انتظار کیجئے!

Latest Update

اک رنگ ہے اورنگِ سلیماں مِرے نزدیک

اک رنگ ہے اورنگِ سلیماں مِرے نزدیک

ساس اور بہو کے درمیان ہونے والی پراسرار چپقلش کا احوال

عزیزانِ من جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہمیں اندرونِ ملک و بیرونِ ملک سے اکثر خطوط اور ای میل ملتے رہتے ہیں جن میں لوگ اپنے مسائل اور مشکلوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ان سب خطوط میں بعض خط بہت زیادہ عبرت کا نمونہ اور نہاےت سبق آموز ہوتے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے خطوط کو ضرور شامل اشاعت کیا جائے تاکہ انھیں پڑھ کر ہمارے قارئےن درست اور غلط اور برے اور بھلے کی پہچان کر سکیں۔

ایسا ہی ایک خط آج ہمارے پیشِ نظر ہے جو خاصہ طویل بھی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ اسے مختصر کیا جائے کیوں کہ اس کے بغیر ہمارے پڑھنے والے صورت حال کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔ خط کی طوالت کے سبب فی الحال اپنے جواب کو مﺅ خر کر رہے ہیں۔ لیکن امید رکھتے ہیں کہ بغور مطالعہ کرنے والے قارئےن کو بنےادی مسئلے سے بخوبی آگاہی مل جائے گی۔

زیرِ نظر خط کراچی سے ایک خاتون نے لکھا ہے جو ایک طویل عرصے سے پُر اسرار حالات کا شکار ہیں۔ وہ خاصی سیلف میڈ خاتون ہیں کیونکہ ان کے شوہر نہاےت نکمے اور غیر ذمے دار تھے۔ لہٰذا بچیوں کو پالنے کے لیے انہیں ماں کے ساتھ ساتھ باپ کا کردار بھی ادا کرنا پڑا۔ طویل عرصے تک جاب کرتی رہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں ”مختصر حالات لکھ رہی ہوں اپنی بہو کے بارے میں۔ جب بڑے بیٹے کی شادی ہوئی تو میرے ساتھ عجیب پُراسرار معاملات شروع ہوگئے۔ صبح جب بہو کا کمرا کھلتا تھا تو میرے پورے جسم پر جیسے ڈنک سے لگنے لگتے، جیسے سانپ بچھو ڈنک مار رہے ہوں۔ جسم سے خون بہنا شروع ہوجاتا اور میری چیخیں نکل جاتیں۔ گھر کے تمام افراد اور آنے جانے والے سبھی دیکھتے۔ دوسری طرف بہو کے جہیز کی کسی چیز کو بھی ہم نہیں چھو سکتے تھے۔ سب ان چیزوں سے دور دور رہتے۔ جہیز کی زیادتی کی وجہ سے اپنا سامان سب کباڑی کو بیچ کر اُن کا سامان پورے گھر میں پھیلانا پڑا۔ یہ سمجھ لیں کہ پورے گھر کا قبضہ تھا۔

اس شادی سے پہلے بھی ایک دو بار ہارٹ اٹیک ہوچکا تھا جس کی وجہ سے ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ بہو اپنے آپ میں مگن۔ کھانا، سونا، ہر وقت سج بن کر بیٹھی رہنا (دلہن آج بھی بنی رہتی ہیں) بیٹے کی بھی حالت خراب تھی۔ شادی بھی بیماری کی حالت میں ہوگئی۔ ہم سب گھر والے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہتے تھے۔ کوئی کسی سے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم سب بندھے ہوئے ہیں۔ کوئی عالم بھی جو ہمارا علاج کرنا چاہے یا گھر پر آئے تو بیمار ہوجاتا۔ حادثات ہوجاتے، بہو ضدی من مانی کرنے والی آج بھی ہیں۔ بیٹا بہت سیدھا اور معصوم تھا۔ وہ لڑائی جھگڑے سے بہت دڑتا۔

اس سلسلے میں کچھ بزرگوں سے مشورہ کیا ان کے بارے میں بعد میں بتاﺅں گی۔ ایک بزرگ نے کہا ”شادی کے ایک ماہ بعد سے یہ میاں سے بہت لڑتی ہے“ میں بہت حیران ہوئی اور اُن سے کہا کہ ”وہ کیوں لڑے گی؟ بیٹے کو تو کوئی ایسی بات کرنا بھی نہیں آتا تو وہ بھلا کیوں لڑےں؟“ لیکن اب میں اس کھوج میں لگ گئی۔ جب دبے لفظوں میں بیٹے سے کچھ معلوم کرنا چاہتی تو وہ خاموش، الجھا الجھا اور پریشان سا رہتا۔ آخر ایک دن بولا ”ہاں امی، یہ ساری رات روتی اور بلاوجہ لڑتی ہے۔ اپنی چوڑیاں توڑ کر کھانے کی کوشش کرتی ہے۔ کہتی ہے میں خودکشی کر کے تمھیں پھنسوا دوں گی۔“

میں نے پوچھا، بیٹا کوئی وجہ؟ تو اس نے کہا پتا نہیں کب کس وقت بے قابو ہوجاتی ہے۔ اب اپنی بیماری کے ساتھ رات بھر بند کمرے کی طرف ذہن لگا رہتا اور بیٹے کے لیے دعائیں مانگتی رہتی۔ یہ تو میں جانتی تھی کہ ایسی چیزیں جان کی دشمن ہوتی ہیں۔ بیٹا ایک دن صبح تیار ہوکر نکلا تو اس نے بتاےا کہ دو چار دن کے لیے بہو میکے جارہی ہے۔ ہم چپ ہوگئے۔ جیسی مرضی۔ لیکن ایک مہینہ گزر گےا، لے کر نہیں آرہا تھا۔ جب پوچھو بات ٹال جاتا۔ بالآخر اس نے بتاےا کہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اسے چھوڑ رہا ہوں۔ تقریباً میں بھی راضی ہوگئی۔ ہاں بیٹا، زندگی لمبی ہوتی ہے۔ تم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بہتر ہے۔ اب یہ بات گھر میں پھیل گئی۔ سب چپ ہوگئے۔ مگر میری ایک بیٹی نے شور کرنا شروع کر دیا اور سب دامادوں کو بھڑکانا شروع کر دیا کہ یہ امی کے کہنے پر بیوی کو طلاق دے رہا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ میں سب کچھ سمجھ چکی تھی۔ لہٰذا بیٹے کی حماےت میں بول رہی تھی کہ ٹھیک ہے ابھی وقت ہے۔ بیٹی اور دامادوں کے ڈر سے بیٹا تو خاموش ہو گےا کیوں کہ بات ےہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اگر بیوی کو چھوڑو گے تو بہن بھی گھر بیٹھے گی۔ چنانچہ وہ ڈر گےا۔ واضع رہے کہ میری یہ بیٹی ہمیشہ میری مخالفت کرتی ہے اور میری دشمن بنی ہوئی ہے۔ بہر حال بیٹے کے مستقبل کی وجہ سے میں کہتی رہی کہ اُس کی زندگی برباد ہو رہی ہے مگر اب میری کون سنتا؟

بہو کا ایک بھائی ہے۔ اُس کے پاس کوئی علم ہے جس کی وجہ سے ہمارے خےالات کا اس کو پتا چل گےا کہ ہم اسے طلاق دینے والے ہیں چنانچہ وہ باپ اور بہن کو لے کر آگےا۔ (آپ کے خیالات تو آپ کی بیٹی ےا داماد نے ہی ان لوگوں تک پہنچا دیے ہوں گے اور اس کارنامے کو آپ اُس کے علم کا کارنامہ سمجھ رہی ہیں) باتوں باتوں میں اُس نے اگل دیا کہ میں اس لیے لے کر آےا ہوں کہ اگر نہیں لاتا تو آپ کی طرف سے طلاق نامہ آجاتا۔ پھر میں نے بھی تمام باتیں بتائےں کہ کمرا کھلتا ہے تو گھر کی تمام کیفیت بدل جاتی ہے۔ اُس کے جنون کا حال بتاےا اور اُن سے کہا کہ جب یہ جہیز کوئی استعمال نہیں کر سکتا تو دیا کیوں تھا؟ بہت باتیں ہوئیں، میری بات پر انہوں نے یقین کیا۔ میں نے غصے میں کہا کہ تم کو خانہ کعبہ کی قسم ہے تم کچھ علم رکھتے ہو تو ہمیں بتاﺅ یہ سب ہمارے ساتھ کیوں ہو رہا ہے؟ تم بہن کو لے آئے ہو تو ہمارا ساتھ دو۔ دراصل اُن کو شادی سے پہلے ہی یہ علم ہو چکا تھا کہ ان کی بیٹی کس مسئلے میں ہے۔ مگر ہم جیسے نادان پھر کہاں ملتے۔ بندش کے ذریعے ہمارا منہ اور ذہن سب بند کر دیا تھا۔ دور پرے کے خاندان سے تعلق تھا۔ میں تو زندگی بھر پیسہ کمانے کی مشین بنی رہی۔ گھر بنانے، بیٹی بیاہنے کی فکر میں لگی رہی۔ خاندانی معاملات کے بارے میں جاننے کا وقت ہی نہیں ہوتا تھا۔ جب رشتہ لگا سارا خاندان دبے دبے لفظوں میں ان کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہتا رہا۔ لیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔ بلکہ یہ احساس ہوتا تھا کہ شاید خاندان والے ہمیں خاندان سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ سب کی طرف سے بدگمانی پیدا ہونے لگی تھی۔

اب بیٹے نے اپنی بیوی سے کرید کرید کر پوچھا تو اُس نے بتاےا کہ اُس کی ایک ہی پھوپھی ہیں جن کو پورا خاندان جانتا اور اُن سے بچتا ہے۔ اپنے بنگلے میں چھت پر ایک کمرے کو حجرہ بناےا ہوا ہے۔ ہر جمعرات کو اُن پر حاضری ہوتی ہے۔ حاضری کے وقت چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ مجھے نہلا کر لال کپڑے پہنا کر پھول ڈال کر بیٹھاےا تھا حاضری میں۔ اُن کی بھی 4 بیٹیاں ہیں۔ ان کے سب گھر اور بیٹےاں بہت خوش حال ہیں۔ انہوں نے مجھے حاضری میں حجرے والوں کو دے کر خوش کر دیا۔ کچھ دبی دبی باتیں اس کے ابا، بھائی بھی کہہ ڈالتے تھے۔ کیوں کہ میری پریشانیوں کے ساتھ ساتھ وہ بھی پریشان رہتے تھے۔ اُس کے بھائی نے مجھے کچھ دن ہداےت کی کہ آپ لوگ اس کو لے کر 11 جمعرات کراچی کے ایک مزار پر حاضری دیں۔ میں بھی آﺅں گا۔

مزار پر اس کے بھائی نے بتاےا کہ میں آپ کے اور اپنے والد کے نام کا چراغ جلاتا ہوں۔ تین حاضریاں ہوچکی تھیں۔ چوتھی حاضری پر جیسے ہی میں گیٹ سے اندر گئی اس کا بھائی وہیں ملا۔ میں نے اپنے لڑکے کو بتاےا کہ یہ سب اس کی پھوپی کا کیا دھرا ہے۔ بہو کے بھائی کو بھی میری قسم ےاد تھی۔ فوراً ملتے ہی جوش میں بولا ”آنٹی یہ سب میرے اپنے خون نے کیا ہے، میری پھوپی نے کیا ہے“ میں ہنسی، ہاں یہ مجھے بھی احساس ہے۔ فاتحہ پڑھ کر ہم سب چوتھی جمعرات سے فارغ ہوکر آ گئے، گھر گئے اور سو گئے۔ آنکھ لگی بھی نہیں تھی کہ میں نے دیکھا، ایک خاتوں کتابی چہرہ، پرانے اسٹائل کا برقع، اوپر کے برقع کو گلے میں لٹکاےا ہوا۔ مزار کے پاس نیم کے درخت سے ٹیک لگائے بیٹھی غصے میں مجھ سے کہہ رہی تھی۔

”تم کو نہیں معلوم کہ تمہاری بہو شادی شدہ ہے۔“

یہ دوبارہ کہا اور میں کہتی رہی خدا جانتا ہے مجھے نہیں معلوم، تب اُن کا لہجا نرم ہوا اور بولیں ”تم لوگ اچھے ہو ورنہ ۔۔۔۔ ورنہ تمھارے ساتھ بہت برا ہوتا“۔

ادھر میں یہ سب دیکھ رہی تھی (گوےا جاگتی آنکھوں کا خواب) اُدھر چھوٹے بےٹے بھی دیکھ رہے تھے کہ ایک شخص اُن کو اپنے ساتھ بلا کر لے گےا ہے اور بولا ”یہ دیکھو یہ سُسرال ہے۔ شیشے کا گھر“ اس میں لوگوں کے چلنے پھرنے کام کرنے کا پورا منظر باہر سے نظر آرہا تھا دھندلا دھندلا۔ بیٹے کو یہ دیکھ کر ڈر لگا۔

رفتہ رفتہ میں حالات سے پریشان ہوکر اگر بتی روزانہ ایک بنڈل، 5 کلو کوئلہ جلانا شروع کر دیا۔ کوئلے کی چنگاری پورے کمرے میں پھلجھڑی کی طرح چھت تک اڑتی ۔ اس دوران میں لاحول شدت سے پڑھتی۔ جب زوال کا وقت گزر جاتا تو آگ نارمل ہو جاتی۔ یہ روز کا معمول تھا۔ بہو جب بیوٹی باکس کھولتی تو تمام دینی کیلنڈر ایسے ہلتے کہ جیسے طوفان آگےا۔ سارے لوگ خوف زدہ سے میرے بیڈ پر پناہ کے لیے بیٹھ جاتے۔ جیسے جیسے آگ جلاتی رہی۔ باتھ روم میں ماربل پر چہرے بننا شروع ہوگئے۔ سب سے پہلے براﺅن کلر کا شیر ایک بیٹے نے دیکھا اور مجھے بتاےا۔ پھر وہ بیمار ہو گےا۔ اب ایک چہرے پر کئی چہرے، جس طرف سے دیکھو الگ چہرہ نظر آتا۔ ایک دن بہو صبح کا ناشتہ بنارہی تھی تو کیبنٹ میں ایسی آگ لگی کہ شعلہ چھت تک جارہا تھا۔ میں گھبرا کر بھاگنے دوڑنے اور چلانے لگی۔ بہو خاموش میرا تماشہ دیکھ رہی تھی۔ کھڑکی سے باہر مدد کے لیے چلاتی ہوئی کچن میں آئی۔ بہو نے اپنے دوپٹے کے آنچل کو ہلکی سی جنبش دی اور آگ بجھ گئی۔ میں نے حیرانی سے دیکھا۔ وہ بے نےاز کھڑی رہی۔ ایک اور موقع پر گفٹ کے لیے میں نے کپڑے پیک کرنے کو منع کیا اور کہا کہ کپڑے ہینگر میں ہی لے کر چلنا لیکن میں کمرے میں آئی تو وہ پیکنگ میں مصروف تھی۔ میں نے کپڑے اُس کے ہاتھ سے لے کر اپنے بیڈ پر رکھ دیے اور نماز کے لیے مڑی ہی تھی کہ وہ دوڑتی ہوئی گئی اور چولھا جلا کر سارے کپڑے سمیٹے اور آگ میں ڈالنے لگی۔ یہ سب کام آناً فاناً ہوئے تھے اور انسان کی سمجھ سے باہر۔ ایک بیٹے نے لپک کر ہاتھ پکڑ لیا اور کپڑے چھین لیے۔ اُس نے ایک ہاتھ کچن کے برتنوں پر مارا۔ تمام کچن دھڑا دھڑ جلنے لگا۔ منٹوں سیکنڈوں میں اس کی عجیب حالت ہوجاتی۔ بڑے بڑے ایسے واقعات ہیں۔ بیٹی اور داماد سنتے تو اُسے کچھ کہنے کے بجائے کہتے ”وہ پاگل تھوڑی ہے، امی نے کچھ کہا ہوگا“۔

سب باتوں کو دیکھتے سمجھتے تھے لیکن کسی میں ہمت نہیں تھی کہ کچھ بول سکیں۔ میں 24 گھنٹے با وضو رہتی۔ الٹے ہاتھ کے معذور ہونے کا خدشہ تھا۔ اس وجہ سے اپنی ایک تسبیح کو ہمیشہ کاندھے پر رکھتی۔ طرح طرح سے بچاﺅ کے طریقے استعمال کیے۔ بڑے بیٹے میری بیماری کی وجہ سے جتنا میرے قریب آتے میں اتنا ہی تکلیف محسوس کرتی اور اُن کو دور رہنے کو کہتی۔ اب اُن کے مزاج میں تبدیلی آگئی ہے اور وہ میرے دشمن ہو گئے ہیں۔ ہر لمحہ ان کے اندر یہ جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں کہ میں ختم ہو جاﺅں یا وہ مجھے ختم کر دیں۔ میں بہت محتاط رہتی۔ چھوٹے بیٹے میرا بہت خےال رکھتے۔ جبکہ بڑے زیادتیاں کرنے لگے۔ ایسی ہی ایک زیادتی کے بعد میں اپنے پیر دربار سلطانی پر رکشے میں بیٹھ کر پہنچ گئی۔ ظہر کا وقت تھا۔ دربار شریف خالی تھا۔ دل بھر کے روئی، فرےاد کی، اتنے میں ایک نامعلوم عورت نے سر پر ہاتھ رکھ کر رونے سے منع کیا اور کہا ”یہ تم کو غلط چیزیں پریشان کر رہی ہیں۔ یہاں نوری کام ہوتا ہے۔ تم ان بابا کے پاس چلی جاﺅ“۔

مرتا کیا نہ کرتا۔ اُس نے پتا بتاےا اور میں چل پڑی۔ وہاں پہنچ کر ایک ایک سے پوچتھی رہی۔ کوئی کسی کے پاس، کوئی کسی کے پاس لے جاتا۔ خدا کا کرنا ایک بزرگ مل گئے۔ بڑی شفقت سے پیش آئے اور کہا ”بیٹا، اناج اور 7 زندہ مچھلیاں سمندر میں ڈال دیں“۔ واپسی پر میری سوچیں بدلنا شروع ہوگئےں کہ بہو کو گھر بلا لوں۔ جبکہ میں اس کے بہت خلاف ہو چکی تھی کہ اب اس کو میرے گھر میں لانا ہے۔ بہو کو ایک بیٹی بھی ہوچکی تھی۔ دوبارہ میکے میری ضد پر بیٹے نے بھیجا تھا۔ میں اس کی وجہ سے بہت پریشان ہو چکی تھی۔ دوسرے دن میں بابا کے پاس جانے کی تےاری میں تھی کہ بہو کہ والد آگئے۔ بیٹے کو شام کو اپنے گھر بلالےا اور بہو کو ساتھ بھیج دیا۔ پوتی سوا مہینے کی ہوئی تو بہو اُسے تےار کر کے میرے بیڈ پر میرے پاس لٹا دیتی۔ کچھ دنوں بعد میں نے محسوس کیا کہ بچی کے لیٹتے ہی میری حالت خراب ہونے لگتی ہے۔ جب بچی 3 ماہ کی ہورہی تھی تو اکثر وہ گدے سے اس طرح اوپر ہوتی جیسے بیٹھنا چاہ رہی ہو۔ میں نے بیٹے کو بھی دکھاےا۔ آخر ایک دن میری حالت بہت خراب ہوئی۔ جمعے کا دن تھا کوئی دم کرنے والا بھی نہیں تھا۔ بچے لے کر خانقاہ شریف پر گئے۔ وہاں کافی دیر رہی تو طبیعت کچھ سنبھل گئی۔ گھر آکر میں نے بچی کو اپنے پاس لٹانے سے منع کر دیا۔

اب دادا بچی کو شام میں باہر لے جاکر ٹہلاتے۔ یہ ہماری پہلی پوتی تھی۔ سبھی کو پیاری تھی۔ 3 دن بعد دادا کو اچانک رات 12 بجے شدید فالج کا حملہ ہوا۔ اور وہ اپاہج ہوکر رہ گئے۔ بڑی اذیت کی زندگی گزاری۔ آخر بیٹی کے گھر انتقال ہوا۔ اب پوتی کا علاج ایک حکیم سے ڈیڑھ سال کی عمر میں کیا۔ حکیم صاحب عامل بھی ہیں۔ انہوں نے 4 ماں کا کورس کہا۔ میں نے 6 ماہ علاج کیا اور اپنے ہاتھ سے دوا پلائی۔ اب بیٹے کے 3 بیٹیاں اور 1 بیٹا ہے۔ الگ ہوگئے ہیں۔ بلکہ میری جان چھوٹی۔ بابا نے میرا بہت ساتھ دیا۔ ان کی کوئی ڈیمانڈ نہیں تھی۔ ان کی ضعیفی اور محنت دیکھ کر میں خود کچھ نہ کچھ دے دیتی لیکن وہ منع کرتے۔ بڑے پرخلوص ہیں۔ ان کی باتوں کا مطلب میں یہ سمجھی اور ہے بھی کہ بہو کسی ظالم کے انڈر میں ہے اور اُس کا بھائی یہ نہیں چاہتا ہے کہ وہ میکے واپس آئے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ ملنا بھی نہیں چاہتے۔ بڑے بڑے عمل کروائے، پنجاب سے کروائے، خود بھی کرتے ہیں۔ میرا بیٹا بالکل بے بس ہوچکا تھا۔ اگر بیوی کو چھوڑا جاتا تو ہم سب اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے تھے۔ اول تو چھوڑا ہی نہیں جاسکتا تھا (ایسی سخت بندش تھی) بابا ہر کوشش کر کے جب بے بس ہو گئے تو اداس ہو کر کہا ”بیٹا یہ سپنی ہے“ ورنہ وہ ہمیشہ مجھ سے ادھر اُدھر کی بات کرتے۔ بہو کے بارے میں کچھ نہیں کہتے تھے۔ تسلی دیتے رہتے تھے۔ دنیا ابھی نیک لوگوں سے خالی نہیں ہے۔ لوگ جیسی سوچ رکھتے ہیں، اﷲ تعالیٰ اُس کے لیے اسباب ویسے ہی بناتے ہیں۔ میں جس جال میں پھنسی ہوں یہ بڑی لمبی داستان ہے۔ شاید معصوم و مجبور لوگ شیطان کے قبضے میں آجاتے ہیں۔

بہو کے جانے کے بعد جو مسائل پیدا ہوئے وہ بے انتہا ہیں۔ مگر مجھے اپنی ایک بیٹی کی وجہ سے بھی سخت پریشانی ہے۔ اُس کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے۔ وہ پیدا ہونے کے بعد سے ہی بہت تیز تھی۔ اُس کی وجہ سے دوسرے بھی پریشان ہو جاتے تھے۔ جب وہ پیدا ہونے والی تھی تو بڑی بیٹی بیمار ہوئی۔ اُسے سوکھا ہوگےا تھا۔ بڑی مشکل سے علاج ہوا۔ اُس کے بعد یہ بیٹی پیدا ہوئی۔ اس کو بھی سوکھا ہو گےا۔ ایک بزرگ نے اس کے بارے میں بتاےا کہ یہ تو تلوار کی دھار پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتاےا کہ اس بچی کو تم لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں