصلے و اقدام ہوسکتے ہیں، میڈیا میں دلچسپ خبریں سامنے آئیں گی، یہ وقت عام افراد کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی میں معاون و مددگار ہوگا، نئے معاہدات پائیدار اور مفید ثابت ہوں گے۔
14 نومبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ ، نشرواشاعت سے متعلق معاملات میں بہتری لائے گا، عام افراد کے لیے یہ وقت سفری امور کو آگے بڑھانے یا نیا سفر کرنے کے لیے بہتر ہے، اس وقت میں تحریری ، تقریری صلاحیتوں کا بہتر اظہار ہوسکتا ہے، تخلیقی سرگرمیاں بہتر رہیں گی۔
اسی روز زہرہ و نیپچون کے درمیان اسکوائر کا نحس زاویہ ہے، رومانی معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، کوئی دھوکا یا فراڈ ہوسکتا ہے،منگنی و نکاح وغیرہ میں بھی دیکھ بھال کے فیصلے کیے جائیں، جیسا نظر آرہا ہوگا درحقیقت ویسا نہیں ہوگا۔
24 نومبر: زہرہ اور مشتری کے درمیان قران کا زاویہ نہایت اہمیت رکھتا ہے، اسے ”قران السعدین“ بھی کہا جاتا ہے، عام افراد کے لیے یہ وقت ترقیاتی دلچسپیاں لاتا ہے، دو افراد کے باہمی تعلقات میں بہتری آتی ہے لیکن پاکستان کے زائچے کے مطابق یہ بہتر وقت نہیں ہوگا، نئے حادثات جنم لے سکتے ہیں۔
اسی تاریخ کو مریخ اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر قائم ہوگی، غیر معمولی اثرات اور چونکا دینے والے واقعات سامنے آسکتے ہیں، کوئی غیر ملکی فیصلہ یا اقدام اہمیت اختیار کرے گا، ہماری توقع کے خلاف اچانک کوئی نئی صورت حال سامنے آسکتی ہے، عام افراد کو بھی اس نحس نظر میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، کسی ایکسیڈنٹ کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یا کوئی اور بڑا حادثہ رواں صورت حال کا رخ بدل سکتا ہے۔
28 نومبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ دوسری بار قائم ہوگا، یہ سعد اثر رکھتا ہے اور اس وقت تخلیقی نوعیت کی سرگرمیاں فائدہ بخش رہی ہوں گی، تحریر و تقریر یا پیچیدہ نوعیت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی،اسی تاریخ کو عطارد اور یورینس کے درمیان بھی تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا اور میڈیا میں اچھی ، خوش گوار خبروں کی توقع رکھنا چاہیے، عام افراد کے لیے یہ وقت غیر متوقع طور پر فوائد لاسکتا ہے، کسی نئے سفر کا امکان اور نئے آئیڈیاز یا نئی اطلاعات کا حصول ممکن ہوگا۔
30 نومبر: عطارد اور زحل کے درمیان تسدیس کا زاویہ بھی دوبارہ قائم ہوگا، یہ بھی سعد اثر رکھتا ہے اور اس وقت نئے ایگریمنٹ یا طویل مدت کے منصوبوں کے لیے کام کرنا چاہیے، علاج معالجے کے لیے بھی بہتر وقت ہوگا۔

شرف قمر

سیارہ قمر کو برج ثور میں اعلیٰ پوزیشن حاصل ہوتی ہے جسے شرف کہتے ہیں، ہر ماہ یہ سعد اور مبارک وقت آتا ہے،اس ماہ قمر اپنے شرف کے برج میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 11 نومبر بروز پیر 04:17 am پر داخل ہوگا اور 13 نومبر بروز بدھ دوپہر 01:45 pm تک رہے گا لیکن اس تمام عرصے میں درجہ ءشرف پر 11 نومبر کو 08:12 am سے 10:08 am تک ہوگا، تقریباً 2 گھنٹے کا یہ وقت نہایت مبارک تسلیم کیا گیا ہے، اس وقت اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کرنا چاہیے، خیال رہے کہ پیر کا دن بھی سیارہ قمر سے منسوب ہے اور عروج ماہ بھی ہے لہٰذا یہ نہایت ہی مو¿ثر وقت ہے، اس وقت میں سیارہ قمر سے متعلق دیگر اعمال بھی کیے جاسکتے ہیں، خصوصاً لوح قمر نورانی یا برکاتی انگوٹھی وغیرہ اس وقت میں تیار کی جاسکتی ہے۔

قمر در عقرب

قمر جب برج عقرب کے تین درجے پر پہنچتا ہے اس کی قوت ختم ہوجاتی ہے، اس وقت کو انتہائی ناقص اور منحوس خیال کیا جاتا ہے، اس دوران میں کوئی اچھا ، ترقیاتی یا منگنی بیاہ وغیرہ کا کام نہیں کرنا چاہیے،اس ماہ قمر اپنے برج ہبوط میں بروز اتوار 24 نومبر کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 10:58 am پر داخل ہوگا اور 26 نومبر بروز منگل 01:10 pm تک برج عقرب میں رہے گا، اپنے درجہ ءہبوط پر 24 نومبر کو 02:17 pm سے 15:56 pm تک رہے گا۔
اس خراب وقت سے بھی ایسے کام لیے جاسکتے ہیں جن میں بیماریوں سے نجات ، بری عادتوں سے چھٹکارا اور دشمنوں سے تحفظ کے لیے عمل کیے جاتے ہیں، اس وقت علاج معالجہ کرانا بہتر ہوتا ہے،ایک چھوٹا سا آسان عمل یہاں دیا جارہا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

مخالف کی زبان بندی

عین گہن کے وقت مندرجہ ذیل سطور کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں یا سیسے کی تختی پر کسی نوکدار چیز سے کندہ کریں اور پھر کسی بھاری چیز کے نیچے دبا دیں یا کسی نم دار جگہ دفن کر دیں۔ انشاءاﷲ وہ شخص آپ کی مخالفت سے باز آجائے گا۔
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لا د یا یا غفور یا غفور عقد اللسان فلاں بن فلاں فی الحق فلاں بن فلاں یا حراکیل

اپنا تبصرہ بھیجیں