ہم قسمت کو دعوت دے سکتے ہیں لیکن اس پر حکم نہیں چلاسکتے

ہمارے ملک میں معاشی بدحالی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے انعامی اسکیموں میں حصہ لینے کا رحجان نہایت تیزی سے بڑھا ہے۔ مالی محرومیوں کا شکار افراد رات دن لاٹریوں اور انعامی بانڈ کے ذریعے دولت کمانے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کے ان خوابوں کو تعبیر کا سبز باغ دکھانے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ ملک بھر میں بڑے بڑے لاٹریوں اور بانڈ کے نمبر بتانے والوں کے اشتہار شائع ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے بتائے ہوئے نمبر کا نتیجہ کیا نکلتا ہے لیکن ہم یہ ضرور سوچتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب بانڈ یا انعامی لاٹری کا جیتنے والا نمبر معلوم کرسکتے ہیں تو خود اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ ایسا قیمتی کروڑوں روپے کا نمبر وہ چند ہزار روپے معاوضہ لے کر دوسروں کو کیوں دے دیتے ہیں؟
ایک مرتبہ ہمارے پاس بھی ایک صاحب آئے اور انعامی نمبر کی فرمائش کی۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر انعام نکل آیا تو آدھا آپ کو دے دوں گا۔ ہم نے عرض کیا کہ اگر ایسا نمبر ہمیں معلوم ہوجائے تو پھر ہم پورا انعام ہی کیوں نہ لے لیں۔
نمبر بتانے والوں کے علاوہ بہت سے رسائل اور کتابیں بھی نمبر نکالنے کے فارمولوں سے بھری پڑی ہیں۔ بڑے بڑے پےچیدہ حسابی فارمولے ہر ماہ شائع ہوتے ہیں اور جو لوگ ان فارمولوں کے چیمپئن کہلاتے ہیں، خدا معلوم وہ خود کتنے کروڑ پتی یا ارب پتی ہیں ؟ہمارے خیال میں تو انہیں یقینا کروڑ پتی تو ضرور ہونا چاہیے۔
عزیزان من! علم جفر ، علم نجوم یا علم الاعداد کے ذریعے ریس کے گھوڑے کا نمبر، سٹہ، بانڈ یا دیگر لاٹریوں کے نمبر معلوم کرنے کا شوق اور جنون ہر زمانے میں رہا ہے۔ لوگ اس جستجو میں اپنی زندگیاں تباہ کرلیتے ہیں۔ ان علوم کے ماہرین نے بھی اس موضوع میں خصوصی دلچسپی لی ہے۔ قدیم اور جدید کتابیں اس موضوع سے بھری پڑی ہیں اور اس حوالے سے مشرق و مغرب کے درمیان کوئی امتیاز نہیںہے۔ انعام جیتنے کا شوق مشرق کی طرح مغرب میں بھی بے پناہ ہے۔ آج کی نشست میں آئیے اس سوال کا جائزہ لیا جائے کہ کیا ایسا کوئی علمی طریقہ ءکار موجود ہے جس کے ذریعے وہ نمبر معلوم کیا جاسکے جو کسی بھی قرعہ اندازی کے موقع پر پہلے یا دوسرے انعام کا حق دار ہوگا۔

انعامی حصول کی اہلیت

ہماری زندگی کا بیشتر حصہ علوم مخفیہ کے مطالعے اور مشاہدے میں گزرا ہے۔ بے شک ایسے کلیے اور قاعدے موجود ہیں جو کسی مخصوص وقت پر نمایاں ہونے والے نمبروں کی نشان دہی کرسکیں لیکن یہ کلیے اور قاعدے کبھی ایسے حتمی نتائج نہیں دیتے جن پر مکمل طور سے بھروسا کیا جاسکے۔ ان کلیوں اور قاعدوں سے ہر شخص فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ انعامی اسکیموں میں کامیابی کے لیے پہلی شرط وقت کی سعادت کا حصول ہے اور دوسری شرط خود اپنے ذاتی زائچے میں خوش بختی کے عنصر کی موجودگی ہے۔ اگر یہ دو بنیادی شرائط کوئی شخص پوری کرتا ہے تو پھر ہماری تحقیق کے مطابق کسی انعامی مقابلے میں شکست نہیں کھاسکتا۔ وہ خواہ کسی بھی نمبر کا بانڈ یا لاٹری ٹکٹ خرید لے، وہی فاتح ہوگا۔ یہی وہ بنیادی نکات ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ شعور حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ انعامی اسکیموں میں حصہ لینے کے لیے آپ ایک موزوں شخصیت ہیں یا نہیں اور پھر جب آپ کسی انعامی اسکیم میں حصہ لیتے ہیں تو وقت کی سعادت آپ کو حاصل ہورہی ہے یا نہیں؟
یہ سب کچھ جاننا کسی عام آدمی کے لیے بہت مشکل کام ہے کیونکہ علم نجوم سے واقفیت کے بغیر نہ آپ اپنی خوش بختی سے واقف ہوسکتے ہیں اور نہ ہی وقت کی سعادت اور موافقت سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔ مغرب میں البتہ اس کا رواج ہے اور لوگ ایسٹرولوجرز سے مشورہ اور مدد لیتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں لوگ اس معاملے میں عاملوں کاملوں اور پیروں فقیروںکے آستانوں کا رخ کرتے ہیں کہ ان کی بارگاہ سے کوئی ایسا نمبر مل جائے جو قسمت بدل دے۔ حالانکہ قسمت نمبروں سے نہیں بدلی جاتی، یہ مہم اور ہی ترکیب سے سر ہوتی ہے۔
جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ اس سلسلے میںسب سے پہلے تو اپنے ذاتی زائچے کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا ضروری ہے کہ پیدائشی طور پر انعامی اسکیموںمیں کامیاب ہونے کے امکانات کتنے فیصد ہیں۔ اگر یہ امکانات بہت کم ہیں یا بالکل نہیں ہیں تو بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک قابل ایسٹرولوجر آپ کو ایسی حکمت عملی سے روشناس کرسکتا ہے کہ آپ اس کے مشورے پر عمل کرکے خوش قسمتی کے امکانات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اگرچہ اس سلسلے میں کی جانے والی کوششیں شاید فوری نتائج نہ دے سکیں لیکن طویل منصوبہ بندی سے مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔

اندھیرا، اُجالا

ہمارے ملک میں بے شمار لوگوں کو اپنی تاریخ پیدائش یا وقت پیدائش معلوم نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ اپنا درست ذاتی زائچہ نہیں بنواسکتے۔ اس طرح وہ ایک گہرے اندھیرے میں کھڑے ہیں اور درحقیقت انہیں اپنی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ ایسے لوگ کس طرح مفید رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ جس کے جواب میں نام اور والدہ کے نام وغیرہ سے کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ یہ کوئی معتبر طریقہ نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے بہتر اور زیادہ معتبر اور مستند طریقہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اگر شادی شدہ ہیں تو اپنی شادی کی تاریخ اور نکاح کے وقت کا زائچہ بنوائیں۔ وہ یقینا زیادہ بہتر اور مستند رہنمائی کرے گا۔اگر شادی نہیں ہوئی ہے تو زندگی کا کوئی بھی بڑا اہم واقعہ لیں اور اس کے مطابق زائچہ بنائیں۔ ضروری نہیں کہ وہ واقعہ اچھا ہے یا برا ہے؟ مثلا کسی بڑے امتحان میں کامیابی کی تاریخ یا کسی جاب کے ملنے کی تاریخ اور وقت، کسی سفر پر روانگی کی تاریخ اور وقت یا کسی دوسرے ملک میں قدم رکھنے کی تاریخ یا وقت وغیرہ ۔ ہماری زندگی میں ایسے بہت سے واقعات ہوتے ہیں جو نہایت اہمیت کے حامل اور یادگار ہوتے ہیں۔ وہ یقینا ایک ایسے زائچے کی بنیاد بن سکتے ہیں جو آئندہ زندگی میں ہماری رہنمائی کرسکتا ہے اور اس زائچے کی روشنی میں سعادت و نحوست کے ذاتی پہلوﺅں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

خوش قسمتی کا وقت

اس کے بعد دوسرا مرحلہ زیادہ آسان ہے یعنی انعامی مقابلے میں کامیابی کے لیے کسی سعد وقت کا انتخاب کرنا اور اس وقت کو اپنے زائچے میں موجود خوش بختی کے عناصر سے میچ کرنا ۔اگر یہ مرحلہ طے کرنے میں آپ کامیاب ہوجاتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ کا انعام نکل آیا ہے اور آپ جیتنے والے نمبروں کے محتاج نہیں رہے ہیں۔ آپ کوئی نمبر بھی خرید لیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔آپ کی ذاتی خوش قسمتی کے عوامل اور وقت کی سعادت کا ہم آہنگ ہونا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔
کسی بھی زائچے میں خوش قسمتی کے ستارے مختلف ہوسکتے ہیں لیکن مشتری اور زہرہ اس حوالے سے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کی مبارک اور مضبوط پوزیشن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

نمبر نہیں وقت اہم ہے

لاٹری انعامی بانڈز اور دیگر انعامی اسکیموں کے حوالے سے اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ ایسے نمبروں کی تلاش میں رہتے ہیں جو انعام جیتنے میں مدد گار ثابت ہوں۔ ہمارے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں یہ سوچ غلط ہے کہ نمبر آپ کی قسمت بدل سکتے ہیں یا آپ کو کوئی انعام جیتنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ”وقت“ آپ کی قسمت بدل سکتا ہے ، نمبر نہیں۔ ایسا وقت جو مبارک ہو اور آپ کی کامیابی کو یقینی بناسکے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے اپنے ذاتی زائچے پر نظر ڈالنا ضروری ہے اور اپنی پیدائشی خوبیوں اور خامیوں سے واقفیت ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آپ لاٹری یا کسی بھی انعامی اسکیم میں کامیابی کی پیدائشی طور پر کتنی اہلیت رکھتے ہیں۔ اگر آپ کے اندر پیدائشی طورپر یہ صلاحیت موجود نہیں ہے تو آپ کبھی بھی کسی انعامی مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ایسی صورت میں آپ کو اپنے زائچے میں موجود خوش قسمتی کے عوامل سے واقفیت حاصل کرنا اور پھر ان کو وقت کی سعادت سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگا ، تب ہی آپ کوئی کامیابی حاصل کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ یہ اصول خود لاٹری یا انعامی اسکیموں کے حوالے سے ہی ضروری نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر معاملے اور مرحلے میں اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے ، زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو ، تعلیم ، تربیت ، ملازمت ، کاروبار ، شادی ، اولاد ، سفر ، رہائش میں تبدیلی وغیرہ اگر آپ کے پیدائشی زائچے اور رواں وقت کی سعادت کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے تو آپ ناکامی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
اس سلسلے میں بنیادی اصول تو یہی ہے جس کا ہم اظہار کرچکے ہیں ، اگر آپ کے پاس اپنا زائچہ پیدائش ، زائچہ نکاح یا زندگی کے کسی اور اہم واقعے کا زائچہ موجود ہے تو سب سے پہلے اس زائچے میں اپنے ذاتی ، مالی اور خوش بختی کے خانوں کو دیکھیں اور ان کے حاکم سیارگان کی پوزیشن کو نوٹ کریں۔ آپ کے لئے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آپ کے مالی خوش قسمتی لانے والے سیارگان کون سے ہیں اور زائچے میں ان کی پوزیشن طاقت ور اور سعد ہے یا نہیں ؟ اسی طرح آپ کے ذاتی حاکم سیارے کو بھی طاقت ور اور سعد پوزیشن میں ہونا چاہیے۔اگر ان سیارگان کی پوزیشن سعد اور طاقت ور نہیں ہے یا طالع کے حاکم کی پوزیشن بھی کمزور ہے تو پھر کوئی لاٹری جیتنے کے امکانات انتہائی محدود ہوجاتے ہیں ، اس کے ساتھ ہی زائچے میں مشتری کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے ، کیونکہ یہی وہ سیارہ ہے جو وسعت و ترقی اور مالی خوش بختی پر حکمران ہے۔ ” لوح مشتری “ یا ”لوح خوش بختی“ بنیادی طورپر اس ضرورت کو پورا کردیتی ہے کہ اگر مشتری زائچے میں کم زور بھی ہے تو ” لوح مشتری “ کے ذریعے مشتری کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے۔
ہر شخص چوں کہ اپنا زائچہ نہیں بنواتا اور نہ ہی وہ علم نجوم سے واقفیت رکھتا ہے لہٰذا اس کے لیے علم نجوم کے ذریعے کسی خوش قسمت وقت کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہے ، اگر وہ کسی ایسٹرو لوجر سے رابطہ کرتا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ بھی اس کی درست رہنمائی کرے گا ، کیونکہ اس شعبے میں عمدہ مہارت رکھنے والے افراد کی اول تو پہلے ہی کمی ہے ، پھر اتنے پیچیدہ حسابات کی زحمت کون اٹھاتا ہے ، کیونکہ اس کی محنت کا بھرپور صلہ دیتے ہوئے بھی لوگ ہچکچاتے ہیں۔

ایک سادہ اصول

ہم بھی یہاں عام اور سادہ طریقوں پر ہی اکتفا کریں گے ، کیونکہ زیادہ ٹیکنیکل نوعیت کے مسائل اگر بیان بھی کیے جائیں تو انہیں سمجھے گا کون ؟ صرف وہی لوگ سمجھ سکیں گے جو خود علم نجوم کی معقول شد بدھ رکھتے ہیں ، لہٰذا ایسا طریقہ بیان کیا جارہا ہے جس سے عام آدمی فائدہ اٹھا سکے۔
اکثر لوگ لاٹری کے ٹکٹ یا بانڈز زیادہ تعداد میں خرید کر پاس رکھتے ہیں ، کیونکہ ان کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں ، بے شک علم ریاضی کی رو سے اور دنیاوی نقطہ نظر سے تو یہ بات درست ہوسکتی ہے مگر روحانی اعتبار سے ہمارا یہ عمل انتہائی کمزور اور ناقص ہے ، روحانی نظریے کے تحت اس سے ہماری قوت ارادی اور ہمارے عقیدے کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے اور یاد رکھیے، ہماری قوت ارادی اور ہمارا عقیدہ ہی تو ہے جو پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہلا سکتا ہے۔ جب ہم بہت سے ٹکٹ یا بانڈز خرید لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہے اور یقین کی کمی بہر حال ناکامی سے دو چار کرتی ہے۔ ہم صرف ایک ٹکٹ یا بانڈ خرید کر کیوں مطمئن نہیں ہوتے اور کیوں اس بات پر بھروسا نہیں کرتے کہ ہم ضرور جیتیں گے ؟ اس کی بنیادی وجہ وہی ہے کہ ہمیں اپنی خوش قسمتی کے عوامل کا شعور حاصل نہیں ہے۔ ہمیں یہ شعور سب سے پہلے ہمارے زائچے سے حاصل ہوگا، اس کے بعد ” لوح مشتری “ سے ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے زائچے میں سیارگان کی ایسی مبارک اور طاقت ور پوزیشن موجود ہے جو ہمیں جیتنے میں مدد دے سکتی ہے اور ماضی میں بھی ہمارے مشاہدے میں آچکی ہے۔ اس کے بعدیہ احساس بھی ہمارے جیتنے کے یقین کو تقویت دینے کا باعث ہوگا کہ ” لوح مشتری “ کی صورت میں مشتری کی وسعت اور ترقی دینے والی قوت ہمیں حاصل ہے ، اب تیسرا مرحلہ مناسب اور مبارک وقت کا انتخاب ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ علم نجوم سے مکمل طور پر مدد لینا عام آدمی کے لیے مشکل ہے ، لہٰذا صرف ایک چیز کو مد نظر رکھا جائے اور وہ ہے مشتری کی ساعت یعنی مشتری کا گھنٹہ۔ علم الساعات کے ذریعے ہم روزانہ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ 24 گھنٹے میں مشتری کے کتنے گھنٹے ہیں ، بس یہ گھنٹے ہمارے لیے خوش بختی کا وقت ہیں۔ اگر آپ کے پاس ” لوح مشتری “ موجود ہے تو آپ لاٹری کا ٹکٹ یا انعامی بانڈ اس وقت خریدیں جب مشتری کی ساعت چل رہی ہو۔ اگر دن بھی مشتری کا یعنی جمعرات کا ہو تو اور بہتر ہے۔
وہ لوگ جو علم نجوم سے تھوڑی بہت بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور کم از کم سیارگان کی روزانہ یا ماہانہ گردش پر نظر رکھتے ہیں اس بات کا مزید خیال رکھ سکتے ہیں کہ لاٹری ٹکٹ یا بانڈ خریدتے ہوئے سیارگان کے موافق زاویوں کو بھی مد نظر رکھیں ، خاص طور سے مشتری اور قمر کے نظرات، مشتری اور شمس ، شمس و قمر یا مشتری اور زہرہ کے نظرات یا پھر زیادہ باریکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے زائچے کے مالی معاملات پر حاکم سیارگان کے موافق نظرات کو مد نظر رکھیں تو جیتنے کے چانس اور بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ آپ کے زائچے میں مالی امور پر حاکم سیارگان زائچے کے دوسرے، پانچویں اور گیارھویں گھر سے متعلق ہوں گے ، دوسرے اور پانچویں گھر کے حاکم اور ان گھروں پر قابض سیارگان نہایت اہمیت کے حامل ہیں ، انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
جو لوگ جنتری یا تقویم خریدتے ہیں اور اس میں موجود سیاروں کی رفتاروں اور نظرات کو سمجھ سکتے ہیں وہ با آسانی کسی ایسے مبارک دن کا انتخاب کرسکتے ہیں جب ان کے مالی سیارگان موافق نظرات رکھتے ہوں یا مشتری اور زہرہ موافق نظرات کے تحت ہوں اس روز مشتری کی ساعت میں بانڈ یا لاٹری کے ٹکٹ کی خریداری جیتنے کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ہم نے یہاں جو سادہ سا اصول بیان کیا ہے یہ بہر حال حتمی نہیں ہے ، ایک حتمی طریقہ کار جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں خاصا پیچیدہ اور مشکل ہے ، اس کے لئے تو اپنے زائچہ پیدائش پر بہت زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آپ لاٹری جیتنے کے اہل بھی ہیں یا نہیں اور خود آپ کی زندگی میں وقت کی سعادت یا نحوست کس حد تک کار فرما ہے ، بے شک آپ کی نااہلیت کو لوح مشتری کے ذریعے اہلیت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن رواں وقت کے ساتھ ہم آہنگی اسی صورت میں پیدا ہوگی جب آپ بانڈ یا لاٹری ٹکٹ کسی موافق اور مبارک وقت میں خریدیں گے۔
یاد رکھیے، کائنات میں عام کاسمک لہریں جاری و ساری ہیں ، جنہیں چینی فلسفیوں نے ” تائو “ کہا ہے ، معاملات در حقیقت کیا ہیں اور کس طرح رو نما ہوتے ہیں ؟ یہ سب کچھ اس کے برعکس ہے جو ہمیں جدید معاشرہ سکھاتا ہے کہ معاملات کو کیسا ہونا چاہئے۔ لوگ یا تو کائناتی توانائیوں کے بہاو¿ سے ہم آہنگ ہو کر کسی لہر کے ساتھ بہتے چلے جائیں اور بالآخر ایک منطقی منزل تک پہنچ جائیں یا پھر اس بہاو¿ کے خلاف نبرد آزما ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی ابتدائے آفرینش میں اس کائناتی ردھم کے ساتھ ہم آہنگی تھی لیکن جیسے جیسے انسانی شعور ترقی کرتا گیا اور سوچ کے ساتھ استدلال پر زور شروع ہوا تو انسان کائناتی ردھم سے دور ہوتا چلا گیا یا یوں کہہ لیجیے کہ اس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کائناتی توانائیوں کے بہاو¿ کے خلاف جد و جہد شروع کردی ، وقت سے لڑنے کی اس انسانی کوشش نے زندگی میں اس کے لئے زیادہ گمبھیر مسائل پیدا کردیے۔
جدید معاشرے میں جو کچھ روز مرہ کی زندگی میں پیش آتا ہے وہ در حقیقت ہماری سوچ اور دوسرے لوگوں کو اپنی سوچ کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے لیکن یہ کائناتی توانائی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا طریقہ نہیں ہے ، ہم اس توانائی کی لہروں سے مطابقت پیدا کرکے ہی اس کی پذیرائی کرسکتے ہیں۔ گویا اس کی لہروں کے ساتھ بہہ کر ، نہ کہ ان سے الجھ کر۔ ہم اپنی عادت کے مطابق جس طرح دوسروں کو مرعوب کرکے ان کا تعاون حاصل کرنا چاہتے ہیں بالکل اسی طرح ہم کائناتی توانائی کے بہاو¿ پر بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں چاہیے کہ ہم کائناتی توانائی کے پیچھے پیچھے چلیں اور اپنی اہمیت جتانے کے لیے اسے مرعوب کرنے کی کوشش نہ کریں۔
طلسماتی تیکنیک کی تاثیر کے مقبول نظریے کے برعکس ، آپ صرف قسمت کو دعوت دے سکتے ہیں ، اس پر حکم نہیں چلا سکتے ، آپ اپنے ارادے کی مضبوطی سے قسمت کو دعوت دیتے ہیں ، اگر آپ شعور کی ایک سطح پر اپنے آپ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ لاٹری جیتنا چاہتے ہیں لیکن تحت الشعور کی سطح پر آپ کو سچ مچ یقین نہیں ہے کہ آپ جیتنے کے مستحق ہیں تو آپ کسی بھی طرح جیت نہیں سکتے۔ لہٰذا شعور کے ساتھ تحت الشعور میں بھی یقین کی کیفیت کو تقویت پہنچانے کی ضرورت ہوگی۔
اپنے آپ کو کائناتی توانائیوں کی لہروں سے ہم آہنگ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ علم نجوم کی مدد سے سیاروں کی حرکت کے مطابق اپنے ہر عمل کا وقت منتخب کریں ، یہ وقت ہی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، اس کے مقابلے میں پہلے سے منتخب کردہ نمبر بے کار ہیں۔ اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اگر آپ اپنے زائچے اور دیگر ایسٹرو لوجیکل موافقت سے واقف نہیں ہیں تو کم از کم صرف مشتری کی ساعت کا خیال ضرور رکھیں۔ یاد رکھیں لاٹری جیتنے والے افراد اور نمبر پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتے۔ ایک رواں صورت ِ حال ہمارے سامنے ہوتی ہے تاوقت یہ کہ قرعہ اندازی کا لمحہ نہیں آجاتا ، بس اس لمحے میں ان لوگوں کا انتخاب عمل میں آجاتا ہے ، جن کے ساتھ اس وقت کی سعادت ہم آہنگ ہوتی ہے اور اس وقت کی سعادت انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جنہوں نے کسی سعد وقت میں قسمت آزمائی کا آغاز کیا تھا ، اس سے کوئی بحث نہیں ہے کہ ان خوش قسمت لوگوں کے پاس لاٹری یا بانڈ کے نمبر کون سے تھے۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے ، قسمت کو دعوت دی جاسکتی ہے اس پر حکم نہیں چلایا جاسکتا ، اگر آپ کسی مبارک وقت پر انعامی اسکیم میں حصہ لے رہے ہیں تو آپ جیتنے کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ گویا آپ قسمت سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کا ” نوٹس “ لے اور آپ اپنی قوت فیصلہ کو اس لمحے کے آگے سرنڈر کر کے قسمت کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ آپ کا ہاتھ تھام لے۔
امید ہے کہ اس تفصیلی بحث اور وضاحت کے بعد ہمارے قارئین نے وہ راز پا لیا ہوگا جو کسی بھی انعامی مقابلے میں کامیابی کا بنیادی نکتہ ہے۔ ہمارے اکثر قارئین صرف مشتری کی ساعت کا انتخاب کرکے بہت سے فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روزانہ کے 24 گھنٹوں میں مشتری کا گھنٹہ معلوم کرنا بھی عام آدمی کے لیے مشکل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں