ہمارے معاشرے میں سحرو جادو کم علمی اور عدم واقفیت کی وجہ سے پھیل رہا ہے

پہلے بھی ہم اس صورت حال کی نشان دہی کرچکے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سحرو جادو ، سفلی اور دیگر گندے عملیات کے ذریعے مقاصد کے حصول یا دوسروں کو تکلیف و ایذا پہنچانے کا عمل تیزی سے بڑھتا جارہا ہے،آج سے 10 , 15 سال پہلے تک صورت حالات اتنی شدید نہیں تھی جتنی اب ہوچکی ہے، کم پڑھے لکھے اور دین کی پوری طرح سمجھ نہ رکھنے والے افراد اس معاملے میں زیادہ ملوث نظر آتے ہیں اور خاص طور پر خواتین اس برائی کو پھیلانے میں اپنی کم علمی اور جذباتیت کی وجہ سے نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں،وہ اپنی پریشانیوں اور مسائل کے حل کے سلسلے میں اول تو ایک دوسرے سے سنے سنائے بہت سے وظیفوں یا عملیات کا بے دریغ اور بے تحاشا استعمال شروع کردیتی ہیں،بہت سے ٹونے ٹوٹکے جو شرکیہ بھی ہوسکتے ہیں، آزماتی رہتی ہیں اس کے علاوہ ایسے پیروں فقیروں ، نام نہاد عاملوں ،باباؤں اور ملنگوں یا اللہ والی باجیوں سے بھی رابطہ کرکے عمل و تعویذات استعمال کرتی ہیں جو خود جہالت کاشکار ہیں ،انہوں نے ادھر اُدھر سے کچھ کتابیں پڑھ کر یا اپنے ہی جیسے کسی استاد یا پیر کی شاگردی کرکے تھوڑا بہت کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے اور پھر اس کے بل بوتے پر خلقِ خدا کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، ایسے لوگ باقاعدہ طور پر دین کا علم بھی نہیں رکھتے اور انہیں کسی علم میں کوئی کمال یا دسترس بھی حاصل نہیں ہوتی،ان کا بنیادی مقصد معاشرے میں سستی عزت اور شہرت حاصل کرنا یا خلقِ خدا کو لوٹنا ہوتا ہے،انہیں یہ بھی فکر نہیں ہوتی کہ وہ اگر کسی کو کوئی علاج تجویز کر رہے ہیں تو اس کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں یا دوسرے معنوں میں انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے بتائے گئے کسی وظیفے ، عمل یا طریقہء کار کے کچھ سائیڈ افیکٹس بھی ہوسکتے ہیں اور وہ طریقہء کار شرعی طور پر کہاں تک درست ہے۔

عبرت سرائے دہر ہے

ہمیں اکثر ایسے لوگوں سے ملنے اور ان کے مسائل جاننے کا موقع ملتا ہے جو ایسے لوگوں کا شکار ہوتے ہیں،ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی بیوی اُن پر جادو کرتی ہے انہیں اُس کے پرس میں سے ایک پرچہ اور کچھ تعویذ ملے،پرچے میں طریقہء کار کی وضاحت کی گئی تھی کہ تعویذ کو پانی میں گھول کر سارا پانی اپنے منہ میں ڈال لیں اور پھر کسی کپ میں کُلّی کردیں،بعد میں یہ پانی شوہر کو پلادیں۔
وہ صاحب کافی عرصے سے مختلف بیماریوں کا شکار تھے،جب یہ پرچہ اور تعویذ ان کی نظر سے گزرے تو پھر انہیں یقین ہوگیا کہ بیوی اُن پر جادو کر رہی ہے۔
ہم نے تعویذوں کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ شوہر کے دل میں اپنی محبت شدید کرنے کے لیے وہ تعویذ بنوائے گئے تھے مگر طریقہ ء کار قطعاً نا مناسب تھا اور نقوش سے یہ اندازہ بھی نہیں ہورہا تھا کہ وہ آیات و اسمِ الہٰی سے تیار کئے گئے ہیں یا کچھ اور جنتر منتر کا معاملہ ہے۔
ایک صاحب جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے، انہوں نے اپنے حالات کی خرابی کے سلسلے میں رابطہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ دو بار ہمارے گھر سے تعویذ برآمد ہوئے ہیں اور ایک بار گھر کے صحن میں ٹوٹا ہوا انڈا پڑا ہوا تھا اور انڈے کے چھلکے پر کوئی نقش لکھا گیا تھا ، انڈا گندہ تھا کیوں کہ اُس کے اندر خون موجود تھا واضح رہے کہ وہ اپنے شادی شدہ بھائی اور والدہ کے ساتھ جس گھر میں رہتے تھے اُس کا صحن ایک ہی تھا اور انڈہ رات کو کسی وقت صحن میں ڈالا گیا تھا، جب تمام صورت حال کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ تمام کارروائیاں ان کی اپنی بیگم کی جانب سے ہورہی تھیں کیوں کہ وہ چاہتی تھیں کہ دونوں بھائیوں میں اختلافات بڑھ جائیں اور وہ الگ الگ ہوجائیں،شوہر سے ان کا پرانا مطالبہ تھا کہ الگ گھر لیں، وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے خوش نہیں تھیں۔
دو بیویوں کے شوہر تو لازمی تختہء مشق بنتے ہیں ، کیوں کہ دونوں اپنا پلڑا بھاری رکھنے کی فکر میں وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں جو ان کے اختیار میں ہوتا ہے اور اس کھینچا تانی میں کبھی کبھی شوہر قربان ہوجاتا ہے،ہم کئی ایسے مظلوم شوہروں سے مل چکے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ ازدواجی مسائل اور دیگر خاندانی فتنہ و فساد، خواتین کو روحانی امداد کے بہانے سحرو جادو کے چکر میں پھنسا دیتے ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے نادانستگی میں انسان کسی سحری و جادوئی مسئلے میں مبتلا ہوجاتا ہے،اپنے طور پر بھی لوگ ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن کے غلط نتائج کا خود انہیں اندازہ نہیں ہوتا، مثلاً سنے سنائے وظائف و عملیات یا مختلف کتابوں سے نقل کیے گئے نقوش و اعمال اپنی ضرورت کے مطابق منتخب کرکے ان پر عمل کرنا بھی کبھی کبھار نقصان دہ ہوجاتا ہے ، خاص طورپر ایسے اعمال جن میں اپنے درست استحقاق کا خیال نہ رکھا جائے یا وہ شرعی تقاضوں کے مطابق نہ ہوں ۔

جواہرات کے سحری اثرات

ایک اور صورت بھی مشاہدے میں آئی ہے جو عام ہے ، لوگوں میں مختلف قیمتی پتھر پہننے کا شوق کم نہیں ہے ، اس کے علاوہ اپنی ضرورت کے مطابق بھی لوگ پتھر استعمال کرتے ہیں اور پتھروں کے سحری اثرات سے انکار ممکن نہیں ہے ، اگر پتھر کا غلط استعمال کیا جائے تو بھی سحری اثرات نقصان پہنچاتے ہیں اور اکثر تو ناقص اور عیب دار پتھر بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے لہٰذا اس سلسلے میں بھی سخت احتیاط کرنا چاہیے ۔
جادو یا عملیات کے نام پر فراڈ
بہت پہلے سحرو جادو کے موضوع پر ایک طویل سلسلہ ہم نے لکھا تھا جو کوشش کے باوجود کتابی شکل میں شائع نہیں ہوسکا،ممکن ہے ہمارے پرانے قارئین کے پاس اس کا ریکارڈ موجود ہو، بہر حال اب دوبارہ اس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تاکہ عام لوگوں کو اس مسئلے سے آگاہی حاصل ہوسکے۔
مندرجہ بالا مثالوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو لوگ اس قسم کے کام کر رہے ہیں وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، اکثر معاملات میں ایسے کاموں کا نتیجہ خود کرنے والے کے خلاف نکلتا ہے اور جس پر کیا جائے وہ محفوظ رہتا ہے،بشرط یہ کہ وہ پاک صاف رہتا ہو اور اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہو، مثبت سوچ کا حامل ہو،اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ نام نہاد عامل یا پیر فقیر تھوڑے سے پیسوں کے لیے لوگوں کو محض بے وقوف بناتے ہیں، کاغذ پر الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر یا کوئی بے معنی تحریر لکھ کر تعویذ بنا کر دے دیتے ہیں یا وہ تعویذ کسی اصول و قاعدے کے بغیر کسی کتاب سے نقل کیے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن انسان وہم میں مبتلا ضرور ہوجاتا ہے،گویا ایک نفسیاتی اثر اُسے اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔

نفسیاتی اثرات کی کرشمہ کاری

نفسیاتی اثر تو بعض لوگ اور خاص طور سے خواتین اپنے خوابوں کا بھی بہت زیادہ قبول کرتی ہیں مثلاً اگر کسی نے خواب میں لاش دیکھ لی یا کسی مردے کو دیکھ لیا یا کالی بلی، چھپکلی، چوہا ، سانپ وغیرہ دیکھ لیا تو پریشانی شروع ہوجاتی ہے، حالاں کہ ایسے خواب ہماری پوشیدہ بیماریوں کی نشان دہی کرتے ہیں، ہمارے لاشعور میں چھپے ہوئے خوف اور اندیشے عجیب عجیب بھیانک شکلیں بنا کر ہمارے خوابوں میں آتے ہیں لیکن ہم انہیں کچھ اور ہی معنی پہنا رہے ہوتے ہیں۔
اپنی خامیاں ،کوتاہیاں اور وقت کی گردش
بے شمار کیسوں میں لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ان پر زبردست قسم کا جادو کیا گیا ہے اور ان کے دشمن برسوں سے انہیں نشانہ بنارہے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف مسائل کا شکار رہتے ہیں،جب ہم نے اُن سے پوچھا کہ دشمنوں کے کیے ہوئے جادو سے آپ کو کون کون سے نقصانات اٹھانے پڑے اور انہوں نے نقصانات کی تفصیل بتائی تو معلوم ہوا کہ ان نقصانات میں سے کسی کا تعلق بھی سحری اثرات سے نہیں تھا بلکہ ان کی اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں ، کم علمی یا پھر وقت کی گردش کا کھیل تھا، حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد اور پیشہ ور قسم کے لوگوں نے جو خود جہالت کا شکار ہوتے ہیں، سحرو جادو وغیرہ کے حوالے سے اس قدر غلط باتیں معاشرے میں پھیلا دی ہیں کہ لوگ اپنے ہر مسئلے کی وجہ جادو یا آسیب و جنات کو سمجھنے لگے ہیں، جب کوئی کم علم اور کمزور قوت ارادی کا حامل انسان زندگی کے مسائل سے لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے اور منفی سوچوں کے بھنور میں پھنس کر مایوسی کا شکار ہوتا ہے تو سب سے پہلے توہّم پرستی کا آسیب اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کا ذہن اپنے معاملات میں سحرو جادو یا کسی ماورائی مخلوق کی کار فرمائی کے امکان پر غور شروع کردیتا ہے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ ایسی کسی بھی پیچیدہ صورت حال میں جب انسان کسی مشہور روحانی شخصیت سے رابطہ کرتا ہے اور مشورے کا طالب ہوتا ہے تو نوّے فیصد جواب یہی ملتا ہے کہ بندش ہے، کسی نے تعویذ کرادیے ہیں، سفلی ہوا ہے،آسیبی مداخلت ہے،وغیرہ وغیرہ۔

جادو کے لفظ کا استعمال

’’جادو‘‘ بذات خود ایک بڑا پر اسرار اور پرکشش لفظ ہے، ہماری عام زندگی میں بھی اس کا استعمال استعارے اور تشبیہ کی صورت میں عام ہے،اردو ادب میں شاید ہر شاعر و ادیب نے اس لفظ کو اپنے اپنے ڈھنگ سے بے شمار مرتبہ استعمال کیا ہوگا اگر چہ اس کے مخصوص لغوی معنی موجود ہیں مگر اس کا استعمال مختلف رنگ اور ڈھنگ سے بکثرت ہوتا ہے اور ہم اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں،با الفاظ دیگر ’’جادو‘‘ ان لوگوں کے سر پر بھی چڑھ کر بولتا ہے جو اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے، بھلا کسی آہو چشم کی ایک ترچھی نظر کے عوض سلطنت و حکومت جیسی چیز کو پائے حقارت سے ٹھکرا دینا ، جادو کا سر چڑھ کر بولنا نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟
’’جادو‘‘ نظر کا ہو یا کسی کے حسن و محبت کا، جب چلتا ہے تو خوب چلتا ہے، یوں تو جادو کی ان گنت غیر لغوی اقسام ہیں مگر ہمارا موضوع تو وہ جادو ہے جو عام طور پر بنگال ، مصر، بابل اور ہندوستان وغیرہ کے حوالے سے مشہور ہے اور اپنے دامن میں ہزارہا قصوں ، کہانیوں سمیت سینہ بسینہ چلنے والی روایات کی سحر بیانی لیے ہوئے ہیں۔
’’جادو‘‘یا سحر کو سحر بیانی کے زور پر یقیناً پہاڑ بنادیا گیا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ رائی ہوتی ہے تو پہاڑ بنتا ہے، برسوں بعد ایک بار پھر اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ کرلیا ہے اور ہمارا مقصد کسی شے یا حقیقت کا انکارِ محض یا اقرارِ محض نہیں ہے بلکہ ہمارا مدعا تو اپنے پڑھنے والوں کو درست صورت حال سے آگاہ کرنا ہے تاکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط معلومات اور گمراہ کن نظریات سے بچا جاسکے۔

جادو کا انکار یا اقرار

ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے دیگر عقائد و نظریات کی طرح ’’جادو‘‘ بھی ہمیشہ سے فکری انتہا پسندی کا شکار رہا ہے، بعض لوگ تو اسے سرے سے مانتے ہی نہیں اور جادو یا اس کی کارفرمائی کو لغو ، وہم یا فرسودہ ذہنوں کی پیداوار قرار دیتے ہیں جب کہ اس کے برعکس دوسری انتہا یہ ہے کہ موسمی اثرات سے پیدا ہونے والی بیماریاں یا فطری طور پر ہوجانے والا نزلہ، زکام ، بخار بھی بعض گھروں میں جادو کے اثرات کا نتیجہ قرار پاتا ہے، خصوصاً شادی بیاہ کے معاملات میں یا ازدواجی زندگی کی مشکلات میں جادو ٹونے کا چکر ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوچلا ہے،بیٹے کا بیوی کی محبت میں فطری طور پر مبتلا ہونا یا شوہر کا اپنی ماں کا بہت زیادہ فرماں بردار ہونا بھی جادو گری کا کمال سمجھا جاتا ہے،شادی میں فطری اور قدرتی تاخیر یا میڈیکل وجوہات کی بنیاد پر اولاد میں تاخیر یا اولاد کا نہ ہونا ، بے روزگاری، اپنی کوتاہیوں اور غیر ذمہ داریوں یا اناڑی پن کی وجہ سے کاروباری نقصان ،غرض ہر مسئلہ جادو کے زیر اثر آجاتا ہے اور پھر کسی عامل ، اونچی سرکار، بنگالی بابا، مستانی مائی یا باجی اللہ والی جیسی شخصیات کی چاندی ہونے لگتی ہے لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا، بلکہ صورت حال بقول شاعر وہی ہوتی ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

جادو، مذہب اور الہامی کُتب

اس تمام گفتگو کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ’’جادو‘‘ نام کی کوئی شے یا قوت دنیا میں سِرے سے موجود ہی نہیں، کہیں پائی ہی نہیں جاتی،جادو ایک حقیقت ہے ، ایک علم ہے، ایک کائناتی سائنس ہے، اسے بالکل ہی تسلیم نہ کرنا اگر جہالت نہیں تو کم از کم نا انصافی یا شدید کم علمی ضرور ہے۔
جادو کا شمار دنیا کے قدیم ترین علوم میں ہوتا ہے،ایک مکمل علم کے مانند اس کی باقاعدہ ایک تھیوری ہے،ایک نظریہ ہے، ایک عمل ہے اور باقاعدہ اطلاقی میدان ہے۔
موضوع گفتگو اگر جادو ہے تو پھر مذاہب اور الہامی کتب کا مطالعہ ناگزیر ہوجاتا ہے کیوں کہ موجودہ سائنس اپنی تمام تر ترقی اور رفتار کے باوجود ابھی تک بہت سے حقائق و علوم سے پردہ نہیں ہٹا پائی ہے اور جدید تہذیب کے اسی رویے کے باعث سائنس داں و دانش ور حضرات بھی انہی اشیا کو مرکز تحقیق بنائے ہوئے ہیں کہ جو براہ راست مادے سے متعلق ہیں ، جادو کے بارے میں آج کے علمی اور سائنسی ذہنوں کا رویہ ’’میں مانوں کہ نہ مانوں‘‘ والا ہے اور شاید اسی لیے اس ضمن میں تحقیق و تجسس کا کام ٹھوس بنیادوں پر شروع نہیں ہو پایا ہے ، اکثر مستند علما نے ذاتی تجربات و مشاہدے کی بنیاد پر جو کام کیا ہے وہ بہرحال موجود ہے لیکن عام آدمی کی رسائی اس تک نہیں ہوپاتی ، اس کے بجائے سطحی نوعیت کی تحریریں بہت زیادہ ہیں جن کے مطالعے سے مصنف کی کم علمی عیاں ہوتی ہے ۔
ہمارے اکثر مذہبی اسکالرز کا علم بھی اس حوالے سے یکطرفہ ہے ، یعنی انہوں نے جادو کے بارے میں جس قدر بھی قرآن اور حدیث سے احکامات اور تشریحات کا مطالعہ کیا ہے وہ اس تک ہی خود کو محدود رکھتے ہیں ، اس سے آگے بڑھ کر کسی بھی علم کے بارے میں مزید تحقیق اور تجربے کو ضروری نہیں سمجھتے ، نتیجے کے طورپر عمر بھر مکھی پہ مکھی مارتے رہتے ہیں ، بے شک قرآن و حدیث کے ذریعے ہمیں جادو کی اہمیت اور اس سے اجتناب کے بارے میں احکام مل جاتے ہیں لیکن اس موضوع سے مکمل آشنائی کے لیے اس علم کی مکمل تاریخ اور طریقہ کار کا مطالعہ بھی ضروری ہے ، اکثر لوگ یہ زحمت نہیں کرتے ، نتیجے کے طورپر بہت سی ایسی چیزوں کو جادو قرار دے دیا جاتا ہے جو جادو نہیں ہوتیں یا بہت سی چیزوں کو جادو کی فہرست سے خارج کردیا جاتا ہے جو درحقیقت جادو کے ذیل میں آتی ہیں ، مثلاً بعض علما نے شعبدہ بازی ، علم نجوم ، پامسٹری یا علم الاعداد کو بھی جادو قرار دے دیا ، قصہ مختصر یہ کہ اس حوالے سے لکھی جانے والی اکثر کتابیں محققانہ بصیرت سے خالی نظر آتی ہیں ، مطالعے کے دوران میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ صاحب تحریر کا علم کسی نہ کسی حوالے سے نامکمل یا ادھورا ہے ۔

جادو کے موضوع پر مشہور کُتب

اردو زبان میں اس موضوع پر بے شمار کتب موجود ہیں ، خاص طورپر جو کتابیں واقعی قابل توجہ ہیں ان میں جناب رحمان مذنب کی تالیف و ترجمہ کردہ کتاب’’ جادو اور جادو کی رسمیں ‘‘ نہایت اہم کتاب ہے ، یہ اس موضوع کی قدیم تاریخ پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے ، اس کے علاوہ سی جے ایس تھامسن کی کتاب کا ’’ جادو کی تاریخ ‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے ، ایک اور کتاب محمد عمران اعظم نے ’’ تردید سحر و آسیب‘‘ کے نام سے مرتب کی ہے جس میں ماضی کے اکثر مصنفین اور حال کے مذہبی اسکالرز کی آرأ کو یکجا کردیا گیا ہے ، چند سال پہلے جناب حکیم غلام سرور شہاب کی کتابیں بھی اس موضوع پر شائع ہوئی ہیں ، چوں کہ حکیم صاحب خود بھی علوم مخفیہ سے شغف رکھتے ہیں لہٰذا انہوں نے موضوع کے ہر پہلو سے انصاف کیا ہے اور ماضی میں شائع ہونے والی تمام اہم کتابوں سے استفادہ بھی کیا ہے ، خاص طورپر سعودی عالم شیخ وحید بن عبدالسلام بالی کی عربی کتاب ’’ الصارم البتارفی التصدی للسحرۃ الاشرار‘‘ سے بھی بھرپور استفادہ کیا ہے لیکن شیخ وحید صاحب کی کتابوں میں بھی بعض غلطیوں کا اعادہ موجود ہے ، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ صاحب کا علم محدود تھا یا انہوں نے دیگر علوم کے حوالے سے اپنی معلومات کو وسعت نہیں دی تھی ، بے شک وہ بین الاقوامی شہرت کے حامل عالم ہیں لیکن مسلکی عقائد کا غلبہ نہایت شدید نظر آتا ہے اور یہ شدت پھر کسی اور طرف دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی ، یہ صورت حال شیخ وحید صاحب کے علاوہ دیگر مذہبی اسکالرز کے یہاں بھی موجود ہے اور یقیناً ہونا چاہیے کیونکہ انسان اپنے عقائد پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتا ۔

جادو کا مطلب اور کتاب اللہ کا مؤقف

آیئے اب ذرا دیکھیں کہ مذہب اور الہامی کتب جادو کے بارے میں کیا کہتے ہیں ، عربی زبان میں ’’سحر‘‘ کے معنے ایسی شے کے ہیں جس کا وجود و اسباب پوشیدہ اور نہایت دقیق ہوں ، ایک عام ذہن کیوں کہ اپنی صلاحیتوں سے واقف نہیں ہوتا اس لیے جادو یا سحر اس کے نزدیک مافوق الفطرت امور ٹھہرتے ہیں ، حالانکہ جادو یا سحر کی حقیقت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ انسان اپنی خفیہ صلاحیتوں کے استعمال سے واقف ہوجائے ، دو رخوں کے قانون کے مطابق ذہنی صلاحیتوں کو مثبت طورپر انسانیت اور فلاح ، امن و ترقی کے لیے بیدار کرنے والوں کو ’’عامل‘‘ یا ’’ولی‘‘ کہا جاتا ہے ، جب کہ انہی صلاحیتوں کو تخریب اور باطلانہ عزائم کے لیے استعمال کرنے والوں کو ’’ جادو گر ‘‘ کہا جاتا ہے ، جادو کی اگر چہ بہت سی اقسام قدیم زمانوں سے مروج ہیں جن کا تذکرہ آئندہ آئے گا لیکن اولین اور حقیقی قسم کا تعلق نفسِ انسانی سے جڑا ہوا ہے چناں چہ حقیقی جادو گر وہی ہے جو اپنی قوت نفسانیہ سے کام لے کر عالمِ اسباب پر تصرف حاصل کرے۔
مذہب گوکہ سحر و جادو کے وجود کا انکاری نہیں ہے مگر اس کے نزدیک یہ کوئی پسندیدہ امر بھی نہیں ہے ، اس لیے جادو اور سحر کے رد میں کئی آیات و احادیث بھی موجود ہیں ۔
سورہ البقرہ کی آیت نمبر 102 ، کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
’’ اور ان (ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان ؑ کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان ؑ نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے ) جو شہر بابل میں دو فرشتوں یعنی ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش ہیں تم کفر میں نہ پڑو غرض لوگ ان سے ایسا (جادو) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر و جادو وغیرہ) کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا وہ بری تھی ۔ کاش وہ (اس بات کو ) جانتے ۔‘‘
سورہ یونس کی آیت نمبر 77، کا ترجمہ کچھ یوں ہے :
’’ موسیٰ ؑ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پائیں گے ۔‘‘
اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کے واقعات میں سحر و جادو سے متعلق واقعات اور ان کا ابطال قرآن کریم میں جگہ جگہ موجود ہے ، سورہ یونس کی آیت نمبر 81-82 ، سورہ طٰہٰ کی آیت نمبر 67-69 ، اور دیگر آیات بھی سحر و جادو کی حقیقت پر روشنی ڈالتی ہیں ، خاص طورپر حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے کا مصر تو سحریات کے حوالے سے عروج و کمال کو پہنچا ہوا تھا اور دنیا کے عظیم جادوگر وہاں موجود تھے جن کو فرعون مصر نے اکٹھا کیا اور حضرت موسیٰؑ کے مقابلے پر لے آیا لیکن پھر اس کا انجام کیا ہوا؟ یہ تمام تفصیل قرآن کریم میں موجود ہے ۔

حضورِ اکرم ﷺ پر جادو

صحیح بخاری شریف اور صحیح مسلم وغیرہ کُتبِ احادیث میں حضورِ اکرم ﷺ پر کیے گئے جادو کا تذکرہ موجود ہے،حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ بنو زریق کے ایک شخص نے جس کا نام لبید بن اعصم تھا، رسول اللہ ﷺ پر جادو کردیا، آپ ﷺ کو یوں لگتا تھا کہ آپ ﷺ نے کوئی کام کیا ہے لیکن حقیقت میں آپ ﷺ نے نہیں کیا ہوتا تھا، پھر ایک دن یا شاید رات تھی آپ ﷺ میرے پاس تھے، آپ ﷺ بہت دیر تک دعا کرتے رہے پھر فرمایا ’’اے عائشہؓ ! کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا جواب دیا ہے جو میں نے اُس سے پوچھی تھی،میرے پاس دو آدمی آئے ، ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ایک نے اپنے ساتھی سے کہا ، اس آدمی کو کیا ہوا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا اس پر جادو کیا گیا ہے،پہلے نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے۔پہلے نے پوچھا کس چیز میں ؟ دوسرے نے کہا کنگھی میں، کنگھی میں پھنس کر ٹوٹنے والے بالوں میں اور نر کھجور کے چھلکے میں جادو کیا ہے،پہلے نے پوچھا وہ کہاں ہے ؟ دوسرے نے کہا ذروان کے کنویں میں ہے، آپ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے، آپ ﷺ نے فرمایا، اے عائشہؓ ! اُس کا پانی ایسا تھا جیسے اُس میں مہندی گھولی ہوئی ہو اور وہاں کھجور کے درختوں کی چوٹیاں ایسی تھیں جیسے شیطانوں کے سر ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا واقعہ مزید تفصیلات کے ساتھ کُتب حدیث و تاریخ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے،اس واقعہ کے حوالے سے علماء کے درمیان کچھ اختلافی مباحث بھی موجود ہیں، بہر حال ہم کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے،اتنا کافی ہے کہ یہ واقعہ مستند کتب حدیث میں موجود ہے۔
عزیزان من! سحر و جادو کا موضوع ایسا نہیں ہے جو ایک نشست سے نمٹا دیا جائے،بہر حال اب جب کہ یہ موضوع چھڑ گیا ہے تو کوشش کریں گے کہ حتی المقدور اس موضوع سے انصاف کیا جائے، انشاء اللہ آئندہ ہفتے بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں