پاکستان کے تیزی سے بدلتے حالات و واقعات پر ایک نظر

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے،اس کی وجہ بھارت میں ہونے والے انتخابات ہیں، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ’’پاکستان کارڈ‘‘ کھیل کر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،وہ تیزی سے اپنی مقبولیت کھورہے ہیں، اپنے دور اقتدار میں انھوں نے ہمیشہ مذہبی شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذہبی اقلیتوں کی پریشانی کا بھی سامان کیا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے کرئر کی ابتدا ہی ایک انتہا پسند مذہبی جنونی پارٹی سے کی تھی اور سب جانتے ہیں کہ گجرات میں انھوں نے کس طرح مسلمانوں کے قتل عام کی حوصلہ افزائی کی، چناں چہ ان کے فطری رجحان اور میلان کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
پاکستانی قیادت نے بلاشبہ نہایت تدبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے،بھارتی اشتعال انگیزی کا جواب خاصے تحمل کے ساتھ دیا اور مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، ضروری کارروائی کرکے بھارت کو یہ بھی سمجھادیا کہ مسئلے کا حل جنگ نہیں ہے، اگر جنگ کی گئی تو دونوں ملک بدترین صورت حال سے دوچار ہوں گے،گزشتہ کالم میں ہم نے دونوں ملکوں کے زائچوں پر جنگ کے حوالے سے روشنی ڈالی تھی اور عرض کیا تھا کہ پاکستان کے زائچے کی پوزیشن بھارت کے مقابلے میں بہتر ہے،کسی بھی مہم جوئی کا نتیجہ بھارت کے خلاف ہی جائے گا، بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے فیصلوں اور اقدام کو پذیرائی ملی ہے، آئیے پاکستان کے زائچے پر ایک تفصیلی نظر ڈالتے ہیں۔
بھارت کی طرح پاکستان کا طالع پیدائش بھی برج ثور ہے، 2 دسمبر 2008 ء سے زائچے میں سیارہ مشتری کا دور اکبر (Main period) جاری ہے جس کا اختتام 2 دسمبر 2024 ء کو ہوگا، خیال رہے کہ سیارہ مشتری زائچے کا سب سے زیادہ منحوس اثر رکھنے والا سیارہ ہے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2 دسمبر 2008 ء سے پاکستان مسلسل بدترین حالات و واقعات سے گزر رہا ہے، دسمبر 2024 ء سے جب یہ دور ختم ہوگا تو زائچے کے سعد ترین سیارہ زحل کا دور اکبر شروع ہوگا جو 19 سال جاری رہے گا، زائچے میں سیارہ زحل پہلے گھر میں نہایت مضبوط اور اچھی پوزیشن رکھتا ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان 2025 ء سے ایک شاندار دور میں داخل ہوجائے گا، دنیا بھر میں اس کا عزت و وقار بلند ہوگا۔
بہر حال موجودہ دور مسائل و مشکلات کا دور ہے، اس میں مزید خرابیاں 14 اکتوبر 2016 ء سے شروع ہوئیں جب سیارہ زہرہ کا دور اصغر (Sub period) شروع ہوا۔
سیارہ زہرہ زائچے کے چھٹے گھر کا حاکم ہے اور چھٹے گھر کا تعلق اختلافات، تنازعات، دشمنی، جنگ و جدل کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ سے ہے، سول و ملٹری بیوروکریسی اس دوران میں غالب آئی، پورا ملک مختلف فوجی آپریشنز کے زیر اثر رہا، زائچے کا چھٹا گھر الیکشن اور عدلیہ کی فعالیت سے بھی متعلق ہے،چناں چہ اسی دوران میں الیکشن بھی ہوئے اور عدلیہ کی حد سے زیادہ فعالیت بھی ہمارے سامنے آئی، اس تمام عرصے میں اندرون ملک اور بیرون ملک تنازعات اور اختلافات کا بھی زور رہا جو بدستور جاری ہے، زہرہ کا یہ دور اصغر اس سال 15 جون 2019 ء کو ختم ہورہا ہے، اس کے بعد سیارہ شمس کا دور اصغر شروع ہوگا جو 2 اپریل 2020 ء تک جاری رہے گا، سیارہ شمس زائچے کا سعد سیارہ ہے اور اس کا تعلق چوتھے گھر سے ہے جو عوام سے تعلق رکھتا ہے لیکن زائچے میں بہر حال اچھی پوزیشن نہیں رکھتا،چناں چہ فوری طور پر جاری مسائل کا ختم ہونا ممکن نہیں ہوگا، البتہ موجودہ صورت حال میں تبدیلی ضرور دیکھنے میں آئے گی، جمع شدہ سرمایہ اور پراپرٹیز کا تعلق بھی اسی گھر سے ہے ۔
کسی بھی زائچے میں جاری ادوار ذیلی حیثیت رکھتے ہیں، اولیت سیاروی گردش کو ہے،سال کے مختلف مہینوں اور دنوں میں سیاروی گردش اہم حالات و واقعات کی نشان دہی کرتی ہے،یہ حالات و واقعات مثبت بھی ہوسکتے ہیں اور منفی بھی، گزشتہ سال 20 دسمبر سے سیاروی گردش انتہائی منفی اثرات ڈال رہی تھی جس کی نشان دہی ہم نے پہلے ہی کردی تھی اور عرض کیا تھا کہ تقریباً 24 فروری تک کا وقت پاکستان کے لیے خاصا مشکل اور مسائل سے بھرپور ہوگا، حکومت کے لیے بھی یہ ایک سخت وقت ہوگا، چناں چہ ایسا ہی ہوا، دسمبر سے فروری تک مختلف نوعیت کے مسائل اور مشکلات جاری رہے، اب صورت حال تبدیل ہورہی ہے اور اسی ماہ کی 24 تاریخ کو راہو اور کیتو اپنا گھر تبدیل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان اس دباؤ سے نکل جائے گا جو ابھی تک جاری تھا، راہو کیتو کی نئی پوزیشن فوری طور پر نقصان دہ نہیں ہوگی لیکن اس سال کے درمیانی عرسے میں ضرور نئی پریشانیاں لائے گی۔
مارچ کا مہینہ پاکستان کے لیے آسان نہیں ہے، اس ماہ میں بھی ایسے خطرات موجود ہیں جو نئے حادثات و سانحات کو جنم دے سکتے ہیں، خصوصاً دس مارچ سے مہینے کے آخر تک انڈیا کی طرف سے کسی کارروائی کا امکان موجود ہے، چناں چہ بہت زیادہ محتاط اور چوکنّا رہنے کی ضرورت ہوگی (واللہ اعلم بالصواب)

اس جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجیے
جو راہ اُدھر کو جاتی ہے، مقتل سے گزر کر جاتی ہے

تعویذ گنڈوں نے اجاڑ دیا؟

ہمارے مشاہدے میں ایسے ہزاروں کیس آتے رہتے ہیں جن میں اکثریت کا خیال یہی ہوتا ہے کہ ان کے دشمنوں نے تعویذ گنڈے کرکے انہیں برباد کردیا ہے لیکن جب ان کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بربادی میں ان کے دشمنوں یا تعویذ گنڈوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا بلکہ ان کی اپنی غلطیاں ، کوتاہیاں، گمراہیاں ان کی تباہی کا سبب بنی ہیں، یہاں ہم ایک ایسا ہی کیس پیش کر رہے ہیں جو ملک کے ایک مشہور اخبار میں بھی شائع ہوچکا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ افراد کا ہم سے بھی رابطہ رہ چکاہے۔
یہ شیخو پورہ پنجاب کا واقعہ ہے، ایک خوش حال ، دولت مند، خاندان میں شوہر نے دوسری شادی ایک ایسی عورت سے کرلی جو طلاق شدہ اور تباہ حال تھی، وہ صاحب حیثیت تھا اور دوسری شادی کرنا اس کے نزدیک کوئی جرم نہیں تھا، وہ اسے اپنا شرعی حق سمجھتا تھا لیکن اس کی بیوی جس کی ساری زندگی عیش و عشرت اور غرور و تکبر میں گزری تھی ، اس شادی کو برداشت نہ کرسکی،اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خود مالی طور پر نہایت مضبوط پوزیشن رکھتی تھی، اس کا خیال تھا کہ چالیس سالہ مطلقہ جو دو بیٹیوں کی ماں تھی اس کے شوہر کو دولت کے لالچ میں پھانسنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور اس سے شادی کرلی ہے، اس حوالے سے اس پر یہ بھی الزام تھا کہ شادی کے لیے اس نے کسی عامل سے تعویذ لیے تھے اور ان تعویذوں نے اثر دکھایا، اس طرح اس نے زبردستی میرے شوہر سے شادی کرلی،ہمارے خیال میں یہ ایک فرضی ، قیاسی ، مزید یہ کہ احمقانہ الزام ہے، اگر اس طرح تعویذ گنڈوں کے ذریعے کسی دولت مند شخص سے یا کسی حسین و جمیل عورت سے شادی کرنا ممکن ہوتا تو لوگ لاکھوں روپے لے کر عاملوں کے دروازے پر بیٹھے ہوتے،اداکارہ میرا سے شادی کا دعوے دارآج عدالتوں کے چکر نہ کاٹ رہا ہوتا، حقیقت یہ ہے کہ خاتون فرضی نام فریدہ کا شوہر شاید اپنی بیوی سے بے زار تھا اور جب اُسے ایک خوب صورت کم عمر طلاق شدہ ، شادی کی خواہش مند گویا ضرورت مند نظر آئی تو دونوں جانب سے پیش قدمی ہوئی اور اس طرح شادی ہوگئی،اس میں کسی تعویذ یا گنڈے کا کوئی کمال نہیں تھا۔
اس شادی کے نتیجے میں پہلی بیوی فریدہ سے خوب لڑائی جھگڑا ہوا، اس کا ذاتی گھر بہت اچھی جگہ تھا اور بیوی کے نام پر تھا، اس وقت مکان کی مالیت پچاس لاکھ سے زائد تھی، اس کے علاوہ بیوی کے قبضے میں زیورات اور مزید رقم بینک اکاؤنٹ میں تھی، چناں چہ اس نے اپنے شوہر سے ناراض ہوکر علیحدگی کا فیصلہ کرلیا اور بچوں سمیت لاہور شفٹ ہوگئی،اس موقع پر شوہر نے اور دیگر رشتے داروں نے اس کو اس فیصلے سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہی، اس نے شیخوپورہ والا گھر بیچ کر لاہور کے ایک پوش علاقے میں کرائے پر گھر لے لیا اور بچوں کے ہمراہ وہاں رہنے لگی، یہاں قریب ہی اس کی بڑی بہن بھی رہتی تھی۔
بڑی بہن کے بیٹے کی شادی میں اُس کے ایک سسرالی رشتے دار نے جو صورت شکل کا اچھا تھا لیکن انتہائی نالائق صرف میٹرک پاس تھا، اس کٹی پتنگ کو تاڑ لیا، اس کی نظر فریدہ کی بڑی بیٹی پر تھی، وہ اس پر لٹّو ہوگیا اور اس نے ان کے گھر آنا جانا شروع کردیا، بڑی بہن نے جو اس کی آوارگیوں سے واقف تھی ، سمجھایا کہ اس لڑکے سے دور رہیں، اس کا چال چلن اچھا نہیں ہے لہٰذا جب اُس نے رشتہ مانگا تو فریدہ نے معذرت کرلی لیکن اُس کی بیٹی اس خوبصورت آوارہ کے دامِ فریب میں آچکی تھی، چناں چہ اُس نے ماں کو بتائے بغیر اُس سے کورٹ میرج کرلی، ماں کو صدمہ تو بہت ہوا لیکن بیٹی کو کیا کہتی؟ چند دن کی ناراضی کے بعد اُس نے بیٹی داماد سے صلح کرلی، اس طرح رفیق نامی اس شخص کے لیے گھر کے دروازے کھل گئے۔
اس حوالے سے کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب فریدہ نے رشتے سے انکار کیا تو رفیق کسی بابا کے پاس گیا اور 10 ہزار روپے کے عیوض دو تعویذ لے آیا، ان تعویذوں کا یہ اثر ہوا کہ خاتون کی بیٹی نے اس سے کورٹ میرج کرلی، اس کے بعد رفیق کا اگلا ہدف اپنی ساس تھی، اس نے بابا سے دوبارہ رابطہ کیا اور اس نے بھاری فیس لے کر مزید تعویذ دیے جو کسی طرح ساس کو کھلانے تھے ،رفیق اس کوشش میں کامیاب رہا اور اس طرح وہ عورت جو اپنی بیٹی کا رشتہ دینے پر آمادہ نہ تھی، اب اٹھتے بیٹھتے، اس کا دم بھرنے لگی،ہر معاملے میں اس سے مشورہ کرتی،اسے تو بیٹھے بٹھائے ایک جوان بیٹا داماد کی صورت میں مل گیا تھا،اس طرح رفیق کو اپنی ساس کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کا خوب موقع ملا، اس نے پہلے اپنی ساس کا ایک پلاٹ جو اس نے کسی برے وقت کے لیے خرید کر رکھ چھوڑا تھا،ہڑپ کرلیا، اس کے بعداس نے ایک روز گھر میں بتایا کہ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اس کے دل میں سوراخ ہے اور اس بیماری کا علاج صرف اٹلی میں ہوسکتا