شادی میں ناکامی کے حقیقی اسباب کو سمجھنا ضروری ہے

دنیا تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، یہ عمل ایک دن ، ایک ماہ یا ایک سال میں مکمل نہیں ہوتا، البتہ کوئی سال اچانک ہمارے سامنے ایسا آتا ہے جو کئی سال سے جاری تبدیلی کے عمل کو کسی آخری موڑ تک پہنچا دیتا ہے، نیا سال 2019 ء بھی کچھ ایسا ہی سال نظر آتا ہے، برسوں سے جاری افغان امریکی کشمکش کسی حتمی فیصلے کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ آئندہ طالبان کوئی نمایاں پوزیشن افغانستان میں حاصل کرسکیں گے، برطانیہ، فرانس، یورپ ، امریکا، انڈیا، سعودیہ عربیہ اور بہت سے دیگر ممالک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور موجودہ سال خاصا نتیجہ خیز نظر آتا ہے، پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہے، شاید طویل عرصے بعد اس ملک میں جاری فرسودہ نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے، کل تک جو حکمران تھے یا اعلیٰ عہدوں پر براجمان تھے، آج عدالتوں کے چکر لگارہے ہیں، ایک ایسی پارٹی اور ایسا شخص اقتدار کے ایوانوں تک پہچ گیا ہے جس کے بارے میں چند سال پہلے تک کوئی توقع نہیں رکھتا تھا کہ وہ ملک کا وزیراعظم ہوگا اور اس کی پارٹی حکومت بنائے گی۔
تبدیلی کا حقیقی عمل درحقیقت نظام قدرت کی کرشمہ سازی ہے، تاریخ قوموں کے عروج و زوال سے بھری پڑی ہے، بقول میر تقی میر ؂ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں، زمانہ بدلتا رہتا ہے، پرانے نام، روایتیں اور طور طریقے ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں، نئے نام اور نئے طور طریقے رواج پاتے ہیں، چناں چہ آج اگر یہی سب کچھ ہورہا ہے تو اس پر حیرت کیسی؟
بے شک پاکستان ابھی تک مسائل اور مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، معاشی سختیاں عروج پر ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی کا ایک طوفان ہے، لوگوں کو معقول روزگار میسر نہیں ہے، ضروریات زندگی کی تقریباً ہر شے ان کی پہنچ سے باہر ہے لیکن صورت حال ایسی مایوس کن بھی نہیں ہے جس کی اصلاح نہ ہوسکے، امکان غالب ہے کہ جون کے بعد سے حالات میں بہتری کے آثار نمودار ہونا شروع ہوں گے اور ملک کی پوزیشن آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔
پاکستان کے زائچے میں جیسا کہ ہم پہلے بھی نشان دہی کرچکے ہیں، فروری تک کا وقت خاصا مشکلات لانے والا ثابت ہورہا ہے، اس سختی کے وقت کا زور مارچ سے کم ہوگا اور پھر جون کے بعد سے شروع ہونے والا ترقیاتی عمل سال کے آخر تک جاری رہے گا،ان شاء اللہ۔

یہ شاخ گل ہے ، آئین نمو سے آپ واقف ہے
سمجھتی ہے کہ موسم کے ستم ہوتے ہی رہتے ہیں

اکثر لوگ اپنے سوالات کے حوالے سے براہ راست رابطہ کرنے کے بجائے خط یا ای میل کا سہارا لیتے ہیں اور آج کل تو واٹس ایپ کی بھی سہولت حاصل ہے، مزید یہ کہ ان کی فرمائش ہوتی ہے کہ ہمیں جواب بھی کالم کے ذریعے ہی دیا جائے، ایسا ہی ایک خط اس وقت پیش نظر ہے۔
مسز ن، م لکھتی ہیں ’’بیٹی آگے مزید پڑھائی کرے تو کامیاب رہے گی؟ اس نے جیولوجی میں ماسٹرز کیا ہوا ہے اور سات سال سے ٹیچنگ کر رہی ہے، اگر مزید پڑھتی ہے تو کیا اسے اپنے شعبے میں اچھی جاب مل جائے گی؟ مزید یہ کہ اس کی شادی کب ہوگی؟ کافی عمر ہوچکی ہے، میں اس سلسلے میں بہت پریشان ہوں‘‘
جواب: بیٹی کا سن سائن سنبلہ (Virgo) اور برتھ سائن دلو (Aquarius) ہے جب کہ قمری برج حوت ہے، بے شک علم اور فہم و فراست کا ستارہ مشتری زائچے میں بہت اچھی پوزیشن رکھتا ہے، اگر مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے تو کامیابیاں حاصل کرے گی لیکن جہاں تک کرئر کا تعلق ہے تو اس میں ترقی صرف تعلیم کے ذریعے ممکن نہیں ہے، زائچے میں بعض خرابیاں ایسی ہوتی ہیں جو بڑے بڑے باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہیں اور وہ اپنے حقیقی ٹارگٹ سے دور ہی رہتے ہیں، ایسا ہی مسئلہ آپ کی بیٹی کے ساتھ بھی ہے جب تک اس کی ریمیڈی نہ کی جائے اس کے کاموں اور دیگر معاملات میں نمایاں بہتری نہیں آسکے گی۔
واضح رہے کہ اس کا پیدائشی برج دلو ہے، اس کا حاکم سیارہ زحل ہے اور زائچے میں انتہائی خراب اور ناقص پوزیشن رکھتا ہے کہ جب کسی انسان کا اپنا ستارہ ہی پیدائشی طور پر ناقص ہو تو زندگی اس کے لیے خاصی مشکل ہوجاتی ہے، اس کی محنت اور صلاحیتوں کا بھرپور صلہ نہیں ملتا، یہی صورت لائف پارٹنر کے ستارے اور قسمت کے ستارے کی ہے، شادی میں تاخیر کا سبب بھی یہی ہے، مزید یہ کہ اگر شادی ہوگی تو ازدواجی زندگی کی بھرپور خوشیاں حاصل نہیں ہوسکیں گی لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ بیٹی کو بلیو سفائر کا نگینہ کم از کم پانچ کیرٹ وزن میں لیفٹ ہینڈ کی سب سے بڑی انگلی میں ضرور پہنائیں، اسی طرح روبی بھی ضروری ہوگا، اسے بھی لیفٹ ہینڈ کی رنگ فنگر میں پہننا ہوگا، یہ ریمیڈیز مسائل کے حل میں مدگار ثابت ہوں گی۔
انہیں اپنا صدقہ پابندی سے بدھ اور پیر کے روز دینا چاہیے، اسمائے الٰہی یا فتاح یا رزاق ہر نماز کے بعد 99 مرتبہ ضرور پڑھا کریں، ان کے زائچے میں ایسا ٹائم 2 اپریل 2019 ء سے شروع ہورہا ہے جس میں اعلیٰ تعلیم میں کامیابی اور شادی کا امکان موجود ہے، یہ اچھا ٹائم یکم دسمبر 2021 ء تک جاری رہے گا۔

علیحدگی کا سبب

ایس، این لکھتی ہیں:۔ ’’میری شادی چار سال قبل ہوئی اور یہ پسند کی شادی تھی لیکن شادی کے فوراً بعد ہی اختلافات شروع ہو گئے کیوں کہ میری ساس اس شادی سے خوش نہیں تھیں۔ وہ اپنے بیٹے کے کان بھرتی رہتی تھیں۔ اس کے علاوہ شادی کے بعد میرے شوہر بھی کافی بدل گئے تھے اور مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ میں نے ان پر بھروسہ کر کے غلطی کی ہے۔ وہ ویسے نہیں ہیں جیسا میں شادی سے پہلے سمجھتی تھی مگر پھر بھی میں نے گزارا کیا لیکن آخر کب تک چند مہینے پہلے ہمارے درمیان علیحدگی ہو گئی ہے لیکن اب تک میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ ہماری پسند کی شادی کامیاب کیوں نہیں رہی؟ محبت میں یہ دھوکہ میرے لیے ناقابل برداشت ہے اور اب میرا ہر ایک پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔ آپ بتائیں اس شادی کی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟
جواب:۔ عزیزم! ہمارا طویل تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ اکثر شادیوں کی ناکامی کی وجہ دونوں افراد کا مزاجی اور فطری اختلاف ہوتا ہے۔ یہ اختلاف اکثر شادی سے پہلے ظاہر نہیں ہوتا۔ دونوں ایک دوسرے کی ظاہری اور نمائشی کشش میں بندھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور اسی ظاہری اور نمائشی کشش کو حقیقی محبت سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن جب عملی دنیا میں ایک ساتھ قدم رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ ظاہری اور نمائشی باتیں غائب ہو رہی ہیں جب کہ حقیقی طور پر جو بنیادی تضادات ہیں سامنے آ رہے ہیں۔
آپ کا شمسی برج حمل، قمری برج ثور اور پیدائشی برج دلو ہے۔ یہ امتزاج کسی لڑکی یا لڑکے کے زائچے میں مکمل آزادی پسندی ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ برج حمل کی قیادت پسندی اور اپنی بات منوانے کی عادت برج ثور کی ضد، برج دلو کی پابندیوں سے بیزاری کم از کم کسی لڑکی کے زائچے میں اس کی ازدواجی زندگی کے لئے زہر قاتل ہے۔ آپ کو نہایت فرمانبردار اور نرم مزاج شوہر چاہیے جو آپ پر زیادہ روک ٹوک اور پابندیاں عائد نہ کرے۔ بلکہ اپنی مرضی اور موڈ کے مطابق کام کرنے اور زندگی گزارنے کا موقع دے۔
دوسری طرف آپ کے شوہر کا شمسی برج عقرب، قمری برج حوت اور پیدائشی برج سنبلہ ہے۔ گویا یہ ایک نہایت متضاد قسم کا تعلق ہے۔ عقربی افراد بہت زیادہ حساس اور ملکیت کا شدید احساس رکھتے ہیں۔ وہ اپنی کسی چیز میں دوسروں کو شراکت دار نہیں بنا سکتے۔ بے شک نہایت شدت کے ساتھ محبت یا نفرت کرتے ہیں لیکن ان کی محبت بھی ایسی ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کو اپنی مرضی کے خلاف سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ پیدائشی برج سنبلہ بہت تنقیدی مزاج بناتا ہے۔ وہ ترتیب و سلیقے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ذرا سی غلطی بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی۔ چنانچہ مستقل ٹوکا ٹاکی کرتے رہتے ہیں بلکہ کسی ٹیچر کی طرح صبح شام یہی بتاتے رہتے ہیں کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے۔ نتیجے کے طور پر دوسرے پریشان ہو جاتے ہیں اور انہیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے اوپر ایک استاد مسلط ہو گیا ہے جو ہر وقت ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا پڑھاتا رہتا ہے۔
اپنے شمسی برج حمل کی وجہ سے یہ ساری صورت حال آپ کے لئے نا قابل برداشت تھی۔ آپ کے اندر باغیانہ جذبے موجود ہیں اور آپ اس نوعیت کا جبر برداشت نہیں کر سکتیں جب کہ آپ کے شوہر یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ آپ ان کی نا فرمانی کریں، ان کے سامنے سر اٹھائیں، ترکی بہ ترکی انہیں جواب دیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس صورت حال نے شادی کے فوراً بعد جنم لیا اور رفتہ رفتہ دونوں کے درمیان فاصلے پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ شادی سے پہلے کی محبت میں اضافہ کے بجائے محاذ آرائی نے ایک لاشعوری نفرت کو جنم دینا شروع کر دیا۔ چونکہ بنیادیں کمزور تھیں۔ یعنی دونوں کے درمیان محبت کا رشتہ مضبوط نہیں ہو سکا۔ ہمارا اندازہ ہے کہ آپ دونوں کے درمیان اختلافات میں شدت گزشتہ سال مارچ اور جون سے شروع ہوئی ہو گی۔ بہرحال جو ہونا تھا وہ تو اب ہو گیا لیکن محبت کے اس تجربے کی ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان آئندہ کسی پر بھروسہ ہی نہ کرے۔ آپ کے مزاج میں بڑی جلد بازی ہے۔ آئندہ اس جلد بازی سے گریز کریں اور بہت سوچ سمجھ کر کوئی دوسرا فیصلہ کریں۔ واضح رہے کہ آپ کے شوہر ایسے انسان نہیں ہیں کہ آپ کو آسانی سے فراموش کر دیں۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ دوبارہ آپ سے رابطہ کریں گے اور اپنی غلطی پر پچھتاوے کا اظہار کریں گے تاکہ دوبارہ سلسلہ جوڑ سکیں مگر اب اس غلطی کو ہرگز نہ دہرائیں، ورنہ بعد میں وہی کچھ ہو گا جو پہلے ہو چکا ہے۔
آپ نے جو غلطی کی تھی اس کی سزا بھی مل چکی ہے اور تلافی بھی ہو چکی ہے۔ اب بہتر ہو گا کہ نئی زندگی کے بارے میں سوچیں۔ زحل آپ کے قمری برج سے نا موافق پوزیشن میں ہے۔ اس سال اکتوبر سے یہ پوزیشن تبدیل ہو جائے گی تو آپ کا گھر دوبارہ بسنے کا امکان ہو جائے گا۔ اس سال کے آخر یا آئندہ سال آپ کی شادی ہو جائے گی۔ آپ کو مرجان منگل کے دن انگوٹھی یا لاکٹ میں جڑوا کر پہننا چاہیے۔
کرئر اور تعلیمی مستقبل ؟
اے، اے لکھتی ہیں ’’مجھے آپ سے معلوم کرنا ہے کہ آنے والے دیگر سال میرے کریئر کے لحاظ سے کیسے رہیں گے؟ کیا مجھے ایسی ملازمت مل سکتی ہے جس کے ساتھ میں اپنی پڑھائی جاری رکھ سکوں؟‘‘
جواب:۔ عزیزم! آپ یقیناً علم حاصل کرنے کی بہت شوقین ہیں۔ آپ کی لگن آپ کو یقیناً کسی بڑے مقام پر پہنچا دے گی۔ اس سال مئی، جولائی یا نومبر، دسمبر میں آپ کو بہتر ملازمت کا چانس مل سکتا ہے اور آپ اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکتی ہیں۔ آپ نے جن شعبوں کے بارے میں لکھا ہے وہ آپ کے لیے موزوں ہیں۔ آپ لیکچرار بن سکتی ہیں۔ البتہ 2019 ء جدوجہد کا سال ہے۔ یہ سال یقیناً آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دے گا مگر جس منزل کا خواب آپ دیکھ رہی ہیں وہ ابھی بہت دور ہے۔ اس منزل کی طرف جانے والے راستے در حقیقت 2022ء کھلیں گے اور پھر آپ پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھیں گی۔ آپ کا پیدائشی برج دلو ہے۔ سیارہ مشتری 2022ء میں برج دلو میں ہوگا لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس کے بعد شادی کا مرحلہ بھی آپ کے سامنے آ جائے گا۔ اگرچہ آپ کو شادی کی کوئی جلدی نہیں ہے مگر کبھی کبھی حالات ایسی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں کہ ہم اس سمت بھی چلے جاتے ہیں جدھر جانے کا کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔ آپ کو بلیو سفائر ہفتے کے روز لیفٹ ہینڈ کی سب سے بڑی انگلی میں صبح سورج نکلنے کے فوری بعد پہننا چاہیے۔

شادی ہو سکتی ہے؟

ایس، این کراچی: عزیزم! پہلے تو اپنی انگریزی تاریخ نوٹ کر لیں جو 13 ستمبر ہے۔ آپ کا شمسی برج سنبلہ، قمری برج عقرب اور پیدائشی برج دلو ہے۔ ان کی شادی ایک مسئلہ کشمیر ہے جو آسانی سے حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ آپ کے زائچے پر زیادہ تفصیل کے ساتھ کیا بات کی جائے، آپ اپنے موڈ مزاج میں خاصی پیچیدہ شخصیت اور فطرت کی مالک ہیں، اگر بہت پہلے شادی ہو گئی ہوتی تو ناکام ہو سکتی تھی۔ بہتر ہو گا کہ آپ مرجان اور اوپل کا نگینہ پہن لیں۔ پیر اور منگل کو اپنا صدقہ دیا کریں۔ پیر کے روز سفید چاول یا کوئی بھی سفید چیز اور منگل کو سرخ چیز مثلاً گوشت، کلیجی، لال دال وغیرہ۔ اس سال نومبر تک ایسا وقت ہو گا کہ آپ کی شادی ہو سکے گی۔
نوٹ: ہمارے ایسے قارئین جو اپنے سوالات کا جواب کالم کے ذریعے چاہتے ہیں، انھیں چاہیے کہ خط، ای میل یا واٹس ایپ کے ذریعے سوال کرتے ہوئے اس بات کی نشان دہی کردیں کہ انھیں جواب کالم کے ذریعے دیا جائے، واضح رہے کہ اس طرح جواب کی کوئی فیس نہیں ہے، البتہ براہ راست جواب کی صورت میں یا مکمل برتھ چارٹ ریڈنگ کی صورت میں فیس دینا ہوگی، واٹس ایپ رابطے کے لیے سیل نمبر یہ ہے +923002107035 ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں