انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کا اظہار بھی کسی جادوئی مظاہرے سے کم نہیں ہے

جادو سے متعلق مسائل و معاملات کو سمجھنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک انسان اور انسانیت کا صحیح مفہوم سمجھ میں نہ آجائے ، اس حوالے سے پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے جو انسانی وجود اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کے بارے میں پیدا ہوتی رہی ہیں ، اسی لیے ’’مظاہر نفس کلّی‘‘ کی اقسام بیان کی گئی ہیں کیونکہ جادو کی حقیقت میں انسان کی قوت نفسانیہ کے کردار کو نظر انداز کرکے ہم مسئلے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے ۔

انسان اور جنات و شیاطین

مذہبی نظریات کی روشنی میں ہمارے علمأ نے انسان کی قوت نفسانیہ کے کردار کو نظر انداز کیا ہے اور تمام زور جادو کے حوالے سے جنات و شیاطین کے کردار پر ڈال دیا ہے ، ہمارے خیال میں یہ نقطۂ نظر جادو کے قدیم علم و فن کی بنیادی مبادیات کے بھی خلاف ہے اور انسان کی پوشیدہ قوتوں کی بھی نفی کرتا ہے، بے شک جادو کی بعض اقسام میں جنات و شیاطین یا ہمزاد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر جادو کی ایسی اقسام بھی موجود ہیں جن میں جنات و شیاطین سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ ایک حقیقی جادوگر صرف اپنی قوت نفسانیہ سے کام لے کر سحری اثرات پیدا کرتا ہے اور وہ جادوگر بہرحال ایک انسان ہوتا ہے ، چنانچہ انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں اور قوتوں کا ادراک ضروری ہے ، یہ ایک الگ بحث ہوگی کہ کوئی انسان اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور قوتوں کا استعمال جائز طورپر کرتا ہے یا ناجائز ، یعنی اس کا طرز فکر تعمیری ہے یا تخریبی ؟

انسان، حیوانِ ناطق یا قرآنِ ناطق

دوسری طرف محسوسات ہی کو واحد اور یقینی علم و ادراک اور منتہائے علم سمجھنے والے ذہن یا علم نفسیات کے جدید ماہرین منجملہ دیگر حیوانات کے انسان کو بھی ایک ترقی یافتہ حیوان ہی سمجھتے ہیں ، ان میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں جو حیوانات میں ارتقائی نشوونما کے قائل ہیں اور انسان کو بھی ایک ارتقائی عمل کے ذریعے حاصل ہونے والا انتہائی ترقی یافتہ شکل کا حیوان سمجھتے ہیں ، محض ڈارون کے نظریہ ارتقا کی ہی یہ خصوصیت نہیں کہ وہ انسان کو ترقی یافتہ حیوان سمجھتا ہے ، انسان کی تعریف ’’حیوان ناطق‘‘ خاصی پرانی اور قدیم ہے لیکن ان معروضات سے قطع نظر اگر انسان اور انسانیت کو مذہب اورالہامی کتب کی روشنی میں دیکھا جائے تو انسان کا ایک مختلف تصور ذہن میں ابھرتا ہے ، ایسا تصور جس میں عظمت بھی ہے ، بڑائی بھی اور جو اس کائنات کے تمام مظاہر کا حکمران بھی ہے ، مذہب کی روشنی میں انسان ’’حیوان ناطق ‘‘نہیں بلکہ ’’ قرآن ناطق‘‘ ہے ۔
اب ضروری ہے کہ ’’قرآن ناطق‘‘ کے ذیل میں انسان کے مفہوم کو سمجھ لیا جائے ، انسان کی تعریف خود بہ خود آپ کے ذہن میں آجائے گی ، انسان کی تعریف کا یہ انداز اتنا جامع ، مکمل اورمؤثر ہے کہ اس میں جہانِ معنی کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دیتا ہے لیکن یہاں اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ’’قرآن ناطق‘‘ کی تعریف ہر شخص پر صرف اس وقت ہی صادق آتی ہے جب وہ اس کا ثبوت اپنی ذات کے عرفان کی صورت میں پیش کردے ، یعنی جب تک انسان نفس کلی کے عرفان کا حامل نہ ہوگا وہ ’’قرآن ناطق‘‘ نہیں کہلا سکتا ، ذات کے عرفان تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے نفس کے راستے سے ہوکر گزرنا پڑے گا ، اس حوالے سے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نہایت قابل توجہ ہے :
’’ جس نے اپنے نفس کہ پہچانا اس نے اپنے ربِ کو پہچانا ‘‘

طرزِ فکر کا فرق

اس نکتے پر ہمارا زور اس لیے ہے کہ روحی اور روحانی صلاحیتوں کے مالک اشخاص آسمان سے براہ راست نہیں اترا کرتے ، وہ بھی ہمارے اور آپ کے جیسے انسان ہی ہوتے ہیں ، ہاں ، فرق اگر ہوتا ہے تو ہمارے اور ان کے طرز فکر میں ، یہ فرق بہ ظاہر تو بہت معمولی سمجھا جاتا ہے اور اسے خاطر خواہ اہمیت بھی نہیں دی جاتی مگر یاد رکھیے کہ صرف اور صرف طرز فکر ہی کے فرق سے ایک شخص بلندیوں پر فائز ہوتا ہے اور دوسرے کا مقدر پستیاں ٹھہرتی ہیں ، ایک انسان وہ ہے جو چند سکّوں کی خاطر جانوروں کی طرح اپنے جیسے انسانوں کو نوچتا کھسوٹتا ہے ، محض وقتی آرام یا لمحاتی تسکین کے لیے ذلت و ظلمت کی ان گہرائیوں میں اتر جاتا ہے کہ جن سے شیطان بھی شرمائے اور ایک وہ بھی انسان ہے جو ببانگ دہل کہتا ہے ؂مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی۔

انسان اور انسان میں اتنا فرق ؟ آخر کیوں ؟ 

جی ہاں ! یہ محض طرز فکر کا فرق ہے ، محض سوچنے کے انداز میں تفاوت سے انسان اتنا بلند اور اتنا پست ہوجاتا ہے کہ کہیں تو وہ جانوروں سے بھی بد تر ٹھہرے اور کہیں شان خدا وندی بھی اس کی نظروں میں نہ جچے ۔
انسان کی صلاحیتوں ، مرتبے ، قوتوں اور عظمت و بلندی میں پایا جانے والا یہ فرق ہمیں دعوت فکر دے رہا ہے، سوچنے اور انداز فکر میں مثبت تبدیلیاں لانے پر اکسا رہا ہے تاکہ ہم بھی حیوان ناطق کی صفوں سے نکل کر قرآن ناطق کی اولین و معزز صفوں میں جگہ پاسکیں ۔

ائمہ اور صوفیا کی رائے

خواجہ حسن بصری ؒ فرماتے ہیں ’’ جادوگر کا کوئی دین یا مذہب نہیں ہوتا ‘‘ یہاں یہ بات لازماً ذہن میں رہے کہ جادو سے مراد منفی طرز فکر ہوتی ہے ، مذہب سے متعلق کتب اور علمأ و فقہا نے جادوگروں کے متعلق مختلف آرأ کا اظہار کیا ہے ، امام مالک ؒ ، امام احمد بن حنبل ؒ اور امام اعظم ابو حنیفہ ؒ اس کے کفر کے قائل ہیں جبکہ علمأ کی کثیر تعداد کے نزدیک اگر جادوئی اثرات ادویات یا بخورات سے متعلق ہوں تو پھر یہ کفر نہ ہوگا ۔
اس ضمن میں حضرت امام شافعیؒ کا قول ہے کہ ’’ ہم جادوگر سے پوچھیں گے کہ وہ اپنے جادو کے بارے میں ہمیں بتائے ، اگر جادوگر کا بیان کفر کی حد تک پہنچ جائے جیساکہ اہل بابل کا عقیدہ تھا تو پھر وہ کافر ہے لیکن اگر جادوگر کی باتیں کفر کی حد تک نہیں پہنچتیں تو ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا یہ شخص جادو کو مباح سمجھتا ہے یا نہیں ؟ اگر مباح سمجھے تو اس پر کفر کا اطلاق ہوگا ‘‘
دراصل ذہن و مذہب کی رو سے جادوگروں کو اس لیے ناپسندیدہ اور بعض اوقات کافر قرار دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی قوت سے تخریب کا کام لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے بنی نوع انسان کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔
ابن قدامہ اپنی کتاب ’’الکافی‘‘ میں فرماتے ہیں ’’ سحر ان تعویذ گنڈوں اور دھاگوں کی گانٹھوں کو کہتے ہیں جو انسان کے بدن اور خصوصاً دل پر اثر کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے انسان بیمار ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی اس کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے اور بعض اوقات میاں بیوی میں پھوٹ تک پڑجاتی ہے ۔‘‘

جادو ، معجزہ اور کرامت

جب ہم لفظ جادو استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں عجیب و غریب تصورات آنے لگتے ہیں مثلاً قبرستان ، مردوں کی ہڈیاں ، مضحکہ خیز لباس ، ڈراؤنی شکلیں اورہندوانہ قسم کا پراسرار ماحول وغیرہ ، ایسا دراصل لغو روایات اور توہم پرستی کی وجہ سے ہے ورنہ علمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جادو ، کرامت یا معجزہ ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں ، فرق صرف طرز فکر کا ہے ، اس بات کو یوں سمجھیے کہ لڑنے کی تربیت ایک ملک و قوم کا محافظ فوجی بھی لیتا ہے اور ایک تخریب کار بھی مگر فوجی میدان جنگ میں جب دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارے گا تو اس کی یہ کارکردگی ایک کارنامہ شمار ہوگی اور وہ تمغہ جرأت و بہادری کامستحق قرار پائے گا جبکہ تخریب کار کے ہاتھوں مرنے والا ایک بھی شخص اسے خونی ، سفاک ، قاتلوں کی صف میں لاکھڑا کرے گا اور نتیجے کے طورپر تخریب کار کو موت کی سزا کا حکم سنایا جائے گا ، اسی طرح فوجی کا لڑنا جہاد ہے جبکہ تخریب کار کی لڑائی بغاوت اور دہشت گردی قرار دی جائے گی ، فوجی اگر لڑائی کے دوران میں قتل ہوجائے تو شہید کہلائے گا اور عزت و توقیر کا نشان بنے گا جبکہ تخریب کار یا بدمعاش کی موت کے بعد لوگ اس سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہوئے بھی شرماتے ہیں ۔
لڑتا ایک سپاہی بھی ہے اور ایک بدمعاش بھی مگر ان کے کردار ، مقصد ، افعال اور معاشرتی عزت و مرتبہ میں زمین و آسمان کا فرق محض اس لیے ہوتا ہے کہ فوجی جب کسی پر گولی چلاتا ہے تو اس کا مقصد اپنے وطن کا دفاع ہوتا ہے ، اس کی سوچ اپنی ذات سے بلند ہوکر تمام اہل وطن کے لیے ہوتی ہے ، جبکہ اس کے برعکس ایک مجرم یا بدمعاش کی سوچ محض اپنی نفسانی خواہشات یا حصول مال و زر کے لیے ہوتی ہے ۔
دین ، مذہب ، ملت یا معاشرتی و اخلاقی اقدار کیا ہیں؟ یہ سب کچھ محض ’’مثبت طرز فکر ‘‘ کا نام ہیں ، منفی سوچ اور طرز فکر ہمیشہ غیر مذہبی ، غیر اخلاقی و معاشرتی ہوگی ، یہی فرق ہے جادو میں ، کرامت میں یا معجزے میں ۔
اپنی پوشیدہ لازوال طاقتوں کا مثبت استعمال کرنے والے ولی اورمتقی کہلاتے ہیں جبکہ انہی قوتوں کو تخریب کے لیے اپنی ذاتی حرص و ہوس کے لیے استعمال کرنے والے ’’جادوگر‘‘ قرار پاتے ہیں ۔

سحر و ساحر علامہ ابن خلدون کی نظر میں

شہرۂ آفاق مورخ و عالم علامہ ابن خلدون نے اپنی لازوال کتاب ’’ مقدمہ ابن خلدون ‘‘ میں ’’باب سحر‘‘ کے تحت سحر و ساحر کے حوالے سے نہایت عالمانہ اور محققانہ بحث کی ہے، علامہ ابن خلدون بھی سحریات کو مثبت اور منفی دو رخوں میں تقسیم کرتے ہیں ، یعنی معجزہ اورکرامت جو انبیا اور اولیا کا خاصہ ہے ، سحر کی مثبت قسم ہے ، کیونکہ اس مظاہرے میں انبیا اور اولیا کی اپنی نفسی یا روحانی صلاحیت کے ساتھ تائید و امدادِ الٰہی انہیں حاصل ہوتی ہے ، جیساکہ جادوگروں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں ہم دیکھتے ہیں ، اس لیے ایسے مظاہر کو سحر کی اعلیٰ ترین اور اکمل ترین مثبت صورت قرار دیا گیا ہے اور معجزہ قرار دیا گیا ہے۔
دوسری قسم میں وہ جادوگر یا روحی و روحانی عامل آتے ہیں جو اپنی قوت نفسی سے کام لے کر سحری اثرات پیدا کرنے پر قادر تو ہوتے ہیں مگر اپنے منفی طرز فکر کی وجہ سے انہیں تائید و امداد الٰہی حاصل نہیں ہوتی ، ان کا یہ عمل صرف اپنی ذات کے لیے ہوتا ہے اور اس سے صرف انہی کے مفاد وابستہ ہوتے ہیں ۔
اس دوسری قسم کو منفی طرزفکر میں شمار کیاگیا ہے اور علامہ ابن خلدون نے اس کی بھی 3 مزید اقسام بیان کی ہیں ، اس سلسلے میں سحرِ حلال اور سحرِ حرام کے مباحث بھی موجود ہیں ۔
اول: وہ جادوگر جو صرف اپنی قوت نفسی سے کام لے کر سحری اثرات پیدا کرے اور اس مظاہرے میں دوسری اشیا سے کوئی مدد نہ لے ، ایسے جادوگروں کو ’’حقیقی ساحر‘‘ یا ’’فطری ساحر ‘‘ کہا جائے گا ، ایسے ساحروں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ، ماضی میں اس کی مثال روس کے ’’راسپوٹین ‘‘ یا یورپ کے بعض چودھویں اور پندرھویں صدی کے ساحروں میں دیکھی جاسکتی ہے اور موجودہ دور میں ESP کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے، آج کل مغرب میں سحری قوتوں کے مالک افراد کو ’’سائیکک‘‘بھی کہا جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ سائیکک پاورز کا میدان بہت وسیع ہے، اس میں سحری قوتوں کے مظاہرے کے علاوہ مستقبل بینی اور پیش گوئی کی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔
دوسری قسم میں وہ جادوگر آتے ہیں جو اپنی قوت نفسی کے ساتھ مادّی اشیا سے بھی سحری اثرات پیدا کرنے میں مدد لیتے ہیں ، مثلاً ہڈیاں ، خاک و خون اور نباتات وغیرہ ، ایسے لوگ اپنی قوت نفسی میں ناقص تصور کیے جاتے ہیں ، کیونکہ انہیں مادّی طورپر مدد و تعاون کی ضرورت ہوتی ہے ، اس قسم کی بھی 3 مزید قسمیں ہیں ۔
تیسری قسم جادوگروں کی شعبدہ باز کہلاتی ہے اس قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو خود اپنی قوت نفسی سے کام نہیں لیتے یا وہ اس کے اہل نہیں ہوتے۔ وہ صرف مادّی اشیا کی مدد سے اور اور اپنے تجربے اور مہارت کے زور پر سحری شعبدہ بازی کرتے ہیں ، خیال رہے کہ شعبدہ بازی کی بھی 2 قسمیں ہیں ، ایک قسم میں شعبدہ باز صرف اپنے ہاتھ کی صفائی یا ہنر مندی سے حیرت انگیز کمالات دکھاتا ہے، یہ قسم سحر و جادو کے ذیل میں نہیں آتی ، دوسری قسم کو اصطلاحاً ’’ سیمیا‘‘ کا نام دیا گیا ہے ، سیمیا کا علم اشیا کے پوشیدہ خواص سے بحث کرتا ہے ، مثلاً اونٹ کی ہڈی کی پوشیدہ یا سحری قوت یہ ہے کہ جس گھر میں یہ ہڈی موجود ہوگی وہاں دیمک نہیں آئے گی یا مرغی کے انڈے کا چھلکا چھپکلیوں کو بھکانے میں معاون ثابت ہوتا ہے ، بالچھڑ کی خوشبو پر بلی مسحو ہوجاتی ہے ، موتیا کے پھول کی خوشبو چھپکلی کے لیے نہایت پسندیدہ ہے ، مینڈک کی چربی ہاتھوں پر مل لی جائے تو آگ سے محفوط رہتے ہیں ، خرگوش کا بایاں تخنہ اگر کوئی عورت پاس رکھے تو شوہر اس کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ، الغرض ایسی بے شمار خصوصیات مختلف اشیا میں پائی جاتی ہیں جنہیں ان کے سحری خواص سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
پتھروں کے سحری خواص بھی مشہور اور عام ہیں مثلاً لہسنیا (Cat Eye) پہننے والے سے جنات دوررہتے ہیں اور سحری اثرات سے تحفظ ملتا ہے ، نظر بد سے حفاظت ہوتی ہے ، ٹائیگر آئی پہننے سے ہمت و حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے ، یاقوت سرخ پہننے سے دوران خون تیز ہوتا ہے اور خون میں سرخ ذرات کی مقدار بڑھتی ہے ، زرقون کا نگینہ سورج اور چاند گہن کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے ،ہیرا پہننے والی خواتین بانجھ پن سے محفوظ رہتی ہیں اور حمل بھی محفوظ رہتا ہے، فیروزہ علم و ذہانت عطاء کرتا ہے وغیرہ۔
مختلف خوشبویات کے اپنے سحری اثرات موجود ہیں اور موجودہ جدید دور میں اس پر بہت تحقیق کی گئی ہے چنانچہ موقع محل کے اعتبار سے مخصوص عطریات اور پرفیومز بازار میں ملتے ہیں ۔
قصہ مختصر یہ کہ جانوروں کے جسمانی اعضا ، معدنیات و نباتات کا علم اسی ذیل میں آتا ہے ، جب کہ ان چیزوں کے طبی خواص کا علم ‘‘کیمیا‘‘ کہلاتا ہے ، اُلّو، ہدہد،چمگادڑ،سیاہ بلی اور بہت سے دیگر جانوروں سے متعلق سیمیا کے اعمال سے پرانی کتابیں بھری پڑی ہیں،بے شمار لوگ سیمیا کے اعمال کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔
استدراج یا سفلی و شیطانی اعمال
جادو کے لیے ایک اصطلاح ’’استدراج‘‘ کی بھی استعمال ہوتی ہے ، لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ استدراج تخریبی یا شیطانی قوتوں کے اوج کمال کا نام ہے ، جس میں مادی مظاہر و اعراض بظاہر استعمال نہیں ہوتے اور جادو ، استدراجی قوت کا کمتر یا ناقص رخ ہے جیساکہ ہم نے پہلے دوسری قسم کے حوالے سے وضاحت کی ہے ، استدراج میں جادوگر شیطانی قوتوں سے کام لیتاہے ، جیساکہ شیخ وحید بالی یا دیگر صاحبان علم نے نشاندہی کی ہے اور اس حوالے سے جادوکی مختلف اقسام بھی بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں :
-1 سحر التفریق : یعنی عداوت اور جدائی پیدا کرنے کا جادو
-2 سحر المحبتہ : یعنی پیار محبت اور عشق پیدا کرنے کا جادو
-3 سحر التخیل: یعنی خیالات بدلنے اور وہم میں مبتلا کرنے کا جادو
-4 سحر الجنون :یعنی پاگل اور حواس باختہ کرنے کا جادو
-5 سحر الخمول: یعنی کم زوری ، سستی و کاہلی اور جوڑوں کا درد پیدا کرنے کا جادو
-6 سحر الھواتف : یعنی غیبی آوازوں کے ذریعے پریشان کرنے کا جادو
-7 سحر المرض : یعنی مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا جادو
-8 سحر النزیف : یعنی خون حیض جاری کرنے کا جادو
-9 سحر التعطیل الزوج :یعنی شادی روکنے کا جادو
-10 سحر الربط عن الزوجۃ :یعنی مرد کی قوت جماع ختم کردینے کا جادو۔
جادو کی مندرجہ بالا اقسام میں بقول مسلم عاملین جنات و شیاطین سے مدد لی جاتی ہے لیکن اس نظریے سے کلّی طورپر اتفاق کرنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ مندرجہ بالا تمام اقسام سے متعلق اعمال و مشاغل دیگر طریقوں سے بھی انجام پاتے ہیں ، لہٰذا صرف شیاطین و جنات کی قید لگانا مناسب نہیں ہوگا ، کیا خرگوش کے ٹخنے کی تاثیر کو سحر المحبتہ کا نمونہ نہیں سمجھا جاسکتا ؟ عرب میں قدیم زمانے سے یہ روایت موجود رہی ہے کہ دو افراد کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے انہیں ایک ہی کنگھا استعمال کرایا جائے ، کیا یہ عمل سحر التفریق کے ذیل میں نہیں آتا ؟ اسی طرح خیالات بدلنے اور وہم میں مبتلا ہونے کی اور بھی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں تو کیا انہیں سحر التخیّل قرار دیا جائے گا ؟ خاص طورپر نفسیاتی امراض اس ذیل میں آتے ہیں اور ضروری نہیں ہے کہ ہر مریض کے معاملے میں شیاطین و جنات کی کارفرمائی موجود ہو ، اسی طرح سحر الجنون یا دیگر اقسام پر بحث کی جاسکتی ہے ، ہمارے تجربے اور مشاہدے میں تو یہ بھی ہے کہ وقت کے پھیر میں آئے ہوئے لوگ سیارگان کے برے اثرات کے باعث مختلف بیماریوں یا مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے پیدائشی زائچے کی خصوصیات کے سبب نامناسب حالات اور ماحول میں جب ان کی سائیکی بگڑتی ہے تو سحر الجنون یا سحر التخیل یا سحرالتعطیل الزوج یعنی شادی میں بندش جیسے مظاہرے سامنے آتے ہیں ۔
مذکورہ بالا سحری اقسام کی شناخت اور علامات کے حوالے سے جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ بھی معتبر اور قابل اعتماد نہیں ہے ، اس تفصیل کے حوالے سے تو ہر مسئلہ سحریات اور شیاطین کے ذیل میں آجائے گا ، شاید اسی قسم کی سحری تعریف اور سحری اثرات کی علامات بیان کرکے معاشرے میں سحر و جادو کے حوالے سے بہت زیادہ شکوک و شبہات پیدا کردیئے گئے ہیں اور نتیجے کے طورپر ہرشخص اپنے ہر مسئلے کو سحر و جادو سے جوڑ بیٹھا ہے ، مثلاً سحر التفریق کی علامات یہ بیان کی گئی ہیں ۔

سحر التفریق کی علامات

’’ اچانک حالات ایسے تبدیل ہوتے ہیں کہ آپس میں محبت کرنے والے ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں ، دونوں کے درمیان بہت زیادہ شکوک و شبہات پیدا ہونے لگ جاتے ہیں ، آپس میں کسی قسم کا عذر قبول نہیں کرتے ، معمولی سے اختلاف کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، میاں بیوی ایک دوسرے کو بد صورت لگنے لگتے ہیں ، اگرچہ خوبصورت ہوں ، مسحور اپنے ساتھی کے ہر کام کو برا سمجھتا ہے ، مسحور ہر اس جگہ کو ناپسند کرتا ہے جہاں فریق ثانی موجود ہو ، مثلاً گھر کے باہر بیوی کو اپنا خاوند اچھا لگتا ہے لیکن جونہی خاوند گھر میں داخل ہوتا ہے بیوی کو شدید قسم کی الجھن اور ذہنی کوفت ہونے لگتی ہے یا کاروباری پارٹنر اگر گھر آئے تو اچھا لگتا ہے لیکن دفتر یا کاروباری جگہ پر برا لگتا ہے ۔‘‘
ان علامات کی بنیاد پر کسی کو سحر زدہ قراردینا کوئی قابل اعتماد تشخیص نہیں ہے ، ہمارا مشاہدہ ہے کہ دو محبت کرنے والے جو بظاہر باہمی طورپر ایک دوسرے کی کشش محسوس کرکے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں مگر حقیقتاً دونوں کے مزاج اور فطرت میں فرق ہوتا ہے لہٰذا عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ان کے درمیان اختلافات شروع ہوجاتے ہیں اور نتیجے کے طورپر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں ، دونوں کے درمیان بہت زیادہ شکوک و شبہات پیدا ہونے کی وجہ بھی دونوں کے فطری اور مزاجی اختلافات ہوتے ہیں اور جب ایک بار یہ فطری اور مزاجی اختلاف کھل کر سامنے آجاتے ہیں تو پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے ، اسی طرح دیگر اقسام پر بھی عقلی اور مادّی دلائل دیے جاسکتے ہیں ۔

سحر اور سحرزدہ کی پہچان

ایک دلچسپ صورت حال یہ بھی ہے کہ ہمارے ماہرینِ روحانیات سحرزدہ کی پہچان اور سحری اثرات کی جو علامتیں بیان کرتے ہیں وہ بھی خاصی گمراہ کن ہے، بے شک ایسی علامات کسی سحر زدہ میں موجود ہوسکتے ہیں مگر حتمی طور پر ان کا سبب سحرو جادو کو قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ یہ علامات بعض دیگر امراض میں بھی پائی جاتی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ طب یونانی اور ایلو پیتھی چوں کہ ایسی علامات کو اہمیت نہیں دیتی لہٰذا انہیں سحری اور ماورائی اثرات کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے یا پھر ایلوپیتھک ڈاکٹر حضرات ایسے کیس کو ماہرینِ نفسیات کے حوالے کردیتے ہیں، صرف اور صرف ہومیو پیتھی ایسا طریقہ علاج ہے جو انسان کی جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور روحانی امراض سے بھی بحث کرتا ہے کیوں کہ ہومیو پیتھک دواؤں کی پرووننگ جن خطوط پر انجام دی جاتی ہے وہ ایک نہایت جداگانہ طریقہ ء کار ہے، علاج بالمثل کے اصول پر ہر دوا کو تجرباتی طور پر انسانوں پر ہی آزمایا جاتا ہے اور اس کے نتائج کو نوٹ کیا جاتا ہے چناں چہ ہومیو پیتھی وہ واحد طریقہ علاج ہے جس میں توہم ، شک، بدمزاجی، عاداتِ بد جن میں چوری، چغلی، بدگوئی، گالم گفتار، مار پیٹ،چڑچڑاپن ، پیش گوئی ،اشراقیت الغرض بے شمار ایسی علامتوں اور بیماریوں پر توجہ دی گئی ہے جن پر کسی دوسرے طریقہ ء علاج میں توجہ نہیں دی گئی اور ان تمام اخلاقی یا روحانی خرابیوں کے لیے دوائیں موجود ہیں، ہم شاید پہلے اپنے کسی کالم میں عشق کا بھوت اتارنے کی ہومیو پیتھک دوا لکھ چکے ہیں اور ایسی ادویات کو اپنے مریضوں پر کامیابی سے استعمال بھی کرچکے ہیں،شاید ہمارے قارئین کو یاد ہو ہم نے اپنے ایک ایسے مریض کا احوال لکھا تھا جس نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کردیا تھا۔
عزیزان من! جادو کے موضوع پر گفتگو جاری ہے اور شاید یہ موضوع کچھ زیادہ ہی طوالت اختیار کرتا ہوا نظر آرہا ہے،امید ہے کہ آپ اسے پسند کر رہے ہوں گے اور آپ کی معلومات میں اضافے کا سبب بن رہا ہوگا مگر اس کے باوجود اگر آپ کے ذہن میں کچھ نئے سوالات موجود ہوں تو ہمیں ضرور لکھیے یا ہمارے کسی بات سے اختلاف ہو تو اس کا بھی ضرور اظہار کیجیئے ، اگر آپ کے علم میں سحرو جادو یا آسیب و جنات سے متعلق ایسے واقعات یا حالات ہوں جو آپ کے لیے حیرت انگیز اور نہ سمجھ میں آنے والے ہوں تو وہ بھی ہمیں ضرور ارسال کریں بذریعہ خط یا ای میل، ہم انشاء اللہ ایسے سوالات اور واقعات کو اس بحث میں ضرور شامل کریں گے اور اپنی بساط کے مطابق اُس کا جواب دینے کی کوشش بھی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں