نظامِ کائنات میں گردشِ سیارگان کی اہمیت اور اثرات کا جائزہ

سائنس کی شاخ علم نجوم وبروج کے حوالے سے اکثریہ سوال کیاجاتاہے کہ سیارگان اوربروج کے اثرات اہل زمین پرخصوصاً انسان اورانسانی زندگی کے حالات پرکس طرح مرتب ہوتے ہیں اوریہ کہ مرتب ہوتے بھی ہیں یانہیں؟
اس سلسلے میں پہلی غور طلب بات تویہی ہے کہ پرورد گارنے آخریہ سورج چاند ستارے کس مقصد کے تحت تخلیق کیے؟ آخران کی ضرورت کیا تھی؟ یقیناتخلیق کائنات کے وقت جونظام ترتیب دیاگیاہے، اس میں وہ تمام سیارے اوربروج اوران کے علاوہ بھی دیگر فلکیاتی مظاہراپنا اپنا مقام رکھتے ہیں اوراپنی اپنی جگہ ایک مخصوص کردار بھی ادا کررہے ہیں۔
قرآن کریم کی اکثرآیات سے ہمیں ان کی اہمیت اوران کے کام کے بارے میں اشارے ملتے ہیں۔ جدید سائنس ان سیاروں کی گردش کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والے بے شمار مظاہرکا اعتراف کرتی ہے مثلاً سورج کی روشنی کا حیات بخش ہونا تسلیم کیاگیاہے۔ چاند‘زمین اوردوسرے سیارگا ن کی گردش سے پیدا ہونے والے عوامل بھی ہمارے تجربے میں ہیں۔ سائنس دان اس بات کوبھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین چاندیا دیگر سیارہ گان سورج کے گرداپنے مخصوص دائرے میں اپنی مخصوص رفتار سے سفر کررہے ہیں اوریہی بات اس کائناتی نظام کے سلامتی سے رواں دواں رہنے کاسبب ہے ۔اگران سیار گان میں سے کوئی ایک بھی اپنے محور سے ہٹ جائے یا اس کی مخصوص رفتار میں خلاف معمول کوئی فرق آجائے تو شاید پورا نظام بگڑکررہ جائے اوراس کے نتیجے میں خدا معلوم کیا تباہی آئے۔ یہ سائنس دانوں کے اندازے ہوسکتے ہیں لیکن بہ حیثیت مسلمان ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ اپنی آخری کتاب قرآن حکیم میں اﷲ نے ہمیں بتادیاہے کہ یہ سب اس کے حکم سے اپنے اپنے دائروں میں تیررہے ہیں اوراس کے حکم کے پابند ہیں لہٰذا خود بخود یا اپنی مرضی سے نہ اپنے دائروں سے ہٹ سکتے ہیں اورنہ ان کی رفتار میں فرق آسکتا ہے۔
جدید سائنس اس بات کوبھی تسلیم کرتی ہے کہ کرۂ ارض پرآنے والی اکثر تبدیلیاں ان سیاروں کی مخصوص گردش کے باعث ہوتی ہے جیساکہ قمری گردش پانی پراثرانداز ہوتی ہے۔ سمندر میں مدوجزرچاند کے اثرات کے تحت واقع ہوتاہے۔ اگرایک پودے کوسورج کی روشنی نہ ملے تووہ مرجھاسکتا ہے یایہی روشنی تمازت کی شکل میں زیادہ ہوجائے تواسے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
سیاروں کی گردش کا نظام پروردگارنے کچھ ایسا رکھا ہے کہ یہ اپنی گردش کے دوران میں ایک دوسرے سے مخصوص فاصلے پر ہونے کے باوجود اپنے برسوں مہینوں اوردنوں کے سفر میں نہ صرف اس فاصلے میں کمی بیشی کرتے رہتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے مخصوص زاویے بھی قائم کرتے ہیں۔ علم نجوم کے ماہرین اپنے برسوں کے مشاہدے اورتجربے کے بعد اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ سیارگان کے درمیان قائم ہونے والے یہی مخصوص زاویے اورفاصلوں کی کمی بیشی ہرروز ایک نیا اثراورنئی کیفیت پیدا کرتے ہیں اوریہی اثر کائنات میں یا ہمارے نظام شمسی میں اتارچڑھاؤ یا تغیر و تبدل کا سبب ہے۔کیااس اثرکوصرف بے جان چیزوں تک یا غیرانسانی مظاہرتک محدود رکھاجائے یا یہ تسلیم کرلیا جائے کہ انسان بھی ذہنی جسمانی طورپراس اثر کی زد میں آتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پراختلافات موجود ہیں۔ ماہرین نجوم کا موقف یہ ہے کہ انسان بھی ذہنی وجسمانی طور پران اثرات کوقبول کرتاہے جبکہ اس نظریے کے خلاف دلیلیں دینے والے ناقدین کی بھی کمی نہیں ہے۔
اگرہم غور کریں تواس حقیقت کوجان لیں گے کہ اکثر ہم ایسی کیفیات سے بھی گزرتے ہیں جن کا جواز ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ مثلاً کبھی کبھی ہم بنا کسی سبب کے تنہا پسندی اختیار کررہے ہوتے ہیں یا کبھی حد سے زیادہ لوگوں میں گھلنے ملنے کیلئے بے قرار ہوتے ہیں یا اچھا بھلا انسان کسی ایسی بات پر جوبظاہر معمولی ہوشدید اشتعال اور غصے کا مظاہرہ کرنے لگتاہے بلکہ بعض اوقات اس وقت بلاوجہ ہی طبیعت میں ناگواری ‘جھنجلاہٹ یا غصے کا عنصر بڑھ جاتا ہے اورپھر خود بخود ہی یہ کیفیت دور بھی ہوجاتی ہے، الغرض ایسی بے شمار کیفیات ہیں جن کا بعض اوقات کوئی معقول سبب نہیں ہوتا۔ وہ ایک دورے کی شکل میں آتی ہیں اورچلی جاتی ہیں اورہم ان کے زیراثر کبھی کبھی ایسے کام کرگزرتے ہیں جن پربعد میں ہمیں خود حیرت ہوتی ہے، وہ کام مثبت بھی ہوسکتے ہیں اورمنفی بھی ‘ماہرین نجوم کا مؤقف یہ ہے کہ جس طرح سیارگان کی گردش دن ورات کی تبدیلی ‘موسموں کی تبدیلی کا سبب بنتی ہے اسی طرح سیاروں کی گردش اوران کے درمیان قائم ہونے والے مخصوص زاویے انسانی مزاج اورحالات میں بھی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ کرۂ ارض پرآندھیوں اورسمندری طوفانوں یازلزلوں کے پیچھے بھی سیارگان کی گردش اورکشش کے طاقتور اثرات موجود ہوتے ہیں۔
ماضی قریب میں سونامی کے آنے کی پیش گوئی بین الاقوامی سطح پر منجمین نے کردی تھی۔ جب سیارہ مریخ برسوں بعدزمین کے بہت قریب سے گزررہاتھا تواس کوبھی کسی بڑے حادثہ ء ارضی وسمادی کا پیش خیمہ قرار دیاجارہاتھا کیونکہ مریخ کی کشش اس کی مخصوص دھاتوں تانبااورلوہے پراثرانداز ہوسکتی ہے۔اگراس کشش کا اثربہت زیادہ ہوتوزمین میں پوشیدہ لوہے اورتانبے کے ذخائر محترک ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں زلزلے نمودارہوسکتے ہیں۔زمین سے بہت زیادہ فاصلے پرواقع سیارگان کی گردش اورکشش کے اثرات بہت جلد ظاہر نہیں ہوتے۔ وہ آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتے ہیں اورایک طویل عرصے پران کا اثرمحیط ہوتاہے ۔مثلاً پلوٹو‘نیپچون ‘زحل ‘یورینس اورمشتری ایسے سیارے ہیں جن کا فاصلہ زمین سے بہت زیادہ ہے اوران کا مداربھی بہت وسیع وعریض ہے۔جس کی وجہ سے یہ اپنی گردش کا ایک دورخاصی لمبی مدت میں پورا کرتے ہیں چنانچہ علم نجوم کی زبان میں انہیں سست رفتار کیاجاتاہے مریخ ‘زہرہ‘ اورعطارد ان کی بہ نسبت زمین سے کم فاصلے پرہیں اوران کی رفتار بھی زیادہ ہے لہٰذا یہ کم مدت میں اپنی گردش کا ایک دورمکمل کرتے ہیں، قمرکیونکہ زمین سے بہت زیادہ قریب ہے اوریہ زمین ہی کے گردگھوم رہاہے لہٰذا اسے نہایت زوداثر تسلیم کیاگیا ، اس کی گردش کے دوران قائم ہونے والے زاویے فوری اثر اورنتائج دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علم نجوم میں قمر کی پوزیشن اورگردش کومرکزی حیثیت حاصل ہے۔قمر کے بعد سیارہ عطاردوزہرہ بھی نہایت زوداثر واقع ہوئے ہیں ۔ اکثرماہرین نجوم صرف قمر کے دیگرسیارگان سے قائم ہونے والے زاویوں اورمختلف بروج میں اس کے قیام ہی سے نتائج اخذ کرلیتے ہیں۔ مگریہ نتائج جس قدر زوداثرہوتے ہیں اتنے ہی ناپائیدار اورعارضی بھی ہوتے ہیں مثلاً قمرایک برج میں تقریباً ڈھائی دن گزارتاہے لہٰذا اس برج میں قیام کے اثرات صرف ڈھائی دن ہوں گے یا قمر جب کسی دوسرے سیارے سے کوئی زاویہ نظرقائم کرتا ہے وہ بھی دوگھنٹے تک رہتا ہے گویا اگرکسی شخص پرقمر کے ناقص اثرات پڑرہے ہوں تووہ دوڈھائی دن سے زیادہ عرصہ نہیں ہوں گے۔اسی طرح دیگرسیارگان کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جاتاہے۔ عطارد اورزہرہ کا قیام ایک برج میں تقریباً ستائیس اٹھائیس دن ہوتاہے اوریہ دونوں قمر کے علاوہ دیگرسیارگان سے جوزاویہ نظربناتے ہیں اس کا عرصہ 24گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا۔یہ الگ بات ہے کہ 24گھنٹے کا وہ زاویہ ء نظر کسی انسان کی زندگی پرکتنا گہرا اثرچھوڑ سکتا ہے۔وہ 24 گھنٹے اس کی زندگی کوکوئی نیا اچھایا براموڑ دے سکتے ہیں ۔ بڑے سیارگان چونکہ زیادہ طویل عرصے تک ایک ہی برج میں قیام کرتے ہیں اوران کی پوزیشن میں جلد کوئی تبدیلی نہیں آتی۔لہٰذاان کا اثرسست مگرنہایت گہرا ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب کوئی گہرااثرڈالنے والے سیارے زحل ‘یورینس ‘نیپچون وغیرہ کسی شخص کے زائچے میں کسی نامعقول پوزیشن پرآجائیں تواس کے لیے زندگی خاصی مشکل اوردشوار ہوجاتی ہے اوراس پر مشکلات و مسائل کا ایک طویل دورمسلط ہوجاتاہے۔ اس دور میں اس کی بہترین کوششیں بے کار ثابت ہوتی ہیں بلکہ حالات میں بہتری کے لیے جوبھی اقدام وہ کرتا ہے اس کا نتیجہ مفیدنہیں نکلتا بلکہ اکثر اوقات تو مزید تباہی کا باعث بن جاتاہے۔ خاص طورسے سیارہ زحل کا ناموافق دور ایسی صورت حال سے دوچارکرتا ہے لیکن انسان بڑا بے صبرا ہے وہ کبھی اپنے اوپر ایسی پابندیاں اور بندشیں برداشت نہیں کرتاجن کا تقاضا سیارہ زحل کرتا ہے ۔
اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جلدازجلد صورت حال کو بدل دے اور خود کو تمام پابندیوں سے آزاد کرے۔ لہٰذا وہ وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کے بجائے وقت سے لڑنے کی کوشش شروع کردیتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔
ستارہ مشتری اگرچہ تقریباً13مہینے ایک برج میں قیام کرتا ہے لیکن کسی کے زائچے میں جب یہ ناموافق پوزیشن میں آجائے تو ترقی کے راستے محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ الغرض ستاروں اور بروج کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ جو لوگ تجربے اور مشاہدے کے عمل سے گزرتے ہیں وہی کائنات کے پوشیدہ رازوں سے واقف ہوتے ہیں۔ باقی مکھی پہ مکھی مارنے والے‘ سنی سنائی باتوں پر تبصرہ کرنے والے دنیا میں بہت ہیں۔ چند مثالیں دے کر کسی بھی بات کو ردکر دینا یا کسی بھی حقیقت کا انکار کردینا بہت آسان کام ہے۔
یہ درست ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے ایک ایسے اکمل دین سے نوازا ہے جس کی موجودگی میں ہمیں گمراہی کا کوئی خطرہ نہیں۔ اگر ہم توحید کا سبق اچھی طرح یاد کرلیں اور یہ سمجھ لیں کہ کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے اس سے متعلق جو بھی علوم ہیں وہ سب اللہ نے ہمارے ہی لیے رکھے ہیں۔ ہم اس کی نشانیوں پر اگر غوروفکر کریں اور اس کی قدرت کے مظاہر سے استفادہ کرنے کی کوشش کریں تو اللہ کی طرف سے رہنمائی اور ہدایت ہمارے ساتھ ہے اور فطرت کے راز حسب توفیق ہم پر ظاہر ہوتے چلے جائیں گے۔ علامہ اقبال نے جواب شکوہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ فطری قوانین اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں وہ خود بخود وقت کی سختیوں یعنی سیارگان کے نحس وناموافق اثرات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ لیکن بات اگرچہ تلخ سہی مگر ہمیں کہنے دیجئے کہ یہ کام اتناآسان نہیں ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اپنے نفس کو مارنا پڑتا ہے، اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر زندگی میں قناعت پسندی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ ذرا سنجیدگی اور ایمان داری سے اگر ہم اپنے حالات زندگی کا جائزہ لیں تو ہماری قناعت پسندی اور نفس کشی کا بھرم کھل جائے گا کم ازکم موجودہ زمانہ تو اس حوالے سے نہایت ہی پرخطر ہے، انسان کی ضروریات روز بروز ہر حدود کو توڑ رہی ہیں۔ ہر سطح پر خواہشات کا ایک سیلاب موجزن ہے۔ امیر ہو یا غریب معاشی ترقی کی ایسی دوڑ میں شامل ہے جس کی آخری حد کہیں نظر ہی نہیں آتی۔
یہ صورت حال وقت کی سفاک فطرت سے متصادم ہے اور وقت کیا ہے؟ یہی گردش سیارگان تو ہے۔
اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب کا مشہور شعر اس وقت ہمیں یاد آرہا ہے۔ مرزا صاحب نے فرمایا تھا ؂

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا!

اس شعر میں سات آسماں سے مراد سات سیارے ہی ہیں جن کی گردش کے اثرات کو مرزا غالب بھی تسلیم کرتے تھے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض پڑھے لکھے بلکہ کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ حضرت علامہ اقبال کا ایک شعر علم نجوم کے خلاف پیش کرتے ہیں جو یہ ہے۔

ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

علامہ نے یہ شعر ہرگز علم نجوم کے خلاف نہیں کہا اول تو اس میں ایک شاعرانہ تعلّی ہے اور وہ بھی انسانی عظمت کے حوالے سے ہے بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے ستاروں یا کائنات کی دیگر تمام تخلیقات سے زیادہ افضل وباعظمت ہے مگر وہ کون سا انسان ہے جو خواہشات اور دنیاوی حرص وہوس میں مبتلا ہوکر اپنے ماضی اور مستقبل سے بے خبر ہے۔ یہ تو وہ انسان نہیں ہوسکتا جس کے سامنے کائنات ہی کیا فرشتے بھی سربہ سجود رہے ہیں۔ پس ثابت ہوا‘ اگر انسان اپنے آپ کو پہچان لے‘ اپنے شرف کا راز پالے تو یقیناً نہ سیارگان کے اثرات اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ جنات وآسیب اس کے مقابل آسکتے ہیں اور نہ ہی مادی زندگی کی دیگر رکاوٹیں اور پریشانیاں اس کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔ شاید اسلامی تصوف کی ضرورت اسی لیے پیش آئی کہ اسلامی شریعت کے اصول وقواعد انسان کو ایک معقول اور اعلیٰ درجے کی زندگی گزارنے کا اور ایک مضبوط اور منظم معاشرہ قائم کرنے کا راستہ تو بتا رہے تھے لیکن انسان کی وہ روحانی تربیت یا دوسرے لفظوں میں نفسانی تربیت صرف شرعی قوانین کے ذریعے ممکن نہ تھی لہٰذا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ذریعے اور آپ کے بعد آپ کے صحابہؓ اور آئمہ اور اولیا اور دیگر صوفیا نے اسلامی تصوف کو رواج دیا۔
اسلامی تصوف کیا ہے؟ خدا معلوم فی زمانہ لوگ اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ کچھ لوگ اسے پیری مریدی کا مشغلہ سمجھتے ہیں اور کچھ اس کی شکل راہبانہ بنائے بیٹھے ہیں، خیر ہم اس بحث میں نہیں الجھنا چاہتے ہمارے نزدیک اسلامی تصوف ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کا نام ہے جو انسان کو اللہ سے قریب کرکے شرف انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتی ہے، ہمیں یہ اعلیٰ اخلاقی اقدار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام صحابہ، تابعی‘ تبع تابعین‘ آئمہ کرام‘ فقہا‘ اولیاء اللہ اور معروف صوفیا میں نمایاں نظر آتی ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث شریف ہے’’تم میں بہترین مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں‘‘۔
بات کہاں سے چلی اور کہاں پہنچ گئی اس تمام گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ اس مادی دنیا میں سانس لینے والے ہر ذی روح کو دنیا میں موجود ہر جاندار ‘بے جان شے سے بہرحال کوئی نہ کوئی واسطہ ہے کوئی بلا واسطہ نہیں ہے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ سیارے اور بروج ہم سے کوئی واسطہ ہی نہیں رکھتے یا ہم سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔
اس سے زیادہ اس موضوع پر ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے جو لوگ شعور علم رکھتے ہیں وہ ان مباحث میں یقیناً دلچسپی لیں گے ضروری نہیں کہ ہماری ہر بات اور تجزیے سے اتفاق کیا جائے، اس میں اختلاف کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں