ایک سخت اور مشکل مہینے کا آغاز، حادثات اور سانحات کا امکان

پاکستان اپنی تاریخ کے ایسے بدترین سیاسی دور سے گزر رہا ہے جس میں تقریباً تمام ہی اہل سیاست اپنی ساکھ اور عزت کھو بیٹھے ہیں، کچھ سیاست داں کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تو کچھ اپنی غیر دانش مندانہ اقتدار پرستی کی سیاست کے باعث عوام کی نظروں میں بے وقار ہوئے ہیں، ہمارے ملک کے سیاست دانوں کے حوالے سے یہ تاثر بھی عام ہوتا جارہا ہے کہ یہ لوگ محض کاروباری مقاصد کے تحت سیاست میں آتے ہیں اور کروڑوں روپیہ خرچ کرکے اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں اور پھر اربوں روپے کماتے ہیں، گویا سیاست ان کے لیے کوئی مقدس مشن نہیں رہا ہے، تقریباً یہی صورت حال پاکستانی صحافت کی بھی ہوچکی ہے، ہمارے ملک میں ایک فیشن اہل سیاست نے یہ بھی اختیار کیا ہے کہ فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جائے اور ہر معاملے میں فوجی مداخلت کا رونا رویا جائے لیکن موجودہ دور میں اس حوالے سے بھی سیاست دانوں کے چہروں سے نقاب اترتی جارہی ہے،اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کی مسلح افواج ہی درحقیقت ملکی تحفظ کی ضامن ہے اور جو لوگ اپنے مذموم مقاصد کے تحت فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتے ہیں، وہ یقیناً ملک سے دشمنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
زائچہ پاکستان کے حوالے سے ہم بہت پہلے یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ زائچے کے چھٹے گھر (ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ) کا حاکم سیارہ زہرہ زائچے کے نویں گھر میں نہایت حساس ڈگری پر قائم ہے، گویا اس ملک کی آئینی اور قائدانہ ذمے داریاں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہیں اور رہیں گی لہٰذا یہ رونا فضول ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی ذمے داریوں سے فارغ کردیا جائے، ایسا اسی صورت میں ممکن ہوسکے گا جب پاکستان کی سیاست کے افق پر سیاست کو مقدس مشن سمجھنے والا کوئی ایمان دار اور صاحب کردار شخص طلوع ہوگا، اس سے پہلے یہ ممکن نظر نہیں آتا، افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کے اہل سیاست کی بھیڑ میں کوشش کے باوجود بھی ایسے سیاست داں نظر نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس اکثریت کا حال یہی ہے کہ ان کا بس چلے تو ملک و قوم کو ہی فروخت کردیں، اپنے اور اپنی پارٹی کے مفادات کے لیے یہ لوگ کچھ بھی کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جمہوریت اور جمہوری نظام دنیا کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے، چناں چہ پاکستان میں بھی جمہوری نظام ہونا چاہیے، ہمارے دانش ور، صحافی اور سیاست داں رات دن جمہوریت کا اور جمہوری روایات کا رونا روتے نظر آتے ہیں لیکن کیا درحقیقت یہ لوگ خود بھی جمہوری رویوں اور اخلاقیات کے پابند ہیں؟ پاکستان کی تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں وراثتی نظام کون سی جمہوریت کا آئینہ دار ہے، پاکستان میں قائم جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی سسٹم کیا جمہوریت کے لیے مناسب ہے؟یقیناً ان سوالات کا جواب دینے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرتا، صرف اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہہ کر اپنی سیاسی حیثیت و کردار کی نمائش کی جاتی ہے اور جب بھی ملک میں کوئی جمہوری سیٹ اپ آتا ہے تو ہمیں جمہوری ڈکٹیٹر شپ اور انتظامی نا اہلی کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں، ہماری اسمبلیوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی قانون سازی ضروری نہیں سمجھی جاتی، اس کے برعکس اگر نام نہاد عوامی نمائندوں کی مراعات سے متعلق معاملات ہوں تو اسمبلی فوراً قانون سازی میں مصروف ہوجاتی ہے، الا ماشاءاللہ۔

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

عزیزان من! اکتوبر کا آغاز ہورہا ہے اور اس مہینے میں سیارہ شمس، زہرہ اپنے برج ہبوط سے گزریں گے، گویا یہ مہینہ اہل اقتدار کے لیے نئے مسائل اور چیلنج لائے گا، اسی طرح فوجی اور سول سروسز کے لیے بھی ایک مشکل مہینہ ہوگا۔
زائچہ پاکستان کے مطابق ہر سال 15 اکتوبر سے 15نومبر تک کا وقت ہمیشہ اہم ثابت ہوتا ہے، اس عرصے میں منفی سرگرمیاں اور ناپسندیدہ واقعات و حوادث اور خصوصاً شدید نوعیت کے اختلاف رائے اور احتجاج سامنے آتے ہیں، چناں چہ اکتوبر کی 15 تاریخ کے بعد سے ایسی کسی بھی صورت حال کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔
سیارہ مریخ 5 اکتوبر تک برج حمل میں بحالت رجعت رہے گا اس کے بعد واپس برج حوت میں آجائے گا اور زائچے کے ساتویں گھر میں موجود کیتو کے ساتھ نظر قائم کرے گا، اس سے پہلے ستمبر میں بھی یہ نظر قائم ہوئی تھی، چناں چہ کئی حادثات اور ناخوش گوار واقعات سامنے آئے تھے، ایسا ہی دوبارہ ہوسکتا ہے، اچھی بات یہ ہے کہ سیارہ زحل جو زائچے کے نویں گھر میں ہے ، مستقبل کے مثبت رجحانات کی نشان دہی کرتا ہے جن میں سے ایک کا اعلان حال ہی میں کیا گیا ہے یعنی گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا جائے گا اور اس حوالے سے گلگت بلتستان میں عام انتخابات کا پروگرام بھی ہے، اگر ایسا ہوگا اور ان شاءاللہ یقیناً ہوگا تو اس کے مطابق پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوگا، گلگت بلتستان کی پاکستان کے ساتھ نئی آئینی حیثیت پاکستان کے نئے زائچے کی داغ بیل ڈال سکتی ہے، ہمارا درد مندانہ مشورہ یہی ہے کہ ایسی صورت میں اس نئی آئین سازی اور نئے آرڈیننس وغیرہ کا اجرا ایسٹرولوجیکل کسی سعد اور مبارک وقت میں کیا جائے تاکہ پاکستان کے نئے زائچے میں مثبت اور مبارک تبدیلیاں ملک و قوم کے لیے بہتر ثابت ہوں۔
اکتوبر کے مہینے میں راہو کیتو پیدائشی زائچے کے مشتری سے طویل قران کریں گے، یہ قران اکتوبر کے دوسرے ہفتے ہی سے شروع ہوجائے گا اور جنوری 2021 تک جاری رہے گا، ہماری نظر میں یہ بہت منفی اثرات کی حامل نظر ہے جس کی وجہ سے ملک میں نئے حادثات و سانحات جنم لے سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس منحوس وقت میں اپنا رحم و کرم فرمائے، اکتوبر کے آخری دو ہفتے یقیناً تشویش ناک نظر آتے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)

اکتوبر کی سیاروی گردش

سیارہ شمس برج سنبلہ میں حرکت کر رہا ہے، 18 اکتوبر کو اپنے ہبوط کے برج میزان میں داخل ہوگا،گویا آئندہ ایک ماہ تک اس کی پوزیشن نہایت کمزور رہے گی، سیارہ عطارد برج میزان میں ہے،15 اکتوبر سے اسے رجعت ہوگی اور اس کی رفتار سست ہوجائے گی، 19 اکتوبر سے غروب ہوجائے گا لہٰذا پورا مہینہ غروب حالت میں کمزور پوزیشن میں رہے گا۔
امن و آشتی ، محبت، دوستی کا سیارہ زہرہ برج اسد میں حرکت کررہا ہے، 24 اکتوبر سے اپنے برج ہبوط سنبلہ میں داخل ہوگا، گویا نہایت ناقص اور کمزور حالت میں 18 نومبر تک رہے گا، اس عرصے میں منگنی، شادی جیسے معاملات سے گریز کریں کیوں کہ زہرہ کی خراب پوزیشن آئندہ ازدواجی زندگی میں نت نئے مسائل کا باعث ہوگی، ازدواجی زندگی کی خوشیاں نہ مل سکیں گی۔
سیارہ مریخ اپنے ذاتی برج حمل میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے، 5 اکتوبر کو اس کی واپسی برج حوت میں ہوگی اور فوراً ہی کیتو سے نظر قائم ہوگی، خیال رہے کہ ستمبر میں بھی کیتو اور مریخ کے درمیان انتہائی نحس نظر قائم ہوئی تھی، یہ نظر حادثات اور جرائم میں اضافہ لاتی ہے، اس وقت مریخ برج حمل میں تھا اور کیتو برج قوس میں، دونوں آتشی برج ہیں، اس بار مریخ برج حوت میں اور کیتو برج عقرب میں ہوگا، دونوں آبی برج ہیں، چناں چہ ایسے حادثات اور جرائم میں اضافہ ہوگا جن کا تعلق خفیہ سرگرمیوں سے ہوسکتا ہے، سمندری اور دریائی سفر میں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، جنسی جرائم بڑھ سکتے ہیں، سیارہ مریخ اور کیتو کے درمیان موجودہ نظر 25 دسمبر تک قائم رہے گی۔
سیارہ مشتری بدستور 23 درجہ برج قوس پر مستقیم حالت میں ہے،5 اکتوبر سے اپنے نئے سفر کا آغاز کرے گا، سیارہ زحل برج جدی کے 2 درجے پر حرکت کر رہا ہے،پورا مہینہ اس کی یہی پوزیشن رہے گی،راہو کیتو20 ستمبر سے برج تبدیل کرکے اپنے شرف کے بروج ثور اور عقرب میں داخل ہوچکے ہیں،پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کریں گے،یہ سیاروی گردش ویدک سسٹم کے مطابق ہے۔

شرف قمر

قمر اپنے شرف کے برج میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 5 اکتوبر بروز پیر رات 09:15 pmپر داخل ہوگا،8 اکتوبر 09:20 am تک برج ثورمیں رہے گا، یہ انتہائی سعادت افروز اور سعدوقت ہوگا، اس وقت میں اپنی جائز مشکلات اور حاجت کے لیے ضروری عمل و وظائف کیے جاسکتے ہیں، ایسے اعمال و وظائف کے لیے بہتر وقت 6 اکتوبر کو شام 04:47 سے 05:45 تک ہوگا۔
اس سعد وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مقررہ وقت پر پاک صاف ہوکر قبلہ رخ بیٹھیں اور 786 بار بسم اللہ الرحمن الرحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کرلیں اور یہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں، ان شاءاللہ گھر میں باہمی اختلافات کا خاتمہ ہوگا اور محبت و یگانگت بڑھے گی، رزق میں برکت ہوگی، چینی جب ختم ہونے لگے تو اس میں مزید چینی ملا لیا کریں۔

قمر در عقرب

سیارہ قمر اکتوبر کے مہینے میں 19 تاریخ کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات 12:20 am پر برج عقرب میں داخل ہوگا اور 21 اکتوبر رات تقریباً دو بجے تک اپنے ہبوط کے برج عقرب میں رہے گا، اس دوران میں کوئی نیا کام شروع نہ کریں، پہلے سے جاری کاموں کو انجام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا، یہ انتہائی نحوست کا وقت ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت شادی بیاہ یا نئے ایگرمنٹ وغیرہ سائن کرنا ،نئی خریدوفروخت کرنا فائدے بخش نہیں ہوتا، اس موقع پر بری عادتوں اور خراب حرکتوں سے روکنے کے لیے جفری عملیات کیے جاتے ہیں، اس تمام وقت میں ایسے عملیات کے لیے حسب ضرورت سیاروی ساعتوں سے کام لیا جاتا ہے۔

میاں بیوی میں محبت کے لیے عمل خاص

زن و شوہر میں اختلافات، مزاجی ناہمواری، باہمی لڑائی جھگڑا، محبت کی کمی وغیرہ کے لیے یہ ایک مجرب طریقہ ہے اور صرف شادی شدہ خواتین و حضرات ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نہایت آسان بھی ہے۔ گرہن کے درمیانی وقت میں ایک سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے پوری بسم اﷲ لکھ کر سورہ الم نشرح پوری لکھیں پھر یہ آیت لکھیں۔
والقیت علیک محبة فلاں بن فلاں (یہاں مطلوب کا نام مع والدہ لکھیں) علیٰ محبة فلاں بنت فلاں (یہاں طالب کا نام مع والدہ لکھیں) کما الفت بین آدم و حوا و بین یوسف و زلیخا و بین موسیٰ و صفورا و بین محمد و خدیجة الکبریٰ و اصلح بین ھما اصلاحاً فیہ ابداً
اب تمام تحریر کے ارد گرد حاشیہ ( چاروں طرف لکیر) لگا کر کاغذ کو تہہ کر کے تعویز بنا لیں اور موم جامہ کر کے بازو پر باندھ لیں یا پھر اپنے تکیے میں رکھ لیں۔
خیال رہے کہ مندرجہ بالا نقوش لکھتے ہوئے باوضو رہیں، پاک صاف کپڑے پہنیں، علیحدہ کمرے کا انتخاب کریں، لکھنے کے دوران مکمل خاموشی اختیار کریں اور اپنے مقصد کو ذہن میں واضح رکھیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں، رجال الغیب کا خیال رکھیں کہ آپ جس طرف رخ کر کے بیٹھے ہوں وہ آپ کے سامنے نہ ہوں، رجال الغیب کا نقشہ اس کتاب میں دیا جارہا ہے ، اس سے مدد لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں