دونوں شخصیات کی زندگی کے اتفاق و اختلاف پر تجزیاتی نظر

جڑواں بچوں کی پیدائش ہمیشہ ایسٹرولوجی پر اعتراض کرنے والوں کا پسندیدہ سوال ہوتا ہے،وہ کہتے ہیں کہ ایک ہی دن ، تاریخ، سال اور مقام پر پیدا ہونے والے بچے کیسے ایک دوسرے سے مختلف سوچ ، عمل اور رویے کے حامل ہوتے ہیں، یقیناً یہ ایک نہایت اہم سوال ہے اور اس علم پر بھرپور گرفت رکھنے والے ماہرین نے اس کا معقول جواب بھی دیا ہے یہاں ہمارا موضوع جڑواں بچے نہیں ہے لہٰذا اس سوال کا جواب دینے کا یہ موقع بھی نہیں ہے صرف اتنا اشارہ دینا کافی ہے کہ جڑواں بچے بے شک ایک ہی دن تاریخ اور مقام پر پیدا ہوتے ہیں لیکن پیدائش کے وقت میں چند منٹ کا فرق ضرور ہوتا ہے اور یہی فرق نہایت اہم ہے جو دونوں کی زندگی کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
فی الوقت ہمارے پیش نظر ایک دوسرا دلچسپ اتفاق ہے، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن ۔
اتفاق سے کچھ عرصہ پہلے صدر پیوٹن کی تاریخ پیدائش، وقت پیدائش وغیرہ ہماری نظر سے گزری، اس تاریخ کے مطابق بعض مشہور منجمین نے صدر پیوٹن کا زائچہءپیدائش بنایا ہے جسے دیکھ کر ہم خاصے حیران ہوئے کیوں کہ یہ زائچہ وزیراعظم عمران خان کے زائچے سے بے حد مماثل ہے۔

برسوں پہلے عمران خان کی مشہور تاریخ پیدائش 25 نومبر ہمارے پیش نظر رہی لیکن بعد ازاں محترم سید انتظار حسین شاہ زنجانی کی ذاتی کوشش سے عمران خان سے رابطہ کیا گیا اور انھوں نے بتایا کہ ان کی درست تاریخ پیدائش 5 اکتوبر1952 ، لاہور ہے جب کہ وقت پیدائش تقریباً صبح 9 بجے ہے، چناں چہ پہلی مرتبہ ہم نے ہی ماہنامہ آئینہ قسمت میں عمران خان کا درست زائچہ پیش کیا تھا،واضح رہے کہ تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق اب وکی پیڈیا پر بھی عمران خان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1952 ہے۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی تاریخ پیدائش7 اکتوبر 1952 ،سینٹ پیٹرز برگ ہے اور وقت پیدائش صبح 09:29 am ہے۔
اب دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ دونوں افراد کا طالع پیدائش برج میزان ہے،یقیناً طالع کے درجات میں نمایاں فرق ہے، برج میزان کا حاکم سیارہ زہرہ اپنے گھر میں باقوت پوزیشن رکھتا ہے اور کلاسیکل ویدک سسٹم کے مطابق ”ملاویا یوگ“ بنارہا ہے،یہ یوگ خوش قسمتی کی علامت ہے اور چوں کہ طالع کا حاکم اس میں اہمیت رکھتا ہے لہٰذا یہ کسی راج یوگ سے کم نہیں ہے، راج یوگ کے اصولوں کے مطابق زائچے میں موجود پری ورتن یوگ اور گج کیسری یوگ بھی کسی راج یوگ سے کم نہیں ہےں۔
زائچے کے پہلے گھر میں برج میزان طلوع ہے اور اس کا مالک سیارہ زہرہ طاقت ور پوزیشن میں ملاویا یوگ بنارہا ہے، پہلے گھر کا حاکم پہلے گھر میں ہو تو یہ اچھی صحت اور سوسائٹی میں اچھی پوزیشن کے علاوہ لمبی عمر دیتا ہے، صاحب زائچے کی زندگی کا آغاز بہتر اور مناسب انداز میں ہوتا ہے اور وہ زندگی میں مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
جب کہ ساتویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ تیسرے گھر برج قوس میں قابض ہے اور برج قوس کا حاکم سیارہ مشتری مریخ کے گھر برج حمل میں براجمان ہے،اسے پری ورتن یوگ کہا جاتا ہے یعنی دو ستارے باہم ایک دوسرے کے گھروں میں قابض ہوتے ہیں، تیسرے گھر کا حاکم سیارہ مشتری ساتویں گھر میں ہو تو صاحب زائچہ زندگی میں لمبے سفر کرتا ہے، اسٹیٹس کا مالک ہوگا، بیرون ملک رہائش اختیار کرے گا، شریک حیات کے معاملات میں ایسے شخص کی ترجیحات شدید ہوں گی اور ایک سے زیادہ تعلقات ہوں گے گویا رومان پسندی نمایاں ہوگی۔
چوتھے گھر میں راہو جب کہ ساتویں گھر میں مشتری کے علاوہ سیارہ قمر موجود ہے،قمر اور مشتری کا ایک ہی گھر میں ہونا گج کیسری یوگ کہلاتا ہے، یہ بھی خوش قسمتی لانے والا یوگ ہے اور خاص طور پر ایسے لوگ خدمت خلق یا اصلاح معاشرہ کے لیے کام کرتے نظر آتے ہیں،زائچے کا دسواں گھر سرطان ہے اور یہاں غضب ناک کیتو موجود ہے،اس کے علاوہ زائچے کے بارھویں گھر میں سیارہ شمس، زحل اور عطاردقابض ہےں، یہ زائچے کا کمزور و ناقص پہلو ہے جو زندگی میں بہت سے مسائل ، پریشانیوں اور مصائب کو جنم دیتا ہے،عمران خان کی زندگی ایسے مصائب و مشکلات سے عبارت ہے، زندگی کا ابتدائی دور ہو یا درمیانہ یا آخری یہ مصائب و مشکلات جاری رہیں گے۔
سیارہ زحل زائچے کے پانچویں گھر کا حاکم اور یوگ کارک سیارہ ہے، خیال رہے کہ جو سیارہ زائچے کے دو سعد گھروں کا حاکم ہو اسے ”یوگ کارک“ کہا جاتا ہے، پانچویں گھر کا تعلق شعور ، زندگی کی خوشیاں ، بچے، اعلیٰ تعلیم ، زائد آمدن وغیرہ سے ہے ، اگر اس کا حاکم بارھویں گھر میں ہو تو ایسے لوگ اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی دوسرے ملک جاتے ہیں،ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان ابتدائی عمر ہی میں تعلیم کے لیے ملک سے باہر یعنی انگلینڈ چلے گئے تھے اور پھر ایک طویل عرصہ انھوں نے ملک سے باہر گزارا کیوں کہ گیارھویں گھر کا حاکم شمس بھی بارھویں گھرمیں ہے لہٰذا ذرائع آمدن کا تعلق بھی بیرون ملک سے رہا۔
طالع برج میزان کے لیے راہو کیتو کے علاوہ سیارہ عطارد نحس اثرات کا حامل سیارہ ہے کیوں کہ یہ بارھویں گھر کا حاکم ہے اور پانچویں گھر کے حاکم سیارہ زحل کو متاثر بھی کر رہا ہے، مزید خرابی یہ ہے کہ شمس کی قربت کے سبب سیارہ زحل غروب بھی ہے،گویا تعلیمی زمانہ ہو یا کوئی اور دور عمران خان کے لیے آسانیاں کبھی نہیں رہیں، عطارد کی مداخلت کے سبب ابتدائی زندگی میں ان کی شہرت بھی خاصی متنازع ہوئی، عشق معاشقے ، اسکینڈلز و دیگر رنگ رلیاں نوجوانی میں اسی پانچویں گھر کے حاکم کی خرابی کا پھل ہیں۔
راہو کیتو کی پوزیشن زائچے کے بعض اہم گھروں کو متاثر کرتی ہے جن میں دوسرا گھر ، چوتھا گھر، چھٹا گھر، آٹھواں گھر، دسواں گھر اور بارھواں گھر شامل ہیں، دوسرے گھر کامتاثر ہونا اسٹیٹس ، ذرائع آمدن اور فیملی لائف کے لیے اچھا نہیں ہے، چوتھے گھر کا متاثر ہونا والدین اور خصوصاً ماں کے لیے نقصان دہ ہے، مزید یہ کہ ایسا شخص اپنے گھر میں سکون اور آرام نہیں پاتا، چھٹے گھر کا متاثر ہونا صحت کے معاملات کو خراب کرتا ہے، ساتھ ہی مزاج میں تندی تیزی اور جھگڑالو پن لاتا ہے، یہ تمام خامیاں ہمیں عمران خان کی شخصیت میں نظر آتی ہیں، زائچے کا آٹھواں گھر متاثر ہو تو وراثت میں کوئی بڑا ترکہ نہیں ملتا، مزید یہ کہ ازدواجی زندگی میں ناکامی اور طلاق کا اندیشہ موجود رہتا ہے، چناں چہ اب تک ان کی دو شادیاں ناکام ہوچکی ہیں، زائچے کا دسواں گھر متاثر ہو تو کرئر اور پیشہ ورانہ معاملات میں اُتار چڑھاو¿ کا سامنا رہتا ہے، ایسے لوگوں کو ہمیشہ اپنے سپیریئرز یا اعلیٰ افسران سے تناو¿ اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عمران خان کے کرئر میں یہ صورت حال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی اور سیاست میں بھی یہ صورت حال بدستور ہے،زائچے کا بارھواں گھر بے آرامی ، بے خوابی، مستقبل کے خوف لاتا ہے جس کے نتیجے میں خواب آور ادویات کا استعمال شروع ہوسکتا ہے، ایسے لوگ خواب آور ادویات کے عادی ہوجاتے ہیں۔
زائچے کی کمزوریوں اور خرابیوں کے ساتھ زائچے کی خوبیاں بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتیں، یہ ممکن نہیں ہوتا ہے دنیا میں کسی بھی شخص کا زائچہ صرف خوبیوں سے عبارت ہو اور اس میں خامیاں ہی نہ ہو، خوبیوں میں سرفہرست طالع میزان کا طاقت ور ہونا اور ملاویا یوگ ہے، ایسے لوگوں کو ہمیشہ قدرت کی طرف سے مواقع ملتے رہتے ہیں اور وہ ان سے فوائد حاصل کرتے رہتے ہیں، برج میزان توازن اور ہم آہنگی کا برج ہے، فطری طور پر جمال و رومان پرست ہے،چوں کہ طالع کے درجات بھی سیارہ زہرہ کے زیر اثر ہےں لہٰذا پیدائشی طور پر وہ ایک حسین اور وجیہ شخصیت کے مالک رہے ہیں،ہمارے خیال سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ عمران خان حسینان عالم کے پیچھے بھاگتے تھے ، حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کی حسینائیں ان کے پیچھے بھاگتی رہی ہیں، وہ بنیادی طور پر نرگسیت کا شکار رہے ہیں، ایسے لوگوں کو چاہے جانے کی خواہش تو شدید ہوتی ہے لیکن وہ دوسروں کو نہیں چاہتے بلکہ اپنی ہی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی ہی دھن میں مگن رہتے ہیں، ان کے ماضی کے رومانس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایما سارجنٹ، کرسٹن بیکر، سیتا وائٹ یا جمائما خان خود ان کی طرف متوجہ ہوئیں، فطری حسن پرستی نے کسی کے قدم روکنے کی کبھی کوشش بھی نہیں کی جو ملتا ہے محبت سے نیا غم دے ہی جاتا ہے۔

فطری رجحانات

کسی بھی زائچے میں صاحب زائچہ کے فطری معاملات کو سمجھنے کے لیے علم نجوم میں قمری برج کو بڑی اہمیت حاصل ہے، قمر جس برج میں موجود ہو وہ فطرت کی تشکیل کرتا ہے، عمران خان کے زائچے میں قمر برج حمل میں ہے، اس کا حاکم ڈائنامک سیارہ مریخ ہے جسے توانائی کا سیارہ کہا جاتا ہے، یہ لوگ پہل کار، نڈر، خوش امید، اپنی من مانی کرنے والے، ڈومینیٹنگ نیچر کے حامل، جلد باز، بے صبرے، بچگانہ حرکتیں کرنے والے ہوتے ہیں، عمران خان کے پورے کرئر میں ، وہ کرکٹ کرئر ہو یا سیاسی یہ فطری رجحانات نظر آئیں گے،انسانی فطرت کے حوالے سے مزید تحقیق کے لیے ایسٹرولوجی میں منازل قمری کو نہایت اہمیت حاصل ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ قمر برج حمل میں ہوتے ہوئے ”اشونی نچھتر“ میں ہے، اس نچھتر پر غضب ناک کیتو حاکم ہے، کیتو کا تعلق روحانیات سے بھی ہے،اشونی نچھتر کا نشان گھوڑے کا سر ہے، فطرت نیک و پاکیزہ (Divine) اس کا محرک مذہب ہے،یہ لوگ آگے کی طرف دیکھتے ہیں، پیچھے نہیں، مریخ اور کیتو کا امتزاج اس نچھتر میں پیدا ہونے والے افراد کو زبردست توانائی فراہم کرتا ہے،غیر معمولی طو پر فعال ہوتے ہیں، ہٹ دھرمی یا استواری ، غضب ناکی اور زندگی کی امنگ کی تاثیر ہوتی ہے، اشونی نچھتر میں کھلندڑا پن اور بچگانہ فطرت بھی نمایاں ہے، ایک نڈر اور بے خوف جذبہ جو نئے جہان دریافت کرنا چاہتا ہو، سامنے آتا ہے، چوں کہ برج حمل سیارہ شمس کے شرف کا برج ہے لہٰذا لیڈر شپ ، جنگ جویانہ صلاحیت، اختیارات اور قدرومنزل کی چاہت بھی اس نچھتر سے وابستہ ہے،اس کا بنیادی محرک مذہبی کار نمایاں اور سرگرمی کا اصول ہے، قانون ، فرض، مذہب اور اخلاقی رویے پر یہاں زور دیا جاتا ہے، قمری منزل کے اس مختصر جائزے سے عمران خان کی فطرت پر روشنی پڑتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ فطری طور پر ہمیشہ اعمال صالح کی طرف رغبت رکھتے تھے،اس کا اندازہ اس واقعے سے بھی ہوتا ہے جب وہ نوجوانی میں مشہور گلوکارہ کرسٹن بیکر سے شادی کا پروگرام بنارہے تھے، ایم ٹی وی کی یہ مشہور گلوکارہ ان کے عشق میں دیوانی تھی، جب عمران خان سے اس کی شادی نہ ہوسکی اور انھوں نے بعد ازاں جمائما خان سے شادی کرلی تو کرسٹن بیکر ایک نفسیاتی مریضہ بن گئی، عمران اس کو پاکستان بھی لائے تھے اور اپنے ملک کی خوبصورتی دکھانے کے لیے کاغان وغیرہ تک لے گئے تھے۔
کرسٹن بیکر بعد میں مسلمان ہوئی اور اس نے اپنی بائیوگرافی لکھی جو ”فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ“ کے نام سے شائع ہوئی، وہ لکھتی ہے کہ ایک رات میں عمران خان کے فلیٹ پر اس کے ساتھ تھی اور وہ مجھے اپنے نبی ﷺ کی سیرت پڑھ کر سنارہے تھے، میں نے دیکھا کہ وہ رو رہے تھے، خصوصاً جب نبی اکرم ﷺ پر کفار مکہ کے ظلم و زیادتیوں کا ذکر آیا، وہ بہت حیران ہوئی کہ عمران جیسا مضبوط اعصاب کا مالک اور ایک سپاٹ چہرہ رکھنے والا انسان اتنا جذباتی کیسے ہوگیا“
کرسٹن بیکر سے شادی نہ کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ کسی صورت بھی مسلمان ہونے کے لیے تیار نہیں تھی، چناں چہ عمران خان اس سے دور ہوگئے اور جمائما گولڈ اسمتھ سے قریب ہوتے چلے گئے کیوں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے لیے تیار تھیں، یہاں تک کہ دونوں کی شادی ہوگئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی ابتدائی زندگی گویا دور نوجوانی مغرب کے آزاد خیال ماحول میں گزرا اور کسی حد تک اس ماحول کا اثر بھی انھوں نے قبول کیا لیکن شاید اسی وقت فطری نیک خصلت بھی اپنا کام کر رہی تھی جس نے انھیں مکمل طور پر اس ماحول میں جذب نہ ہونے دیا ورنہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ شادی کے لیے کسی کرسچن یا یہودی سے قبول اسلام کی شرط نہ لگاتے، بالآخر یہی نیک فطرت انھیں اپنی والدہ کی بیماری کے بعد شوکت خانم کینسر اسپتال کے قیام کی جدوجہد میں مصروف کرتی نظر آتی ہے اور بعد ازاں سیاست میں لاتی ہے تاکہ وہ پاکستانی سیاست کے اس گلے سڑے اور تعفن زدہ ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں، اس کوشش میں انھیں اندازہ ہوگیا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، بہر حال زائچے کی پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ وہ آخری حد تک جانے والے انسان ہیں، خواہ اس راستے میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
گزشتہ سال جولائی میں الیکشن کے بعد پاکستان کے لیجنڈ ادیب جناب مستنصر حسین تارڑ نے عمران خان پر کئی کالم لکھے حالاں کہ وہ عام طور سے سیاسی موضوعات پر نہیں لکھتے لیکن وہ ان لوگوںمیں شامل ہیں جو عمران خان کو پسند کرتے ہیں، اپنے ایک کالم میں انھوں نے آخر میں لکھا۔
”ایک خوش نما سنہرا پرندہ کوو¿ں میں پھنس گیا ہے اور یہ اسے ٹھونگےں مار مار کر لہو لہان کردیں گے“
وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد صورت حال کچھ ایسی ہی ہے ، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ملک کی تمام سیاسی اشرافیہ، بزنس کمیونٹی، ہمارے لبرل دانش ور ، صحافی وغیرہ سب عمران خان کے خلاف ہوگئے ہیں ، بقول فیض

کسی کا درد ہو کرتے ہیں ترے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے

عمران خان کے زائچہ ءپیدائش میں سیاروی ٹرانزٹ پوزیشن نہایت موافق اور مددگار ہے، شاید یہی پوزیشن الیکشن میں ان کی کامیابی کا سبب بنی اور ابھی تک سپورٹ کر رہی ہے، سیارہ مشتری الیکشن کے دوران میں زائچے کے پہلے گھر سے گزر رہا تھا، مشتری عمران خان کے زائچے کا نہایت اہم اور سعد سیارہ ہے، اس سال بھی مشتری کی پوزیشن موافق اور مددگار ہے، زائچے میں سیارہ مشتری کا دور اکبر جاری ہے جو سعد اثر رکھتا ہے، دور اصغر سیارہ زحل کا جاری ہے جو اگرچہ یوگا کارک ہے مگر بارھویں گھرمیں قابض اور زائچے کے منحوس اثر رکھنے والے سیارگان سے متاثرہ ہے، چناں چہ الیکشن میں وہ کامیابی نہ مل سکی جو ضروری تھی اقتدار میں آنے کے بعد جس نوعیت کی صورت حال سامنے آئی وہ بھی نہایت پریشان کن رہی جس سے نکلنے کے لیے تاحال کوشش اور جدوجہد جاری ہے۔
سال 2019 ءمیں نہایت مشکل اور سخت ترین وقت جون سے ستمبر تک نظر آتا ہے اور خاص طور پر ستمبر کچھ زیادہ ہی بڑے چیلنج سامنے لائے گا کیوں کہ اس دوران میں عمران خان کا ذاتی سیارہ زہرہ بھی اپنے ہبوط کے برج سے گزر رہا ہوگا، ہماری دعا ہے کہ اللہ انھیں اپنے نیک مقاصد میں کامیابی دے اور موجودہ بحرانی صورت حال سے نکلنے میں مدد دے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان فطری طور پر اس ملک و قوم سے مخلص ہےں اور قوم کی بھلائی چاہتے ہیں ،ان کے ذاتی مقاصد اور مفادات نہیں ہیں۔

روسی صدر پیوٹن

اپنی تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش کے مطابق صدر پیوٹن کا طالع پیدائش بھی برج میزان تقریباً 10 درجے پر ہے، سیارہ زہرہ ان کے زائچے میں بھی پہلے گھر میں طاقت ور پوزیشن میں ملاویا یوگ بنارہا ہے، اسی طرح تیسرے گھر کا حاکم مشتری بھی ساتویں گھر برج حمل میں قابض ہے اور برج حمل کا حاکم سیارہ مریخ تیسرے گھر برج قوس میں براجمان ہے، گویا پری ورتن یوگ یہاں بھی موجود ہے، دیگر سیاروی پوزیشن دونوں زائچوں کی تقریباً ایک ہی ہےِِ، بنیادی فرق صرف اتنا ہے کہ سیارہ قمر برج ثور میں داخل ہوچکا ہے اور اس کی قمری منزل کرتکا ہے۔
عمران خان کی طرح ابتدائی زندگی میں انھیں بھی مشکلات اور سخت جدوجہد کا سامنا رہا، ان کا رجحان بھی اسپورٹس کی طرف ہوا، البتہ وہ کرکٹ کے بجائے مارشل آرٹس کی طرف متوجہ ہوئے، عمران خان کے زائچے کے برعکس ان کے زائچے کے دیگر گھر راہو کیتو یا کسی اور نحس سیارے سے متاثرہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے ذاتی زندگی میں یا کرئر کے معاملات میں انھیں بہت زیادہ مسائل اور مصائب کا سامنا نہیں رہا ہوگا، البتہ حسن پرستی اور رومانی سرگرمیاں ضرور رہی ہوں گی،پہلی شادی لو میرج تھی جو بالآخر ختم ہوئی اور پھر دوسری شادی بھی لو میرج رہی، پہلی شادی سے دو لڑکیاں ہوئیں جو ان کے پاس نہیں ہیں۔
ولادی میر پیوٹن کی زندگی کا ابتدائی دور روس اور امریکا کے درمیان رسا کشی کا دور ہے ، روس اس وقت دنیا کی دوسری سپر پاور کی حیثیت اختیار کرچکا تھا، چناں چہ پیوٹن کو اپنے ملک سے باہر تعلیم کے لیے نہیں جانا پڑا لیکن ابتدا ہی سے اسپورٹس سے لگاو¿ ظاہر ہوگیا تھا اور ابتدائی عمر ہی میں انھوں نے بلیک بیلٹ حاصل کرلی تھی، اسی طرح روسی کمیونسٹ پارٹی میں بھی شمولیت کا موقع مل گیا تھا، 1975 ءمیں وہ روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے وابستہ ہوگئے تھے، ان کے سامنے ہی روسی سپر پاور کا خاتمہ ہوا اور ملک مختلف ریاستوں میں بٹ گیا، اگست 1999 میں انھیں ڈپٹی پرائم منسٹر بننے کا موقع ملا اور اسی سال وہ وزیراعظم بن گئے اور روسی صدر بورس نیلسن کے غیر متوقع استعفے نے انھیں روس کا صدر بنادیا ، بعد ازاں وہ صدارتی الیکشن بھی مسلسل جیتتے رہے، اقتدار میں آنے کے بعد روسی معیشت خاصی کمزور تھی، کرپشن ملک کا اہم مسئلہ تھا، انھوں نے آہستہ آہستہ معاشی طور پرملک کو بحران سے نکالا اور کرپشن پر بھی قابو پایا، اس وقت وہ دنیا کی دوسری سپرپاور کے صدر ہیں۔

فطری رجحانات

دونوں زائچوں کا بنیادی فرق فطری رجحانات ہےں جس کی نشان دہی زائچے میں قمر کی پوزیشن سے کی جاسکتی ہے،عمران خان کا قمر برج حمل اور اشونی نچھتر میں ہے جب کہ صدر پیوٹن کا قمر اپنے شرف کے برج ثور میں اور کرتکا نچھتر میں ہے،خیال رہے کہ برج ثور ایک خاکی برج ہے جو مادّیت سے جڑا ہوا ہے، چناں چہ دولت ثوری افراد کے لیے اہمیت رکھتی ہے، آف شور کمپنیوں کے سلسلے میں صدر پیوٹن کا نام بھی سامنے آیا تھا، وہ یقیناً روس کے دولت مند افراد میں شمار ہوتے ہیں۔
کرتکا نچھتر عظمت حاصل کرنے کی استقامت اور عزم کی نمائندگی کرتا ہے،یہ سماجی کاز کے لیے لڑنے والا جنگ جو ہے،اس کا نشان ”شعلہ، استرا اور کلہاڑی ہے، دیگر تیز دھار ہتھیار بھی اس نچھتر کے زیر اثر ہیں، کرتکا کے لغوی معنی ”کاٹنے والا“ کے ہیں ، اس کی فطرت غیر انسانی ہے، خیال رہے کہ غیر انسانی فطرت ہی دراصل غیر معمولی کارکردگی اور کارہائے نمایاں کی جانب لے جاتی ہے، یہ لوگ روایتی طور طریقوں اور اصولوں کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اپنی خواہشات اور مقاصد کے مطابق کام کرتے ہیں، زندگی گزارنے کے ان کے اپنے اصول ہوتے ہیں، برج ثور کی وجہ سے خاموش طبع اور مستقل مزاج ہوتے، ان کے اندر قمر اور زہرہ کی مشترکہ خصوصیات موجود ہیں جن کا اظہار اکثر ہوتا رہتا ہے، اپنی طاقت کا اظہار کرنا جانتے ہیں، اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کسی نفع و نقصان کی پروا کیے بغیر پٹری بدلنے کی عادت رکھتے ہیں، انھیں اپنی آزادی بھی بہت عزیز ہے، اپنی انا، ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنے دوستوں کو ناراض کرسکتے ہیں، رسم و رواج اور عقائد کی اندھی تقلید نہیں کرتے، ایک جارحانہ فطرت انھیں کسی وقت بھی غضب ناک کرسکتی ہے پھر یہ قابو میں نہیں آتے، جنسِ مخالف میں خصوصی کشش رکھتے ہیں، فضول خرچ نہیں ہوتے،انھیں شہرت سے بھی خصوصی دلچسپی ہوتی ہے، ضرورت کے تحت غیر معمولی فیصلے اور اقدام کرسکتے ہیں۔

دونوں زائچوں کا بنیادی فرق

کئی اعتبار سے عمران خان اور صدر پیوٹن کے زائچوں میں بعض بنیادی فرق موجود ہےں، پہلی بات یہ کہ عمران خان کے زائچے کے اکثر اہم گھر راہو کیتو سے متاثرہ ہیں جب کہ صدر پیوٹن کے زائچے میں ایسے نحس اثرات نہیں ہیں، راہو کیتو اگرچہ دونوں زائچوں کے لیے نحس اثرات رکھنے والے سیارے ہیں لیکن صدر پیوٹن کے زائچے میں راہو کیتو دشاماسا چارٹ (D-10) میں شرف یافتہ ہےں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ 17 سال کی عمر میں جب راہو کا طویل دور شروع ہوا تو انھیں اپنا کرئر بنانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ بہت جلد ترقی کرکے روسی کے جی بی میں ایک اعلیٰ مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہے، راہو کا دور اکبر 1987 ءتک جاری رہا اور پھر سیارہ مشتری کا 16 سالہ دور بھی ان کے لیے ترقی کے نت نئے راستے کھولتا رہا، اب وہ سیارہ زحل کے دور اکبر سے گزر رہے ہیں اور اس قابل ہوچکے ہیں کہ ہر قسم کی ناموافق صورت حال کو بھی اپنے حق میں کرسکیں، جولائی 2017 ءسے ایک بار پھر زحل کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری ہے جو مئی 2020ءتک رہے گا، جہاں تک زائچے میں ٹرانزٹ کی صورت حال ہے وہ بھی ناموافق نہیں ہے، چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سال 2019 ءکی مشکل اور پیچیدہ ترین سیاروی گردش ان پر اثر انداز نہیں ہوگی اور وہ اس مشکل وقت میں روس کے لیے ایک بہتر رہنما ثابت ہوں گے۔