ہے،18 لاکھ روپے آنے جانے میں اور 15 لاکھ روپے علاج پر خرچ ہوں گے،اس نے کسی ٹریول ایجنٹ سے اٹلی جانے کے لیے جعلی کاغذات بھی بنوالیے تھے، اس طرح چند روز بعد ساس اور بیوی نے اُسے دعاؤں کے سائے تلے علاج کے لیے اٹلی روانہ کردیا لیکن وہ اٹلی جانے کے بجائے کراچی پہنچ گیا اور ایک ڈیڑھ ماہ وہاں گزار کر واپس لوٹ آیا، خدا معلوم کیسے ساس کی عقل نے کچھ کام کیا، شاید بڑی بہن نے سمجھایا ہو تو اُس نے گھر میں خاصا ہنگامہ کیا اور رفیق سے پیسوں کا حساب مانگا تو وہ ساس کو سبق سکھانے کے لیے دوبارہ اپنے بابا جی کے پاس پہنچ گیا، بابا نے اُسے ایک ایسا تعویذ دیا جس کے اثر سے گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑا رہنے لگا، بعد میں معلوم ہوا کہ رفیق نے ان تعویذوں کے عیوض بابا کو 60, 70 ہزار روپے کھلائے تھے۔
فریدہ تازہ صورت حال سے خاصی پریشان تھی، اس دوران میں رفیق کے دیگر کرتوت بھی کھل کر سامنے آنے لگے تھے، اپنی ذمے داریوں سے تو وہ پہلے ہی کافی حد تک آزاد تھا، اب اُس نے اپنی بیوی کو مارنا پیٹنا بھی شروع کردیا تھا، کچھ دوسری عورتوں کے چکر میں بھی رہنے لگا تھا اور اس کا اظہار بھی کھل کر بیوی کے سامنے کرتا تھا، فریدہ اس صورت حال میں ایک دوسرے عامل کے پاس جا پہنچی ، عامل نے اُسے یقین دلایا کہ وہ ایک ایسا عمل کرے گا کہ داماد اس کی بیٹی کا غلام بن کر رہ جائے گا لیکن اس عمل کی فیس پچاس ہزار روپے ہوگی، عامل کو پچاس ہزار روپے دے دیے گئے لیکن اس عمل کا رتّی بھر کوئی فائدہ نہ ہوا، بالآخر داماد کی حرکتوں سے تنگ آکر خاتون نے عدالت کا رُخ کیا اور بیٹی کو خلع دلواکر اس کے چنگل سے آزاد کرایا لیکن اس سارے عرصے میں وہ خود عرش سے فرش پر آچکی تھی۔
عزیزان من! اختصار کے ساتھ یہ تمام واقعہ آپ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں نام نہاد جعلی عاملوں اور باباؤں کی کوئی کمی ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کی جو ان کے ذریعے اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کی خاطر ہزاروں روپے لٹاتے ہیں اور تباہ و برباد ہوتے ہیں،رفیق بھی بعد ازاں خوار ہی ہوا، یہ خیال غلط ہے کہ بابا کے تعویذوں کی وجہ سے وہ شادی کرنے میں یا اپنی ساس کو رام کرنے میں کامیاب ہوا تھا، شادی میں کامیابی اُسے لڑکی کی جذباتی غلطی کے باعث ملی اور فریدہ بیٹی کے ہاتھوں مجبور ہوکر داماد پر بھروسا کرنے لگی،حقیقت یہ ہے کہ خاتون نے اپنے شوہر سے علیحدہ ہوکر بہت بڑی غلطی کی تھی اور شوہر کا قصور صرف اتنا ہی تھا کہ وہ دوسری شادی کر بیٹھا تھا، دولت کے بل بوتے پر شوہر کو چھوڑ کر تن تنہا لڑکیوں کے ساتھ علیحدہ قیام کرنا رفیق جیسے آوارہ اور بد قماش افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا،اس فیملی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، اس میں کسی بابا کے تعویذوں کا کوئی دخل نہیں تھا، بابا تو رفیق جیسے بدقماش کو بھی لوٹتا رہا۔
فریدہ کی بڑی بہن ہمارے پرانے قارئین میں سے تھی، اس ساری صورت حال میں اس نے ہم سے رابطہ کیا تھا اور ہم نے اس کو یہی سمجھایا تھا کہ آپ کی بہن نے شوہر سے علیحدہ ہوکر بہت بڑی غلطی کی ہے،اب اس صورت حال کو سنبھالنے کے لیے جعلی عاملوں سے رابطہ کرنے کے بجائے عدالت سے رجوع کریں اور خلع لے کر اس فراڈیے سے نجات حاصل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں